Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

زخم زخم برما (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 608 (Talha-us-Saif) - Zakhm Barma Barma

زخم زخم برما

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 608)

برما کے مسلمانوں پر قیامت بپا ہے…

اَللّٰھُمَّ ارْحَمْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ ﷺ… اَللّٰھُمَّ فَرِّجْ عَنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ﷺ…

امت مسلمہ بیدار ضمیری کا ثبوت دے رہی ہے اور ہر جگہ ان کے لئے آوازیں اُٹھ رہی ہیں…

کیوں نہ ہو آخر یہ ایک زندہ اُمت ہے اور اس کا باہمی رشتہ بظاہر کتنا بھی کمزور نظر کیوں نہ آئے، ایک بہت مضبوط رسی سے جڑا ہوا ہے۔ وہ رسی جو ’’حبل اللہ ‘‘ ہے:

لاالہ الااللّٰہ

اور اس کا سب سے مضبوط حلقہ ہے:

محمدرسول اللّٰہ

بس دل سے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والا کوئی شخص ایسا نہیں ہو سکتا جو اس امت کے کسی بھی عضو کی تکلیف پر چین سے رہے، سکون کی نیند سوئے اور اپنی زندگی میں مست رہے…

٭…٭…٭

کفار جب مسلمانوں پر حملہ آور ہوں اور ان کی جان و عزت کی طرف دستِ جفا دراز کریں تو مسلمانوں پر اعلانِ جہاد واجب ہے۔ وہ اس سوچ میں نہ رہیں کہ پہلے کہیں سے مدد آ جائے پھر جہاد کریں، پہلے کوئی نصرت کو آ پہنچے پھر مزاحمت کا جھنڈا بلند کریں۔ نہیں ہرگز نہیں، یہ ترتیب غلط ہے اور اس کا نتیجہ ہمیشہ یونہی قتل عام اور مظلومیت شدیدہ کی شکل میں ہی برآمد ہوتا ہے۔ درست ترتیب یہ ہے کہ اعلان جہاد کیا جائے، مزاحمت بروئے کار لائی جائے۔ میسر اسباب لے کر دفاع کا آغاز کیا جائے اور پھر آواز لگائی جائے۔ دنیا بھر سے انصار آئیں گے۔ سرحدیں انہیں نہیں روک پائیں گی۔ پابندیاں ان کے قدم نہیں جکڑ سکیں گی۔ فاصلے ان کی راہ میں رُکاوٹ نہیں بن سکیں گے۔ تم دین کی خاطر نصرت طلب تو کرو امت میں ان لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو ’’فعلیکم النصر‘‘ کا حکم پڑھتے ہیں ، سمجھتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے تو کبھی اس سخی کا مہمان خانہ ایک رات کے لئے خالی نہیں رکھا جو رات کو مہمانوں کے لئے آگ جلا کر سوتا تھا تو ’’ جہاد‘‘ کا کوئی میدان کس طرح خالی رہ سکتا ہے؟… نجانے کتنی سعید روحوں کے کان ہر وقت حیی علی الجہاد کی صداؤں کی طرف متوجہ رہتے ہیں اور ان کے گھوڑوں کی لگامیں کسی رہتی ہیں کہ کہیں سے آواز لگے اور وہ پہنچیں ۔ یہ حضرت آقا مدنی ﷺ کے فرمان مبارک کا مفہوم ہے اور دنیا کبھی ایسے لوگوں سے خالی نہیں ہو سکتی۔تاریخ کا ہر بعید و قریب دور گواہ ہے کہ آواز لگی تو لشکر پہنچے خواہ درمیان میں سمندر حائل ہوئے یا کوہسار، صحراؤں کے طویل فاصلے ہوئے یا جنگلات کی مشکلیں۔ یہ نظام فطرت ہے، بدلتا نہیں۔برما کے نوجوان سرفروشی کی خوبیدار کریں اور پھر امت کی ان سعید روحوں کو اپنی طرف بلائیں۔ پھر دیکھیں تصویر بدلتی ہے یا نہیں…

خود کو بے بس قرار دے کر دستِ قاتل کے سپرد کر دینا ہمیشہ المیوں کو جنم دیتا ہے۔ ہر قتل عام اسی رویے سے جنم لیتا ہے۔ سقوط بغداد سے لے کر برما تک ہر خطے کی تاریخ ایسے المیوں سے پُر ہے۔ کافر اور خاص طور پر مشرک کی فطرت ہے کہ وہ مظلوم اور لاچار پر ظلم کرتا ہے اور حد سے زیادہ کرتا ہے کیونکہ مشرک انسانیت سے محروم ہوتا ہے جبکہ وہ طاقت کے سامنے جھکتا ہے اور مزاحمت سے دبتا ہے۔ زمانہ قریب میں دنیا میں جہاں جہاں بھی مسلمانوں کا بدترین قتل عام ہوا اسی رویے کے پیش نظر ہوا۔ مزاحمت خواہ کسی درجے کی بھی ہو ایسے المیوں سے بچاتی ہے۔ ہاں اگر کوئی صرف اتنی مزاحمت کی استطاعت رکھتا ہو کہ زور سے چلا سکے تو کر گذرے اس سے اعراض و اغماض نہ کرے۔ خدا کی قسم ! اتناکر لینا بھی دستِ قاتل پر لرزہ ضرور طاری کر دے گا۔ مسلمان جب بھی اس اصول فطرت کو بھولتا ہے تاریخ کے سینے پر ایک اور زخم سج جاتا ہے جبکہ مزاحمت کرنے والی اقوام نہ صرف یہ کہ ایسے حالات سے محفوظ رہتی ہیں بلکہ وہ دوسروں کے لئے بھی ایمان و عزیمت کا سبق بن جاتے ہیں، سربلند جیتے ہیں ، سربلند مرتے ہیں اور ان کا دشمن اسی حسرت میں انگلیاں چباتا رہتا ہے کہ کاش وہ انہیں مسل سکتا، مار سکتا…

کشمیر اور فلسطین کی مثالوں کا بوسنیا، کسووا اور اب برما کے حالات سے موازنہ کر لیجئے ساری بات سمجھ آ جائے گی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہندوستان کی درجنوں ریاستوں میں آباد ’’آزاد‘‘ مسلمان وہ سب کچھ کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے جو کشمیر میں لاکھوں آرمی کے گھیرے میں کرفیو کی زندگی گزارنے والے کر جاتے ہیں اور وہ بھی سرعام … ’’کروڑوں آزاد ‘‘ مسلمان جہاں اس خوف میں زندگی بسر کرتے ہیں کہ ان پر گائے کاٹنے کا جھوٹا الزام نہ لگ جائے وہاں کشمیر میں سڑکوں پر گائے کاٹی جاتی ہے اور ایسے نہیں بلکہ ہندوستان کے ترنگے پر لٹا کر… فرق کیا ہے؟…

ہندوستان کے کسی بھی شہر میں دَنگوں کے نام ایک دن میں معمولی ہتھیارے بدمعاش اتنے ہاتھ جوڑتے، حب الوطنی جتاتے اور زندگی کی بھیک مانگتے مسلمانوں کو کاٹ ڈالتے ہیں جتنے ہندوستان کی آرمی، سی آر پی ایف، اور بی ایس ایف جیسی ظالم اور بااختیار فورسز پتھر مارتے اور ہندوستان مردہ باد کے نعرے لگاتے کشمیریوں کو سال دو سال میں بھی نہیں مار پاتے… وجہ کیا ہے؟

بوسنیا میں ایک سال میں کیا کچھ ہوا اور اگلے چھ سات سال ایسا کچھ بھی نہ ہو سکا۔

کیوں؟ وہ بنیادی عنصر جو فرق بن جاتا ہے ’’مزاحمت‘‘ ہے۔ برما کے مظلوم مسلمان مزاحمت کی خو اپنائیں۔ اگر وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ مزاحمت نہ کر کے وہ اپنے لئے دشمن کے دل میں رحم پالیں گے تو یہ سوچ غلط ہے۔ اور اگر اس لبرل زدہ سوچ میں مبتلا ہیں کہ مزاحمت ان کے حالات کو مزید بگاڑ دے گی تو یہ بھی غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں طرح کی مثالیں زمین پر رکھ دی ہیں تاکہ سمجھنے والے سمجھیں اور سوچنے والے صحیح نتیجہ اخذ کریں۔

عالمی کفریہ برادری اور ان کے حاشیہ بردار منافقین کو شکوہ ہے کہ شدت پسندی ختم نہیں ہو رہی بلکہ بڑھ رہی ہے۔ روزانہ اس کے اسباب ڈھونڈنے پر کروڑوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ بچہ بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں۔ اسباب آپ خود پیدا کرتے ہیں۔ انہیں پروموٹ کرتے ہیں، انہیں مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں، جب نتیجہ نکلتا ہے تو حیران کیوں ہوتے ہیں؟… مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی منظر کشی آپ کا بنایا ہوا کیمرہ دنیا بھر کے سامنے کر رہا ہے۔ جو لوگ ان کٹی پھٹی لاشوں اور انسانیت سوز مناظر کو دیکھ کر آج سے ہی فاصلے پاٹنے کی تیاریاں شروع کر چکے، رب تعالیٰ سے سجدوں میں عہد کر چکے، بیگ تیار کر کے راستے ڈھونڈنے نکل چکے وہ جب میدان میں آئیں گے تو ان سے کیا توقع ہے آپ کو؟… یہ امت نہ تو صرف حکمرانوں پر مشتمل ہے نہ صحافیوں دانشوروں پر اور نہ ہی حکمت ومصلحت کے خمیر میں گندھے فرزانوں پر … اس امت کے اجزائے ترکیبی میں ایک بڑا اور اہم جزو ’’دیوانے لوگ‘‘ بھی ہیں۔ وہی جنہیں آپ شدت پسند کہتے ہیں۔ ان میں ایسی تصویروں کا تحمل نہیں ہوتا، ان میں نہ مظلومیت سہنے کا حوصلہ ہوتا ہے نہ دیکھنے کا، اور ہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں زندہ رہنے کا شوق نہیں ہوتا۔ یہ بات یاد رکھنا بہت ضروری ہے۔ برما کی سرزمین پر ہونے والا ہر ظلم ان دیوانوں کی برداشت ختم کر رہا ہے، آگے کے حالات کا اب دنیا کو بخوبی اندازہ ہے، مثال دینے کی ضرورت نہیں…

٭…٭…٭

مظلوم مسلمانوں کی داد رسی واجب ہے۔ سب سے اول ’’جہاد‘‘ کے ذریعے ، پھر جیسے ممکن ہو سکے۔ ’’فعلیکم النصر‘‘ اس وجوب کے سارے نکتے سمجھانے کو کافی ہے۔ لہذا جس مسلمان سے اس سلسلے میں جو بھی ہو سکتا ہو وہ دریغ نہ کرے اور اسے عبث نہ سمجھے ۔ آواز اٹھانے کا بھی اثر ہوتا ہے ، ہر طرح کی امداد بھی اثر رکھتی ہے اور دعاء تو ہر بند کی کشا دہے۔ مجاہدین کے بازؤں میں جذبے مچل رہے ہیں، وہ اپنا راستہ ڈھونڈنے کی کوشش میں ہونگے۔ عنقریب کوئی دن آئے گا کہ سرزمین برما الجہاد الجہاد کے نعروں سے گونجے گی۔ باقی ہر درجے کی استطاعت رکھنے والا ہر مسلمان ان کے لئے جو کرسکتا ہو کرے۔ کم از کم غافلوں میں شمار نہ ہوگا۔ کافر اپنا کام کر رہے ہیں۔ ان کے ذہنی و فکری غلام اپنے کام میں مشغول ہیں۔ کبھی مظلومیت کی ان تصاویر کو جعلی قرار دیتے ہیں اور کبھی ظالم بدھوں کے ظلم کے جواز تراشتے ہیں کہ فلاں مسلمان کی فلاں غلطی اس کا باعث ہوئی۔ ان کی ڈیوٹی ہے انہیں چھوڑئے اپنا کام کیجئے۔ جو فی الحال دور نظر آ رہا ہے، استطاعت سے باہر دکھائی دے رہا ہے اس حل کے انتظار میں بیٹھے رہ کر جو فی الحال ہو سکتا ہے اسے چھوڑے رکھنا عقلمندی نہیں ۔ کم از کم ایک امت ہونے کا ثبوت تو جیسے تیسے دیا جائے۔ پس ہر وہ شخص امت کا اچھا فرد ہے جو اپنی استطاعت کا کام کر گذرے اور ہر کسی کی کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھے۔

٭…٭…٭

ایسے المیے کے وقت میں بدترین طرز عمل اور سب سے قابل مذمت کردار ان لوگوں کو ہوتا ہے جو سوال اٹھاتے ہیں فلاں کہاں مر گیا؟مجاہدین نے اب تک جہاد شروع کیوں نہیں کر دیا؟ فلاں فلاں نے اب تک اس ملک میں آگ کیوں نہیں لگا دی؟ بدترین لوگ اور بیکار ترین لوگ ایسے مواقع پر یہی کردار ادا کیا کرتے ہیں۔ مجاہدین برما کے پڑوس میں بیٹھے ہوتے پھر نہ پہنچ چکے ہوتے تو اعتراض کرنا بجا تھا۔ کشمیر کا ناقابل یقین حد تک مشکل بارڈر پار کیا جا سکتا ہے تو پھر برما کیا مشکل ہوتا؟ ہندوستان کی تربیت یافتہ آرمی کو کیمپوں میں گھس کر نشان عبرت بنایا جا سکتا ہے تو ننگ دھڑنگ بھکشوؤں کے سروں کی فصل اُگا دینا کیا مشکل کام تھا۔ افغانستان میں دنیا کی سب سے بے لگام منہ زور عسکری قوت کا غرور خاک میں ملایا جا سکتا ہے تو برمی چند ھے کس کھیت کی مولی ہیں لیکن کیا کوئی معترض یہ کہہ سکتا ہے کہ فرق نہیں ہے؟… مجاہدین کشمیر پہنچ سکتے ہیں تو ہر مشکل کو پار کر کے پہنچ جاتے ہیں آپ ان سے کون سے خوش ہیں؟ … جہاں نہیں پہنچ سکتے مگر کوشش میں ہیں آپ کو اس پر اعتراض ہے کہ ابھی پہنچے کیوں نہیں…

مجاہدین پر اعتراض ہے کہ اب تک پہنچ کر بدھوں کو مار کیوں نہیں دیا۔ احتجاج کرنے والوں پر اعتراض ہے کہ وہ ایک فضول کام کیوں کر رہے ہیں اور ان کا تمسخر کیا جا رہا ہے۔ علماء پر اعتراض ہے کہ ان کے مدارس اب تک کیوں چل رہے ہیں وہ اس ظلم کے خلاف سربکف میدانوں میں کیوں نہیںنکل آئے، ہر ایک کی طرف انگلی اٹھتی ہے اگر نہیں اٹھتی تو صرف اپنی طرف۔ مجاہدین ان شاء اللہ برماضرور پہنچیں گے۔ بدھوں نے اتمام حجت کر دیا ہے ان کے خلاف جہاد ضرور ہو گا۔ اراکان میدان جہاد ضرور بنے گا ، وہاں جہادی تنظیمیں ضرور وجود میں آئیں گی اس وقت یہ لوگ کیا کریں گے اور کیا کہیں گے میں وہ بھی آج ہی بتا دیتا ہوں۔ یہ اس وقت مجاہدین کے پیچھے خفیہ ہاتھ تلاش کریں گے۔ یہ اس وقت مجاہدین کو اس ملک کا ایجنٹ قرار دیں گے جہاں سے وہ بارڈر کراس کر کے جائیں گے۔ یہ اس وقت اس جہاد میں چھپا عالمی طاقتوں کا مفاد تلاش کریں گے اور مجاہدین کو ان مفادات کا آلۂ کار قرار دیں گے۔ یہ اس وقت جہادو مجاہدین پر چندے کھانے کے الزامات لگائیں گے۔ یہ اس وقت جہاد طویل ہو جانے کی صورت میں نتیجہ نہ نکلنے کو بنیاد بنا کر اس جہاد کی شرعی حیثیت پر انگلیاں اٹھائیں گے۔ یہ اس وقت تحریکوں کے درمیان موازنے اور مقابلے کا میدان سجا کر بعض کی بعض پر فضیلت اور بعض کو بعض کے مقابل ناجائز کہیں گے۔ یہ ’’مُعَوِّقین‘‘ ( ٹانگیں کھینچنے والے) ہیں۔ یہ ’مُثَبِّطِین‘‘ ( حوصلے پست کرنے والے اور کام سے بٹھانے والے) ہیں۔ یہ ’’مُخَلَّفین‘‘ ( کام سے محروم کر دئے گئے) ہیں ان سے بچئیے۔ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے فیس بک سے چھٹکارا عطا فرمایا ہوا ہے۔ وہاں ایسے لوگ بہت سرگرم رہتے ہیں اور ساتھی ان کی سرگرمیاں نقل کر کے جواب کا تقاضا کرتے ہیں یا خود ان کے جواب میں ہلکان ہوتے ہیں۔ خدارا ان سے نہ الجھئے۔ ان خود بیکار اور بیکار ساز لوگوں سے بات نہ کیجئے۔ ان سے کنارہ کش رہئیے اور ان کا سب سے موثر جواب یہ ہے کہ انہیں جواب نہ دیجئے۔ آپ جواب میںانہیں گالیاں دیں انہیں کم تکلیف ہو گی بلکہ شاید خوشی ہولیکن آپ انہیں نظر انداز کیجئے یہ ان کے لئے موت کے برابر ہے۔ ہم الحمد للہ دل سے برما کے مظلوموں کے ساتھ ہیں۔ الحمد للہ اپنے شرعی فرض سے بھی غافل نہیں ۔ان تمام لوگوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو امت ہونے کے ناطے جس طرح بھی بن پڑے، ان مظلوموں کی داد رسی کے لئے کچھ کر رہے ہیں۔ برما میں ان حالات میں ’’جہاد‘‘ کے نقطہ نظر سے جو بھی کچھ کرے گا فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر اعلان کر کے نہیں کرے گا اور نہ کر سکے گا۔ اس لئے یہ اعتراض آج ہے اور کل جب وہاں جہاد ہو گا تب بھی اس کا نظم سوشل میڈیا کو آگاہ کر کے نہیں چلایا جائے گا اس لئے اعتراض رہے گا ۔ سچا جہاد ’’لومۃ لائم ‘‘ ( ملامت گروں کی طعنہ بازی) کے بغیر نہیں ہوتا یہ علامت قرآن نے مقرر فرما دی ہے اس لئے شرحِ صدر کے ساتھ اپنا کام کیجئے…

٭…٭…٭

بدھ مت کو دنیا کا سب سے پُر امن اور جنگ و جدل سے دور مذہب کہا جاتا ہے، ان کے پیشوا کی جوتعلیمات منقول ہیں ان کے مطابق سب سے بڑی عبادت رہبانیت ہے ، سب سے پاکیزہ رزق بھیک کا مال ہے ، کیڑے مکوڑے اور ضرر رساں جانداروں کا قتل بھی حرام ہے وغیرہ وغیرہ… ان کے مذہب میں مزاحمت بھی حرام ہے اور دفاع کی بھی اجازت نہیں۔ ہر طاقتور کا غلبہ قبول کر لیا جائے اور ہر حاکم کی رعایا ہونا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف کبھی بھی جہاد نہیں ہوا۔ اسلام کا نظریہ جہاد کفریہ پروپیگنڈے کے بالکل برعکس مذاہب کو مٹانے کا ہدف نہیں رکھتا۔ مذاہب نبی کریم ﷺ کے زمانے سے باقی رکھے جاتے چلے آ رہے ہیں بشرطیکہ وہ اسلام کو نظام کے طور پر قبول کر لیں۔

اس لئے جن لوگوں نے اسلام کی دعوت کو اگرچہ قبول نہ کیا لیکن مزاحمت اور ٹکراؤ سے بھی بچے اسلام نے ان سے تعرض نہیں کیا۔ بدھ اپنی انہی تعلیمات کی وجہ سے بچے رہے اور ان کے خلاف کبھی قتال نہیں ہوا۔ اب انہوں نے اپنی اس ڈھال کو خود اپنے ہاتھوں سے توڑ دیا ہے جس نے انہیں اب تک اسلام کی تلوار سے بچائے رکھا۔ اس قوم نے مسلمانوں پر اعتداء کر کے حجت تام کر دی ہے اب ان شاء اللہ یہ بھی وہ سب کچھ دیکھیں گے جو ان سے پہلے اسلام کے خلاف نکلنے والوں نے دیکھا اور آج تک دیکھ رہے ہیں۔ اسلام کی تلوار جب نیام سے باہر آ جائے تو مقاصد کی تکمیل تک بے نیام رہتی ہے۔ بدھ مت کے پیروکاروں نے اللہ تعالیٰ کے اس غضب و عذاب کو دعوت دی ہے جو بصورت جہاد کفار پر مسلط کیا جاتا ہے۔ اب وقت آیا ہی چاہتا ہے کہ یہ دنیا میں عبرت کا نشانہ بنیں گے۔ فتربصوا انا معکم متربصون

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online