Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

خوش نصیب طلحہ(۱) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 617 (Talha-us-Saif) - Khush Naseeb Talha

خوش نصیب طلحہ(۱)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 617)

اناللّٰہ واناالیہ راجعون

ان للّٰہ ما اعطی و لہ ما اخذ وکل شیء عندہ باجل مسمی

ہمارے گھرانے کا سب سے خوبصورت پھول، خاندان میں اپنی جنریشن کے سب سے بہترین عالم ، سب سے اچھے خطیب اور سب سے نظریاتی مجاہد ’’طلحہ ابن رشید‘‘ نے اپنی منزلِ مراد پا لی۔ آج رات پلوامہ میں پانچ گھنٹے جاری رہنے والا معرکہ طلحہ کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ بن گیا اور اس لمحے اس کی حد درجہ بے قرار طبیعت کو سکون و چین نصیب ہو گیا۔

اَللّٰہُمَّ تَقَبَّلْہُ وَارْفَعْ دَرَجَتَہُ فِی الشُّہَدَائِ الْمَقْبُوْلِیْن۔آمین

انڈیا والے کہہ رہے ہیں کہ خاندان چاہے تو ہم طلحہ کا جسد خاکی پاکستان بھجوا دیتے ہیں، لیکن ہم وہ کیوں چاہیں جو ہمارا پیارا طلحہ نہیں چاہتا تھا۔ کشمیر اس کا بچپن سے جنون تھا، اسے اپنی محبوب سرزمین کی مٹی مبارک ہو۔ انڈیا کو کہیں یہ خوف ستار ہا ہے کہ طلحہ کاوہاں وجود نوجوانوں میں جذبہ حریت و جہاد کا عَلَم نہ بن جائے۔ انڈیا پہلے افضل گورو کو رو رہا ہے۔ اب یہ ایک اور ’’قبر‘‘ ان کے لیے مزید مسئلہ نہ بن جائے۔ نہیں ہرگز نہیں، ہمارا طلحہ وہیں رہے گا اور انڈیا کے ساتھ اس کے بدلے میں جوہونا ہے وہ بھی ہو کر رہے گا۔ ان شاء اللہ

میرا بھانجا طلحہ رشید میری شعوری زندگی کا سب سے پہلا پیار تھا اور پھر آگے عملی زندگی میں میرے اس کے ساتھ جتنے تعلق قائم ہوئے، اتنے خاندان کے کسی اور فرد کے ساتھ نہیں ہوئے، وہ میرا علمی شاگرد بھی تھا، عسکری تربیت بھی دوبار مجھ سے لی، عمرے کا رفیق سفر بھی اور مشکل ترین محاذی سفر کا جانثار ہمراہی بھی، دعوتی اسفار میں بھی مجھے اس کا ساتھ سب سے زیادہ نصیب رہا اور مدرسے میں بھی ایک طویل زمانہ صحبت رہی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ محبت بھی بہت کی اور لڑائیاں بھی آپس میں ان گنت ہوئیں۔ طبعی اتفاق کے پہلو بھی بے شمار ہیں اور سخت اختلاف کے بھی۔اس لئے میرے لئے بہت مشکل ہے کہ اپنی یادوں کو ایک مضمون میں سمیٹ سکوں۔ لیکن دل کو تسلی دینے کا اور کوئی طریقہ بھی سمجھ نہیں آ رہا سوائے اس کے کہ اس کی یاد سے دل بہلایا جائے۔

غالباً تعلیمی مسافرت کا تیسرا سال تھا، جب طلحہ دنیا میں آیا۔ چھٹیوں میں گھر آیا تو سارا وقت اسی کھلونے سے کھیلنے میں گزرا۔ چھٹیاں ختم ہوئیں تو کراچی آ کر جس چیز نے سب سے زیادہ ستایا وہ طلحہ کی یاد تھی۔ وہ یاد کیسی ہوتی تھی؟ ساری کیفیات میں بھول بھال گیا تھا لیکن آج یاد آ گیا کہ وہ یاد کیسی ہوتی تھی… میں نے طلحہ کی والدہ کو خط لکھا تھا اور انہیں آج تک یاد ہے۔

’’ آپ سب لوگ بہت یاد آتے ہیں لیکن جب طلحہ یاد آتا ہے تو رو پڑتا ہوں‘‘…

بالکل وہی منظر ہے آج… طلحہ یاد آ رہا ہے اور میں بالکل اپنے بچپن کے انہی دنوں کی طرح رو رہا ہوں۔

آپ نے یہ تو سنا ہو گا کہ فلاں بھانجے کا نام اس کے ماموں کے نام پر رکھا گیا، لیکن کبھی یہ سنا ہے ماموں کا نام بھانجے کے نام پر رکھا گیا؟ … آئیے آپ کو سناتا ہوں ۔ طلحہ کی پیدائش کے اگلے سال ہمارے حضرت والا نے عجمی نام بدل کر عربی نام رکھوانے کی مہم چلائی۔ کئی حضرات اساتذہ اور طلبہ کے نام تبدیل ہوئے، بندہ کو بھی فرمایا گیا کہ نام بدلا جائے۔ اسی شام حضرت کے گھر صفائی کے لئے گیا تو انہوں نے پوچھا:

ارے مجاہد کوئی نام سوچا؟

 بس ذہن میں ہر وقت طلحہ، طلحہ گھومتا رہتا تھا وہی زبان پر آ گیا اور ماموں بھانجا ہم نام ہو گئے۔ مگر صرف نام ہی تو ایک ہوئے۔ وہ عرب کہتے ہیں ناں کہ لنگڑا گھوڑا، اسپ تازی کے ہم پلہ کب ہو سکتا ہے؟ سو وہ طلحہ ہمیشہ ہی جیت گیا کیونکہ اصل وہی تھا۔

طلحہ تین سال کا تھا جب اس نے والدین کے ہمراہ راہِ جہاد کا پہلا سفر کیا۔ ژاور معسکر میں ایک کمرہ اور کمبل تان کر باندھا گیا صحن۔ یہ وہ گھر تھا جس میں یہ چار رُکنی خاندان مقیم ہوا۔ اس کے والد محترم اس معسکر میں خدمات سر انجام دیتے تھے۔

میں بھی ان دِنوں وہیں ہوتا تھا اور ایک کلاس تربیت کے لئے میرے پاس تھی۔طلحہ صبح صبح وردی پہن کر آ جاتا اور کلاس کے آگے دوڑ لگاتا۔ جب تھک جاتا تو ہم باری باری اسے کندھوں پر اُٹھا کر دوڑا کرتے اور وہ اوپر بیٹھ کر زور زور سے نعرے لگاتا۔ یہ اس کی جہادی اُٹھان تھی جو اس عمر سے شروع ہوئی۔ پھر وہ اپنے والدین کے ساتھ کابل میں بھی رہا اور چھوٹی سی عمر میں فارسی بولنے کی مہارت حاصل کی۔ کابل میں ایک بار اسے قلعہ مراد بیگ کے محاذ پر ساتھ لے گئے۔ ہم سب مورچے میں بیٹھے تھے، باہر مسلسل گولہ باری ہو رہی تھی۔ طلحہ ضد کر رہا تھا کہ اسے گولہ پھینکتے ہوئے دیکھنا ہے۔ وہ بار بار باہر نکل کر نظارہ کرنے کی ضد کر رہا تھا اور جب ہم نے اسے ڈانٹ کر کونے میں بٹھا دیا۔ ادھر سب کسی کام میں مشغول ہوئے اور ادھر وہ بے چین روح مورچے سے باہر نکل گئی۔ تھوڑی دیر بعد چپکے سے اندر آ کر بیٹھ گیا۔

وہ گولہ پھٹنے کا قریب سے مشاہدہ کر آیا اور بعد میں کابل پہنچ کر سب کو اس مشاہدے کی خوفناک تفصیل بتاتا رہا۔گولہ پھٹتا ہے تو مٹی اڑتی ہے اور پتھر سر پر آکر لگتے ہیں۔

کشمیر کا پہلا سفر بھی طلحہ کا میرے ساتھ ہوا۔ ۲۰۰۱؁ء میں میری تشکیل لانچنگ کے شعبے میں تھی، طلحہ اپنے والد صاحب کے ساتھ مظفر آباد آیا۔ انہیں کچھ دن وہاں رُکنا تھا تو میں اسے اپنے ساتھ نیلم لے گیا۔ واپسی کے سفر میں ہم ایک جگہ نماز کے لئے رُکے۔ سڑک ڈھلوانی تھی۔ ڈرائیور نے بے احتیاطی کی، اور ٹائر کے نیچے پتھر نہ لگائے۔ ہم نماز میں تھے کہ زوردار دھماکے کی آواز آئی۔ باہر آ کردیکھا گاڑی روڈ سے لڑھک کر کھیتوں میں گئی اور وہاں سے پھسل کر دریائے نیلم کی طرف، لیکن خوش قسمتی سے ایک بڑی چٹان سے ٹکرا کر رُک گئی۔ طلحہ اس وقت گاڑی کے پیچھے کھڑا تھا۔ مفتی محمد اصغر خان صاحب زید مجدہ نے مذاق میں کہہ دیا کہ گاڑی کو طلحہ نے دھکا دیا ہے، اس لئے گر گئی ہے، اب اسے سزا ہو گی۔ وہ ہر پانچ منٹ بعد رونی سی صورت لے کر میرے پاس آتا اور کہتا

’’ماموں! اللہ کی قسم میں نے دھکا نہیں دیا‘‘…

اس کی اس معصومانہ حرکت پر ہم سب ہنس پڑتے لیکن کوئی اسے جواب نہ دیتا اور وہ ہر پانچ دس منٹ بعد آ کر اسی طرح روکر اپنی صفائی پیش کرتا۔ اس دن ہم جس بچے کو پریشان کر کے تفریح لے رہے تھے آج مفتی صاحب اس کے بارے میں کہہ رہے تھے، اگر طلحہ کے گذشتہ دو سال کی جدوجہد میرے سامنے نہ ہوتی تو یہ شعر کبھی بھی عملی شکل میں سمجھ نہ آتا

اگر ہمت کرے پھر کیا نہیں انسان کے بس میں

یہ ہے کم ہمتی جو بے بسی معلوم ہوتی ہے

اس کی تفصیل آگے ان شاء اللہ

طلحہ نے قرآن مجید حفظ کیا ۔ ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ملاقاتیں ہوتی رہیں لیکن ساتھ رہنے کا زیادہ موقع کئی سال نہ بن سکا۔ پھر یوں ہواکہ حضرت ابا جی قدس سرہ کے انتقال کے بعد میں جامعۃ الصابر آ گیا اور طلحہ سے کل وقتی رَفاقت قائم ہوئی۔ وہ نوجوانی کی دہلیز پر تھا۔ اس کا درجہ خامسہ کا سال تھا وہ کسی اور مدرسے میں پڑھنے کے لئے جا رہا تھا میں نے ضد کر کے اسے جامعہ میں روک لیا۔ اس نے شرط رکھی کہ آپ کو ہر سال ایک سبق مجھے پڑھانا ہو گا ورنہ میں کہیں اور جا کر پڑھوں گا۔ معاہدہ طے ہو گیا لیکن مجھے معلوم تھا کہ یہ آسان کام نہیں۔ طلحہ کے مشکل سوالات سے میرا واسطہ جامعہ آنے سے پہلے سے تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میرا کتاب سے تعلق بالکل منقطع تھا اور طلحہ کی علمی اُٹھان زوروں پر تھی۔ خیر پہلے سال ہدایہ سے ابتداء ہوئی۔ اگلے سال جلالین شریف۔ اس سال اس پر ایک کیفیت طاری ہو گئی کہ بس پڑھائی چھوڑ کر محاذ پر جانا ہے۔ اس کی یہ حالت نہ تو تعلیم میں رغبت نہ ہونے کی وجہ سی تھی نہ استعداد میں کمزوری کی وجہ سے۔ وہ چونکہ زبردست خطیب تھا اور جہاد پر پُر زور ترغیبی تقریریں کیا کرتا تھا، اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ میں جو کہتا ہوں اگر خود اس پر عمل نہ کروں گا تو گناہ گار ہوں گا۔ بس وہ اس کیفیت سے مغلوب ہو گیا اور چار ماہ کشمکش کی کیفیت میں گذار کر بالآخر فیصلہ کر کے پڑھائی چھوڑ دی۔ کشمکش یہ تھی کہ وہ میری رضا مندی سے پڑھائی چھوڑنا چاہتا تھا اور میری ضد تھی کہ درمیان سال ایسا کرنا بالکل نا مناسب ہے۔ جب پڑھائی چھوڑنی ہو ابتداء ہی نہ کی جائے۔ وہ مجھے قائل نہ کر سکا اور میں اسے… بالآخر وہ چلا گیا۔ اس نے گلے چار ماہ سخت محاذوں پر انتہائی کڑے حالات میں گذارے۔ واپس آیا تو سالانہ امتحان کا وقت قریب تھا۔ بیس دن باقی تھے۔ وہ مجھے ملتے ہی روپڑا۔ روتے روتے اپنی کیفیات بیان کیں۔ وہ اپنی ان باتوں میں بالکل سچا تھا اور اسکے اندر لگی ہوئی آگ اس کی باتوں اور آنکھوں میں صاف نظر آ جاتی تھی، اس لئے ناراض رہنے کا امکان ہی نہ تھا۔ اس نے بیس دن امتحان کی تیاری کی۔ وفاق کا امتحان دیا اور اپنی جماعت سے ممتاز رہا۔ جونہی امتحان ختم ہوئے، ہم اکھٹے دورہ تفسیر کے لئے کراچی چلے گئے۔ ایک ہفتہ ساتھ رہ کر وہ پھر محاذ پر چلا گیا۔ رمضان المبارک کے آخری دن تھے وہ گھر واپس آیا۔ میں دعوت مہم کے پروگراموں میں شرکت کے لئے کراچی جا رہا تھا، طلحہ کو ساتھ لے لیا۔ ۲۷ کی شب ایک مسجد میں دیر رات بیان ہوا۔ سحری کے و قت دفتر پہنچے تو طلحہ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ آنکھوں میں آنسو تھے اور زندگی میں مجھے پہلی بار عجیب الفاظ میں مخاطب کیا۔ یہ الفاظ اس دن سے پہلے کسی نے کہے، نہ بعد میں

سیدی ایک بات کہنی ہے۔ والدین سے میں اجازت لے چکا ہوں کہ جہاد کے لئے خود کو عملاً وقف کر دوں۔ اجازت مل گئی لیکن والدہ کی یہ خواہش بھی ہے کہ عالم بھی بن جاؤں۔ آپ ایک معاہدہ کر لیں توممنون ہوں گا۔ یہ سال پڑھوں گا نہیں تربیت کروں گا۔ اپنے آپ کو فٹ کروں گا۔سال کے آخر میں آ کر کچھ پڑھ کر امتحان دے دوں گا اور آئندہ سال دورۂ حدیث مکمل کروں گا ،آپ ہاں کر دیں اور بس ہاں ہی کر دیں۔ میں نے ہاں کر دی۔ طلحہ سے ضد کی جا سکتی تھی، اس کے سچے آنسوؤں سے نہیں۔ وہ اپنے کام پر چلا گیا اور میں نے اس سال اس درجے کا کوئی سبق نہ پڑھایا۔ اس سال کے وسط میں ہمیں ایک اور سفر سعادت میں رفاقت نصیب ہوئی۔ ہم اَمی جان کی معیت میں عمرہ کرنے گئے۔ پورے ۲۷ دن ہم نے حرمین شریفین میں ساتھ بتائے۔ طلحہ سے تو ہم سب کو محبت تھی لیکن طلحہ کو اگر دنیا میں کسی کے ساتھ حد سے بڑھی ہوئی محبت تھی تو صرف اپنی نانی اماں سے۔ یہ وہ تعلق تھا جو دیکھا جا سکتا تھا بیان نہیں کیا جا سکتا تھا۔اسی محبت میں وہ ہمیشہ دعاء کیا کرتا تھا کہ اس کی اجل نانی اماں سے پہلے آئے۔  ہم مکہ مکرمہ پہنچے۔ امی جی پر تھکاوٹ کا شدید اثر تھا اس لئے فوراً عمرہ نہ کر سکے، طے کیا کہ رات کو دیر سے کریں گے۔ مغرب کی نماز کا وقت ہوا تو میں نے طلحہ کو کہا چلو حرم شریف میں پہلی نماز پڑھ لو۔ ہم مسجد الحرام کے قریب پہنچے تو طلحہ نے مجھ سے عجیب مطالبہ کر دیا۔

’’ماموں ایسی جگہ پر لے جائیں کہ ہم نماز پڑھ لیں لیکن بیت اللہ شریف پر نظر نہ پڑے‘‘

مگر وہ کیوں؟… راستہ بھر تو بیت اللہ شریف دیکھنے کے لئے تڑپ رہے تھے اور ایک ایک بات پوچھ رہے تھے…

اصل میں، میں چاہتا ہوں جب بیت اللہ پر پہلی نظر پڑے تو اماں ساتھ ہوں۔ ان سے ایک دعا کروانی ہے…

ہم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں مسجد الحرام میں ادا کیں لیکن وہ اپنے آپ کو روک کر بیٹھا رہا اور دل کی گھٹن کی وجہ سے روتا رہا۔ایک طرف دیدار کی تڑپ تھی اور دوسری طرف اس کی عجیب سی دھن جو اس پر سوار تھی۔  اس نے دعاء کیا کروانی تھی، یہ ہم سب کو علم تھا۔ اسے بس ایک دعا چاہیے ہوتی تھی ، ہر کسی سے اور وہ بھی واضح الفاظ میں۔ نہ کوئی شرط اور نہ کوئی سابقہ، لاحقہ۔ بس سیدھے الفاظ میں اسے یہ سننا ہوتا تھا کہ اسے نوجوانی میں شہادت کی دعاء دی گئی ہے اور بس۔ واپسی کے دن اسے کہا کہ کوئی چیز اپنی پسند کی لے لو، میری طرف سے ہدیہ ہو گی۔ اس نے کافی پکا کرنے کے بعد یہی مطالبہ رکھ دیا کہ آخری طواف میں بس سیدھے الفاظ میں یہ دعاء کر دیں۔ اسے شہادت کی دعاء کے ساتھ یہ سننا بھی اچھا نہیں لگتا تھا کہ بہت کام لینے کی دعاء دی جائے یا کسی بڑے کارنامے کی دعاء دی جائے۔ بس  وہ یہی چاہتا تھا کہ وہ جلد شہادت پا لے۔ اس کی دنیوی زندگی کا آخری دن بھی اسی امتحان میں گذرا۔ آج صبح اسے قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ وہ اندر کام کی کوئی ذمہ داری سنبھال لے۔ اور وہ جواب میں بس یہی کہہ رہا تھا کہ کوئی ذمہ داری نہیں لینی، فیلڈ میں چلنا ہے اور جلد شہید ہونا ہے۔ کسے پتا تھا کہ وہ آج اپنے شوق شہادت کی سچائی کا آخری امتحان دے رہا ہے اور شہادت دبے پاؤں اس مکان کی طرف چلی آ رہی ہے جہاں بیٹھ کر وہ اس کے علاوہ ہر چیز سے اِنکار کر رہا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online