Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

پرانی مہم، نئے کردار (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 626 (Talha-us-Saif) - Purani Mhim Naye Kirdar

پرانی مہم، نئے کردار

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 626)

ایک بار پھر نئے قوانین کا شور ہے۔کفار کے مطالبات پر اہل ایمان کیلئے عرصہ حیات تنگ کرنے کے لئے عادی مجرمینِ ملت ڈرانے دھمکانے کے حربے استعمال کررہے ہیں-مہم وہی ہے جو آج سے چودہ صدیاں قبل مدینہ منورہ میں بعض کفر کے یاروں نے چلائی تھی کہ جہاد پرمال خرچ کرنا بندکردو تاکہ جہاد رُک جائے اور جماعت منتشر ہوجائے۔ان کے مقابل قرآن نے کیا کہا اور کیسے اس مہم کا تاروپود بکھیر دیا، وہ سنئے، انکی نہ سنئے۔ یہ آپکی آخرت کے دشمن ہیں۔ اس لیئے آخرت کے سب سے نفع مند سودے سے محروم کرنا چاہتے ہیں:

" یہی اصل دشمن ہیں ان سے بچئے اللہ انہیں ہلاک کرے کہاں بھٹکے جاتے ہیں" (المنافقون)

مومنو! تمہارا مال اور اولاد تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کردے۔ اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔ اور جو (مال)ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس (وقت) سے پیشتر خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کی موت آجائے تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا۔ اور جب کسی کی موت آجاتی ہے تو اللہ اس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔ ( سورۃ المنافقون آیت  ۹،۱۰،۱۱)

یہ وہ مقام ہے جہاں جہاد میں مال خرچ نہ کرنے کے وبال اور انجام بد کا تذکرہ ہے۔

اس آیت سے چند آیت قبل اس مضمون کا تذکرہ ہے کہ منافق صرف یہ نہیں کہ خود جہاد میں مال خرچ کرنے سے بخل کرتے تھے بلکہ انہوں نے دوسرے لوگوں میں باقاعدہ یہ مہم چلائی تھی کہ جہاد پر مال خرچ نہ کریں:

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس (رہتے) ہیں ان پر (کچھ) خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے۔ ( سورۃ المنافقون آیت ۷)

عبد اللہ بن اُبی اور اس جیسے دوسرے لوگوں نے اَنصار کو کہا کہ وہ رسول اللہ ﷺکے مہاجر اَصحاب اور لشکر اسلام کی تیاری پر مال خرچ کرنا چھوڑ دیں۔ایک مقصد اس سے ان کا یہ تھا کہ حضرات مہاجرین جنہوں نے خود کو دین اسلام کی خدمت اور جہاد میں خرچ کے لئے وقف کر رکھا تھا وہ معاشی پریشانی کا شکار ہو کسبِ معاش کی فکر میں پڑ جائیں گے اور اس طرح ہر وقت جہاد کے لئے نہیں نکل سکیں گے تو جہاد کا معاملہ کمزور پڑ جائے گا اور کفار کے غلبے کی راہ آسان ہو جائے گی جو منافقین کا مقصود اصلی ہوتا ہے۔اور دوسرا مفاد ان کے ذہن میں یہ تھا کہ معاشی کمزوری کی وجہ سے بار بار جہاد پر نکلنے کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا اس طرح ان سے جو ہر وقت جہاد پر نکلنے کا تقاضا کیا جاتا ہے اور جواب میں انہیں ہر بار حیلہ سازی کرنا پڑتی ہے اور مسلمانوں کے سامنے رُسوا ہونا پڑتا ہے یہ نہ ہو گا۔غرضیکہ انہوں نے مسلمانوں کی اجتماعیت توڑنے ،تناصر کے اس حسین سلسلے کو ختم کرنے اور جہاد کو کمزور کرنے کے لئے اینٹی اِنفاق مہم چلائی۔اللہ تعالیٰ نے پہلے تو ان کے اس گمان بد کو باطل کر دیا کہ دین کی سر بلندی کے لئے جہاد کا جاری رہنا کچھ ان کے انفاق پر ہی موقوف ہے۔بلکہ فرمایا کہ آسمان و زمین کے خزائن اللہ تعالیٰ کی ملک اور اس کے قبضہ قدرت میں ہیں اس لئے کوئی بھی یہ نہ سمجھے کہ اس کے مال نہ خرچ کرنے سے دین کا کام رُک جائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے خزائن سے اس کے جاری رہنے کا انتظام فرما دیں گے۔پھر آگے اس آیت میں مسلمانوں کو سخت الفاظ میں تنبیہ فرمائی کہ منافقین کی اس دعوت سے متاثر ہو کر اگر کسی نے ایسا کیا تو دین کا تو کچھ نہ بگڑے گا لیکن ایسا کرنے والا ضرور انجامِ بد اور عبرتناک حالات سے دو چار ہو جائے گا۔

جب انسان کی روح نکلنے کا وقت آتا ہے تو نزع کی حالت میں اسے اپنا اخروی مقام معلوم ہو جاتا ہے۔وہ دیکھ لیتا ہے کہ جنت کی طرف لے جایا جا رہا ہے یا جہنم کی طرف؟ آرام و راحت میسر آنے والی ہے یا عذاب مقدربننے والا ہے؟ ایسے میں جب وہ انسان جس نے مال کمایا اور جمع تو بہت کیا ہوگا مگر اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر کے اپنی آخرت کا کچھ سامان نہ کیا ہو گا وہ نزع کی حالت میں صرف اتنی مہلت مانگے گا کہ اسے ایک انتہائی مختصر اور محدود وقت کے لئے قوت گویائی ہی عطا کر دی جائے تاکہ وہ اپنا مال صدقہ کرنے کا اعلان کر سکے مگر ہرگز اتنی مہلت بھی نہ دی جا سکے گی۔اور ایسا شخص جو اگر چاہتا تو اپنے مال کا کچھ قلیل حصہ خرچ کر کے اپنے لئے راحت و سکون کا انتظام کر لیتا اور آخرت کی بھلائیاں ،جنت کا ٹھنڈا مکان، خوبصورت باغات اور دیدہ زیب نہریں کما لیتا  اپنے مال کے انبار چھوڑ کر حسرت اور افسوس کے ہاتھ ملتا ہوا ایک دردناک انجام کی طرف چل دے گا (العیاذ باللہ)منافق خود بھی برے انجام والے ہیں۔ان کی بات ماننے والا بھی انہی کی طرح محروم رہے گا۔

سورۃ التوبہ میں بھی اسی طرح کا مضمون دو آیات میں بیان ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جہاد بالنفس والمال یعنی جان و مال کی قربانی کو فرض فرمایا۔مسلمانوں سے ان دونوں کا بارہا مطالبہ کیا۔

اب جن لوگوں نے خوشی سے یہ دونوں چیزیں پیش کر دیں ان کو کیا ملا؟

جن کی جان قبول کر لی گئی وہ نقد جنت میں داخل کر دئے گئے،عرش کے سائے میں محلات انہیں عطا فرمائے ،انہی دائمی زندگی عطا ہوئی،جنت میں کھلا گھومنے کی اجازت ملی، رزق کریم ملا،اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے اور ہم کلام ہونے کا شرف نصیب ہوا۔اللہ تعالیٰ کی دائمی رضا انہیں ملی اور ایسے ایسے انعامات ،درجات اور فضائل ملے جو بیان سے باہر ہیں۔

اور جنہیں جان پیش کرنے کے انعام کے طور پر فتح اور غنیمت کے ساتھ لوٹا دیا گیا انہیں بھی گناہوں کی معافی ،کامل مغفرت، اور درجات عالیہ اور رضا ء و رضوان کی بشارتیں ملیں۔رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کے تمغے ملے۔دنیا میں عظیم فتوحات اور کثیر غنائم کے وعدے ملے اور بہت کچھ۔

جن کا مال قبول ہوا انہیں آخرت کی کامیاب تجارت کی بشارت،جنت اور اسکی نعمتوں کا وعدہ اور دنیا میں اس کے بدلے ایسے خزائن ملے جن کے ذکر سے ہی بڑے بڑے مالدار لوگوں کی آنکھیں پھٹی رہ جاتی ہیں۔وہ صحابہ کرام جو اللہ کے نام پر ایک بار اپنی رضاء سے مفلس ہو گئے کہ اپنا سب کچھ جہاد کے لئے پیش کر دیا انہیں دنیا میں بھی اس کے بدلے اتنا غناء نصیب ہوا کہ ان کے غلام سروں پر دراہم و دنانیر سے بھرے ٹوکرے اٹھائے پھرتے تھے مگر کوئی صدقہ لینے والا نہ ہوتا تھا۔جان و مال کی طلب کا سب سے سخت امتحان غزوہ تبوک تھا جس میں کامیابی پر آسمان سے آیت اتر آئی جس میں ان کی دنیا و آخرت میں کامیابی کا واضح اعلان ہو گیا۔

’’لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے۔ انہیں لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں۔ اور یہی مراد پانے والے ہیں ۔ اللہ نے ان کے لیے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘ ( سورۃ التوبہ آیت ۸۸، ۸۹)

اور ان کے برخلاف جو لوگ اس امتحان میں ناکام رہے ان کے بارے میں کیا حکم آیا؟

جان دینے کا مطالبہ تھا تو ان کی زبانوں پر مختلف بہانے تھے۔گرمی میں نہ نکلو،گھر اکیلے ہیں،لڑائی میں مہارت نہیں،فتنوں میں ابتلاء کا خوف ہے،وغیرہ وغیرہ۔اور مال دینے کا وقت آیا تو اپنی ضروریات اور حاجات کا رونا پیٹنا تھا بلکہ انفاق کرنے والوں پر طعنہ زنی تھی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے جان و مال دے دئے ان کی تو دونوں متاعیں قیمتی ہو گئیں اور جنہوں نے بچا لیں:

’’تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ اللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی)وہ کافر ہی ہوں۔‘‘  (سورۃ التوبہ آیت ۵۵)

اللہ تعالیٰ جان بھی عذاب بنا دیں گے، جو اولاد جہاد سے بچا لی اسے بھی دنیا کا عذاب بنا دیں گے اور جو مال سنبھال لیا وہ بھی عذاب بن جائے گا اور پھر انہی چیزوں کی فکر میں ایسا پھنسائیں گے کہ مرتے وقت بھی نہ توبہ نصیب ہوگی نہ کلمہ نصیب نہ ہو گا بلکہ کفر و فسق کی حالت میں جان نکل جائے گی۔( العیاذ باللہ)

یہ اعلان ہے جان و مال دینے والے رب کی طرف سے ان لوگوں کی طرف جو یہ بے قیمت چیزیں آخرت کے بدلے بیچ کر قیمتی بنانے کی بجائے انہیں بچانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

آج کل کی مروجہ دانشوری جسے عقل و دانش قرار دیتی ہے وہ درحقیقت بد ترین جہالت اور بے عقلی ہے۔اور جسے آج کل دیوانہ پن،جذباتیت اور جنون کا نام دیا جاتا ہے۔وہی اعلی ترین سمجھداری ہے۔جان ہر حال میں چلی جانی ہے تو کیوں نہ اسے خود فروخت کر کے اس کی قیمت بڑھائی جائے اور مال بھی ہر حال میں چھوٹ جانا ہے تو کیوں نہ اسکا کچھ حصہ محفوظ کر لیا جائے؟

ہے نا عقل کی بات؟

تو پھر دیر کیوں؟ سوچ بچار کیسی؟ توقف کس لئے؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ نفاق زدہ لوگوں کی اینٹی جہاد اور اینٹی انفاق مہم دِلوں پر اثر کر گئی ہو؟

قرآن ہمیں اس سے بچانے کے لئے وعدے بھی سنا رہا ہے اور ڈرا بھی رہا ہے۔

لہذا اِن کی نہ سنیں! قرآن کی سنیں!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online