Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

بھول نہ جائیں (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 615 (Talha-us-Saif) - Bhool na Jaein

بھول نہ جائیں

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 615)

میڈیا اس زمانے میں کفر کا وہ ہتھیار ہے جو ذہنوں کو مکمل قبضے اور غلامی میں لے رہا ہے۔ آج کسی کے بارے میں خوش گمانی کا مدار بھی میڈیا ہے اور بدگمانی کا بھی۔ اچھا اسی کو یاد کیا جاتا ہے جسے میڈیا اچھا بنا کر دکھا رہا ہو اور جسے برا بنا کر پیش کر دے وہ برا گمان کر لیا جاتا ہے۔ کسی کام کا وجود اسی وقت تسلیم کیا جاتا ہے جب میڈیا اسے موجود دِکھائے اور جس سے میڈیا بے رُخی برتے اس کا وجود کالعدم سمجھ لیا جاتا ہے۔ کتنی خیریں، عظیم خیریں ایسی ہیں جن سے امت کی اکثریت میڈیا کی وجہ سے بے خبر رہ گئی ہے اور کتنے شرور و فسادات ایسے ہیں جو اس کی بدولت ماحول و معاشرے کا حصہ بن گئے۔ میڈیا کی کسی صنف کو بھی لے لیجئے، اس کا شر بہت غالب ہے اور جو تھوڑی بہت خیر بر آمد ہو بھی جائے، بہرحال کئی شرور میں لتھڑی ہوتی ہے۔ ایسے بے کار لوگ جن کے وجود سے اُمت کو ذرہ برابر نفع نہیں اس میڈیا پر سپر سٹار ہیں اور بد قسمتی سے وہ بھی خود کو ایسا ہی سمجھنے لگتے ہیں۔ بہرحال یہ میرا آج کا موضوع نہیں ہے، بات کسی اور طرف نکل جائے گی، لہٰذا موضوع کی طرف لوٹتا ہوں۔ امت مسلمہ دنیا بھر میں جن حالات کا شکار ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ شام میں قیامت صغریٰ بپا ہے، عراق جل رہا ہے، یمن تباہ حال ہے، برما کی صورت حال ابترسے ابتر ہوتی چلی جارہی ہے، ایسے میں جب ان علاقوں کی تازہ صورتحال مسلمانوں کے سامنے آتی ہے تو یقیناً دل میں درد بیدار ہوتا ہے، جذبات ابھرتے ہیں، کچھ کر گذرنے کا وَلولہ اٹھتا ہے اور امت کے لئے کوئی کردار ادا کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے۔ کفار نے سب کچھ کر کے دیکھ لیا مگر اس جذبے سے امت کے ایک بڑے طبقے کو بہرحال محروم نہیں کر سکے اور اسی کے نتائج بھی وہ گاہے گاہے بھگتتے رہتے ہیں۔ ان بڑے بڑے انسانی المیوں کے حوالے سے مسلمانوں کے ایمانی جذبات کی حدت کم کرنے کے لئے جو ذریعہ سب سے کار آمد ثابت ہوا ہے وہ بھی ’’میڈیا‘‘ ہے۔ میڈیا کی پالیسی ان تمام وقائع میں یہ ہے کہ:

٭ ابتداء میں انہیں بالکل نظر انداز کیا جائے بلکہ مسلمان اپنے ذرائع سے ان کی تصویر اگر امت کے سامنے لے بھی آئیں تو اسے مشکوک بنایا جائے۔ شام کے حوالے سے یہی پالیسی اختیار کی گئی۔ لاکھوں لوگوں کی شہادت اور کئی بڑے بڑے شہروں کی بربادی تک میڈیا شام کو ایک غیر اہم اور غیر مصدقہ خبر کے طور پر پیش کرتا رہا۔ اور جو منظر کشی عینی شاہدین کی طرف سے کی جاتی رہی اس کے حوالے سے شکوک و شبہات پھیلاتا رہا۔ برما کا معاملہ ہوا تو ایک طویل مدت تک میڈیا اسی پالیسی پر گامزن رہا اور ان تمام شواہد کے تئیں یہ موقف اپنائے رکھا کہ یہ تصاویر ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کر کے پھیلائی جا رہی ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ کفار کی دیکھا دیکھی مسلم ممالک کا شیطانی میڈیا بھی مسلسل یہی راگ الاپتا رہا تاکہ مسلمانوں میں اس حوالے سے کوئی بیداری نہ پیدا ہونے پائے۔

٭جب تردید ناممکن ہو جاتی ہے تو یہ میڈیا ایک دم سے زوردار کوریج دینے لگتا ہے۔ وہی خبر جسے تھوڑا پہلے تک جھٹلایا جا رہا ہوتا ہے ایک دم سب سے اہم اور سب سے بڑی خبر بنا دی جاتی ہے۔ ہر خبر نامہ اسی سے شروع ہوتا ہے اور ہر ٹاک شو پر اسی کا ذکر چھایا رہتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اسی موضوع کا سیلابی ریلا آ جاتا ہے اور ہر طرف سے مسلمان اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ اس وقت میں ایمانی کیفیات کا عروج نظر آتا ہے۔شام میں حلب کا معاملہ اور برما میں گذشتہ دو ماہ کے حالات میڈیا کی اسی پالیسی کے آئینہ دار ہیں۔ ایسے میں مسلمان عوام ہر طرف سے امداد و تعاون اور ہمدردی کے جذبات سے سرشار امڈ آتے ہیں۔ رفاہی ادارے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ احتجاج ہوتے ہیں، حکمرانوں سے مطالبات کئے جاتے ہیں اور ان کے زیر اثر حکومتیں بھی کچھ اچھے اقدامات کر لیتی ہیں۔ ظلم کے مارے مسلمانوں کو کچھ راحت میسر آتی ہے اور کچھ سکون کے لمحات مل جاتے ہیں۔

٭ پھر ایک دم سے اس مسئلے کا ذکر ایک بار پھر گول کر دیا جاتا ہے۔ درمیانی مدت کی خیر چونکہ میڈیا کی کوریج کے زیر اثر وجود پذیر ہوتی ہے، میڈیا سے کوریج ہٹتے ہی مدھم پڑنے لگتی ہے حتی کہ دم توڑ جاتی ہے۔ یوں وہ مسئلہ جو بظاہر پوری امت میں بیداری، یگانگت اور ایمانی اخوت کا مظہر بن کر کفر کے لئے ایک خطرے کا روپ دھارنے کے قریب ہوتا ہے میڈیا ان تمام جذبات کو سرد کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور دشمنان اسلام اپنا اصل اور سب سے خونی وار ایسے میں اس طرح کر گذرتے ہیں کہ امت کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی۔آپ آج شام کی صورتحال کا اوپر بیان کی گئی تین پالیسیوں کی روشنی میں جائزہ لے لیجئے۔ حلب کے سقوط کے بعد امت مسلمہ کی شام کے معاملے میں کیا حالت تھی اور کیا مناظر دیکھنے میں آ رہے تھے اور آج کیا صورتحال ہے؟ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شام کے مسلمان اس وقت سقوط حلب کے ہنگام سے بدترین صورتحال کا شکار ہیں۔ حلب سے بھی زیادہ برے حالات ادلب اور رقہ میں برپا ہوئے لیکن امت میں نہ کہیں تڑپ کی لہر نظر آئی نہ بیداری کی۔ نہ تعاون کے قافلے چلے اور نہ ان کے لئے مسلمان سڑکوں پر نکلے۔ عراق میں موصل کی صورتحال دکھائی گئی اورپھر عراق کا ذکر میڈیا سے محو ہو گیا اس کے بعد وہاں موصل سے کئی گنا بدتر قتل عام اور انسانی تباہی ہوتی رہی لیکن میڈیا پر نہ آنے کی وجہ سے ان کے لئے نہ کوئی آنکھ روئی اور نہ دل تڑپا۔ بعینہ یہی معاملہ اب برما کے مسئلے پر ہے۔ میڈیا نے ایک دم اپنی پہلی پالیسی سے یوٹرن لے کر برما کا معاملہ ہائی لائٹ کیا۔ اپنی غیر جانبداری اور انصاف پسندی دکھانے کے لئے برمی حکومت کے موقف کی پرزور تردید کی اور اس کے خلاف دلائل قائم کئے۔ کئی صحافی اپنی جانیں بظاہر خطرے میں ڈالے ’’حق سچ‘‘ دنیا کے سامنے لانے کی سعی کرتے دکھائی دئیے۔ بڑے بڑے نشریاتی اداروں نے اپنا پرائم ٹائم روہنگیا کے مسلمانوں کے لئے وقف رکھا۔ میڈیا نے اپنی ایمانداری اور غیر جانبداری کی دھاک بٹھا لی اورپھر مسلمانوں کے جذبات کو مکمل قابو میں لے کر برما کا معاملہ منظر عام سے ہٹا دیا۔ اب آپ ایک عام مسلمان سے برما کے مسئلے پر بات کر کے دیکھئے وہ آپ کو قطعاً اس معاملے میں اس طرح دل گرفتہ اور پریشان نظر نہیں آئے گا جیسے ایک ماہ قبل تھا۔ نہ آپ کو گرد و پیش وہ ماحول نظر آئے گا جو چند دن قبل تک چھایا ہوا نظر آ رہا تھا۔ وجہ کیا ہے؟

وجہ یہی میڈیا کی شیطانی پالیسی اور مسلمانوں کا اس کی گرفت میں آ جانا ہے۔ برما میں اس وقت پہلے کی نسبت زیادہ قتل عام ہو رہا ہے۔ بستیاں پہلے سے زیادہ جل رہی ہیں۔ ہجرت کا بازار پہلے سے زیادہ گرم ہے۔ حالات ایک ماہ پہلے کی نسبت زیادہ کٹھن اور افسوسناک ہیں۔ تعاون کی ضرورت پہلے کی نسبت بڑھ کر ہے۔ اخوت کے مناظر کی اہمیت فزوں تر ہے لیکن امت کا طرز عمل اس کے بالکل برعکس نظر آ رہا ہے۔ شام و عراق و برما کے مسلمانوں سے ہمارا تعلق ایمان کی بنیاد پر تھا یا خبروں کی بنیاد پر؟

اور کیا اس طرح میڈیا کے زیر اثر مسلمانوں سے اپنے ایمانی رشتے کو بھول جانا ، ایمانی کیفیات کا بدل جانا ایک مسلمان کا اچھا طرز عمل کہلا سکتا ہے؟

یقیناً جواب ’’ہرگز نہیں‘‘ ہو گا۔

خدارا! اس شیطانی جال سے اپنے قلب و ذہن کو آزاد کرائیے۔ امت کے ساتھ ہمارا رشتہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کی بنیاد پر ہے۔ ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے معطر رشتے اور نسبت سے ہے۔ میڈیا کفار کا ہتھیار ہے۔ اس کی مکمل ساخت و پرداخت انہوں نے اپنے مفادات اور اپنی مصلحتیں سامنے رکھ کر کی ہے، یہ ہمیشہ انہی کے کام آئے گا۔ ہمارے کام آنے والی چیز کلمہ لا الہ الا اللہ، محمد رسول اللہ کا اٹوٹ رشتہ ہے جس کا تقاضا ہے کہ جب تک ایک کلمہ گو مسلمان بھی مشکل ومصیبت میں ہے ہم پر اس کی مدد لازم ہے اور اس کی فکر ہمارا فریضہ ہے۔ لہٰذا اس کلمہ کو دل میں جمائیے اور ان مسلمانوں کو بھول نہ جائیے جو کمزور ہیں، مظلوم ہیں، ہماری مدد کے محتاج ہیں اور ہماری اخوت کے منتظر ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online