Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

دوہری نیکی (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 607 (Talha-us-Saif) - Dohri Naiki

دوہری نیکی

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 607)

اﷲرب العزت نے مسلمانوں کو سال میں دودن عید کے عنایت فرمائے ہیں: عید الفطر، عید الضحیٰ

ان لکل قوم عیدا وہذا عیدنا

ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔

لیکن ہماری عیدوں کا ہر قوم کی عید سے بہت فرق ہے، دوسری قوموں نے عیدیں خود بنائی ہیں ہمیں اﷲ رب العزت کی طرف سے انعام کے طور پر مقرر ہوکر ملی ہیں۔

دوسری قوموں کے پاس اپنی عیدیں گزارنے کا کوئی الٰہی طرز عمل اور شرعی نظام نہیں جبکہ ہماری عیدوں کے اعمال اور عبادات آسمان سے اترے ہیں۔

دوسری قوموں کی عیدیں اور تہوار صرف اور صرف غفلت، بے راہ روی اور عیاشی کے لئے ہیں جبکہ ہماری عیدیں اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے دی گئیں، رمضان کے روزے رکھ کر اطاعت گزار ہونے کا ثبوت دیا کہ اﷲ کے حکم پر کھانا پینا اور دیگر لذائذ ترک کردیئے، اﷲ نے توفیق دی کہ اس کا حکم پورا کیا اب اس توفیق کا شکر ادا کرو اور عبادت کرنے کی خوشی مناؤ لہذا یہ تمہاری عید ہے۔ اﷲ کی توفیق سے حج کا فریضہ ادا ہوگیا، سبحان اﷲ! ایسی عاشقانہ عبادت رب کے حکم پر زیب وزینت ترک، اعلیٰ لباس ترک، خوشبوئیں ترک، عمامے ترک، دیوانہ وار گھر کے چکر، شیطان کی رمی، یہ سب کچھ ادا ہوگیا اب خوشی مناؤ یہ تمہاری عید ہے۔

اور سب سے بڑا امتیاز یہ کہ دوسروں کی عیدیں سراسر خود غرضی اور اسراف پر مبنی ہیں، اپنے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ کپڑے بناؤ، زیب وزینت کا مہنگا ترین سامان خریدو، پارٹیوں میں تکلفات پر مال بہاؤ، جوتوں اور خوشبوؤں پر ہزاروں لاکھوں لٹاؤ، جبکہ ہماری دونوں عیدوں کی تو خاص عبادت ہی دوسروں کی مدد کرنا اور محروموں کو خوشیوں میں شریک کرنا ہے۔

پہلی عید آتی ہے حکم ہوتا ہے نماز سے پہلے ہی غریبوں کی عید کا انتظام کردو، انہیں مال دو تاکہ وہ بھی خوشی مناسکیں۔ ان میں صدقہ الفظر کی شکل میں عیدی بانٹو تاکہ وہ بھی مسرتوں میں شریک ہوسکیں، انہیں غنی کردو تاکہ وہ بھی آج اچھا کھا پی سکیں، آقا مدنی صلی اﷲ علیہ وسلم نے خود اس طرح سے عید منا کر دکھا دی، نماز سے واپس تشریف لاتے ہوئے یتیم، لاوارث بچہ ساتھ لے آئے فرمایا آج سے تو حسن حسین (رضی اﷲ عنہما) کا بھائی ہے۔ فاطمہ (رضی اﷲعنہا) کا بیٹا ہے۔ سبق تھا امت کے لئے کہ تمہاری عید غفلت میں پڑے رہنے کا نام نہیں، مستی میں گم ہوجانے کا نام نہیں، سیرسپاٹوں کا نام نہیں، لباس کی زینت کا نام نہیں، بلکہ بے سہاروں کا سہارا، بے آسروں کے آسرا بننے کا نام ہے، غریبوں کی مدد کا نام ہے، یتیموں بیواؤں کی خبر گیری کا نام ہے۔

دوسری عید آتی ہے حکم ہوتا ہے ہر صاحب استطاعت جانور ذبح کرے، جو استطاعت ہوتے ہوئے ایسا نہیں کرے گا وہ مسلمانوں کی عید گاہ کے قریب بھی نہ پھٹکے، پرویزی بھی یہ حدیث پڑھ لیں اور غامدی بھی۔ اسلام نام ہے اﷲ اور اس کے رسول کے احکام کے سامنے استسلام اور انقیاد کا نہ کہ عقل کے گھوڑے دوڑانے کا۔ قربانی کا حکم اﷲ نے دیا ہے، تاکید آقا مدنی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمائی ہے اور عمل بھی کرکے دکھایا ہے، اب اسلام اسی چیز کا نام ہے کہ جب یہ دن آئے جانور ذبح کرو، غریب کی مالی مدد کے لئے سال کے  مہینے موجود ہیں۔ تعلیم اور رفاہ عامہ پر مال خرچ کرنے کی پورا سال اجازت ہے۔ میرے آقا صلی اﷲعلیہ وسلم نے تو ساری عمر دو وقت پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا اور غریبوں پر خزانے لٹا دیئے۔ جب کارخانوں پر کارخانے ا ور بنگلوں پر بنگلے بناتے چلے جانے والے لوگ عید کے دن غریبوں کے ہمدرد بن کر قربانی کو مال کا ضیاع قرار دیتے ہیں تو عجیب سا لگتا ہے۔ کیا صرف چند ہزار کی قربانی سے بچایا ہوا مال غریبوں کے سارے مسائل کا حل اور ہر درد کا درمان بن جائے گا؟ اور شادیوں کے بے جا مصارف، تہواروں کی عیاشیوں میں اڑایا جانے والا مال، بسنت پر ڈور پتنگ اور باجوں پر لٹایا جانے والا زر کثیر ان لوگوں کی بہتری کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا؟ قربانی کا مال بچا کر خدمت خلق کا اونچا کام سرانجام دینے والوں نے کبھی اپنے بچوں کی شادی پر بھی اس کام کے لئے چند روپے بچانے کی فکر کی؟ کیا برادری کے سامنے ناک رکھنے کی عظیم نیکی کے مصارف میں بھی کچھ کمی کا سوچا؟ کیا گاڑیاں، بنگلے، بینک اکاؤنٹ بناتے وقت بھی غریبوں کی ہمدردی کے خیال نے تڑپایا؟؟

میں عرض یہ کررہا تھا کہ عید الضحیٰ کے دن کی سب سے بڑی نیکی قربانی کرنا ہے، آقا صلی اﷲعلیہ وسلم نے قربانی فرمائی، اپنی قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا، گوشت غریبوں میں تقسیم فرمایا، اس طرح آپ نے امت کو عید منانے کا طریقہ سکھا دیا۔

آئیے! چند احادیث پڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین عید کس طرح کرتے تھے؟

(۱)حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ذی الحجہ کی دسویں تاریخ یعنی عید الاضحی کے دن فرزند آدم کا کوئی عمل اللہ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ (زندہ ہوکر) آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے، پس اے خدا کے بندو دل کی پوری خوشی سے قربانیاں کیا کرو۔(جامع ترمذی، سنن ابن ماجۃ)

(۲)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے (ہجرت کے بعد) مدینہ طیبہ میں دس سال قیام فرمایا، اور آپ برابر (ہرسال) قربانی کرتے تھے۔(جامع ترمذی)

(۳)حنش بن عبداللہؒ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو دو مینڈھوں کی قربانی کرتے دیکھا تو میں نے ان سے عرض کیا کہ: یہ کیا ہے (یعنی آپ ایک کی بجائے دو مینڈھوں کی قربانی کیوں کرتے ہیں؟) انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہا نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ کی طرف سے بھی قربانی کیا کروں، تو ایک قربانی میں آپ کی جانب سے کرتا ہوں۔ (سنن ابی داود و جامع ترمذی)

(۴)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ  نے سیاہی و سفیدی مائل رنگ کے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی کی، اپنے دست مبارک سے ان کو ذبح کیا اور ذبح کرتے وقت بسم اللّٰہ واللّٰہ اکبر پڑھا۔ میں نے دیکھا کہ اس وقت آپ اپنا پاوں ان کے پہلو پر رکھے ہوئے تھے اور زبان سے بسم اللّٰہ واللّٰہ اکبر کہتے جاتے تھے۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

اور پھر ہمارے آقا صلی اﷲعلیہ وسلم نے عید کے دن ایک اور عمل فرمایا: عجیب و غریب عمل، عید کی حقیقت سمجھانے والا عمل، آقا صلی اﷲعلیہ وسلم اسلام کی اپنی امت سے محبت بتانے والا عمل۔ آپ نے ایک جانور ذبح کیا اور فرمایا:

یہ میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ہے جو قربانی نہیں کرسکتے۔

سبحا ن اﷲ، سبحان اﷲ،سبحان اﷲ!ہمارے آقا نے عید کے دن اس امت کے غرباء اور مساکین کو صرف گوشت ہی نہیں کھلایا بلکہ انہیں عید کی اصل خوشی یعنی نحر کی عبادت میں بھی شریک فرمایا کہ وہ لوگ جن کے پاس مال نہیں آج قربانی نہیں کرسکتے وہ رنجیدہ نہ ہوں، ان تک یہ خبر پہنچے کہ ان کے محسن ان کے آقا حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کے لئے قربانی کردی، ان کی طرف سے خون بہادیا اور ان کے طرف سے یہ ہدیہ بارگاہ الٰہی میں پیش کردیا۔

آئیے! مل کر تھوڑا سا اس حدیث پر غور کرتے ہیں، حضور اکرم صلی اﷲعلیہ وسلم نے امت کے ان لوگوں کو قربانی میں شریک فرمایا جو یہ عمل خود کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، ثابت ہوا کہ ایسے لوگوں کو اس طرح عید کی خوشی میں شریک کیا جاسکتا ہے، آج ہم اگر اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں تو کتنے ہی لوگ ایسے ہمارے ماحول اور معاشرے میں موجود ہیں۔ لیکن ان میں بھی وہ مسلمان جو ایسے علاقوں میں ہیں جن پر کفار کا ظلماً جبراً قبضہ ہے، وہ مسلمان جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے محاذوں پر اعلاء کلمۃ اﷲ اور نصرۃ المستضعفین کے لئے برسرپیکار ہیں۔ وہ بچے جن کے بڑے اﷲ کے راستے میں جانیں لٹا گئے یا انہیں چھوڑ کر اﷲ کے راستے میں نکل گئے، وہ بیوائیں جن کے سہاگ راہ خدا میں اجڑ گئے، ہماری ہمدردیوں اور تعاون کے دوسروں سے زیادہ مستحق ہیں، ان کے پاس مال نہیں کہ وہ قربانی کرسکیں، ان کی کتنی عیدیں آنسوؤں اور آہوں کی نذر ہوگئیں، ان کے بچوں کی یہ خواہش کہ وہ بھی اپنے ہم جولیوں کے ساتھ قربانی کے جانوروں کی رسیاں پکڑ کر پھریں نجانے کتنی بار دم توڑگئیں، کیا یہ لوگ اس بات کے حق دار نہیں کہ ہم انہیں بھی عید کی خوشیوں میں شریک کریں، ان کے آنسوپونچھیں اور ان کے ستے ہوئے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔

ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کی طرف سے اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کردیں لیکن نہ ہم اتنے باوسائل ہیں اور نہ ہی اس طریقے سے ان درماندوں کو پوری طرح عید کی خوشیاں ملیں گی، پھر کیوں نہ ہم ایک اور کام کریں؟ ہم اپنی واجب قربانیاں اپنے اہل واولاد اور قرب وجوار کے مستحقین کیلئے کرلیں اور نفل قربانیاں ان لوگوں کو دیدیں۔ یوں ہمارا فرض بھی ادا ہوجائے گا اور قرض بھی۔ اور ان لوگوں کو ثواب مل جائے اور خوشی بھی۔

سوچئے! ہم پورا سال کتنا گوشت کھاتے ہیں۔ اگر ہماری قربانی کا گوشت کوئی اﷲکے راستے میں محاذ پر بیٹھا ہوا غازی کھا لے، یہ گوشت اﷲ کے راستے میں جیل میں بند کسی قیدی کی خوراک بن جائے۔ ہمارا قربانی کا جانور کسی شہید کے یتیم بچے کی خوشی کا سامان بن جائے اور اس کی بیوہ ماں مسکرا کر ہمیں دعا دے دے تو کیا یہ ہمارے لئے بڑی سعادت نہ ہوگی؟

کیا یہ آقا صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت پر زیادہ عمل نہ ہوگا؟ کیا یہ احساس ہمارے قلوب کیلئے زیادہ تسکین وطمانیت کا باعث نہ ہوگا۔

اگر ہاں تو پھر دیر کیوں ہے؟ اپنی قربانیوں میں ایک معتدبہ حصہ ان لوگوں کے سپرد کردیجئے جو ایمان والے ہیں، امانت دار ہیں، جن کا شعار تقوی ہے، جن کا عمل احتیاط ہے، جو امین ہیں، جو ضامن ہیں کہ آپ کی قربانی ضرور انہی مصارف تک پہنچے گی جہاں آپ پہنچانا چاہتے ہیں۔ جی ہاں! رسول رحمت صلی اﷲ علیہ وسلم کے یہ سچے امتی، رحمت للعالمین صلی اﷲ علیہ وسلم کے لشکر کے سپاہی آپ کے اردگرد موجود ہیں اور وہ مہم چلا رہے ہیں کہ آپ کی زائد نفل قربانیاں ان اہل ایمان تک پہنچائیں،اس طرح آپ کی طرف سے وہ مسنون عمل بھی اداء کردیں جو آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی کیا کہ واجب قربانی اپنی طرف سے اور نفل قربانی اپنی امت کے مساکین کی طرف سے.اور پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لیئے وصیت کہ وہ ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کیا کریں-

 آپ دیر نہ کیجئے! "الرحمت" والے آپ کے پاس اپنا پیغام پہنچا رہے ہیں، آگے بڑھئے اور رحمت والی جماعت کا حصہ بنئے۔

ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء

یہی ہمارے رحمت والے رب کا حکم ہے اور یہی ہمارے رحمت والے آقا کی سنت!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online