Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

تھرمامیٹر (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 624 (Talha-us-Saif) - Mazoor Commandar

تھرمامیٹر

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 624)

جن چند مسائل کے بارے میں ہماری حساسیت اور کسی حد تک عدم برداشت کفار کو اپنے عزائم و مقاصد کی راہ میں حائل نظر آتی ہے، ہمیں ہر کچھ وقت کے بعد ان سے متعلق امتحان سے گذارا جاتا ہے، تاکہ حساسیت کا درجہ چیک کیا جا سکے۔ الحمد للہ اب تک تو جتنی بار بھی تھرمامیٹر لگایا گیا ہے، حرارت بھرپور نظر آئی ہے، جس کی وجہ سے ایوانوں میں مایوسی کا ماحول ہے۔ اللہ کرے اُمت کی ان مسائل سے متعلق حساسیت بڑھتی رہے، کبھی کم نہ ہو…

سرفہرست معاملہ ’’ناموس رسالت ‘‘کا ہے۔ مسلمان کہیں کا بھی ہو اور کیسا بھی ہو، ذاتِ رسالت مآب حضرت آقا مدنی ﷺ سے متعلق حساسیت رکھتا ہے۔ بارہا اس مسئلے کو چھیڑ کر دیکھا گیا اور پینترے انداز بدل بدل کر دیکھا گیا۔ مشاہدہ یہ ہوا، ایمانی روح تڑپ اٹھتی ہے اور بظاہر بے خبر اور غیر متعلق نظر آنے والا مومن بھی اچھے خاصے سخت ردعمل پر آمادہ نظر آتا ہے۔ یاد کیجئے ماضی قریب میں انتہائی منظم اور سوچے سمجھے انداز میں چلائی جانے والی خاکہ سازی اور گستاخانہ حرکتوں کی ایک مسلسل مہم کو… پورا یورپ اپنے مکمل خبث باطن کے ساتھ اس مہم پر اٹھ کھڑا ہوا اور کوئی دن نہ گذرتا تھا کہ کہیں نہ کہیں سے ایسی کوئی حرکت منظر عام پر آ جاتی تھی۔ ایک بار ردّعمل کا درجہ حرارت دیکھ کر یہ مہم وقتی طور پر روک دی جاتی اور پھر دوبارہ ایک وقفے سے اس کا آغاز کر دیا جاتا۔ لیکن اندازوں کے برعکس ہوا یہ کہ ردعمل نے اِحتجاج سے بڑھ کر عسکریت کا روپ دھار لیا اور جہادی یلغار کی صورت اختیار کر لی۔ افغانستان میں مجاہدین نے اپنی خوفناک عسکری کارروائیوں کے ایک پورے منظم سلسلے کو اسی حرکت کے انتقام کا عنوان دے دیا۔ اس عرصے میں تقریباً ان تمام ممالک کے فوجی اور سفارتی عملے کو جانی نقصان اُٹھانا پڑا، جو اس مہم میں پیش پیش تھے اور اسے مالی سیاسی اور قانونی سرپرستی فراہم کر رہے تھے اور پھر پیرس میں اس عنوان سے ایک سرفہرست گستاخ جریدے پر حملہ انتقام اور ردعمل کا گویا منتہا ثابت ہوا اور یہ مہم تھم گئی۔ دنیا بھر کے مسلمانوں نے عملی ثبوت فراہم کیا کہ ذات محمد ﷺ کی حرمت وہ مسئلہ ہے جس پر کسی بھی صاحب ایمان سے برداشت کی توقع نہ رکھی جائے۔ ہمارے ایک بہت عزیز دوست نے اس حوالے سے کچھ عرصہ قبل ایک مختصر تحریر لکھی جو اس موضوع پر جامع موقف کی حیثیت رکھتی ہے۔ افادۂ قارئین کے لئے پیش خدمت ہے:

’’مالدیپ دنیا کے پُرامن ترین ممالک میں سے ایک ہے-مسلمانوں کی اکثریت ہے، لیکن کافی حد تک لبرل اور جدت پسند سوچ کے حامل ہیں ملک میں نہ تو کوئی بنیاد پرست اسلامی تحریک ہے، نہ ہی مدارس کا کوئی مربوط اور مضبوط نظام۔ سیاحت ملک کی سب سے بڑی معیشت ہے اور آنے والے سیاحوں کی نوے فیصد تعداد غیرمسلموں کی ہے۔ آج تک نہ سیاحوں پر کوئی حملہ ریکارڈ کیا گیا ہے نہ کوئی اور شدت پسندی کا واقعہ، لیکن رواں ہفتے اس ملک کے دارالحکومت "مالے" میں برطانیہ سے تازہ تازہ ایوارڈ لے کر لوٹے ایک بلاگر کو توہین مذہب اور گستاخیٔ رسول علیہ السلام کے جرم میں چھریوں کے وار کرکے قتل کردیا گیا ہے۔ میں سوچ میں گم ہوں کہ وہاں کے "فرنود عالم" اور "ہم سب" اس قتل پر کسے مورد الزام ٹھہرائیں گے؟ مدارس کو، مولوی کو، شدت پسند جماعتوں کو ؟؟ اور تو اور وہاں تو توہین رسالت ایکٹ جیسا کوئی قانون بھی نہیں جس کے غلط استعمال کا سیاپا ڈالا جا سکے...

اصل بات یہ لوگ سمجھ کیوں نہیں لیتے؟..

مسلمان خواہ کیسا ہی کیوں نہ ہو بس بے غیرتی کے ڈنگ سے بچا ہوا ہو، اسکے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ایک الگ نوعیت کا مسئلہ ہے اور یہ بات اسے سمجھانے کیلئے نہ مولوی کی ضرورت ہے نہ مدرسے کی...یہ بیج فطرتِ اسلام میں ہی رکھا ہوا ہے بشرطیکہ اسلام دِل میں موجود ہو…بس‘‘…

 اس طرح دیگر کئی مسائل ایسے ہیں جن سے متعلق امت کی حساسیت کفار کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ان کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں میں گھسے اپنے بہی خواہوں کے ذریعے روشن خیالی، اعتدال پسندی، رواداری اور برداشت جیسے رویوں کا پرچار کر کے اس حوالے سے اہل ایمان کے جذبات کو سرد کرنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن وہ جب بھی اپنی محنت کا اثر دیکھنے کے لئے تھرمامیٹر لگاتے ہیں نتائج ان کے لئے حوصلہ شکن برآمد ہوتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں میں اب ایک بہت بڑی تعداد ان کی اس زہریلی اور ایمان شکن مہم سے متاثر ہے اور وہ نظریاتی طور ان مسائل کے حوالے سے اب اس نہج پر سوچتے ہیں جو کفار کا مطمع نظر ہے لیکن دوسری طرف ان مسلمانوں کی بھی کمی نہیں جن کا ردعمل کفار کی آس پر پانی ڈال دیتا ہے اور اسے یاس میں بدل ڈالتا ہے۔

ہمارے ہاں قادیانیت کا مسئلہ بھی منجملہ ان مسائل سے ہے جن سے متعلق امت کی حساسیت اور شدت والی سوچ کو ختم کرنا اس وقت عالمی طاقتوں کے بڑے مقاصد میں سے ایک ہے۔ لہٰذا اس حوالے سے ہر کچھ عرصے بعد ’’ پنگے بازی‘‘ کر کے امت کی سوچ چیک کی جاتی ہے۔ قادیانیت سے متعلق مسلمانوں کی سوچ الحمد للہ روز اول سے ہی واضح ہے کہ امت کے اجتماعی ضمیر نے کبھی بھی انہیں برداشت نہیں کیا۔ انگریزی حکومت کے عروج کے وقت بھی ریاست بہاولپور نے باوجود انگریز سرکار کے شدید دباؤ کے انہیں غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ علماء کرام کی دعوتی محنت کے زیر اثر مسلمانوں میں عموماً اس فتنے کے حوالے سے تنفر کا رویہ رہا اور بالآخر 1974؁ء میں انہیں آئینی طور پر بھی غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد سے ایک مسلسل تاریخ ہے کہ آئین کے اس متفقہ فیصلے کو مختلف طریقوں سے چھیڑ کر قادیانیوں کے حوالے سے معاشرے میں ایک دوسری سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ انہیں معاشرے میں نفوذ کا موقع دے کر اپنے مقاصد حاصل کئے جائیں اور اہل ایمان کے ایمان میں نقب زنی کی آزادی فراہم کی جائے۔

ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ قادیانی مسلمانوں کے نزدیک اس وجہ سے کافر نہیں کہ پاکستان کا آئین انہیں غیر مسلم قرار دیتا ہے ۔ اہل ایمان کے نزدیک قادیانی اس وقت بھی بدترین کافر اور قادیانیت قابل نفرت تھی، جب ہمارا آئین انہیں مکمل مذہبی تحفظ فراہم کرتا تھا اور وہ ریاستی سطح پر غیر مسلم قرار نہیں پائے تھے۔ اس لئے اول تو یہ سوچ ہی غلط ہے کہ قادیانیوں کو کچھ آئینی تحفظ یا رعایت دے کر ان سے متعلق امت کی سوچ کو بدل دیا جا سکتا ہے البتہ یہ خدشہ ضرور ہے کہ وہ ایسی کسی بھی رعایت سے فائدہ اٹھا کر اپنی ارتدادی سرگرمیوں میں اضافہ کر کے عام مسلمانوں کے ایمان کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں اس لئے حضرات علماء کرام اور غیور اہل ایمان ہر ایسی کوشش کی بھرپور مزاحمت کرتے ہیں۔ گذشتہ کچھ عرصے سے یہ سلسلہ پھر گرم ہے اور تسلسل کے ساتھ ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو سراسر قادیانیت نوازی پر مبنی ہیں اور ان کے ذریعے درجہ حرارت چیک کیا جا رہا ہے۔ نااہل وزیراعظم کا قادیانیوں کو بھائی قرار دینا، وزیر قانون کا قادیانی چینل کو انتہائی متنازعہ اور افسوسناک انٹرویو، وزیروں کے بیرونی دوروں میں قادیانی مراکز کے چکر اور اور ملاقاتیں، قائد اعظم یونیورسٹی میں شعبہ سائنس کو ڈاکٹر عبدالسلام مرزائی کے نام سے موسوم کیاجانا اور پھر اس کے بعد آئین میں قادیانیوں کو رعایت دینے کی ایک شاطرانہ کوشش، اس سے پہلے آرمی چیف کی تعینانی کے وقت قادیانیت سے تعلق کی بازگشت، پے درپے اتنے معاملات محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی کوشش اور محنت ہے۔ اب حالیہ معاملہ جو ان سب سے بڑھ کر سنگینی کا حامل ہے وہ یہ کہ پچیس دسمبر کوریاستی سطح پر جاری کئے جانے والے نئے ملی نغمے میں قادیانی غدار وطن سائنسدان عبد السلام کو قومی ہیروز کی صف میں دکھایا گیا اور علامتی طور پر پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کا کریڈٹ صرف اسے دیا گیا۔ یہ پاکستان کی نئی نسل کو اس حوالے سے حقائق سے گمراہ کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔ ڈاکٹر عبد السلام کا نا صرف یہ کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تکمیل میں کوئی کردار نہیں بلکہ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ وہ اس پروگرام کا سخت ناقد اور مخالف رہا اور اس نے عالمی سطح پر اسے متنازعہ بنانے اور نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کی۔ اس حوالے سے جو شواہد ہیں وہ ناقابل تردید ہیں۔دوسری بات یہ کہ ایسے شخص کو ملک کے ہیروز میں شامل کر کے قوم کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے جس نے برملا ملک پر لعنت بھیجی، یہاں کی شہریت کو ترک کیا اورہمیشہ ریاست مخالف سرگرمیاں اپنائیں۔ کیا یہی سبق دینا مقصد ہے کہ جو ملک کو گالی دے اور لعنت بھیجے وہی ملک کا ہیرو ہوا کرتا ہے؟…

جن سائنسدانوں نے اس ایٹمی پروگرام کو خون جگر سے سینچا، اس کی خاطر اپنی بہترین صلاحتیں وقف کیں اور ہر طرح کے خطرات مول لے کر پاکستان کو اس اعزاز کا مستحق بنایا، انہیں نظر انداز کر کے ایک دشمن کو کریڈٹ دینا محض ایک بھول چوک یا غلطی نہیں بلکہ اس کے پس پردہ وہی سوچ کارفرما ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ قادیانی اسلام کے دشمن ہیں اور اسلامی نسبت کی وجہ سے پاکستان کے بھی۔ وہ پاکستان اور اس آئین سے اپنی دشمنی کا برملا اظہار کرتے ہیں اور ہر فورم پر پاکستان مخالف قوتوں کے ساتھ نظر آتے ہیں لیکن یہاں ارباب اقتدار شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبائے ان تمام حقائق سے صرف نظر کر کے ان کی محبت اور دوستی میں مرے جا رہے ہیں۔ محسن کشی ، احسان فراموشی اور دشمن نوازی کی یہ روش ملک کو خیر کی طرف نہیں، انارکی اور شر کی طرف دھکیلنے کا سبب بن سکتی ہے ۔ کاش اہل اختیار ہوش کے ناخن لیں اور اہل ایمان کے جذبات کو یوں مجروح نہ کریں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online