Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

سعد:انتظار (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 610 (Talha-us-Saif) - Saad Intezar

سعد:انتظار

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 610)

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ تعالیٰ نے انطاکیہ کی جنگ میں فتح کے بعد صلیب کے سخت ترین کمانڈر ریمنڈ اول کو قتل کرنے اور میدان جنگ میں بہادری کے ناقابل یقین جوہر دکھانے پر اپنے مایہ ناز جرنیل ’’اسدالدین شیرکوہ ‘‘کے لئے ایک جملہ کہا:

’’کسی اور شخص کا نام اس کی شخصیت کا اس قدر آئینہ دار نہیں ہوسکتا جس قدر آپ کاہے‘‘

اسدالدین واقعی ایسے ہی شخص تھے۔ انہوں نے امت مسلمہ کے لئے صلاح الدین ایوبی جیسا جرنیل تیار کیا۔

ہمارے پیارے بھائی سعد اقبال شہید بھی ان افراد میں سے تھے جن کے نام ان کی شخصیت کے آئینہ دار ہوا کرتے ہیںاور ہاں ان کے رفیق بھائی انتظار شہید بھی...

سعد واقعی بہت ’’سعد‘‘ یعنی خوش بخت تھا، خوش بختی کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچا…

اور انتظار کو جس سعادت کا انتظار تھا اس نے بھی وہ پالی…

عشرہ بھر پہلے کی بات ہے جب ماہنامہ’’ مسلمان بچے‘‘ کا اِجراء ہوا اس کے ابتدائی قلمی معاونین میں ایک نام تھا ’’ اُم سعد اقبال‘‘ … ان کے قلم سے بچوں کے لئے خوبصورت اور ایمان افروز تحریریں آیا کرتی تھیں۔ ان تحریروں میں کھرے نظریات ، ایمانی جذبات اور غیرت و حمیت سے لبریز اَسباق ہوا کرتے تھے۔ ان تحریروں میں کہیں کہیں اور ادارے کے نام خطوط میں اکثر ایک بچے کا تذکرہ ہوتا تھا، ایک ننھا منھا بچہ جو ان نظریات و جذبات کے سائے میں بڑا ہو رہا تھا، اس کے لئے دعاؤں کی درخواست کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے راستے کا مجاہد بنائے اور اسے مقبول شہادت سے سرفراز فرمائے۔ ہم نے کتنا عرصہ اس بچے کا غائبانہ تذکرہ سنا، ایک بار ان کے شہر جاکر سفر میں اسے دیکھا بھی،حقیقی اور اسم بامسمیٰ ’’سعد‘‘ پایا۔ سعد کی سعادت کا آغاز تو اس کے گھر سے تھا،والد ماشاء اللہ مجاہدین کے مخلص میزبان اور میدان دعوت کے انتھک ، نڈر اور سرفروش سپاہی۔ ہرحال میں ثابت قدم، ہر امتحان میں سرفراز، ہر مشکل میں صابر اور جماعت کے وفادار۔ والدہ وہ سچی نظریاتی مسلمان ماں جن کا شجرۂ تربیت سیدہ خنساء رضی اللہ عنہا سے جا ملتا ہے۔ اسلام کی ان عظیم خواتین کا سلسلہ جن کی گودوں میں ہمیشہ فاتحین ، شہداء اور راہِ حق کے جانباز مجاہدین نے پرورش پائی ہے۔ سعد اس قران السعدین کی ایک شاخ تھا، یوں اس نے ہر جگہ سعادتیں سمیٹیں۔ اس کا خاص وصف خدمت تھا اور مجاہدین میں وہ لوگ خوش بختی میں سب کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں جو جہاد میں خدمت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ اس حقیقت کو احادیث و آثار میں پڑھا اور پھر اس کا خوب عملی مشاہدہ بھی کیا ہے۔

’’ تین اعمال ایسے ہیں جن کا اجر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا‘‘

جہاد میں اپنے ساتھیوں کی خدمت کرنا

اللہ تعالیٰ کے راستے میں سایہ ( خیمہ) دینا

جہاد میں اپنا گھوڑا عاریتاً دینا ( فضائل جہاد بحوالہ سنن سعید بن منصور)

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جس نے جہاد میں اپنے ساتھیوں کی خدمت کی وہ ان میں سے ہر فرد سے ایک قیراط اجر کی سبقت لے گیا ۔ ( ابن المبارکؒ)

نبی کریم ﷺ جس شخص کو جہاد میں اپنے ساتھیوں کی خدمت کرتے دیکھتے اس کے لئے رحمت کی دعاء فرماتے( ابن المبارکؒ)

’’سعد‘‘ ان خوش نصیب مجاہدوں میں سے تھے جن کی پرورش جہاد کے ماحول میں ہوئی۔ بچپن، لڑکپن جہادی قصے سنتے، جہادی ترانوں سے دل بہلاتے اور جہادی بیانات سے نظریہ پاتے گذرا۔ جہاد میں آئے تو خدمت کی سعادت ملی اور ایک طویل عرصے تک ملی۔ پھر وہ خود میدان میں اُترے تو دیکھتے ہی دیکھتے سعادتوں کی اس بلند چھوٹی پر جا پہنچے جس کے بارے میں آقا ﷺ یوں تمنا فرماتے ہیں:

’’ میری خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں‘‘…

یعنی بار بار اس سعادت کے حصول کی تمنا۔ آقا مدنیﷺ کے ان الفاظ نے اس بظاہر مشکل نظر آنے والی سعادت کو سعادتمندوں کے لئے شہد سے میٹھا اور ٹھنڈے میٹھے پانی سے زیادہ خوشگوار اور دنیا کی ہر لذت سے زیادہ مرغوب چیز بنا دیا ہے۔ یوں ’’سعد‘‘ کی سعادت کہ انہیں میدان میں اترنے کے بعد اس کا زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ پھر یہ سعادت جس شکل میں بھی مل جائے مطلوب ہے اور محبوب لیکن ہر مجاہد کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اسے پانے سے پہلے اللہ کے دشمنوں کو خوب نشانِ عبرت بنائے، ان سے خوب انتقام لے اور ان کا خوب خون بہائے تاکہ اللہ تعالیٰ کے ان سارے احکام پر عمل بھی ہو، اس کے دل کی بھڑاس بھی خوب نکلے اور ایمان والوں کے قلوب کو بھی خوب ٹھنڈک ملے کیونکہ یہ سب بھی مقاصدِ جہاد ہیں۔ یوں’’سعد‘‘ یہاں بھی خوش بخت رہے کہ انہیں ان سب کاموں کا خوب موقع ملا۔وہ دن انہیں کا دن تھا، اللہ کے دشمن مشرکین کے صفوں میں کھلبلی تھی، ان کے میڈیا ہاؤسز سے لے کر ایوانوں تک سب میں بس انہی کا چرچا تھا، وہ اپنے اس خاص سعد دن کی سب سے بڑی خبر تھے ، پورا دن ان کا نام گونجتا رہا، کفر کی لاشیں گرتی رہیں۔ اہل ایمان کے دل ہر خبر کے ساتھ خوشی اور ٹھنڈک پاتے رہے اور کفار کی ذلت و رسوائی کا تماشہ ساری دُنیانے دیکھا اور ان سب کے بعد انہوں نے بھی اپنی منزل پالی۔

’’سعد‘‘ مبارک ہو آپ واقعی سعد نکلے اور آپ کے ان والدین کو بھی مبارک ہو جن کی تربیت نے آپ کو سعد بنایا…

’’انتظار‘‘ … واہ انتظار…

دو سال سے زائد عرصہ سفر و حضر کی رفاقت اور پھر ایک شاندار اَنداز میں جدائی…

گذشتہ سال رمضان المبارک میں ایک رات اسلام آباد مرکز میں ہم کچھ دوست جمع تھے۔ سحر تک مجلس رہی، انتظار بھی اس مجلس میں آتے جاتے رہے۔ ہمارے ایک شاعر دوست سے ان کا تعارف اور کچھ گپ شپ ہوئی تو انہوں نے دمِ رخصت یہ شاعرانہ تبصرہ داغا…

’’انتظار کی آنکھوں میں تو سراپا انتظار چھلک رہا ہے‘‘

اس کا انتظار ایسا ہی تھا کہ اپنے وجود کا احساس دِلاتا تھا۔ حتی کہ وہ اس کیفیت میں کبھی کبھار جھنجھلاہٹ ، غصے اور جذبات کا شکار ہو جایا کرتا مگر بس تھوڑی ہی دیر۔ پھر واپس اپنی خدمت اور عبادت کی طرف لوٹ آتا۔ اس سال رمضان المبارک کا آخری عشرہ اس نے مانگ کر چند دن مسجد کے ایک کونے کی سکونت اختیار کر لی۔ دن رات ایسی آنسوؤں بھری والہانہ دعائیں کہ دیکھنے والوں کے کلیجے پھٹنے لگتے۔ شاید اس نے یہ تین چار دن انتظار ختم ہونے کی دعائیں مانگی اور پھر آناً فاناً منزلیں طے کر لیں۔

سعد کو سعادت کبریٰ مبارک ہو

انتظار کو انتظار کی انتہاء مبارک ہو

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online