Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

سب مزے میں ہیں (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 612 (Talha-us-Saif) - Sab Maze mein Hein

سب مزے میں ہیں

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 612)

حجاج بن یوسف بڑا جغادری ظالم قاتل سفاک مشہور تھا۔مروان کے خلاف خارجیوں کی ایک عورت میدان میں نکل آئی اور اس شان سے نکلی کہ ہر طرف اس کی بہادری کے ڈنکے بجنے لگے ۔انہوں نے مقابلے کیلئے حجاج کو بھیج دیا اور حجاج اس کے مقابلے سے بھاگ کھڑا ہوا۔اس زمانے کے ایک شاعر عمران بن حطان نے اس واقعے پر چند اشعار کہے، جن کاپہلا مصرع مشہور ضرب المثل بن گیا

اسد علیّ وفی الحروب نعامۃ

(ہم پر شیر بنتا ہے اور جنگ کے وقت شترمرغ ثابت ہوا)

احسن اقبال صاحب جب سے وزیرداخلہ بنے ہیں انہیں بھی حجاج والا جغادری پن چڑھا ہوا ہے۔ پکڑنے مارنے نکالنے دبانے گرانے سے کم بات ہی نہیں کررہے تھے۔کل اپنے اسی وزارتی زعم کے ساتھ عدالت کے دروازے پر "شیر" کی حیثیت وکیفیت کے ساتھ پہنچے اور تھوڑی دیر بعد پوری قوم کو "شترمرغ" بنے نظر آئے اور پھر جس طرح بڑے شیر صاحب کا "مجھے کیوں نکالا" نامی ٹرینڈ مشہور ہوا تھا ان کا "مجھے کیوں روکا" لمحوں میں ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔یہ کردوں گا اور وہ کردوںگا سب فراموش ہوا اور بس یہی صدا سنائی دے رہی تھی "استعفاء دے دوںگا" چھوڑ کر چلا جائوں گا۔

پاک ہے وہ مالک جو فرعون بننے کی کوشش کررہے حقیر انسانوں کو ان سے بہت حقیر لوگوں کے ہاتھوں ذلیل کرواتا ہے۔

سبحان من تعزز بالقدرۃ....

کہاں وزیر داخلہ اور کہاں ایک بریگیڈئر … رینجرز کس نے بلوائی؟ روکنے کا حکم کس نے دیا؟ پس پردہ کس کا ہاتھ تھا ؟ تجزیہ نگاروں کا کام ہے ان موضوعات پر اپنی دوکان سجائیں اور اپنے چورن بیچیں، اصل بات یہی ہے کہ فرعونیت ایک بار پھر قدرت کے شکنجے میں آئی…سبحان ربی العظیم

٭…٭…٭

ایک استاذ نے بلیک بورڈ پر ایک لکیر لگا ئی اور طلبہ سے کہا:

ــکوئی آکر اس لکیر کو چھوٹا کردے

کئی طالبعلم اُٹھے اور آ کر لکیر تھوڑی تھوڑی مٹادی، ایک ذہین طالبعلم اُٹھا اور آکر استاذ کی لگائی ہوئی لکیر کے ساتھ اس سے بڑی ایک اور لکیر لگادی اور بولا:

سر!بڑی چیز کو چھوٹا کرنے کا صر ف یہی طریقہ نہیں کہ اسے مٹانے کی فکر کی جائے بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس سے بڑی چیز بنا دی جائے۔

آپ جانتے ہیں یہ طالبعلم کون تھا؟

یہ طالبعلم پاکستان کے حکمران ہیں..

مگر وہ کیسے ؟

وہ ایسے کہ جناب ان تمام حکمرانوں نے مہنگائی ، کرپشن، غیر ترقیاتی اخراجات، کابینہ اور بحران اسی کلیے کے تحت کم کئے۔ ایک حکمران آکر جتنی بڑی کابینہ بناتا ہے،کرپشن کو جتنا عروج دیتا ہے، بحرانوں کے انبار لگاتا ہے، غیر ترقیاتی اللّوں تللّوں پر جو اخراجات کرتاہے اور مہنگائی کی شرح جس قاتلانہ حد تک لے جاتا ہے دوسرا حکمران آتے ہی اعلان کرتا ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو نہ صرف کم بلکہ ختم کر دے گا، اور پھر اس سے بڑی لکیر لگانے کی محنت شروع کردیتا ہے حتیٰ کہ سابقہ حکمران کی کارکردگی صفر نظرآنے لگتی ہے۔ پیپلز پارٹی چونکہ پڑھا کو لوگوں کی پارٹی تھی اس لئے اسکا ٹریک ریکارڈ اس حوالے سے اتنا شاندار رہا کہ اس نے اپنے دور حکومت کے ابتدائی سودنوں میں ہی شوکت عزیز کی لکیر کو نیچادکھادیا تھا اس تیز رفتاری کی مثال پچھلی تاریخ میں ناپید ہے پھر "شیر " آگئے اور قوم پیپلز پارٹی کی لکیریں بھول گئی- یہاں تو اکیلے ایک خاندان کی لکیر ہی پچھلوں کی کئی لکیروں پر حاوی ہے ۔آگے اللہ خیر کرے۔

٭…٭…٭

استاذ شاگرد سے۔

بتائو سونا کہاں سے نکلتا ہے؟

جناب! کان سے۔

شاباش۔ اب تم یہ بتائو کوئلہ کہاں سے نکلتا ہے؟

سر!کان سے۔

مگر ہمارے کانو ں سے صرف میل کیوں نکلتا ہے؟

وہ اس لئے سر !کہ ہم سونا اور کوئلہ نکلنے سے پہلے ہی بیچ دیتے ہیں۔

ریکو ڈک ہو یاتھرکول،سونااور کو ئلہ باہر والے لے جائیں گے بعد میں ہم ان کی کھدائی کر کے میل نکال لیں گے۔ہمیں سونے سے کیا کام؟ ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں۔ مر د لوگ ہیں جن کے لئے سونا ویسے بھی حرام ہے یوں بھی دنیا میں سارا فساد زن،زر اور زمین کے سبب ہوتا ہے۔ زن پچھلے حکمران مروا کر آئے تھے، اب والوں کی بھی ہسپتال میں ہے، زربیچ دیا ہے اور زمین جس دن دل چاہا چھوڑ کر تپسیا کے لئے سوئزرلینڈ کے ویران پہاڑوں یا برطانیہ کے سونے بے آباد فلیٹوں میں بھاگ جائیں گے۔ ہمیں ان میں سے کسی چیز سے پیا ر نہیں ۔

٭…٭…٭

استاد شاگرد سے…

بتائو توانائی کسے کہتے ہیں؟اور ہاں زمانہ حاضر کے اعتبار سے جواب دینا، توے اور نائی والا جواب بہت پرانا اور فرسودہ ہے۔

سر!کون سی توانائی کا پوچھ رہے ہیں؟ اگر آپ کی مراد برقی توانائی ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے لوڈ شیڈنگ…

اگر گیس پاور کے متعلق پوچھ رہے ہیں تو نئی آکسفورڈ ڈکشنری میں اس کا ترجمہ لکھا ہے ہلکی ہلکی شو ں شوں…

اگر آپ کا سوال کو ل پاور کے بارے میں ہے تو اس کا معنی ہے وہ چیز جو پیدا ہونے سے پہلے بیچ دی جائے۔اگر آپ نے ایل این جی کے بارے میں پوچھا ہے تو معنی ہے وہ چیز جس کے پیدا ہونے سے پہلے آپ اس کے منافع سے مستفید ہوجائیں اور پھر اسے آنے سے روک دیں- اور اگر آپ کے ذہن میں ایٹمی توانائی کے متعلق سوال ہے تو اسکا جواب ہے وہ دولت جو آپکے پاس موجود ہو لیکن آپ اس کے وجود سے شرمندہ ہوں ۔ یہ ترجمہ نیا ہے پچھلے دور حکومت میں اس کا معنی تھا وہ چیز جسے بیچنے کی کوشش ناکام ہو جائے۔

رہی بات آبی توانائی کی تو اس کا معنی ہوتا ہے وہ قیمتی مال جو ضائع ہو جاتا ہو یا کر دیا جاتا ہو اور شمسی توانائی کا مطلب ہے وہ چیز جو سو بتائی جائے مگر صرف بارہ نکلے۔

٭…٭…٭

ہمارا ملک پاکستان ایک بہترین تجارتی منڈی ہے۔ ہمارے حکمران سر توڑ کو شش کر رہے ہیں کہ دنیا بھر کے سرمایہ دار اور سر مایہ کار یہاں تجارت کریں، تو عزیز طلبہ !آپ میں سے کو ن اس موضوع پر تقریر میں پاکستان کی تجارتی اہمیت پر روشنی ڈالنے کی ہمت کرے گا؟

سر!پاکستان صرف اہم نہیں، دنیا کی سب سے بڑی تجارتی منڈی ہے۔ یہاں پر وہ سب کچھ بکتا ہے جو دوسرے ملکوں میں بیچنے کا تصو ر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مثلا دنیا بھر میں جو تجارتیں معروف ہیں وہ یہ ہیں:

زمینی پیداوار کی تجارت، خام مال کی تجارت، مصنوعات کی تجارت، مشینر ی کی تجارت، لیبر کی تجارت اورعزت کی تجارت۔

پاکستان میں یہ سب کچھ تو بکتا ہی ہے مگر ان کے علاوہ بہت کچھ ایسا بکتا ہے جو کسی ملک میں نہیں بیچا جاتا، مثلا منافع بخش سر کاری محکموں کی تجارت، جیتے جاگتے چلتے پھرتے انسانوں کی بغیر غلام بنائے تجارت، زندہ انسانوں کے اعضاء کی تجارت، لاشوں کی تجارت ،(بعض لاشوں پر تو کروڑوں کی قیمت لگتی ہے)کانوں کی تجارت، اپنے ملک میں جن اشیاء کی قلت ہو ان کی بیرون ملک تجارت، وزارتوں اور عہدوں کی تجارت، انتخابی نامزدگیوں کی تجارت، اتحادوں کی تجارت، خاموشی کی تجارت اور بولنے کی بھی تجارت، جلسوں ،احتجاجوں اور دھرنوں کی تجارت اور ایک ایسی تجارت جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے، پہلے کم ہوتی تھی مگر حکومتوں کی مہربانی سے بکثرت ہونے لگی ہے والدین کی طرف سے اپنے بچوں کی تجارت اور ہاں اہل مغرب کے لئے خوشخبری کہ ان کی من پسند تجارت آج کل فروغ پذیر ہے جلد سر مایہ کاری کرلیں وہ ہے قلم کی تجارت اور علم کی تجارت۔ صحافی اور دانش ور سر بازار اپنی بولیاں لگارہے ہیں کوئی ہے جو اچھی بولی دے کر خر یدلے۔ یورپی دارالعوام نے تو تسلیم کر لیا کہ اس نے توہین رسالت کے بل پر زبان و قلم چلانے کے لئے کئی لوگوں کو خرید رکھا ہے یہ سن کر کئی لوگ قلم بکف، رال بمنہ، زبانیں تیز کر کے بازار میں آن کھڑے ہیں کہ کسی خریدار کی نظر کرم ان پر بھی پڑ جائے اور آخر میں اس تجارت کا ذکر کر تا چلوں جس کے لئے عام سر مایہ دار تو زحمت نہ کریں صرف حکومتیں اور اہم طاقتور  ایجنسیاں متوجہ ہوں وہ ہے نظریات اور قومی پالیسیوں کی تجارت، جی ہاں !ہمارے ہاں یہ جنس گراں انتہائی ارزاں نرخوں پر دستیاب ہے ۔ ہم آپ کو پاکستان کی مارکیٹ میں خوش آمدید کہتے ہیں جو یقینا دنیا کی سب سے بڑی تجارتی منڈی ہے۔

٭…٭…٭

ایک سکھ سے کسی نے پوچھا:سردار جی دنیا میں سب سے مشکل کام کونساہے؟

سکھ نے کافی سوچ کر کہا: ہیلمٹ پہن کر کسی بچے کو بوسہ دینا۔

سردار جی کی اپنی سوچ تھی مگر مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ بحیثیت قلم کار پاکستان میں سب سے مشکل بلکہ ناممکن کام کونسا ہے؟ تو میرا جواب ہوگا… پاکستانی حکمرانوں بلکہ سیاستدانوں کے بارے میں کلمۂ خیر کہنا ۔ کسی شاعر نے شاید پاکستانی سیاستدانوں کے بارے میں ہی کہا ہو گا :

وا دریغا نیست ممدوحے سزا وارِ مدح

(کتنا افسوس ہے کہ کوئی شخص ایسا نہیں جس کی مدح کی جاسکے)

لیکن وہ پاکستانی ہی کیا جو مشکل اور ناممکن کام نہ کر سکے اس لئے کچھ لوگ سیاستدانوں کی مدح خوانی کر لیتے ہیں۔ آصف زرداری ہوں ، شریف ہوں، خان ہوں، سب کو قصیدہ خواں میسر ہیں جو ان بد ترین حالات میں بھی ان کی تعریفیں ڈھونڈھ لاتے ہیں۔ ایسے تمام قلم کا ر ا س عظیم محنت پر تمغہ حسن کا ر کر دگی کے مستحق ہیں اور یقینا حکومت کی اس طرف توجہ بھی ہوگی ہمارا مقصد توجہ دلانا نہیں، ان اہل قلم پر رشک کرنا تھا جو اس ناممکن کو ممکن بنارہے ہیں۔ آخر میں ایک شعر ایسے تمام قلم کے مزدوروں کی نذر، اگر کسی کی شکل شعر میں مذکور کسی جانور سے مل جائے تو اسے محض حسنِ اتفاق سمجھا جائے اور کچھ نہیں

ہم جس مقام پر ہیں وہاں سب مزے میں ہیں

سب کررہے ہیں آہ و فغاں، سب مزے میں ہیں

یہ بوم و چغد، زاغ و زغن، پیشہ ور نقیب

نوبت درِ مزار شہاں، سب مزے میں ہیں

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online