Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

خوش نصیب طلحہ(۲) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 618 (Talha-us-Saif) - Khush Naseeb Talha

خوش نصیب طلحہ(۲)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 618)

بدر…اُحد کا عاشق

عمرے کے اس سفر میں ہم جب مدینہ منورہ گئے تو طلحہ کی اندرونی کیفیت اور جذبۂ جہاد و شوقِ شہادت کی آگ مزید کھل کر سامنے آئی… وہ اُحد کے میدان میں روزانہ جانا چاہتا، اکثر ایام میں ہم وہاں حاضر ہوتے رہے، جب کوئی ملنے والا آتا اور اس کے پاس گاڑی ہوتی تو اس سے فوری مطالبہ یہی ہوتا کہ اُحد کی زیارت کرا دے۔ اور پھر وہ اُحد آ کر محویت کے عالم میں دعائیں کرتا رہتا۔ ایک دن ہم رات عشاء کے بعد اُحد میں تھے اور میدان سے ہٹ کر ایک پہاڑی پر اکیلے بیٹھے تھے۔ میں نے طلحہ کو بتایا کہ میں جب حج پر آیا تھا تو گروپ میں ایک صالح نوجوان طالب علم بھی تھے۔ انہیں مجھ سے انس ہو گیا تھا۔ ایک دن ہم اسی طرح رات کو یہاں آ کر بیٹھے تھے تو ہم نے آپس میں مشورہ کر کے حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا عبد اللہ بن حجش رضی اللہ عنہما کی اُحد والی سنت ادا کی تھی۔ ایک دعا میں نے کی اس پر انہوں نے آمین کہی اور پھر انہوں نے دعاء کی میں نے آمین کہی تھی۔ ہم کمزور، خطاکار، ناکارہ سہی لیکن جن کی نقل کی، اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے امید ہے ضرور ہمیں بھی قبولیت سے نوازیں گے، آخر جگہ تو وہی ہے۔ یہ بات سن کر طلحہ کی آنکھوں میں چمک اُتر آئی۔ مجھے کہا ماموں آپ کی دعا تو ہو چکی اب مجھے بھی یہ سنت ادا کروا دیں۔ میں نے ہنس کر کہا شرط یہ ہے کہ تمہاری دعاء جہری ہو، تاکہ میں بھی سن لوں۔ ان صحابہ کرام نے بھی ایک دوسرے کو سنا کر دعاء کی تھی۔ طلحہ تھوڑا سا شرمایا اور پھر مسکرا کر کھڑا ہو گیا۔ہم دونوں محبوبِ کبریاءﷺ کے محب و محبوب پہاڑ اُحد پر ننگے پاؤں ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہوئے اور طلحہ نے اپنی دعاء کی… جی ہاں پھر صرف وہی دعا… اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء ، درود شریف اور … یا اللہ مجھے جوانی میں مقبول شہادت نصیب فرما…

طلحہ کو اللہ تعالیٰ نے جوانی بلکہ نوجوانی میں شہادت سے نوازہ، قبولیت بھی ضرور ملی ہو گی ان شاء اللہ…

ایک دھن اور تھی کہ بدر جانا ہے اور وہاں صحابہ کرام کی قبور پر حاضری بھی دینی ہے۔ اسے بتایا کہ یہ مشکل ہے۔ مقبرہ بدر پر پولیس چوکی ہے وہاں گاڑی ٹھہرا کر بھی زیارت نہیں کرنے دیتے، اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ صرف ایک امکانی صورت یہ ہوتی ہے کہ ظہر کی نماز مسجد العریش میں جماعت سے ادا کی جائے، اگر نماز کے بعد جنازہ ہو اور میت کے ورثاء کو مقبرۂ بدر میں تدفین کرنا ہو، تو ان کے ساتھ مل کر اندر جا سکتے ہیں۔ میں حج کے موقع پر دوبار گیا لیکن دونوں دِنوں جنازہ نہیں تھا۔ طلحہ کچھ مایوس ضرور ہوتا، لیکن اس کی دھن اپنی جگہ رہی۔ ہم مدینہ منورہ سے واپس حرم مکی آ گئے اور بظاہر یہ امکان نہ رہا کہ بدر حاضری ہو سکے۔ ایک دن طائف سے ایک ساتھی آ گئے۔ ان کے پاس اپنی بڑی اور آرام دِہ گاڑی تھی۔ انہوں نے پیشکش کی کہ اگر آج رات مدینہ منورہ چلنا ہو، تو میں لے جاتا ہوں۔ امی جی سے پوچھا تو وہ بھی فوراً راضی ہو گئیں اور ہم مدینہ منورہ کی طرف چل پڑے۔ بدر کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا کہ وہی راستہ پکڑ لیتے ہیں، زیارت کرتے جائیں گے۔ یوں ہم عشاء کی نماز میں بدر پہنچ گئے۔ نماز مسجد العریش میں ادا کی اور طلحہ کی ضد شروع ہو گئی کے مقبرہ کے اندر جانا ہے… مگر کیسے؟

طے پا گیا کہ مولانا عمار صاحب زید مجدہ والدہ صاحبہ کے ساتھ رہیں اور ہم دونوں کہیں سے دیوار پھلانگ کر اندر جاتے ہیں۔سڑک کی طرف سے ناممکن تھا، عقبی آبادی کی طرف گئے، وہاں سے اِمکان نظر آیا مگر دیوار اونچی تھی مگر طلحہ کی دھن کے سامنے ہار ماننا پڑی۔ ہم دونوں اندر کود گئے اور رات کے اندھیرے میں کائنات کے سب سے عظیم شہداء کی قبور پر قدموں میں جا کر بیٹھ گئے۔ شاید آدھا پونا گھنٹہ اس سعادت کے مزے لوٹے۔ طلحہ نے دونوں ہاتھ مکمل پھیلالئے، گریبان چاک کر دیا اور سر سے ٹوپی اتار دی اور والہانہ انداز میں دعاؤں میں مشغول ہو گیا۔ باہر والوں نے فون پر گھنٹی دی کہ نکل آؤ۔ ہم دونوں واپس چل پڑے۔ دیوار کے قریب پہنچے تو طلحہ نے رک کر انتہائی محبت سے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، نظریں جھکائیں اور گلوگیر آواز میں مجھے کہا:

’’ماموں! اس احسان کا بدلہ یہاں دنیا میں نہیں دے سکتا، میری دعائیں قبول ہو گئیں تو آپ کو ایسے خوش کر دوںگا جیسے آج آپ نے مجھے خوش کیا…‘‘

احسان میرا اس پر نہیں، اس کا مجھ پر تھا۔ اس کی گرمیٔ عشق اور حرارتِ شوق نے مجھے بھی یہاں آنے کا حوصلہ دیاورنہ میں کم ہمت تو دوبار یہاں آ کر لوٹ گیا تھا۔ بدر والوں کا عاشق زار طلحہ رشید، ابو جہل کی ذریت سے لڑتا ہوا بدر والوں کی شان سے دنیا سے رخصت ہوا۔ اللہ کرے اسے بدر والوں کا اس سے بھی زیادہ قرب نصیب ہوا ہو جتنا وہ اس رات ان کے قریب بیٹھا تھا۔ بدر کی یہ رات وہ مجھ سے رخصت ہونے تک کبھی نہیں بھولا تھا۔ آخری ملاقات میں اس نے اس رات کو یاد کیا، پھر وہ اپنا وعدہ کس طرح بھول سکتا ہے؟

٭……٭……٭

ہمارا طلحہ ’’روگی‘‘ تھا اور روگ بھی جو اسے لاحق تھا جان لیوا تھا۔ وہ حد سے بڑھی ہوئی حساسیت میں مبتلا تھااور اس کے ہاتھوں شدید مغلوب تھا۔ اس کے لئے جینا دشوار تھا لیکن یہ لفظ اس کے منہ سے کبھی کسی نے نہ سنا کہ وہ کسی کے طعنوں کی وجہ سے جینا نہیں چاہتا یا کسی کے اکسانے کے سبب۔ وہ بس اپنے ہاتھوں ہی مغلوب تھا۔ وہ کوئی المناک تصویر دیکھ لیتا، کوئی درد بھری خبر سن لیتا ، کوئی تحریض آمیز بیان کانوں سے گذرجاتا تو اس کی یہی کیفیت عود کر آتی تھی۔ پھر وہ روتا پیٹتا تنہائی کا شکار ہوتا اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نکل پڑنے کی ضد پکڑ لیتا۔ اس کے والدین نے اسے بچپن سے ہی جہاد کے لئے وقف کر رکھا تھا اور سب کا اس سے یہ صرف وعدہ ہی نہیں تھا کہ اسے میدانوں کے لئے ہی بھیجا جائے گا بلکہ سب کی خواہش بھی یہی تھی کہ وہ میدان سنبھالے۔ اس کی تربیت بھی اس نہج پر کی گئی تھی لیکن ہم سب یہ چاہتے تھے کہ وہ ایک مکمل عالم بن کر میدان سنبھالے۔ ایک عالم دین اور تحریض کے ماہر خطیب کا جہاد کے عملی میدان میں ہونا کیا اثرات لاتا ہے اس پر تجربات شاہد ہیں۔ ۲۰۱۵؁ء میں ہماری جماعت میں ایک داخلی فتنہ اٹھا کہ جماعت کے بڑے محاذوں کی طرف نہیں آتے، عجیب بات ہے کہ اس فتنے کے بانی وہ لوگ تھے جو سالہا سال محاذوں کے شعبے کے ذمہ دار رہے مگر خود کبھی اس عرصے میں ان کے قریب تک نہیں پھٹکے تھے اور جب یہ فتنہ پھیلا کر جماعت سے چلے گئے پھر بھی آج تک انہیں اس کی توفیق نہیں ملی۔ بہرحال فتنے کا اثر ہوا اور محاذوں کے شیر اس کے زیر اثر غیبتوں کی لعنت میں مبتلا ہو گئے اور ہر طرف بے اطمینانی کا دور دورہ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس سال جماعت کے کئی اہم ذمہ داران اور کئی اہل علم نے محاذوں کا رُخ کیااور ساتھیوں کے ساتھ کارزار میں وقت گزارا۔ ان کے صرف جانے کا یہ اثر ہوا کہ فتنہ اپنی موت آپ مر گیا اور ہر طرف اطمینان کا ماحول بن گیا۔ ہم سب یہ چاہتے تھے کہ طلحہ اس طبقے کا نمائندہ بن کر میدانوں میں رہے۔ لیکن اس کا حال یہ تھا کہ خارجی حالات کا اثر انداز ہونا تو ایک طرف وہ خود کوئی تحریضی بیان کر لیتا تو اس پر یہ کیفیت طاری ہو جاتی۔ وہ خود کو ملامت کرتا اور اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر پڑھائی چھوڑ کر محاذ کی طرف نکل جاتا۔ بس یہی وہ مرحلہ تھا جہاں اسے اپنے محبت کرنے والوں کی ناراضگی کا سامنا ہوتا۔ میرا معاملہ اس لئے ذرا بڑھ کر تھا کہ مدرسہ کی ذمہ داری میرے سپرد تھی اور وہ میرا شاگرد اور اس مدرسے کا طالبعلم تھا۔ بس نقطہ اختلاف یہی ہوتا کہ طلحہ یا تو والدین کی خواہش کے آگے مغلوب ہو کر خود پر غالب آ جائے اور یہ دورانیہ گذار لے یا پھر ان پر غالب آ کر مستقل اس راستے کو اپنا لے اور اس کا معاملہ اسی غالبیت اور مغلوبیت کے مابین چلتا رہا۔ وہ خود سے مغلوب ہوتا تو چلا جاتا پھر والدین اور دیگر بڑوں کی خواہش سے مغلوب ہو کر لوٹ آتا اور ایک مرحلہ طے کر لیتا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک طالبعلم موقوف علیہ جیسے مشکل سال کی کتب صرف ایک ماہ پڑھ کر وفاقی امتحان میں چار سوسے زائد نمبر لے لے؟ سادسہ کے سال وہ اسی طرح مغلوب ہوا اور چلا گیا۔ شہادت کو خوب ڈھونڈا ، نہ ملی تو رجب کے آغاز میں لوٹ آیا، تیاری کی ، امتحان دیا، ممتاز درجے میں کامیابی حاصل کی ، پھر چلا گیا۔ موقوف علیہ کا سال اسی طرح گذرا لیکن دورہ حدیث کے سال کے لئے اس نے ہمارا غلبہ قبول کیا اور پورا سال مکمل اطمینان اور صبر سے تعلیم حاصل کی اور پھر مڑ کر نہیں دیکھا۔اس کی فراغت پر جب اس کی دستار بندی کی گئی تو اس نے گھر آ کر ہنستے ہوئے اپنی دستار اُتار کر اپنی والدہ محترمہ کے سر پر رکھ دی اور کہا یہ آپ کا حق تھا، جو ادا ہو گیا۔ طلحہ کی اس کیفیت نے اسے اگرچہ بہت تکلیف دی لیکن وہ اپنی اسی حالت میں سچا تھا اور اس کی سچائی کی گواہی اس کی وہ جدوجہد دیتی تھی جس سے وہ خود کو گذارتا تھا۔ وہ اس لئے نہیں جاتا تھا کہ اسے پڑھائی میں رغبت نہیں تھی یا اس کی استعداد کمزور تھی یا وہ کسی کے طعنوں سے پریشان ہو کر یہ جذباتی فیصلے کرتا تھا بس یہ اس کے اپنے اندر کے ملامت گر کے ہاتھوں مغلوبیت تھی۔وہ اپنی جگہ سچا تھا اور ناصحین اپنی جگہ سچے تھے۔ یوں یہ وقت بھی گذر گیا اور پھر اس کے بعد ہم بھی ایک دوسرے سے ناراض نہیں ہوئے۔ جس شخص کے اندر اس قدر حساس دل دھڑکتا ہو وہ کس قدر اذیت اور گھٹن کی زندگی گزارتا ہے یہ کیفیت الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔ بس آگے فرق تھوڑا یہی ہوتا ہے کہ کوئی اس گھٹن سے جان چھڑا لیتا ہے کیونکہ اس میں دوسروں پر غالب آنے کا حوصلہ ہوتا ہے اور کوئی اس گھٹن میں روز مرتا رہتا ہے کیونکہ اپنے اوپر غالب رہتا ہے یا دوسروں کے ہاتھوں مغلوب… مولانا مقصود شہید کے بعد طلحہ وہ دوسرا کردار تھا جو زندگی بھر اپنے اندر اور اپنے باہر کے ساتھ اسی طرح نبرد آزما رہے کہ ہر کوئی ان کی محبت میں بھی گرفتار رہا اور نصیحت بھی کرتا رہا کہ ان سے محبت کرنا دل کی مجبوری اور انہیں سمجھانا فرائض کا تقاضا تھا۔ یہ راستہ ہر کسی کے چلنے کا نہیں۔ خاص لوگ ہی چل سکتے ہیں اور خاص لوگ ہی اس طرح نباہ سکتے ہیں۔ شاید وہ لوگ جنہیں ادراک ہو چکا ہوتا ہے کہ ان کے پاس وقت بہت کم ہے…

خدا رحمت کندایں عاشقانِ پاک طینت را

وہ بات آج پھر رہ جائے گی جو لکھنے کا وعدہ پچھلے مضمون میں تھا۔ کشمیر طلحہ کا بچپن کا عشق تھا لیکن وہ کشمیر گیا کیسے؟ یہ وہ داستان ہے جس نے مفتی محمد اصغر خان جیسے شخص کو وہ بات کہنے پر مجبور کیا جو گذشتہ قسط میں لکھی تھی۔

مفتی صاحب وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ہزاروں مجاہدین کو کشمیر بھیجا ہے۔ کیسی کیسی عظیم مشقتوں اور خونچکاں داستانوں کے وہ تیس سال سے شاہد ہیں۔ آخر طلحہ کی جدوجہد میں پھر ایسی خاص بات کیا تھی؟…

عزم و ہمت کی یہ عظیم الشان داستان طلحہ شہید کے تذکرے کا لازمی باب ہے لیکن اب انشاء اللہ تعالیٰ اگلی ملاقات میں…

٭……٭……٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online