Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

منتخب جواہر (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 445 (Talha-us-Saif) - muntakhib jawahir

منتخب جواہر

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 445)

طویل مضمون میں سے مختصر جملوں کا انتخاب کرنا،انہیں موضوعات میں تقسیم کرنا قدیم زمانے سے مصنفین کا طریقۂ کار چلا آ رہا ہے۔خود احادیث مبارکہ میں حضرات محدثین کرام نے یہ طریقہ اختیار کیا۔نبی کریم ﷺ کی طویل روایات یا خطبات میں سے مختصر جوامع الکلم اور جواہر پاروں کا انتخاب اور پیشکش کتب حدیث میں بکثرت ملتے ہیں اور حضرات محدثین کرام کے ہاں یہ روایت حدیث کا ایک مستقل طریقہ رہا ہے۔

اس سے فائدہ بھی ہوتا ہے،توجہ بھی اور تلذذ بھی۔طویل کلام میں بسا اوقات ان نکات و معارف کی طرف اتنی توجہ نہیں جاتی جتنی ان کا حق ہوتی ہے اس لئے نہ ان سے کما حقہ نفع اٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی پوری لذت حاصل ہوتی ہے۔جب انہیں الگ کر کے پڑھا جائے تو گویا ایک نیا جہانِ معنی آشکار ہوتا ہے۔ایک عجیب کیف و سرور حاصل ہوتا ہے۔بسا اوقات رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جسم میں حرارت دوڑ جاتی ہے اور پڑھنے والے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ گویا اس نے یہ بات اب پہلی مرتبہ پڑھی ہے حالانکہ وہ اسے بارہا پڑھ چکا ہوتا ہے۔اس لئے تو ’’انتخاب‘‘ کو مصنفین کے ہاں ہمیشہ سے ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔جن حضرات کو مطالعہ کتب کا بہت ذوق اور ایک گونہ چسکا ہوتا ہے ان کی غالباً یہ مشترک عادت ہے کہ ان کے زیر مطالعہ کتب لکیروں، حاشیوں اور دائروں سے پُر ملیں گی۔وہ اسی طرح منتخب باتوں کو نشان زد کرتے رہتے ہیں،ان کے حوالے جلد پر یا خالی صفحات پر نقل کرتے رہتے ہیں اور مختصر عنوانات لکھ لیتے ہیں۔اور اگر کوئی حضرات زیادہ صفائی پسند ہوں تو وہ کتاب کالی کرنے کی بجائے ڈائری وغیرہ ساتھ رکھتے ہیں اور اس قسم کے شذرات و جواہر ان میں نقل کر لیتے ہیں۔یہ ایک فطری واقعہ ہے۔یہ انتخاب صاحب مطالعہ کے ذوق کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے اور موضوع کتاب و مصنف کتاب سے اس کے قلبی تعلق کا بھی۔پھر بعض حضرات کا یہ انتخاب محض ان کے ذاتی استفادہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ اسے افادہ عام کے لئے طبع کرا دیتے ہیں اس طرح ان کا ذوق اور محنت کئی لوگوں کے لئے عظیم فائدے کا باعث بن جاتا ہے اور ایسی کتابیں عام موضوعات پر لکھی گئی کتب سے زیادہ دلچسپی اور توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔ہمارے علمائے کرام میں سے کئی اہل قلم حضرات نے اس طرز کی بہت سی اعلی کتابیں تالیف کی ہیں اور انہیں بہت مقبولیت ملی ہے۔اسی طرح کئی اکابر اہل علم کے تلامذہ اور محبین نے ان کی تصنیفات،خطبات ومواعظ پر اس انداز میں کام کیا ہے اور ان کا بہترین انتخاب قارئین کے لئے پیش کیا ہے۔ہمارے اکابر میں سے حکیم الامت حضرت مولنا اشرف علی تھانویؒ قدس سرہ کو اس حوالے خصوصی امتیاز رہا ہے۔ان کے ملفوظات کے درجنوں مجموعے اس انداز میں شائع ہوئے ہیں۔ان کی طرف منسوب تفسیر قرآن اسی انداز سے مرتب کی گئی ہے کہ ہزاروں ملفوظات اور مواعظ میں سے تفسیری اقوال جمع کر کے مجموعہ مرتب کر دیا گیا۔حتی کہ لطائف و طرائف جو ان کے مواعظ میں سے کہیں بغرض تمثیل آئے ان کے بھی مستقل مجموعے شائع ہوئے۔غرضیکہ ان کے علوم و معارف پر ان کے متعلقین نے اس انداز میں خاص محنت کی اور اس انداز میں انہیں امت کے سامنے لائے ،یہ ان کا اپنے شیخ سے قلبی تعلق اور ان کے علوم و معارف سے دلی وابستگی کا اظہار تھا جو دوسروں کے لئے استفادہ اور دلچسپی کا ذریعہ بن گیا اور اس سے حضرت تھانویؒ کے معارف عام ہوئے اور ان کی تعلیمات کو فروغ ملا۔

میرے سامنے بھی اس وقت ایک کتاب رکھی ہے جو اسی جذبے کے تحت لکھی گئی ہے۔اس کا نام ہے’’ منتخب جواہر‘‘۔ جامع ہیں محترم نظر نواز صاحب جو لکی مروت کے رہنے والے ہیں اور ایک پر جوش داعی جہاد ہیں اورا س کتاب پر مختصر اور مفید حواشی چڑھائے ہیں جناب مولنا محمد زاہد صاحب نے جو اہل قلم عالم دین اور اہل جہاد ہیں، القلم اور ماہنامہ المرابطون کے قارئین ان کے نام اور تحریروں سے بخوبی آشنا ہیں۔

کتاب کا موضوع اس کے نام سے ظاہر ہے کہ اسی طرح کا انتخاب ہے جس کا تعارف اوپر کی سطور میں گزرا۔

اور یہ انتخاب ہے امیر المجاہدین حضرت مولنا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ کی بعض کتب سے۔وجہ انتخاب صاحب کتاب نے مقدمہ میں ذکر کر دی ہے کہ وہ نظریہ ساز سٹیکر چھپوانے کے لئے اس کام کی طرف متوجہ ہوئے کہ حضرت امیر محترم کے مضامین میں کچھ مختصر جملوں کا انتخاب کریں اور اور پھر ان کا یہ کام ایک خوبصورت،مفید عام، دلچسپ اورنظریہ ساز کتاب کی شکل اختیار کر گیا۔حضرت امیر المجاہدین حفظہ اللہ کی تحریروں میں کئی رنگ و آہنگ ہیں جو ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ عقیدے کی درستگی،اعمال کی اصلاح ،نظریے کی پختگی، کردار سازی،قرآن فہمی ،عشق و محبت کے مبارک جذبات ،ترغیب،ترہیب اور دردمندانہ دعوت۔یوں ان کا ایک ایک مضمون کئی متنوع موضوعات پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں عنوانات سے ممتاز کیا جاتا ہے۔’’القلم’’ کے قارئین اور حضرت کی کتب کے شائقین اس طرز تحریر سے بخوبی آشنا ہیں۔مضامین کے درمیان کچھ جملے اپنی اثر انگیزی کے اعتبار سے اور کئی سطور اپنی ادبی چاشنی کے اعتبار سے ایک جداگانہ حیثیت کے حامل ہوتی ہیں جن کا بار بار پڑھنا اور الگ سے پڑھنا مزا دیتا ہے اور فائدے کا باعث بنتا ہے۔بھائی نواز صاحب نے خصوصیت کے ساتھ انہی جواہر کو چنا۔ان پر عنوانات لگا کر ان کے فائدے اور لذت کو مزید دو آتشہ کیا اور اپنا یہ حسین انتخاب قارئین کے سامنے رکھا۔ان میں دروس جہاد کے نظریہ ساز مضامین سے وہ شذرات ہیں جن سے نظریہ جہاد سمجھ میں آتا ہے۔’’القلم‘‘ کے سینکڑوں مضامین سے وہ جواہر اٹھائے ہیں جن سے راہ عمل واضح ہوتی ہے۔’’یہود کی چالیس بیماریاں‘‘ جیسی جامع کتاب سے وہ موتی چنے ہیں جو عقیدے و عمل کی اصلاح کا ذریعہ ہیں اور آخر میں زمانہ ساز کتاب ’’فتح الجواد فی معارف آیات الجہاد‘‘ سے قرآنی علوم و معارف کے ہیرے۔کچھ جملے ’’جمال جمیل‘‘، ’’آزادی مکمل یا ادھوری‘‘  اور ’’سات دن روشنی کے جزیرے پر‘‘ نامی کتب سے بھی ہیں جن کی قیمت کا اندازہ قارئین خود لگا لیں گے۔

بہرحال ایک لاجواب انتخاب آپ کے سامنے ہے۔مرتب کتاب جماعت کے ایک پرجوش اور انتھک کارکن ہیں،ان کا یہ انتخاب ان کے حسن ذوق کے ساتھ ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ، حضرت امیر المجاہدین کے ساتھ اور نظریہ جہاد کے ساتھ ان کی قلبی وابستگی کا بھی آئینہ دار ہے۔کتاب چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہے۔اسے جلد حاصل کیجیے اور ان کام کی باتوں کو پڑھیے۔یقیناً ہم سب کے لئیے ان میں فوائد کے بہت سے پہلو ہیں ان سے محروم نہ رہیں۔حسن انتخاب کے چند نمونے ملاحظہ ہوں ۔پہلا شذرہ ہی انتخاب لاجواب کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا:

ایک مفیدمشورہ

اے باصلاحیت مسلمانو! اﷲ کے لئے خود کو تولو… اور پھر اپنا سارا وزن دین کے کاموں پر خرچ کرڈالو… اگر تمہارے چلنے سے کوئی کام ہوتا ہے تو بغیر تھکے چلتے رہوخواہ ٹانگیں ٹوٹ جائیںاگر تمہارے بولنے سے کچھ کام ہوتا ہے توبولتے رہو خواہ سینہ پھٹ جائے… اگر تمہارے جاگنے سے کچھ کام ہوتا ہے تو جاگتے رہوخواہ دماغ تھک جائے… اورسنو! اگر تمہارے مرنے سے کچھ کام ہوتاہے تو مر جاؤ… تب رب کریم خود استقبال فرماتا ہے… اور یاد رکھنا! زندہ رہنے والے تمہاری موت کو رشک کی نگاہ سے دیکھیں گے (رنگ ونورجلد۱:ص۴۲۷)

اللّٰہ تعالیٰ کی یاد

پس اے مجاہد!تو کبھی بھی مالک کی یاد سے غافل نہ ہو… تو پیدل چل رہا ہو یا تیرے نیچے پیجارو گاڑی ہو… تو خچر یا گھوڑے پر سوار ہو یا ہوائی جہاز پر… تو دھول سے اٹے ہوئے میدان میں ہویا ائیر کنڈیشن دفتر میں…تو میدان جہاد میں جنگ کا نقشہ بنا رہا ہو یا کسی دفتر میں… تنظیمی اجلاس میں مصروف ہو تو کسی حال میں بھی اﷲ تعالیٰ سے غافل نہ ہو… تیرادل اس کی یاد سے معموراورتیری زبان اس کے ذکر سے تر رہنی چاہیے۔ (دروس جہاد:ص۷۶)

 شیطان کا آسان لقمہ

ایک انسان کو اﷲ تعالیٰ ’’جماعت‘‘ عطاء فرماتا ہے… اس جماعت کے ذریعے اسے دین کے وسیع کام کی توفیق ملتی ہے… دنیا آخرت میں عزت کا سامان بنتا ہے… اعمال میں جڑنے کی ترغیب ملتی ہے… اور قیامت تک کے لئے صدقہ جاریہ چھوڑنے کا موقع ملتا ہے… اچانک شیطان اس پر ناشکری کا حملہ کرتا ہے اور اسے جماعت بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے… شیطان اس کے کان میں کہتا ہے کہ تو تو اکیلا اچھا ہے، تو تو اکیلا بہت کچھ ہے، تو تو اکیلا بڑی چیز ہے، اکیلا ہونے میں آزادی اور عزت ہے اور جماعت میں پابندی اور ذلت ہے… تب یہ شخص ناشکری کرتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کی نعمت ’’جماعت‘‘ سے الگ ہو کر شیطان کا آسان لقمہ بن جاتا ہے… اور ایک لمحے کے فیصلے سے کروڑوں اربوں نیکیوں سے محروم ہو کربے کاری اور غیبت کی مکھیاں مارنے میں مشغول ہوجاتا ہے…(رنگ ونورجلد۳:ص۲۳)

ایک شرم ناک مرض

یاد رکھئے! بزدلی ایک شرم ناک مرض ہے جو انسان کے لئے دنیاو آخرت میں شرمندگی کا باعث ہے، اس لئے ہمیں اس بات سے شرم کرنی چاہئے کہ ہم اﷲتعالیٰ کے حضوراس حال میں پیش ہونگے کہ ہمارے اندر اﷲتعالیٰ کے لئے جان دینے کا جذبہ نہ ہو۔(فضائل جہاد:ص۶۸۸)

انٹر نیٹ اور ای میل

وہ مسلمان نوجوان جو زمین کا سینہ چیر سکتے تھے اور جو چاند پر اذان دے سکتے تھے انٹرنیٹ پر اپنی زندگی اور جوانی تباہ کر رہے ہیں… ہر شخص نے اپنے کئی کئی نام رکھے ہوئے ہیں اور ہر نام کا الگ ای میل ایڈریس… اور ہر نام سے الگ دوستیاں، الگ لڑکیاں، الگ لڑکے… ہائے مسلمان ہائے تجھے کیا ہوگیا ہے؟…ای میل پر یاریاں کرنے والے نوجوان! مدینہ منورہ کی طرف تو دیکھ … اﷲ کے لئے تھوڑی سی شرم کر… میں اکثر عرض کرتا رہتا ہوں کہ امریکہ انشاء اﷲ مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگر کمپیوٹر اور انٹرنیٹ مسلمانوں کو برباد کرکے رکھ دیں گے…(رنگ ونورجلد۳:ص۳۹۶)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online