Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

قُربانی مُہم (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 606 (Talha-us-Saif) - Qurbani Mohim

قُربانی مُہم

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 606)

الحمد للہ نفل قربانی مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ اطلاع کے لئے القلم میں اشتہار بھی آ گیا ہے۔ ’’الرحمت‘‘ کی قربانی مہم باضابطہ طور پر 2004؁ء میں شروع ہوئی اور 2014 ؁ء تک اس شان سے جاری رہی کہ تقریباً تین سو قربانیوں سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ سات ہزار سے بیشتر قربانیوں تک پہنچا اور اگر اس کے ساتھ اجتماعی قربانی کا عدد بھی شامل کر لیا جائے تو یہ آنکڑا بیس ہزار سے اوپر جا نکلا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ محدود کر دیا گیا اور گذشتہ دو سال وقف نظام میں صرف نفل قربانی وصول کی جا رہی ہیں، البتہ اجتماعی کا نظام اسی طرح جاری ہے اور روز افزوں ہے الحمد للہ علیٰ ذلک…

قربانی کے سلسلہ کو نفل تک محدود کیوں کیا گیا؟

بہت سی وجوہات اور مصلحتیں پیش نظر تھیں منجملہ ان کے یہ بھی کہ قربانی سے روکنے کی مہم جس طرح زور پکڑ رہی ہے، اس کے مقابل مسلمانوں میں، گھروں میں قربانی کے رواج کو بڑھاوا دینا مقصود تھا۔ کم قیمت اور قربانی کی دیگر ذمہ داریوں سے خلاصی کے سبب ایسا ہو رہا تھا کہ مسلمان اپنے گھروں سے قربانی کے عمل کو نکالتے جا رہے تھے ۔ وہ یا تو کسی ایسے نظام میں قربانی دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں جو ان کی طرف سے یہ فریضہ ادا کر کے گوشت مستحقین تک پہنچا دے یا پھر کسی نظام اجتماعی میں حصہ شامل کر کے گھر میں گوشت منگوا لیا جائے۔ ان دونوں نظاموں سے بہرحال امت کو یہ خیر تو ضرور پہنچی کہ بہت سے لوگ جو مہنگائی کی وجہ سے قربانی ہی ترک کرتے جا رہے تھے ان کے لئے واجب کی ادائیگی کا موقع بن گیا اور یہ فائدہ بھی ہوا کہ قربانی کے ساتھ ایثار کا جذبہ کھل کر سامنے آیا اور اپنے پیٹ کی فکر چھوڑ کر یہ ضیافت دوسروں تک پہنچانے کا ایمانی عمل زندہ ہوا لیکن یہ بھی ضرور ہوا کہ ایسے اہل خیر بھی گھر میں قربانی کرنے کی سنت سے غافل ہونے لگے جو یہ کام بڑی مقدار میں کر سکتے ہیں۔ اس لئے اس امر کی طرف متوجہ کرنا بھی ضرور ہوا کہ اپنی واجب قربانی خود کرنے کی سنت کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے لہٰذا عارضی اور تجرباتی طور مہم کا رخ اس انداز میں بدل دیا گیا۔ اس سے جماعت کو وصول ہونے والی قربانیوں میں تو کافی کمی آئی لیکن مقصد کے مطابق اَچھے اثرات مرتب ہوئے۔

دوسری اہم ترین حکمت ’’نفل‘‘ قربانی کی سنت کو جاری کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی واجب قربانی کے ساتھ خود نفل قربانی کا اہتمام فرمایا۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو اس کی وصیت بھی فرمائی۔ اس سے اس عمل کی شان کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ عموماً ایسا ہو رہا ہے کہ اپنی واجب قربانی کی ترتیب بنا لینے کے بعد اہل خیر و استطاعت بھی اس سنت کی طرف کم توجہ کرتے ہیں۔

جماعت نے مہم کے پہلے دس سالوں میں جن مصارف پر قربانیاں کرنے کی ترتیب قائم کی اہل ایمان کی ان کی طرف توجہ قابل رشک رہی۔ یوں شہدائِ کرام کے گھرانے، محاذوں اور مراکز کے مقیم مجاہدین و مرابطین اور طلبہ و مساکین جماعت کی وساطت سے اہل محبت کی عید کے لازمی شرکاء بن گئے اور ہر ایک کی خواہش یہ ہوتی کہ اس کی قربانی ان لوگوں تک ترجیحاً پہنچ جائے۔ ایسے میں جب یہ ترغیب و ترتیب آئی کہ واجب قربانی گھر کریں اور ان لوگوں کو عید میں شریک کرنے کے لئے نفل قربانی کی سنت زندہ کریں تو اس کا کئی جہت سے فائدہ ہوا۔ کئی سنتیں زندہ ہوئیں، مزید ایثار کا جذبہ ابھرا، انفاق میں اضافہ ہوا اور اسلام دشمن عناصر کی قربانی چھوڑ مہم پر کاری ضرب لگی کہ وہ تو واجب قربانی چھڑانا چاہتے تھے۔ یہاں مسلمان اس سے بڑھ کر نفل قربانی کا بھی اہتمام کرنے لگے۔ والحمد للہ علی ذلک

اسلام دشمن لبرلز کا نظریہ بظاہر بڑا دل آویز اور منقش ہے کہ قربانی پر خرچ ہونے والی خطیر رقم صرف گوشت خوری اور دعوت طعام پر صرف ہو جاتی ہے جبکہ مسلمانوں کو دیگر معاملات میں مال کی کتنی شدید ضرورت ہے یہ مال اس طرف صرف کیا جانا چاہیے مثلاً علاج معالجہ، تعلیم ، بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی ، آب رسانی وغیرہ

بس ایک اصول یاد رکھئے!

خدمت بلاشبہ ایک انتہائی عظیم الشان عمل اور بہت بڑی نیکی ہے بشرطیکہ ’’عبادت‘‘کی قیمت پر نہ ہو ۔آپ یہ تمام کام کیجئے لیکن اپنی ضرویات ، خواہشات اور سیرسپاٹوں اور فضول عیاشیوں کی قیمت پر نہ کہ اللہ تعالیٰ کی لازم کردہ عبادات کا خون کر کے۔ مسلمان ایک فلم پر اربوں خرچ کر دیتے ہیں۔گرمیوں سردیوں کی سیاحت اربوں ڈالر کی انڈسٹری بن چکی ہے، لباس کا معاملہ اِسراف کی حدیں پار کر رہا ہے اور ہوٹلنگ کا معاملہ تو اس قدر بے قابو ہو چکا ہے کہ ہر چھوٹے بڑے شہر میں عدد کے اعتبار سے سب سے زیادہ کاروباری مراکزیہی ہوٹل بن چکے ہیں۔ کوئی ان عیاشیوں کی قربانی دے کر مذکورہ بالا خدماتی سرگرمیوں کے فروغ پر زور کیوں نہیں دیتا؟ مروڑ اٹھتا ہے تو صرف قربانی کے موقع پر جو ان ایام میں اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ترین عبادت ہے اور اس پر اٹھنے والے اخراجات مسلمانوں کی دیگر ضروریات اور عادات کے مقابل انتہائی کم ہیں۔ اس لئے اس ناپاک مہم کا بہترین توڑ یہی ہے کہ مسلمان قربانی کا عمل بڑھا دیں۔ اپنی قربانی اور دوسروں کی طرف سے بھی قربانی۔ گھر میں قربانی اور اللہ کے راستے میں بھی قربانی، واجب قربانی کے ساتھ نفل قربانی۔ قرآن مجید ہر باطل مہم کا یہی تریاق بتاتا ہے کہ برائی کے پھیلاؤ کی مہم کے مقابل نیکیوں کے پھیلاؤ کی مہم چلائی جائے۔ دیکھئے سورۃ المنافقون میں حکومت پنجاب کے مرشد اول عبد اللہ بن اُبیّ اور اس کے ہمنوا منافقین کی اجتماعی مہم کا ذکر ہوا ’’ لَا تُنْفِقُوْا‘‘ انہوں نے کہا دین پر، جہاد پر، مجاہدین پر مال خرچ نہ کرو تاکہ سب مسلمان تتر بتر ہو جائیں اور اجتماعیت بکھر جائے۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ وَاَنْفِقُوْا‘‘ اور خرچ کرو۔ ساتھ ہی ان کی مہم سے متاثر ہو کر لا تنفقوا پر عمل پیرا ہوجانے والوں کے انجام بد اور حسرت ناک موت کا ذکر فرمادیاتاکہ لوگ ان کی باتوں میں آنے سے باز رہیں۔ یہی طریقہ ہے ان کی ہر باطل دعوت کو ناکام کرنے کا۔ ’’الرحمت‘‘ کی دعوت کی بنیاد چونکہ قرآن مجید کایہی خاص موضوع ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے دعوت کا انداز بھی وہی نصیب ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی مدد سے گذشتہ دو سالوں میں نفل قربانی مہم کے نتائج اور اس کی طرف اہل ایمان کی توجہ خوش کن رہی۔ شہداء کرام کے جن گھرانوں میں قربانی بھیجی جاتی ہے الحمد للہ تمام گھروں کو اہتمام سے پہنچی۔ محاذوں پر بھی بفضلہ تعالیٰ غازیوں نے خوب خوشی کی عید منائی اور ضیافتوں سے لطف اندوز ہوئے۔ مدارس کو بھی ان کا حصہ مکمل ملا، اسیران اسلام نے بھی زندانوں سے اس دعوت میں شرکت کی اور ہزاروں مسلمانوں کے نامہ اعمال میں نفل قربانی کی سنت کا ثواب رقم ہوا۔ اس سال محاذوں پر موجود ساتھیوں کی تعداد گزشتہ کئی سالوں سے زیادہ ہے۔ شہداء کرام کے گھرانوں میں اضافہ ہو چکا ہے اسلئے محنت بھی زیادہ ہے اور توقعات بھی۔

یقین ہے کہ ان شاء اللہ آپ کی ضیافت کے انتظار میں بیٹھا کوئی فرد مایوس نہیں ہو گا۔ ہمارے پیارے جو دنیا سے گذر چکے وہ بھی اسی طرح منتظر رہتے ہیں کہ ہماری طرف سے ان کے لئے اعمال صالحہ کے تحفے جایا کریں۔ ان ایام میں قربانی سے بڑھ کر کوئی ایسا عمل نہیں جو ہم انہیں تحفے میں دے سکیں لہٰذا ان کے لئے بھی نفل قربانی مہم میں آپ کی شرکت خیر، آسانی اور راحت کے بہت سے دروازے کھول سکتی ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online