Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

حیاء نہ آنے پائے (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 611 (Talha-us-Saif) - Haya na Aane Paye

حیاء نہ آنے پائے

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 611)

ایک ہوتی ہے سیاست اور ایک ہوتے ہیں سیاستدان…

آپ آج مامور و مجبور ہیں کہ کسی کو چور کہیں، لٹیرا کہیں۔اس کی گفتار کی غلطیاں نکالیں اور کردار کی خامیاں پکڑیں۔ ہر روز ایک نیا سکینڈل قوم کے سامنے لائیں۔ بیڈ روم کی خبریں عام کریں، دامن کے داغ اُبھاریں۔ منہ سونگھ کر شراب کا برانڈ بتائیں اور مدہوشی دیکھ کر نشے کی نوع کی نشاندہی کریں۔ کاروباری چکر بازیاں طشت ازبام کریں اور خاندانی خامیوں پر فصیح و بلیغ جملے کسیں۔ خارجہ پالیسی کے بخیے ادھیڑیں اور داخلہ پالیسی پر سخت تنقید کریں۔ ملک دشمن قرار دیں، کسی بھی دشمن قوم کا ایجنٹ گردانیں، ہر اچھائی میں کیڑے نکالیں اور ہر برائی کو ضرب سو کر کے پھیلائیں۔ ملک و قوم میں پھیلی ہر برائی کا ذمہ دار اسے قرار دیں اور ہر بحران کے پیچھے اسی کا ہاتھ تلاشیں اور پھر…

ایک دن مسکراتے چہرے، چلچلاتے دانتوں اور کھڑکھڑاتے قہقہوں کے ساتھ آپ اپنی ساری وفاداریاں اور تمام تر صلاحیتیں اسے سونپ کر اپنے ہر بیان کی تردید بزبان خود کریں۔ اب ٹی وی پر جلوہ افروز ہوں یا ڈائس پر، اسی کی مدح سرائی کریں، قصیدہ خوانی کریں ، اسے رستم و سہراب بنائیں یا سکندر و تیمور۔ ان کی وہ اچھائیاں گنوائیں کہ سن کر وہ بھی زیر لب مسکرا اُٹھے کہ یہ تو اسے خود بھی معلوم نہ تھی۔ اب اسے ایمانداری کا کوہِ نور، استقامت کا قراقرم ، حب الوطنی کا کے ٹو اور عوام دوستی کا ہمالیہ قرار دیں۔ اس کے وجود کو سراپا خیر و برکت ثابت کریں۔ ہر اچھائی اس کے کھاتے میں ڈالیں اور ہر برائی کا دفاع فرض عین سمجھ کر کریں اور ہاں یہ سب کرتے ہوئے حیاء نہ آنے پائے، ورنہ سیاست روٹھ جائے گی۔

عوام سے کام پڑ جائے تو ہاتھ میں بریانی کا ڈبہ پکڑا کر آرام دہ کرسی پر بٹھا دیجئے۔ ایک ہاتھ میں مرغی کی ٹانگ تھام لیجئے تاکہ عوام کے منہ میں دی جا سکے اور دوسرے ہاتھ میں پانی کا گلاس سنبھال رکھئے تاکہ فوراً منہ سے لگایا جا سکے۔ قیمے والا نان ایکسٹرا میں تیار رہے اور پھلوں سے تواضع کے بغیر گھر نہ جانے دیجئے۔ دودھ و شہد کی نہروں کے وعدے کیجئے۔ ہر تقریر میں بجلی، تعلیم ، صحت، گیس، ملازمتوں کے وہ انبار لگائیے کہ سننے والوں کی وہ نسلیں بھی نہال ہو جائیں جو ابھی دنیا میں آئی ہی نہیں۔ ہر ایک سے جھک کر ملئے اور چوبیس گھنٹے دانت ڈینٹونک کے اشتہار والی حالت میں رکھئے۔ کام نکلتے ہی آنکھیں ماتھے پر سجا لیجئے۔ گردن میں نہ مڑنے والا سریا فٹ کر لیجئے اور عوام کو دیکھ کر پیشانی پر بل لانا نہ بھولئے۔ ایسا کرتے ہوئے حیاء کو بالکل قریب نہ آنے دیجئے ورنہ سیاست میں ترقی خواب بن کر رہ جائے گی۔

اور اب تو سیاست میں بے حیائی کی ایک بالکل نئی صنف بھی متعارف ہو گئی اور بڑے زور سے متعارف ہوئی۔ آپ کے ہاں جمہوریت کفر ہے، سیاست گندگی ہے، پارلیمنٹ کفریہ اِدارہ ہے، انتخابات کفریہ نظام کے فروغ کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے حرام ہیں اور ان میں حصہ لینا گناہ کبیرہ … اور پھر اچانک…

ایک دن انتخابات ضروری عمل ہیں۔ ان میں حصہ لینا عین عبادت ہے۔ جمہوری نظام عین حق ہے اور اس کا حصہ بننا عین فرض،مروجہ سیاست اسلام کی سب سے بڑی خدمت ہے اور امت کے وسائل کا سب سے بڑا مصرف… دلیل دینے کی ضرورت نہ پہلے تھی نہ اب ہے۔ اس قسم کے لوگ سیاست میں کافی کا میاب رہتے ہیں کیونکہ یہ سیاست میں کامیابی کی سب سے بڑی شرط پہلے قدم پر پوری کر لیتے ہیں ۔ یعنی انہیں حیاء نہیں آتی۔

شرم کا ذرہ مزاج میں رکھتے ہوئے سیاستدان ہو جانا اگر ممکن بھی ہو لیکن یہ جوہر بچا کر سیاسی تجزیہ نگار بن جانا بالکل اسی طرح ناممکن ہے جس طرح آصف زرداری کا ایماندار بن جانا اور نواز شریف کا’’اہل‘‘ ہو جانا۔ یقین کیجئے اگر سیاسی تجزیہ نگاری اور شرم و حیاء ایک دل میں جمع ہو سکتے تو پاکستان میں روزانہ آپ درجنوں اینکروں اور تجزیہ نگاروں کی خود کشی کی خبر سنتے۔ لیکن آپ روزانہ ان منحوس چہروں کو اپنی انہی جھوٹی کہانیوں، بے بنیاد دعووں، بالکل غلط مخبریوں اور سو فیصد جھوٹے یقینی تجزیوں کے ساتھ ٹی وی کی سکرین پر بھی دیکھیں گے اور اخباروں میں ان کے کالم بھی۔ کیا یہ لوگ اپنے بیوی بچوں سے بھی شرم محسوس نہیں کرتے ہونگے؟؟

وفاداریاں فروخت کرنے میں تو یہ لوگ پیشہ ور طوائفوں سے بھی بازی لے جا چکے۔ کل تک ان میں آپ جس کو حکومت کی تعریف میں رطب اللسان پاتے تھے ایک لفافہ اسے ایک دم سے اپوزیشن بنا دیتا ہے اور وہ روزانہ اپنے کالم اور تجزیے میں حکومت کو رخصت اور حکمران کو پھانسی گھاٹ تک چھوڑ کر گھر جاتا ہے اور پھر ایک دن اچانک ایک قدرے بھاری لفافہ اسے واپس حکومت کی تعریف میں رطب اللسان بنا دیتا ہے۔ جو زیادہ سمجھدار ہیں۔ لین دین بالکل برابر رکھتے ہیں اور ترازو کا پلڑا ہمیشہ ’’زیرو پوائنٹ‘‘ پر ٹکائے رکھتے ہیں کوئی نہیں جان پاتا کہ کس کی طرف ہیں۔

خوش رہے حکمران بھی، راضی رہے ’’خان‘‘ بھی

ایک صاحب کچھ عرصہ پہلے تک ’’فوجی‘‘ تھے۔ فوج اور اس کے خفیہ اداروں سے اپنے تعلقات یوں بیان کیا کرتے تھے کہ سننے پڑھنے والوں کے لئے اچھے خاصے مذاق اور تفریح کا سامان بن جاتا تھا۔ حکمرانوں کو فوج کے ساتھ سیدھا رہنے کی تلقین کرتے پائے جاتے ہیں اور فوج کا تازہ مزاج اور خیالات تو یوں بتاتے تھے جس طرح ائیربیس پر آدھی شلوار کی شکل کا کپڑا ہوا کا رُخ بتا رہا ہوتا ہے۔ پھر اچانک یوں ہوا کہ ان کا ہر جملہ فوج پر طنز، اس کی پالیسیوں پر نشتر اور اس کے عزائم پر گولہ باری کرتا نظر آنے لگتا ہے۔ تھوڑے دن بعد جب شلوار نے اشارہ دیا کہ ہوا کا رخ اب دوسری طرف ہے تو پھر آپ ایک دم وہی پرانے تعلقات بحال ہوتے دیکھ لیں گے۔ جمہوریت سے آمریت، آمریت سے جمہوریت زرداریت سے شریفیت اور شریفیت سے انصافیت اور پھر جب ہوا و لفافہ ایک سے دوسری طرف لڑھکتے پھرنے اور اپنے اسی لڑھکنے کو سب سے بڑی عقلمندی گرداننے کا نام ہے ’’تجزیہ نگاری‘‘ … اور اگر حیاء کسی کے قریب سے بھی گذرتی ہے تو اسے یہ مقام ہرگزنصیب نہیں ہو سکتا۔ ایک احتیاط بطورخاص کیا کریںکہ کسی پیشہ ور تجزیہ نگار کو ایمانداری اور نظرئیے پر بولتے سنیں یا لکھتے پڑھیں تو احتیاطاً چھت کے نیچے سے نکل کر کھلی جگہ پر آ جایا کریں مبادا چھت سر پر آن گرے ۔

خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں رب العزت نے وہ نظریہ عطاء فرمایا ہے جسے بدلنا نہیں پڑتا۔ وہ سچی دوستیاں اور وابستگیاں عطاء فرمائی ہیں جن پر شرمندگی نہیں ہوتی۔ وہ حقیقی دشمنیان مقدر فرمائی ہیں جو دائمی ہیں اور کبھی نہ ختم ہونے والی۔ انہیں ایسا کام عطاء فرمایا جو اٹل ہے، محکم ہے۔ اس میں نہ قلابازیاں ہیں نہ اُلٹی زقندیں۔ انہیں طعنہ دیا جاتا ہے تو بدلتے نہیں، لالچ دیا جائے تو بہکتے نہیں اور ڈرایا جائے تو پھسلتے نہیں۔ انہیں اپنا قول اور عمل بدلنے کا کہا جائے تو انہیں حیاء آتی ہے اللہ تعالیٰ سے، قرآن مجید سے ، نبی کریم ﷺ کے مقدس خون سے اور اپنے شہداء کرام کے مبارک ٹکڑوں سے۔

بس یہ سارا کام اسی حیاء آنے اور نہ آنے پر چل رہا ہے۔ جنہیں نہیں آتی ان کے لئے ہر نظریہ بدلنا آسان،ہر بات سے پھر جانا سہل، ہر موقف سے دستبردار ہو جانا کھیل اور ہر آنے والی صورتحال کے مطابق ڈھل جانا کمال ہے۔ وہ ماضی قریب میں کیا تھے ، کس کے ساتھ تھے، ان کی سوچ اور ان کا عمل کیا تھا؟ آج ان کے لئے بہت معمولی بات ہے کہ وہ اس سے دستبرداری کو عقل و فراست کا تقاضہ قرار دے کر اپنے ماضی پر قلم تنسیخ پھیر دیں اور فرزانوں میں شمار کئے جائیں۔ ان کی بات سنی جائے اور ان کی شخصیت تسلیم کر لی جائے لیکن کچھ لوگ تو رہیں گے جو یہ راہ نہیں چلیں گے۔ فطوبی لہم فطوبی لہم

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online