Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

تحفظ ختم نبوت (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 620 (Talha-us-Saif) - Tahaffuz Khat e Nabuwwat

تحفظ ختم نبوت

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 620)

اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے شہدائِ اسلام ، شہدائِ ختم نبوت پر۔ اُمت مسلمہ کے لئے اس مسئلے کی حساسیت اپنے جسموں کے ٹکڑوںاور گرم لہو کے سیلاب سے واضح فرما گئے۔ ایک ایسا زمانہ جس میں تمام مسلمان شدید غم سے دوچار تھے، انہوں نے اپنی زندگیوں میں آنے والی علی الاطلاق سب سے بڑی مصیبت کوبھی تھوڑا وقت پہلے ہی جھیلا تھا۔ نبی کریم ﷺ کا اس دنیا سے تشریف لے جانا ایسا صدمہ تھا جس کا اندازہ صرف انہی حضرات کو ہو سکتا ہے جن قلوب نے اس کا تحمل کیا تھا۔ اللہ، اللہ، اللہ

کیا ہم اپنے کسی بڑے سے بڑے غم اور مصیبت کو اس کا پاسنگ بھی قرار دے سکتے ہیں جس سے اس کی شدت اور بوجھ کا معمولی سا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہو؟…ہرگز نہیں…

صحابہ کرام نے ابھی قریب ہی یہ سانحہ جھیلا تھا۔ دلوں میں اس کا غم ابھی تازہ ہی تھا کہ ختم نبوت پر ڈاکہ زنی شروع ہو گئی۔ کئی بدبخت ،سیاہ رو، کور باطن کونے کھدروں سے نکل کر دعویٰ نبوت کرنے لگے،ان کا خیال تھا کہ غم میں ڈوبی صحابہ کرام کی جماعت ابھی داخلی مسائل میں الجھی ہو گی اور فرصت کی مدت میں انہیں اپنا کام کر گزرنے کا موقع مل جائے گا لیکن ان کا یہ خیال محض خام ثابت ہوا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کی قیادت اس وقت یار غار سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہے اور انہوں نے بلا اَدنیٰ توقف یہ نعرہ مستانہ بلند فرما دیا۔ ’’ اینقص الدین وانا حیٌّ‘‘ … کیا یہ ممکن ہے کہ صدیق کی زندگی میں دین میں قطع و برید ہو جائے؟

اور پھر پوری جماعت کا اجتماع ہو گیا کہ منکرین ختم نبوت سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور اس کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ صحابہ کرام کے لشکر نکلے۔ اسود عنسی تو پہلے ہی انجام کو پہنچ چکا تھا۔ سب سے زیادہ زور کے ساتھ فتنہ اٹھانے والے مسیلمہ کذاب کی طرف قافلے چلے۔ ختم نبوت کے محافظین بدر والی، احد والی ، اور فتح مکہ والی شان کے ساتھ جہادی جھنڈوں او رتلواروں سے سج کر نکلے۔ ایک عظیم معرکہ برپا ہوا جسے ’’ جنگ یمامہ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تمام فتنوں کی سرکوبی کیلئے مجموعی طور پر گیارہ لشکر ترتیب دیئے تھے ، اس میں ایک دستہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابو جہل کی قیادت میں مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کیلئے یمامہ کی طرف روانہ کیا اور ان کی مدد کیلئے حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ بن حسنہ کو کچھ فوج کے ساتھ ان کے پیچھے روانہ کردیا تھا اور عکرمہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ جب تک دوسرا لشکر آپ تک نہ پہنچے، حملہ نہ کرنا ،شرحبیل رضی اللہ عنہ کی آمد سے پہلے ہی حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کو شکست ہوئی اور پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کوجب ان کی شکست کی خبر ملی تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ( جوکہ بنی طئے کی مہم سے فارغ ہوچکے تھے )مسیلمہ کے خلاف معرکہ آراء ہونے کا حکم دیا، پور ایک لشکر ان کیلئے ترتیب دیا جس میں مہاجرین پر حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ (فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے بھائی )اور انصار پر حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا ۔ جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ یمامہ پہنچے تو مسیلمہ کذاب کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار تک پہنچ چکی تھی جبکہ مسلمانوں کا لشکر 13 ہزار نفوس پر مشتمل تھا ۔ مسیلمہ کذاب نے جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی آمد کی اطلاع سنی تو آگے بڑھ کر عقر با نامی مقام پر پڑاؤ ڈالا ۔ اسی میدان میں حق وباطل کا مقابلہ ہوا ۔ اس جنگ میں بڑے بڑے صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے، جن میں ثابت بن قیس ،حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہما وغیرہ شامل ہیں ۔

مسیلمہ اس جنگ کے دوران ایک باغ میں قلعہ بند چھپا رہا ۔ آخر کار اپنے خاص دستے کو لے کر میدان میں کود پڑا ۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل وحشی رضی اللہ عنہ نے ، جو اب مسلمان ہوچکے تھے اپنا مشہور نیزہ پوری قوت سے مسیلمہ پر پھینکا جس کی ضرب فیصلہ کن ثابت ہوئی اور مسیلمہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا ۔ قریب ہی ایک انصاری صحابی کھڑے تھے ، انہوں نے اس کے گرتے ہی اس پر پوری شدت سے تلوار کا وار کیا جس سے مسیلمہ کا سر کٹ کر دور جاگرا ۔ اس سے مسلمانوں کا جذبہ اور بلند ہوگیا اور انہوں نے پورے زور سے دوسرا حملہ کیا یہاں تک کہ مسیلمہ کے چالیس ہزار کے لشکر جرار میں سے تقریباً 21 ہزار افراد موت کے گھاٹ اتاردئے گئے ۔

منکر کے لئے نارِ جہنم ہے مناسب

جو آپﷺسے جلتا ہے ، وہ جل جائے تو اچھا

مسلمانوں میں سے صرف660آدمی شہید ہوئے ۔ مسیلمہ کذاب کی موت کے بعد اس کا قبیلہ بنو حنیفہ صدق دل سے دوبارہ اسلام میں داخل ہوگیا ۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ جنگ (یمامہ ) جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف آخری معرکہ تھا جس کے بعد دور صدیقی رضی اللہ عنہ میں کسی اور شخص کو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے کی ہمت نہ ہوسکی ۔

معرکہ یمامہ نے مسلمانوں کو دو سبق دئیے اور انہی دو اسباق میں تحفظ ختم نبوت کا مکمل نصاب مضمر ہے۔

(۱)نبی کریم ﷺ کی سچی خبر کے مطابق مدعیان نبوت قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے اور ان کا اصل علاج وہی ہے جو آپ ﷺ کے زمانہ سے ہی شروع کر دیا گیا تھا۔ پہلا جھوٹا مدعی نبوت اسود عنسی نبی کریم ﷺ کے زمانہ مبارک میں ہی اپنے انجام سے دوچار ہوا اور اس کا ملعون لاشہ زمین پر گرایا گیا۔ اسے انجام تک پہنچانے والے خوش نصیب نے ’’فاز فیروز‘‘ کی بشارت زبانِ نبوت سے پائی اور ساری امت کے لئے اس معاملے میں پہلی مثال بنے۔ فوز اور فلاح کے متلاشیوں کے لئے کامیابی کے ایک یقینی راستے کی پہلی شمع بنے۔ انہی کی مثال کو لے کر یمامہ میں چھ سو سے زائد عاشقانِ نبوت کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور سب سے بڑے فتنے مسیلمہ ملعون کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا۔

اور پھر ختم نبوت کے خلاف اٹھنے والے جس فتنے کا علاج اس انداز میں کیا گیا اس کا وجود ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مٹ گیا۔ فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کی طرح ’’فوز‘‘ سے ہمکنار ہونے والوں کا سلسلہ یمامہ کے شہداء سے لے کر غازی علم الدین اور غازی عامر چیمہ تک اور ممتاز قادری شہید تک مسلسل ہے۔

اللہ تعالیٰ ان تمام شہداء سے راضی ہو اور انہیں امت مسلمہ کی طرف سے بہترین اجر عطاء فرمائے۔ یہ امت کے لئے روشن تاروں اور روشنی کے جزیروں کی طرح ہیں اور قیامت تک ان کا طرز عمل امت مسلمہ کو سبق دیتا رہے گا کہ ایسے فتنے کا حقیقی علاج اور مکمل حل انہی کا طریقہ ہے۔

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

(۲) ختم نبوت کے تحفظ کا مسئلہ ہمیشہ مسلمانوں سے قربانی مانگتا ہے۔ یہ مسئلہ کبھی بھی جانیں دئیے اور خون بہائے بغیر حل نہیں ہوتا۔ حضرات صحابہ کرام اس حوالے سے سب سے پہلی مثال ہیں۔ معرکہ یمامہ میں صحابہ کرام کا لشکر تقریباً تیرہ ہزار کے لگ بھگ تھا۔ مورخین نے لکھا کہ اس معرکے میں اس لشکر کے بہت ہی کم افراد ایسے تھے جنہیں زخم نہیں پہنچے، باقی تمام لشکر کی قربانی اس میں لگی۔ تب سے ہی یہ طریقہ چلا آتا ہے کہ ایسی ہر تحریک کی کایمابی مسلمانوں کی قربانیوں کی مرہونِ منت رہی ہے۔ ہمارے زمانے میں ختم نبوت کا مسئلہ، قادیانی فتنے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دِلوانے کی جدوجہد میں مختلف ادوار میں دس ہزار سے زائد مسلمان پاکستان میں شہید ہوئے۔ غیر منقسم برصغیر میں اس تحریک میں شہید ہونے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ جن اکابر نے اس تحریک کی قیادت فرمائی ان پر ہر زمانے میں لوگوں کو بھڑکانے ، اشتعال انگیزی کرنے، لاشوں کی سیاست کرنے اور تشدد بھڑکانے کے الزامات لگائے جاتے رہے۔ ان کے عشق و محبت میں ڈوبے خطبات سن کر لوگ سڑکوں پر آتے رہے اور مردانہ وار جانیں نچھاور کرتے رہے۔ بالآخر انہی قربانیوں کا ثمر تحریک کے دوسرے راؤنڈ میں یہ نکلا کہ قادیانی غیر مسلم قرار دے دئے گئے۔ اس تحریک میں قربانیاں کس طرح پیش کی گئیں اس کی مکمل منظر کشی تو کالم میں ممکن نہیں چند واقعات سے اندازہ لگا لیا جائے۔

تحریک ختم نبوت میں لاہور کی سڑکوں پر ایک مسلمان دیوانہ وار ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگا رہا تھا۔ ایک پولیس والے نے پکڑ کر تھپڑ مارا۔ اس پر اس نے پھر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ پولیس والے نے بندوق کا بٹ مارا، اس نے پھر نعرہ لگایا، وہ مارتے رہے، یہ نعرہ لگاتا رہا، اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا، یہ زخموں سے چُور چُور، پھر بھی ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا۔ اسے گاڑی سے اتارا گیا تو بھی وہ نعرہ لگاتا رہا۔ اسے فوجی عدالت میں لایا گیا اس نے عدالت میں آتے ہی ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ میجر نے کہا ایک سال سزا۔ اس نے سال کی سزا سن کر پھر ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ اس نے سزا دو سال کر دی، اس نے پھر نعرہ لگا دیا غرضیکہ میجر سزا بڑھاتا رہا اور یہ مسلمان نعرہ ختم نبوت بلند کرتا رہا۔ فوجی عدالت جب بیس سال پر پہنچی، دیکھا کہ بیس سال کی سزا سن کر یہ پھر بھی نعرہ سے باز نہیں آ رہا۔ تو میجر نے کہا کہ عدالت سے باہر لے جا کر ابھی اسے گولی مار دو۔ اس نے گولی کا سن کر دیوانہ وار رقص کرنا شروع کر دیا اور ساتھ ختم نبوت زندہ باد، ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف ترانہ سے ایمان پرور اور وجد آفریں کیفیت طاری کر دی۔ یہ حالت دیکھ کر عدالت نے کہا کہ اسے رہا کر دو، یہ دیوانہ ہے، اس نے رہائی کا سن کر پھر نعرہ لگایا۔ ختم نبوت زندہ باد

تحریک ختم نبوت میں ایک طالب علم کتابیں ہاتھ میں لیے کالج جا رہا تھا۔ سامنے تحریک میں شامل لوگوں پر گولیاں چل رہی تھیں۔ کتابیں رکھ کر جلوس کی طرف بڑھا۔ کسی نے پوچھا یہ کیا۔ جواب میں کہا: ہمیشہ پڑھتا رہا ہوں، آج عمل کرنے جا رہا ہوں۔ جاتے ہی ران پر گولی لگی، گر گیا۔ پولیس والے نے آ کر اٹھایا تو شیر کی طرح گرجدار آواز میں کہا: ظالم گولی ران پر کیوں ماری ہے، عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تو دل میں ہے، یہاں دل پر گولی مارو تاکہ قلب و جگر کو سکون ملے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس تحریک کا اہم ترین مرحلہ یعنی قادیانیوں کو آئین میں غیر مسلم کے طور پر درج کرانا ایک دستوری جدوجہد سے طے ہوا لیکن یہ تحریک اسمبلی کے اس فلور تک پہنچی کیسے اور یہ مقدمہ اس فورم پر سماعت کے لئے کیسے منظور ہوا؟ ان مراحل کی داستان انتہائی خونچکاں ہے اور پھر یہ مرحلہ طے ہو جانے کے بعدامتناع قادیانیت آرڈیننس کی جدوجہد ہو یا شناختی  دستاویزات میں ختم نبوت کے حلف نامے کا اجراء ہو ان سب کاموں کے لئے پھر مستقل تحریکات کی ضرورت پیش آئی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا حرف حرف تاریخ کے صفحات پر نقش ہے۔ افسوس ہوتا ہے، آج انہی اکابر کے نام لیواؤں کی اس سوچ پر کہ وہ ان تمام قربانیوں کے ابواب فراموش کر کے صرف اس دستوری مرحلے کو ہی اس تحریک کا کل سمجھتے ہیں اور گاندھی کے عدم تشدد فلسفے کو اپنے اکابر کا طرز عمل قرار دینے پر مصر ہیں۔ ان کے خیال میں ختم نبوت جیسے اہم معاملے پر بھی جذباتی ہونے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ وہ ہر ایسے ردعمل کو جذباتی اُبال کہہ کر مسترد کرتے ہیں اور مسلمانوں کو صرف قانونی موشگافیوں، آئینی بھول بھلیوں میں الجھے رہنے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ مسئلہ ختم نبوت کی تاریخ سے کس قدر بے خبر اور محافظینِ ختم نبوت کے طرز عمل سے کس حد تک نابلد ہیں۔ ختم نبوت بل کے ساتھ موجودہ شرارت اور اس کے بعد پیش آنے والے تمام تر حالات میں ان لوگوں کا طرز فکر و عمل انتہائی افسوسناک نظرآیا اور اس کا یہ شاخسانہ ہوا کہ وہ مسئلہ جو امت کے تمام طبقات اور تمام مکاتب فکر کے ہاں نہ صرف یکساں اہمیت کا حامل تھا بلکہ اتحاد کا بھی ایک عظیم مظہر تھا متنازعہ بن گیا اور فکری و عملی تقسیم کا شکار نظر آیا۔ اس حوالے سے جس نے جس قدر حساسیت دکھائی اور ایمانی جذبات کا اظہار کیا وہ بہرحال ان لوگوں سے بہتر رہا جو گومگو میں الجھے رہے اور نادانستہ ہی سہی لیکن اس غلطی کا حصہ بنے جس نے ہمارے ملک کے آئین کی رہی سہی معمولی سی اسلامیت کی بھی جڑ اُکھاڑ ڈالنے کا پورا سامان کر دیا تھا۔ مسلمان اگر ختم نبوت کے معاملے پر بھی جذباتی نہ ہو گا تو آخر اپنے جذبات کہاں بروئے کار لائے گا؟… ہاں اگر کوئی جذبات میں آ کر شریعت کے خلاف چل نکلے تو اس سے ضرور ہم سب کو برات کا اعلان کرنا چاہیے…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online