Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

کلمہ، نماز، جہاد (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 614 (Talha-us-Saif) - Kalma Namaz Jihad

کلمہ، نماز، جہاد

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 614)

ایک مختصر ومحدود سا اِیمان افروز اجتماع دودن نصیب رہا۔موضوع تھا: ایمان، نماز اور جہاد

جماعت کی دعوت کا نصاب یہی مقرر ہے، ہر پروگرام میں اہتمام کیا جاتا ہے کہ اس منشور پر ضرور گفتگو کی جائے۔لوگ سوال کرتے ہیں کہ منشور یہ ہی کیوں ہے؟

 وجہ صاف ہے جماعت قرآن کی دعوت کی علمبردار ہے اور قرآنِ مجید میں ان تین موضوعات کا جس قدر تکرار ہے، اتنا کسی اور کا نہیں۔ قرآنِ مجید اُٹھائیے اور پڑھنا شروع کیجئے۔ ابتداء ہی ایمان کی دعوت سے ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان، اَنبیائِ کرام علیہم السلام پر ایمان، کتابوں پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، آخرت کے دن پر ایمان، تقدیر پر ایمان اور مرنے کے بعد زِندہ کئے جانے پر ایمان۔ ان سات باتوں کا پختہ یقین اِیمان کہلاتا ہے۔ قرآن مجید اول سے آخرتک اسی کی دعوت سے معمور ہے۔ اتنی زیادہ آیات ہیں کہ گنتی مشکل ہے۔ ہر رنگ سے ایمان کی دعوت، ہر اسلوب سے ایمان کی دعوت۔ ذات باری تعالیٰ کا ذکر، صفاتِ باری تعالیٰ کا تذکرہ، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے مناظر کی طرف توجہ دِلائی جاتی ہے اور کہیںکمالِ تخلیق کے مظاہر بتائے جاتے ہیں۔ زمین و آسمان کا بنانا، سورج چاند ستاروں کی پیدائش اور پھر ان کا ایک مربوط نظام، دن اور رات کی تخلیق اور ان کا آنا جانا، بادل، بارش، پہاڑ، انسان، حیوانات کی تخلیق، یہ سب بتایا گیا ہے تاکہ انسان اپنے خالق کو پہچان کر اس پر ایمان لے آئے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تذکرہ کہ اُس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، خوبصورت ترین سانچے میں بنایا، اُسے خلافت سے نوازا، فرشتوں سے سجدہ کرایا، زمین کی بادشاہت عطاء فرمائی، زمین کی تمام مخلوقات اُس کے فائدے کے لیے بنائیں، بولنے، سننے، پکڑنے ، دیکھنے، سوچنے کی صلاحیتیں ودیعت فرمائیں، رزق عطاء فرمایا، مال، اولاد، خزانے عطاء فرمائے اور اَن گنت نعمتوں کا تذکرہ تاکہ انسان اپنے منعم حقیقی کو پہچانے اور اُس پر ایمان لائے۔ قرآن مجید کہیں ہر زمانے کے انسان کو ماضی کے قصے سنا کر بتاتا ہے کہ ایمان لانے والوں کے ساتھ اِنعام و اِکرام کا کیا معاملہ ہوا اور ایمان نہ لا کر کچھ لوگ کس طرح عذابِ الٰہی کا شکار ہوئے، سیلاب کا عذاب، چنگھاڑ کا عذاب، ہوا کا عذاب، بستیاں اُٹھا کر اُلٹ دیا جانا، پتھروں کا آسمان سے برسنا، زلزلے کا پوری قوم کو نگل جانا، گرم لاوے کا لمحوں میں ہنستی کھیلتی بستیوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دینا وغیرہ عذابوں کا تذکرہ کیوں ہے؟ تاکہ انسان ماضی سے عبرت حاصل کر کے ایمان لے آئے۔ آخرت و قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر تاکہ محاسبے کا خوف اِیمان قبول کرنے پر مجبور کر دے۔ جہنم کی دل دہلا دینے والی تفصیلات پر پوری پوری سورتیں، پے در پے درجنوں آیات، خوفناک آگ، لوہے کے طوق، زنجیریں، ہتھوڑے، زقوم، غسلین، حمیم اور کیا کیا عذاب! اللہ کی پناہ۔ ان سب کا ذکر کیوں؟ تاکہ انسان ڈر کر ایمان لے آئے ۔ اور کہیں جنت اور اس کی نعمتوں کا دلنوازتذکرہ، باغات، مکانات، دودھ، شہد اور شراب کی نہریں، حور و غلمان اور بے شمار نعمتیں اور عیاشیاں تاکہ انسان ان کے شوق میں ایمان لے آئے۔ سچے ایمان کی علامات، شرائط اور کیفیات کاذکر تاکہ انسان اپنے ایمان کو ان پر پَرکھتا رہے اور ان کے مطابق اپنے ایمان کو درست کرتا رہے۔ غرضیکہ ایمان کی دعوت قرآن مجید کی بنیادی دعوت ہے۔ اور کیوں نہ ہو، اصل الاصول اور ہر عمل کی اساس ہے ہی ایمان۔ سب سے ضروری اور اہم چیز ہے ہی ایمان۔ سچا ایمان ہے تو کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی سب کچھ حاصل ہے اور ایمان نہیں تو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں۔ ایمان ہے تو انسان اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کا باغی، ایمان ہے تو انسان اشرف المخلوقات ہے ورنہ اذلّین کائنات کی ذلیل ترین مخلوق، ایمان ہے تو انسان مسجود الملائک ورنہ مبغوض الخلائق، ایمان ہے تو انسان خالق ِ کائنات کا محبوب ہے ورنہ ملعون اور ایسا ملعون کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی اور اُس کی تمام مخلوقات کی لعنتیں دن رات برستی رہتی ہیں۔ اور ایمان بھی صرف زبانی نہیں، دل میں اُترا ہوا ایمان، ایسا ایمان جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صداقت کی مہر لگی ہوئی ہو ورنہ محض زبانی دعوے پر قرآن مجید صاف جواب دے رہا ہے:

قُلْ لَمْ تُوْ مِنُوا ان دعویٰ کرنے والوں سے فرما دیجئے تم مومن نہیں ہو، ایمان چاہیے وہ جو نفاق کی بو سے پاک ہو۔ وہ کون سا ایمان ہے؟ یہ بھی قرآن ہی بتا دیتا ہے۔ انسان کیا فیصلہ کرتے اور کس سے جاکر پوچھتے پھرتے؟ سورت الحجرات کی آیت نمبر۱۵سچے ایمان کی مکمل پہچان کرا دیتی ہے اور اس پر نقد صداقت کی مہر بھی لگا دیتی ہے۔ یہ قرآن مجید کی جامع دعوتِ ایمان ہو گئی، جس نے ایمان کے کسی پہلو کا بیان نہیں چھوڑا۔

ایمان کا لازمی تقاضہ اللہ رب العزت کی عبادت ہے، جس ایمان کے ساتھ عبادت نہیں، وہ پتا نہیں کیسا ایمان ہوتا ہے؟ ہوتا بھی ہے یا نہیں؟ عبادات میں کچھ فرض ہیں اور کچھ سنت و مستحب، فرض عبادات پانچ ہیں نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج اور جہاد۔ ان میں جہاد کے علاوہ باقی سب سے زیادہ تذکرہ قرآن میں نماز کا ہے۔ اس لیے کہ یہ اللہ رب العزت کے ہاں محبوب ترین عبادت ہے، اس لیے کہ اس کی فرضیت سب سے زیادہ ہے، اس لیے کہ یہ ایمان کی سچائی کا امتحان ہے اور علامت بھی، اس لیے کہ اس میں عاجزی وتذلل ہے جو اللہ رب العزت کو پسند ہے وغیرہ وغیرہ۔ نماز کا ذکر بار بار، نماز کی تاکید کئی بار اور نما ز کی اہمیت اور اس کی دعوت سینکڑوںبار۔ نماز قائم کرو اور مشرکین جیسے نہ بنو، نماز قائم کرو خشوع وخضوع کے ساتھ، نماز قائم کرو اوقات کی پابندی کے ساتھ، نماز قائم کرو محافظت اور فکر کے ساتھ، یہ تمہارے ایمان کا امتحان ہے۔ تم اگر اپنے رب سے محبت رکھتے ہو تو محبوب جب بلائے دوڑے چلے آئو، تم اگر اپنے رب سے ڈرتے ہو، خوف رکھتے ہو اور یہ خوف تمہارے ایمان کا لازمی حصہ ہے تو جب تمہیں رب کا منادی حاضری کا حکم دے، تمہارے دل ڈر جایا کریں اور لرزاں لرزاں اُس کے دربار میں حاضر ہو جایا کرو۔ دیکھو!تاخیر مت کرو، حکم کو نظر انداز مت کرو ورنہ سخت پکڑ میں آجائو گے، تم اگر رب کی ملاقات، اس کے دربار میں حاضری، اور حساب و کتاب پر یقین رکھتے ہو تو نماز کو لازم پکڑو کیونکہ تم سے سب سے پہلے اسی کا سوال ہوگا، نماز ٹھیک نکلی تو بات آگے چلے گی ورنہ… ہاں اس لیے نماز کا حساب کتاب اہتمام سے برابر رکھو۔ اور نماز کیسی پڑھو؟ خشوع والی، توجہ والی ، عاجزی والی، تم نے ایمان میں کہا کہ اپنے رب کو العظیم مانتے ہو الاعلیٰ مانتے ہو الاکبر مانتے ہو۔ آئو پھر نماز کی شکل میں امتحان دو کہ کیا تم واقعی اپنے رب کو ایسا ہی مانتے ہو؟ عظیم و بلند ذات کے سامنے کس طرح کھڑا ہوا جاتا ہے؟ الملک شہنشاہ کے دربار میں حاضری کیسی ہوتی ہے؟ تمہاری نماز بتا دے گی کہ ایمان کس درجہ کا ہے اور کس مقام تک پہنچا ہوا ہے؟ اور پھر ایمان کی حفاظت چونکہ ہر چیز سے ضروری ہے اور دنیا ایمان کُش اسباب سے بھری ہوئی ہے اس لیے بار بار ایمان کی تازگی اور جانچ لازمی ہے اس لیے کم از کم پانچ بار روزانہ آئو، صبح اُٹھتے ہی آئو اور ہر کام سے پہلے ایمان چیک کرائو اور رات کو سونے سے پہلے ایک بار پھر۔ ایمان سلامت تو سب کچھ سلامت اس لیے بار بار آئو اور دیکھو کہ سلامت ہے یا نہیں۔ قرآن اسی دعوت کے ساتھ بار بار نماز، نماز کی صدائیں لگاتا ہے۔ یہ قرآن کی جامع دعوتِ نماز ہے۔

اچھا ایک امتحان تو روز دیتے ہو ایمان کا۔ یہ تو روزانہ کا سبق سنانے جیسا عمل ہوا مگر بڑے امتحان بھی تو ہوتے ہیں جو کبھی کبھی لیے جاتے ہیں مگر سخت ہوتے ہیں، مشکل ہوتے ہیں لیکن ضروری ہوتے ہیں ، اُن کے بغیر کامیابی نہیں ملتی۔ ایمان کا ایک سخت اور مشکل امتحان بھی ہے جو دینا ہی پڑتا ہے اُس کا نام ہے جہاد۔ رب کی محبت میں جان و مال کی قربانی بخوشی پیش کر دینا، ایمان کے تقاضے پر ٹکڑے ٹکڑے ہونے پر آمادہ ہو کر میدان میں نکل آنا یا مال و اولادوار دینا، رب کے نام پر اُس کے دین ، اُس کے کلمے، اُس کے رسول، اُس کی کتاب کی غیرت پر مر مٹنے کو تیار ہو جانا، رب کی کبریائی کو چیلنج کرنے والوں کے سر جھکانے اور جھنڈے گرانے کے لیے دیوانہ واران سے ٹکرا جانا۔ اسے جہاد کہتے ہیں۔ کیا رب کی ایسی محبت کے بغیر ایمان کامل ہو سکتا ہے جو محبت وصال کی تڑپ اور شوق سے خالی ہو؟ کیا ایسی غیرت کے بغیر ایمان مکمل ہو گا جو غیرت ادنیٰ سی توہین بھی گوارہ نہ کرنے دے؟ کیا ایسی دیوانگی سے خالی دل پورا مومن ہو سکتا ہے جو رب کے شریک بننے اور اُس کا نام مٹانے کی کوشش کرنے والوں کے پرخچے اڑا دینے پر نہ ابھارے؟ آج کل شاید لوگ ایسا سمجھتے ہوں گے پہلے ایسا تصور بھی بد ترین بے غیرتی، بے حمیتی اور بزدلی سمجھا جاتا تھا۔ کیونکہ پہلے لوگ قرآن پڑھا کرتے تھے۔ وہ قرآن جو درجنوں بار اعلان کرتا ہے لَنَبْلُوَنَّکُمْ ہم اس حکم کے ذریعے تمہارا متحان ضرور بالضرور لیں گے، وہ قرآن جو اَمْ حَسِبْتُمْ کہہ کر ایمان کے دعوے داروں کے دل دہلاتا ہے کہ اس زبانی ایمان پر جنت میں داخلے کی اُمیدیں؟ وہ قرآن جو اس حکم کو پورا نہ کرنے والوں اور اس سے اعراض کرنے والوں کو رُسوا کرتا ہے، وہ قرآن جو اس حکم کو امتحان محبت، امتحان ِ اطاعت اور امتحان نصرت بتاتا ہے۔ اب لوگ قرآن نہیں پڑھتے اس لیے نہیں جانتے کہ کس بُری جہالت میں پڑے ہیں۔ اور کس عظیم خطرے میں گھرے ہیں، وہ عمل کہ ایمان کے بعد سب سے زیادہ بار اُسی کا حکم دیا گیا اور اُسی کی دعوت، وہ ایمان میں شامل نہیں ہوگا تو ایمان کا کیا حال ہوگا؟ ہاں ہوسکتا ہے کہ لوگ اس بات سے غافل ہوںمگر وہ کیسے غافل ہو سکتے ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں، قرآن سے محبت رکھتے ہیں، قرآن کی غیرت کے چراغ سینوں میں روشن رکھتے ہیں، قرآن کو عظمت دِلانے کی فکر میں گھلتے ہیں اور قرآن کو عام کرنے کی لگن میں جیتے ہیں۔ وہ تو ضرور قرآن کا یہ پیغام سنائیں گے اور قرآن کے انداز میں بار بار سنائیں گے، دہرا دہرا کر سنائیں گے، ڈرا کر بھی سنائیں گے، شوق دلا کر بھی سمجھائیں گے اور بھڑکا کر بھی سنائیں گے کہ یوں بھڑکانا بھی تو قرآن کا حکم ہے۔

غور کرنے کا ایک زاویہ اور بھی ہے-

دین کی بنیاد "لا الہ الا اللہ" ہے- اس میں ایک نفی ہے اور ایک اثبات- اثبات اسکا ہے کہ اللہ تعالی ہی معبود ہے- جب وہ معبود ہوئے تو ہم پر عبادت لازم ہوئی اور عبادت میں سب سے موکد اور مہتم بالشان عبادت وہ ہوگی جس میں عبدیت اور احتیاج ،تضرع وخشوع، انابت وخشیت کی شان غالب ہوگی اور وہ ہے نماز۔جبکہ ایک نفی ہے کہ باقی سب معبود باطل اور جھوٹ ہیں-اس نفی سے خود بخود دشمنی، عداوت اور بغض وجود میں آجاتا ہے -لازمی بات ہے جن کے مذاہب اور صدیوں کی رسوم پر "لا" کی تلوار چلادی جائے انہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ ہم اور آپ آج سے الگ ہیں-اس دشمنی کا منطقی نتیجہ جہاد ہے خواہ کوئی چاہے یا نہ چاہے...وَھُوَکُرْہٌ لَکُمْ

بس کلمہ طیبہ کے ساتھ نماز وجہاد لازم وملزوم کے طور پر ہوئے..

اب آپ بتائیے! ایمان، نماز اور جہاد کی دعوت نہ دی جائے تو کس کی دی جائے؟ اور اگر اسی کی ضروری ہے تو آپ بھی یہ قرآنی کام کیوں نہیں کرتے؟ آئیے! اور کاروانِ عزیمت کے ساتھ مل کر آواز لگائیے۔

اے لوگو! ایمان ایمان ایمان ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اے لوگو! نماز، نماز، نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ بنو

اے لوگو!جہاد، جہاد، جہاد ۔ نکلو اللہ کے راستے میں ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو جانوں سے اور مال سے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online