Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

خوش نصیب طلحہ(آخری قسط) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 619 (Talha-us-Saif) - Khush Naseeb Talha

خوش نصیب طلحہ(آخری قسط)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 619)

طلحہ کا کشمیر جانا اس کی جسمانی ساخت کے اعتبار سے تقریباً ناممکن تھا۔ اس کی وجہ اس کا بھاری بدن نہیں تھا بلکہ ایک وہ معذوری تھی جو اسے پیدائشی طور پر لاحق تھی اور ایک وہ جو تین سال قبل لاحق ہوئی۔ طلحہ کے پاؤں پیدائشی فلیٹ تھے۔ ایسے پاؤں رکھنے والے شخص کا لمبا چلنا اور خصوصاً پہاڑوں پر چڑھنا مشکل ہوتا ہے، ساتھ ہی اسے پاؤں کی ہڈی بڑھنے کا مرض تھا،یہ انتہائی تکلیف دِہ مرض تھا۔ اس کے علاج کے لئے ڈاکٹروں نے بچپن سے لکڑی کے بند اور فٹنگ بوٹ پہننے کو لازم قرار دیا۔ اس کی پابندی نہ ہو سکی تو انہوں نے کہا کہ اب آپریشن ہو ںگے اور ان کی کامیابی کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔ اسے جب یہ تکلیف زور پکڑتی تو جس طرح وہ روتا تھا، وہ منظر اب بھی آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو دل کانپ اُٹھتا ہے۔ آپریشن کا وقت بھی گزر گیا تو لاعلاج قرار دے دیا گیا۔ طلحہ نے اس بیماری سے نجات پائی لیکن علاج سے نہیں، بلکہ محاذ پر والہانہ دعاؤں سے۔ اسے یقین تھا کہ اب اگر اس کا علاج ممکن ہے تو اسی طریقے سے ہے۔ وہ اپنے یقین کا پرزور انداز میںا علان و اظہار بھی کیا کرتا تھا اور ہوا بھی ایسے ہی۔اس کے پاؤں کی ہڈی بڑھنا رُک گئی اور درد بھی بس کبھی کبھار ہی ہوتا۔ اسے بھی علم تھا کہ وہ اس تکلیف کے ساتھ کشمیر نہیں جا سکتا، اب جب یہ تکلیف نہ رہی تو اس کے بچپن کے جنون کشمیر نے دل میں انگڑائی لی اور اس نے اپنا رُخ اس محاذ کی طرف پھیر لیا۔ ایک طویل محنت سے اپنا وزن کم کیا، پہاڑوں پر چلنے کی مشق کی، اپنے جسم کو سردی اورنمی کی مشقت سے نمٹنے کا عادی بنایا اور جب خود کو مکمل طور پر کشمیر جانے کے لئے فٹ کر لیا تو عشق و جنون کو ایک اور سخت امتحان پیش آ گیا۔ ایک حادثے میں اس کے گھٹنے کے اندرونی پٹھے مکمل طور پر ٹوٹ گئے۔ میں اور طلحہ اس تکلیف میں ایک دوسرے کے ’’فیلو‘‘ تھے۔ ۲۰۰۱؁ء میں مجھے یہ تکلیف پیش آئی اور آج تک اس کا اثر باقی ہے۔ یہ کتنی شدید اذیت ہے، کس قدر بڑی معذوری، اس کا مجھے عملی طور پر اندازہ ہے۔ طلحہ کو جب یہ تکلیف ہوئی تو میں نے اسے مستقبل کے سب مراحل سے آگاہ کیا۔وہ شدید دلبرداشتہ تھا لیکن اس نے اس عذر کے آگے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ اس نے اس معذوری کے ساتھ خود کو اسی طرح محنت و مشقت میں رکھا۔ انجام کار پورے دو سال یہ کیفیت رہی کہ وہ تین چار ماہ محنت کرتا اورہر گروپ کے ساتھ کشمیر جانے کی پوری تگ و دو میں لگا رہتا اور پھر گھٹنے کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک دو ماہ علاج میں گذارتا اور اس دوران اپنی محرومی کے احساس سے یوں روتا کہ دوسروں کو بھی رُلا دیتا۔ اس کی اس تکلیف میں آخری دن تک کوئی تخفیف نہیں ہوئی۔ وہ جب رخصت ہو رہا تھا، آخری تیاریوں کے دوران پسٹل کی فائرنگ کرتے ہوئے اس کا نشانہ درست نہیں لگ رہا تھا حالانکہ اس کے پاس بہت اعلیٰ قسم کا پسٹل تھا۔ وہ کچھ شرمندہ سا ہو رہا تھا۔ میں نے اسے نشاندہی کی کہ اس کی پوزیشن میں نقص ہے ۔ تھوڑا گھٹنا موڑ لے تو نشانہ لگ جائے گا۔ اس نے کہا کہ ماموں میرا گھٹنا اس قابل نہیں۔ اگر میں نے اسے ذرا سا بھی خم دیا تو میں جانے سے رہ جاؤں گا۔ لیکن وہ اس حال میں بھی سب سے پرجوش اور پرعزم تھا کہ وہ اس بار ضرور کامیاب ہو جائے گا۔ رات ہم کھانے پر بیٹھے تو پھر وہی گھٹنے کا موضوع چھڑ گیا۔ کشمیر میں آرمی پیچھے ہوتی ہے اور آگے مسلسل دوڑنا ہوتا ہے اور ایک دوڑ کے بعد سانس بھی بحال نہیں ہوتا کہ دوسری آجاتی ہے ایسے حالات میں طلحہ اس معذوری کے ساتھ سروائیو کر پائے گا؟ اس نے بڑی بے نیازی سے سب خدشات ٹھکرا کر کہا۔ گروپ کے ساتھیوں کی مسلسل ذہن سازی کر رہا ہوں کہ جہاں بھی ایسی صورتحال پیش آ جائے گی، میں کور فائر پر بیٹھ جاؤں گا اور آپ سب کو نکالنے کی ذمہ داری سنبھال لوں گا۔ اس لئے کوئی میری خاطر نہ رکے بلکہ اپنے نکلنے کی فکر کرے۔ میں لمبا وقت لڑ سکتا ہوں اور پھر شہادت مل جائے بس، اور کیا کرنا ہے…

اس کا یہی جذبہ ، ولولہ اور جوش بالآخر اسے اسی ٹوٹے ہوئے گھٹنے کے ساتھ کشمیر لے گیا اور اس نے شہادت بھی پا لی۔ چند سطور کی یہ تحریر ان کیفیات کا احاطہ نہیں کر سکتی جن سے طلحہ ان معذوریوں کے ساتھ نبرد آزما رہا لیکن ہمت نہیں ہاری۔ ایل او سی کا کوئی ایک سیکٹر ایسا نہیں جس نے طلحہ کے قدم نہیں چومے اور اسے والہانہ انداز میں رکاوٹیں روندتا نہیں دیکھا۔ بالآخر معذوری ہار گئی اور معذور جیت گیا۔ اب آپ کو مفتی اصغر خان صاحب کی بات اچھی طرح سمجھ آ گئی ہو گی کہ طلحہ کی جدوجہد میں آخر خاص بات کیا تھی جس نے انہیں اس اعتراف پر آمادہ کیا:

اگر ہمت کرے تو پھر کیا نہیں انسان کے بس میں

یہ ہے کم ہمتی جو بے بسی معلوم ہوتی ہے

٭…٭…٭

طلحہ کو جہاد سے سچا عشق تھا، اس لئے اس نے جہاد کے ہر مرحلے کو خوب اچھی طرح طے کیا۔ ہر اچھی تربیت کی، جہاں تک ہو سکا بہترین اور مشکل ترین محاذ پر وقت کاٹا، میدان جنگ اور میدان سے پیچھے جہاد کی ہر فضیلت کو خوب کمانے کی کوشش کی۔ جہاد میں مشکل ترین کام مجاہدین کی خدمت کا ہے۔ طلحہ جہاں بھی رہا اس کا ہر رفیق گواہی دے گا کہ وہ کتنا مخلص، بے لوث اور انتھک خادم تھا۔ اس نے جہاد میں رباط کی فضیلت پڑھی تو اسے پورے ذوق و شوق سے کمایا۔ جہاد میں روزے رکھنے کی فضیلت پڑھی، میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ نفل روزے رکھنے والا مجاہد نہیں دیکھا۔ اسے گھڑ سواری سیکھنے اور اس کے فضائل کمانے کا شوق ہوا۔ اس نے اس شان سے قرآنی حکم پورا کیا کہ استاد قسم کے سوار اسے دیکھ کر حیرت کا اظہار کرتے۔ سخت مزاج اور اڑیل گھوڑے کو مکمل سپیڈ میں دوڑا کر وہ دونوں ہاتھ لگام سے ہٹا لیتا، ہولسٹر سے پسٹل نکالتا ، اسے لوڈ کرتا اور چلا لیتا۔ پھر اس نے تیر اندازی سیکھی اور اس میں مہارت حاصل کی۔ جدید تربیتوں کے ساتھ اس نے ان قدیم جہادی فنون کو اچھی طرح سیکھا۔اس کی یادگار ایک اعلیٰ قسم کی کمان آج بھی معسکر میں کام آ رہی ہے، جو اس نے استعمال کرنے کے بعد دوسرے مجاہدین کی تربیت کے لئے وقف کر دی تھی۔ الغرض اس نے جہاد کو اپنی زندگی کا محور بنایا اور اسی محور کے گرد زندگی بِتا دی۔ اس کی زندگی کا واحد شوق جہاد تھا۔ اس نے کبھی اپنے بڑوں سے کوئی مطالبہ کیا تو جہاد سے متعلق ہی کیا۔ کسی سے اچھی گن مانگی ، کسی سے گھوڑا لیا، کسی سے مطالبہ کیا کہ تیر کمان لے دے اور اپنا ہر مطالبہ منوایا بھی۔ وہ ضدی تھا۔ مطالبہ کر کے پیچھے پڑ جاتا تھا اور اس کے پورا ہونے میں تاخیر اسے ہرگز گوارا نہ تھی۔ وہ خود بھی جھنجھلا جاتا اور بسا اوقات دوسروں کو بھی اس میں مبتلا کر دیتا۔ ہم سمجھتے تھے کہ وہ صرف یہاں والوں کے لئے ایسا انوکھا لاڈلا ہے لیکن وہ تو ادھر کا اصل لاڈلا نکلا۔ اس نے اپنے اصل جنون یعنی شہادت کی موت جلدی اور نوجوانی میں شہادت کی موت، دشمن کا سامنے سے مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کی موت کا مطالبہ بھی آناً فاناً ہی منوا لیا اور ہنستا مسکراتا چل دیا…

ہم سب نے طلحہ سے پیار کیا۔ اس کی ہر خواہش اور ہر خوشی سے پیار کیا۔ اس کی خواہش تھی کہ اس بار اسے ہم بہت سے لوگ رخصت کرنے جائیں کیونکہ اسے شاید اپنی دعاؤں کی قبولیت کا یقین ہو چکا تھا اور وہ پُرعزم تھا کہ اس بار وہ ضرور جانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ہم اس کی یہ خواہش بھی پوری کرنے گئے۔ وہ جس رات گھر سے روانہ ہوا، اگلی صبح گھر میں ہماری بھتیجی کی شادی تھی۔ اس کا جانا لازمی تھا، سو اس کے ساتھ دلہن کے دو چچا، ماموں ، بڑا بھائی اور گھر کے دیگر کئی افراد نکل پڑے۔ شادی میں شرکت سے بڑھ کر اس کی خواہش اور خوشی کی تکمیل تھی اور الحمد للہ ثم الحمد للہ ہمارے گھروں میں کوئی ان معاملات کو اہمیت بھی نہیں دیتا۔ ہم اس کے ساتھ جہاں تک جا سکے، گئے۔ وہ اپنے والد محترم کے سینے سے لگ کر رخصت ہوا۔ ہم سب اسے رخصت کرتے ہوئے جذباتی ہوئے لیکن وہ اپنے اندر کی کیفیات کو دبائے رہا اور بس ہنستا ہی رہا۔ اسے کسی سے رخصت ہونے کا کوئی غم تھا نہ کوئی جذباتی تعلق اس کے آڑے آ رہا تھا اور اندر کشمیر جانے کی خوشی اس قدر سوار تھی کہ وہ اپنی گن بھول کر نکل پڑا جو اسے پیچھے جا کر پہنچائی گئی۔ ہاں لیلائے شہادت کے سچے عاشقوں کو جب ا سکا جلوہ اپنی طرف کھینچتا ہے تو ایسی ہی کیفیات ہوتی ہیں۔ طلحہ کشمیر چلا گیا اور پھر وہاں سے آگے نکل گیا۔ یہی ہمارے طلحہ کی خواہش تھی اور یہی خوشی۔ اب جب بھی طلحہ کو یاد کرتے ہیں، غم ہوتا ہے۔ جب کبھی اس کا ذکر ہوتا ہے، دل درد سے بھر جاتا ہے

لیکن…

طلحہ پتّر تو خوش ہے، تیری خوشی اسی میں ہے تو بس یوں سمجھ لے ہم بھی خوش ہیں، تیری خوشی کے ساتھ خوش ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online