Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

نااہل صاحب (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 605 (Talha-us-Saif) - Na Ahal  Saheb

نااہل صاحب

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 605)

نااہلِ اعظم صاحب اپنی نااہلی سیلیبریٹ کرنے پہلے اہل و عیال کے ساتھ مری گئے تھے پھر جی ٹی روڈ کی طرف نکل رہے تھے، سنا ہے اب نہیں نکل رہے۔ نازک مزاج آدمی ہیں، پہلے مرحلے پر ہی عوام نے محبت کے نام پر جو سلوک کیا ،اخبار میں ان کے بگڑے منہ کی تصاویر دیکھ کر ہنسی نہیں رُکتی۔ یوں کان مروڑے کہ ’’مزا آ گیا‘‘ … شنید ہے کہ ایک ہی جلوسی کے بعد انہوں نے آگے کا اِرادہ منسوخ کر دیا ہے۔ جیالے چاہتے ہیں کہ وہ نکلیں تاکہ سیاسی طور پر واقع ہوتی موت کو روکا جا سکے مگر انہوں نے عجیب سی شرط رکھ دی ہے۔ کہتے ہیں کان ان کے نہیں بلکہ ان لوگوں کے مروڑے جائیں جو ڈوبتی کشتی کے عرشے پر کھڑے مسلسل شور شرابے کے ذریعے یقین دِلاتے رہے کہ کشتی ڈوب نہیں رہی بلکہ کرتب دِکھا رہی ہے اس لئے وہ پریشان ہونے کی بجائے جھولے لیتے رہے اچانک علم ہوا کہ ’’بیڑا ہی غرق‘‘ ہو گیا ہے۔

ویسے آپس کی بات ہے جس بندے کو وزیر اعظم لکھتے ہوئے قلم کو شرم آتی تھی اسے نا اہلِ اعظم لکھتے ہوئے بڑا سواد آتا ہے۔ یقین نہ آئے تو لکھ کر دیکھ لیں۔

پاکستان کے ایک انتہائی ( پتا نہیں کیوں؟) معروف مزاح نگار نے نا اہل صاحب کی تعریف میں کالم لکھا ہے۔ عنوان ہے ’’ نا اہل سے ملئے‘‘… ( نا اہل کی جگہ پر اصل نام لکھا جائے) ۔ ان کی اب تک جتنی مزاح نگاری پڑھی ہے سب سے بہتر مزاح اسی کالم میں پڑھنے کو ملا۔ نا اہل صاحب کے چھوٹے بھائی انہیں لینے ائیرپورٹ پر آئے تھے۔ اس سے کئی سال پہلے وہ ان کی شادی میں اپنی گاڑی پر آئے تھے۔ پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ…

بھلا ان کے علاوہ دنیا میں اور کون ایسا ہے جو مہمان کو لینے اپنے چھوٹے بھائی کو ائیرپورٹ بھیجتا ہو اور ایسا تو لاکھوں میں کوئی ایک بھی نہ ملے گا جو کسی کی شادی پر نہ صرف اپنی گاڑی میں خود آ جاتا ہو بلکہ اپنے ساتھ دو اور مہمان بھی بالکل مفت بٹھا کر لے آتا ہو۔

کالم نگار صاحب نے نا اہل صاحب اور ان کے اہل خانہ کو جدہ میں عالی شان محل میں بیش قیمت کھانوں کے دسترخوان پر روتے ہوئے غمگین دیکھا۔وجہ پوچھنے پر بتایا گیا کہ پاکستان کی محبت رُلا رہی ہے۔ وہاں اتنا مال پڑا ہے جو دوسرے کھا رہے ہیں جبکہ ہم یہاں عربوں کی روٹی پر خوار ہو رہے ہیں۔ کب وہ دن آئے کہ ہم اپنے ملک جا کر اپنی قوم کا مال ڈکار سکیں۔ سب سے عجیب بات اس کالم میں یہ تھی کہ عنوان نااہل صاحب سے ملاقات کرانے کا تھا مگر جتنی بھی تعریف کی گئی وہ نا اہل کے دونوں چھوٹے بھائیوں کی کی گئی۔ مہمانوں کے ساتھ حسن سلوک ایک کا، جبکہ والدین سے حسن سلوک دوسرے کا موضوع بحث رہا۔ حرام ہے جو خود نا اہل صاحب کی تعریف میں ایک سطری جملہ بھی آیا ہو۔ پہلی قسط تو پوری اسی طرح ختم ہو گئی۔ دوسری قسط میں البتہ وہ نا اہل صاحب کی کچھ تعریف کرنے میں کامیاب رہے اور بطور خاص ان کی دو صفات کا تذکرہ کیا۔

(۱) وہ کبھی کبھار دس بارہ مہمانوں کو اپنے ہاں کھانے پر بلاتے ہیں اور پھر وہ وزیراعظم ہوں یا نہ ہوں خود کھڑے رہ کر ان کی گنتی کرتے ہیں کہ کوئی طفیلی بلا دعوت نہ درآیا ہو۔گنتی کے عمل سے فارغ ہونے کے بعد وہ مہمانوں کی پلیٹوں میں کھانے کا مکمل حساب کتاب بڑی گہری نظر سے ملاحظہ کرتے رہتے ہیں کہ کون کتنا کھا رہا ہے اور کیا کیا چیزیں کس تعداد میں ڈکار رہا ہے اور اسی ملاحظے کی روشنی میں طے کرتے ہیں کہ یہ بندہ آئندہ دستر خوان پر بلانے کے لائق ہے یا نہیں۔

(۲) انہیں مچھلی کی بہت پہچان ہے۔ دیسی اور فارمی کا فرق پہچان لیتے ہیں اور دیسی مچھلی کی علامات پر سیرحاصل معلومات رکھتے ہیں۔ البتہ انہیں چونکہ بٹیروں اور ڈڈؤں کے بارے میں نہ کچھ معلومات ہیں اور نہ ان کی علامات پر کوئی خاص درک رکھتے ہیں اس لئے ہر قسم کے فصلی و غیر فصلی بٹیروں کا ہجوم اور برساتی وغیر برساتی نالا جاتی ڈڈؤں کا مجمع ہمیشہ ان کے گرد رہتا ہے۔

انہوں نے کالم میں لگے ہاتھوں اس غلط فہمی کا بھی اِزالہ کر دیا کہ عوامی شہرت کے برعکس انہیں نہاری بالکل پسند نہیں اور پائے بھی کچھ مرغوب نہیں ہیں، ان کی مرغوبات کی فہرست کچھ اور ہے۔ بہرحال کالم کی دونوں قسطوں میں اگر کوئی بات خالص نااہل صاحب کے متعلق لکھی گئی ہے تو وہ کھانے پینے سے متعلق ہے، باقی معاملات میں ان کے خاندان اور بھائیوں کی تعریف کو ہی ان کی تعریف سمجھ لیا جائے۔ اندازہ کیجئے کہ نااہل صاحب کتنے نااہل آدمی ہیں کہ اتنے بھاری لفافوں اور اتنے وسیع و عریض دستر خوانوں سے مستفید ہونے کے بعد ان کی تعریف میں اگر کچھ لکھا جا سکتا ہے تو صرف یہی کہ موصوف کا جینا مرنا صرف کھانے کے لئے ہے۔ حد ہے اور تف بھی ہے…

عدالت نے بھی غالباً اپنے فیصلے کی بنیاد ان کے اسی شوق کو بنایا ہے اور اسی کی بناء پر انہیں ناہل قرار دے کر نااہلی کی بڑی وجوہات پر فیصلہ اگلی عدالتوں پر چھوڑ دیا ہے… نا اہل کے حامی منجملہ دیگر باتوں کے اس امر کا بہت زور شور سے اظہار کر رہے ہیں کہ انہیں پڑوسیوں سے تعلقات بہتر بنانے کی سزا دی گئی ہے۔ کاش کہ واقعی ایسا ہو گیا ہوتا۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات کا وہ باب جو ابھی تک کھلا نہیں ہے سربمہر عدالت کے حوالے کیا گیا اور عدالت نے بھی اپنے فیصلے میں فی الحال اسے بنیاد بنانے سے احتراز برتا وہ اسی کارنامے کی تفصیلات پر مبنی ہے کہ نااہل صاحب نے پڑوسیوں سے کس قسم کے تعلقات قائم رکھے تھے اور کس حد تک کر رکھے تھے۔ پڑوسیوں سے اچھے تعلقات رکھنا کوئی بُری بات نہیں بلکہ اگر شریعت کے مطابق ہوں تو بڑا محمود عمل ہے لیکن کون نہیں جانتا کہ پڑوس سے بعض تعلقات قائم کرنا حرام بھی ہوتا ہے اور کسی اور جگہ قائم کرنے سے زیادہ شنیع فعل ہے۔ اگر ہمارے ہاں کوئی ایسے تعلقات قائم کر لے تو یا اپنے والد سے پٹتا ہے یا پڑوس والوں سے اور اگر کوئی ان تعلقات کو قائم کرتے پکڑا جائے تو ہر کسی کی نظر میں نا اہل قرار پاتا ہے۔ موصوف کے پڑوس کے ساتھ تعلقات کی تفصیلات تاحال منظر عام پر نہیں آئیں۔ آگئیں تو جس قسم کی نااہلی اس کی سزا بنتی ہے اس کا تصور ہی تو روز بروز وزن کم کرتا جا رہا ہے۔ مودی اور جندال فیملی سے تعلقات کس نوعیت کے ہیں اور اپنی سیاسی مشکلات حل کرنے کے لئے ’’پڑوس‘‘ سے کس کس قسم کی مدد لی جاتی رہی ہے، واقفانِ حال تو جانتے ہی ہیں جلد نمبر دس کھل جانے پر عوام کو بھی پتہ چل جائے گا کہ پڑوسیوں سے تعلقات کس نوعیت کے تھے ۔ جن تعلقات کو کارنامے کے طور پرپیش کر کے حمایت اور مظلومیت سمیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے اکثر لوگوں کو ابھی تک علم نہیں ہے کہ وہ جائز نہیں، انتہائی ناجائز قسم کے تعلقات تھے۔

بہرحال نااہلی کے اس واقعے میں بڑی عبرت ہے آنکھ والوں کے لئے۔ کل تک جو اپنے قریبی ساتھیوں سے بھی گردن میں سریا رَکھ کر ملا کرتے تھے آج کس طرح سرنگوں ہیں۔ کل تک جو عزت کمانے کی خاطر جائز ناجائز کا بھی خیال نہیں رکھتے تھے آج ان کی اولاد شاپنگ سینٹروں میں عوام کے ہاتھوں ذلیل خوار ہو رہی ہے۔ والدین کی تگ و دو اولاد کو کارآمد اور معزز بنانے کی ہوتی ہے، انہوں نے اپنی اولاد کو کرپشن کے داغ، نا اہلی کے طعنے اور مقدمات اور گالیاں دینے کے سوا اور کیا دیا؟ جس دولت کو حاصل کرنے کے لئے ہر حد تک گرے آج ذلت کا سانپ بن کر ان کے اپنے گلے میں حمائل ہو چکی ہے۔ عبرت ہے عقل والوں کے لئے، عبرت ہے آنکھوں والوں کے لئے۔ البتہ کوئی عبرت نہیں ہے قصیدہ نگاروں کے لیے۔ کوئی عبرت نہیں ہے سپیچ رائٹروں کے لیے۔ انہوں نے تو بُرا وقت آجانے پر صرف بندے کا نام ہی بدلنا ہوتا ہے، باقی تو سب کچھ وہی رہتا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online