Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

وادی کے شیر (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 625 (Talha-us-Saif) - Wadi k Shair

وادی کے شیر

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 625)

اللہ ، اللہ…… پیرجی نور محمد ترالی بھی صفِ شہداء میں جا ملے اور 2018 ؁ء کے آخری دن کشمیر میں اس سال کی سب سے بڑی اور سب سے تباہ کن کارروائی ہو گئی۔ اس کارروائی میں پیارے طلحہ رشید کے ساتھ رختِ سفر باندھنے والا ’’عبد الشکور‘‘ بھی پرواز کر گیا۔ ان چند مجاہدین میں سے ایک جنہوں نے مختصر سی ملاقات اور صحبت میں شدید متاثر کیا۔ اس کے جانے کے بعد سے اس کی شہادت تک شاید کوئی ایک دن بھی ایسا نہ گذرا ہو گا جس میں کبھی کسی نہ کسی عنوان سے اس کا ذکر نہ ہوا ہو اور ہاں اس سال کے جاتے جاتے ’’ محمد فردین عرف معاذ‘‘ شہید کی ہنستی مسکراتی زندگی بھری کھلی آنکھوں اور کھلکھلا کر ہنستے ہوئے چہرے والی نعش کی زیارت کرا دی۔ پوچھا جائے تو اس سال کی سب سے حسین یادگار اور سب سے یادگار تحفہ یہی رہا…

بحیثیت مسلمان ہمارا سال محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے اور ذوالحجہ پر ختم ہوتا ہے اس لئے ہمارا 1439؁ھ ابھی چل رہا ہے اور اسے ختم ہونے میں ابھی ۸ ماہ باقی ہیں۔ دنیا چونکہ اپنا حساب اس دوسرے سال پر رکھتی ہے اس لئے اس کے ساتھ حساب اس کے مطابق رکھنا پڑتا ہے۔تو حساب پیش خدمت ہے اور ہم کیا پیش کریں! دشمن نے خود ہی پیش کر دیا ہے کہ 2017؁ء کشمیر میں ہندوستان کے لئے پچھلے پانچ سالوں کی نسبت تباہ کن سال رہا۔ یہ سال وادی میں ان کا نہیں، مجاہدین کا رہا۔ مجاہدین نے تحریک کشمیر کے خاتمے کی ساری خبریں غلط ثابت کر دیں۔ ہندوستانی سرکاری اداروں کے اس پروپیگنڈے کو خاک میں ملاد یا کہ وہ تحریک پر مکمل کنٹرول کر چکے ہیں اور خاص طور پر جس بات نے سال کے آخری دن انڈین ایوانوں میں شدید ہلچل برپا کر دی اور میڈیا پر مکمل طور پر چھائی رہی وہ یہ تھی کہ عرصہ دراز سے جو یہ باور کرایا جا رہا تھا کہ تحریکِ جہاد صرف بارڈر پار سے آنے والے چند مجاہدین کے وجود کے ساتھ قائم ہے، کشمیر کا مقامی مسلمان عسکریت سے بالکل دست کش ہو چکا ہے اور اب ہندوستانی حکومت اس سے بات چیت کر کے اسے سیاسی مزاحمت سے بھی ہٹا سکتی ہے۔ بس تھوڑی ترغیب اور کچھ تحریض کی ضرورت باقی رہ گئی ہے۔اس سال کے آخری دس دنوں نے بھارت سرکار پر اچھی طرح واضح کر دیا ہے کہ اس تک پہنچنے والی یہ رپورٹ مکمل غلط تھی۔ میڈیا پر جاری شام غریباں کا منظر بتا رہا ہے کہ ہندوستان کا بہت بڑا خواب بکھر گیا ہے اور مودی سرکار پر طاری سکوتِ مرگ شکست فاش کی کہانی سنا رہا ہے۔ سرکار تو اس فتح کے اعلان کا مہورت نکلوا رہی تھی اور ادھر نور محمد تانترے شہید ، فردین شہید اور منظور بابا شہید کے خون نے کچھ اور منظر دکھا دیا… اللہ اکبر…اور آج انڈین اخبار ’’دی ٹریبیون‘‘ کی سرخی چلّا چلّا کر اعلان کررہی ہے…’’دی ریٹرن آف کشمیر فدائین‘‘…

سچ بات یہ ہے کہ کشمیر کی تحریکِ جہاد کشمیری مسلمانوں کی اپنی تحریک ہے اور انہوں نے یہ حادثاتی طور پر نہیں شعوری طور پر اپنا رکھی ہے۔ افضل گورو شہید کی لازوال مسکراہٹ، ان کی کتاب ’’آئینہ‘‘اور الطاف بابا شہید سے نور محمد شہید تک ’’ برہان وانی شہید ‘‘ سے معاذ شہید کشمیری نوجوانوں کا گرم لہو اور جوان لاشے اسی شعور کی عملی تصویر ہیں…رہے بارڈر پار سے پہنچنے والے سربکف مجاہدین تو وہ اس تحریک کے انصار ہیں، جو ’’فعلیکم النصر‘‘ کا مؤکد قرآنی حکم پورا کرنے ان کی پکار پر لبیک کہہ کر رکاوٹیں روند کر جاتے ہیں اور جہاد ہند کے اس مرکز پر پہنچ کر اس میں شمولیت کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ کشمیر میں جو کارروائیاں ہوتی ہیں ان میں شامل ہونے والے فدائین چونکہ اکثر غیر کشمیری ہوتے ہیں اس لئے میڈیا پر انہی کا ذکر چھایا رہتا ہے۔ یہاں بھی جب شہدائِ کرام کے تذکرے لکھے جاتے ہیں تو ان کا موضوع بھی عموماً غیر کشمیری شہداء ہوتے ہیں، اس لئے جہاد کشمیر سے قلبی تعلق رکھنے والے اہل ایمان بھی عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ اس تحریک میں غیر کشمیری عنصر غالب ہے اور اہل کشمیر کا کردار شاید صرف احتجاجی مظاہروں ، سنگ باری اور مجاہدین کے جنازوں میں والہانہ شرکت تک محدود ہے یا اس سے کچھ بڑھ کر مجاہدین کو وقتی پناہ دینے تک، بس اس سے آگے ان کا کوئی حصہ نہیں۔

یہ بات مکمل حقیقت نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر میں تحریک جہاد کو عروج تک پہنچانے اور عالمی سطح پر اس کا لوہا منوانے میں غیر کشمیری مجاہدین کا بہت بڑا کردار ہے اور انہی کی ایمانی اور بے لوث قربانیوں ، اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں، بہنوں کی نصرت کے لئے ان کی فداکاری اور سخت تکلیفوں مشقتوں کے بے غرض تحمل نے اس تحریک کو زبردست مضبوطی اور قوت فراہم کی ہے لیکن اس حقیقت سے اِغماض نہیں کیا جا سکتا کہ کشمیر کے مقامی عناصر کی مکمل مدد اور قربانی کے بغیر یہ تحریک نہ تو باقی رہ سکتی ہے نہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک مہمان کے لئے اس فیلڈ میں ایک قدم چلنا بھی مقامی مدد کے بغیر ممکن نہیں، چہ جائیکہ اتنی خوفناک کارروائیوں کا سرانجام دینا۔ یہ اہل عزیمت اہل کشمیر ہی ہیں جو ان مجاہدین کو وصول کرتے ہیں، انہیں اپنے گھروں اور خاندانوں کو شدید خطرات میں ڈال کر اپنے پاس پناہ دیتے ہیں۔ فیلڈ میں ان سے آگے چلتے ہیں، ان کے لئے آنکھ کا کام کرتے ہیں، ان کی نقل و حرکت کو ممکن بناتے ہیں اور جب کہیں یہ مجاہدین محاصرے میں آجائیں ان سے پہلے اپنی جانیں قربانی کرتے ہیں اور اپنے اوپر خطرات لے کر انہیں نکالنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ مشکل حالات میں ان کے لئے مہمان مجاہدین کا ساتھ چھوڑ کر نکل جانا انتہائی آسان ہوتا ہے بلکہ امر واقع یہ ہے کہ مہمان مجاہدین ایسے حالات میں خود ان پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ نکل جائیں تاکہ فیلڈ کا کام متاثر نہ ہو لیکن یہ اہل وفا اس موقع پر پہلے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں۔ پیارے طلحہ شہید اور محمد بھائی کے ساتھ شہید ہونے والے بھائی وسیم ہوں یا ان کے بعد عثمان و عمران کے ساتھ جام شہادت نوش کرنے والے بھائی ابوبکر ۔ ان سے پہلے بھی کتنی داستانیں ان اہل وفا کی ایسی ہیںجو امت کے سامنے نہیں آ سکیں۔ ابھی حال ہی میں جام شہادت نوش کرنے والے جیش کے مایہ ناز کمانڈر پیرجی نور محمد تانترے جن کی شہادت کو انڈیا نے اس سال کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا اور اس پر باقاعدہ جشن کا ماحول برپا کیا صرف انہی کے جو کارنامے انڈین میڈیا پر بیان کئے جا رہے ہیں وہ اس تاثر کی مکمل نفی کرنے کے لئے کافی ہیں کہ تحریک جہاد کشمیر، غیر کشمیری تحریک ہے۔ ہمارے یہاں کے جہاد سے تعلق رکھنے والے طبقے کے سامنے جو ان اہل عزیمت کی عملی جدوجہد کی داستانیں نہیں آ پاتیں اس کی چند وجوہات ہیں۔

منجملہ ان کے یہ بھی ہے کہ یہاں ان کے ذاتی حالات سے زیادہ واقفیت رکھنے والے افراد خال خال ہی ہوتے ہیں اور یہ بھی کہ اہل کشمیر کے کارناموں کی تفصیلات کا مکمل سامنے آنا تحریک کے لئے کسی سطح پر نقصان دِہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے ان کے کارنامے بس اسی ذات کے علم میں ہیں جو انہیں اس کا بہترین اجر دینے والی ہے۔ القلم کے اس شمارے سے آپ چند قسطوں میں پیرجی نور محمد شہید کے جہادی کارناموں کا کچھ احوال اس تحریک کے رازدان مفتی محمد اصغر خان کشمیری زید مجدہم کے قلم سے ملاحظہ کر لیں گے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ جہاد کشمیر میں اہل کشمیر کا کیسا کردار ہے۔ امید ہے ان کے بعد دیگر کئی حضرات کے حالات آپ کو پڑھنے کو ملیں گے۔ مجھے چونکہ الحمد للہ جہاد کشمیر سے ایک قلبی اور والہانہ لگاؤ ہے ( بلکہ ہماری جماعت کے ہر فرد کو الحمد للہ ایسا ہی تعلق ہے) اس لئے مکمل شعور کے ساتھ اہل کشمیر کی ان قربانیوں اور ان کے بلند کردار کا معترف ہوں اور کشمیری قوم جو میرے خیال میں اس وقت دنیا میں عزیمت اور قربانی کی سب سے بڑی مثالوں میں سے ایک ہے، اسی کردار کی بناء پر میری محبوب ترین قوم ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا نور محمد اور ان کے رفقاء کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور انہیں شایان شان اجر عظیم سے نوازے۔ انہی لوگوں کی خاموش، بے نام اور مخلصانہ کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ دنیا بھر کا میڈیا سال کے آخری دن یہ کہنے پر مجبور تھا کہ 2017؁ء جہادِ کشمیر کا سال رہا۔ انہی لوگوں کی انتھک محنت کا ثمر تھا کہ سرینگر نے ۸ سال بعد الجہاد الجہاد کے نعرے گولیوں کی تڑتڑاہٹ کے ساتھ ایک بار پھر سنے، انہی کی عزیمت و ہمت سے ہی یہ سال سب سے زیادہ فدائی یلغاروں والا سال قرار پایا اور انہی کے خون شہادت نے ہی سال کا آخری دن مجاہدین کے لئے ایک یادگار فتح اور دشمنوں کی بدترین ہزیمت کا دن بنا دیا

وادی کے شیر دل جوانوں، باہمت ماؤں بہنوں اور سرفروش مجاہدوں کو محبت بھرا سلام عقیدت پہنچے۔ امید ہے کہ عزیمتوں کا یہ تسلسل آنے والے دنوں میں جہاد ہند کو نئی منزلوں سے ہمکنار کرے گا۔

سلام اے کشمیر…… سلام اے اہل کشمیر…

٭……٭……٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online