Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

کیاکیاجائے؟ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 628 (Talha-us-Saif) - Kia Kia Jae

کیاکیاجائے؟

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 628)

قصور میں پیش آنے والا انسانیت سوز واقعہ اس سلسلے کا پہلا واقعہ ہرگز نہیں تھا اور شومئی قسمت کہیے یا قوم کے چہرے پر بدنما داغ کہ آخری بھی ثابت نہیں ہوا۔ اس واقعے پر عمومی قومی بیداری اور شور شرابے کے ماحول میں بھی اس کے بعد کم از کم تین ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں ۔ کسی بھی قوم اور معاشرے کے لئے ایسے واقعات کا وقوع انتہائی شرمندگی کی بات ہے لیکن ایک اسلامی ملک میں ان کا اس کثرت سے پیش آنا تو باقاعدہ شرمناک امر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیبﷺ کی اُمت پر رحم فرمائے۔ آمین

پس چہ بایدکرد

ہمارے ہاں لبرل طبقہ جو ہر وقت مغرب کی مدح سرائی اور لبرل ازم کی برکات کا ہمہ وقت پرچار کرتا رہتا ہے ایسے واقعات کی آڑ میں بھی اپنا یہی نظریہ پروموٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ حقیقی اَعداد و شمار کی رو سے ان کا ممدوح مغرب بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے حوالے سے دنیا کے کسی بھی خطے سے زیادہ خطرناک ہے لیکن ہم اگر اس موقع پران کی طرح مغربی معاشرے پر ان اعداد و شمار کی بنا پر تنقید اور طنز کر کے یہ سمجھ لیں کہ ہمارا فرض ادا ہو گیا اور ہم نے مغرب کو آئینہ دِکھا کر اپنی ذمہ داری پوری کر دی تو یہ ایک انتہائی غلط طرز عمل ہو گا۔ مغرب نے اپنے لئے جو نظامِ حیات تشکیل دیا ہے اس میں ’’مذہب‘‘ کی حیثیت لبرل ازم کو حاصل ہے اور نظامِ معیشت کی حیثیت ’’سرمایہ داری ‘‘ کو۔ ان دو حقائق کے پیش نظر اب وہاں اگر ایسے واقعات رونما ہوں تو انہیں ’’جرم‘‘ کے زمرے میں شمار کرنا ہی عبث ہے۔ لبرل ازم فرد کی آزادی کا پرچار کرتا ہے۔ اس میں خیر و شر کا تعین بھی فرد کرتا ہے اور اس پر جزاء و سزا کا تعین بھی فرد کی ذمہ داری ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے ہاں اَفراد یہ کام اِنفرادی حیثیت سے نہیں، اِجتماعی حیثیت سے کرتے ہیں اور وہ اجتماعیت جو ان امور کی ذمہ داری رکھتی ہے اسے بھی فرد ہی تشکیل دیتا ہے،یہ ان کا نظام سیاست ہے جسے ڈیموکریسی کہاجاتاہے۔ اب انہیں کھلا اختیار حاصل ہے کہ وہ باہمی اتفاق رائے سے جس کام کو بھی سند جواز فراہم کر دیں وہ جائز ہو جاتا ہے اگرچہ وہ کتنا ہی بُرا اور غیر اخلاقی کیوں نہ ہو۔ لبرل معاشرے نے اپنے اسی حق کو استعمال کرتے ہوئے بدکاری کی کئی اَقسام کو مکمل جواز اور آزادی فراہم کر دی ہے۔ بظاہر اس میں فی الحال اگرچہ کچھ قدغنیں موجود ہیں اور ان کے قوانین بدکاری اور بداخلاقی کی کئی شکلوں کو ناجائز گردانتے ہیں لیکن انہیں اس کا مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ جب چاہیں ان قوانین کو بدل دیں اور ان قدغنوں کو اٹھا دیں۔اس لئے اگر وہ اپنے اس مذہب ِلا مذہبیت کے اصولوں کی روشنی میں بدکار ہیں تو اب یہ ان کے ہاں کوئی جرم ہی نہیں جس پر انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جا سکے یا انہیں شرم دِلانے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح ان کا نظام ’’سرمایہ داری‘‘ انہیں ہر اس چیز کو فروخت کرنے اور جنسِ بازار بنانے کا مکمل حق دیتا ہے جسے وہ مال کمانے کا ذریعہ بنا سکتے ہوں۔ اس نظام نے انہیں حق دے دیا ہے کہ وہ بدکاری اور بد اخلاقی کو بھی بازار میں بیچ سکتے ہیں لہٰذا انہوں نے ایک انڈسٹری کی طرح اسے لیا ہے اور اس کی ہزاروں صورتیں ایجاد کر کے فروخت کے لئے پیش کر دی ہیں۔ اب یہ ان کی ایک ملٹی ملین ڈالرز مارکیٹ ہے۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام کا ایک خفیہ بازار بھی ہے جو مالدار صارف کے لئے ان اجناس کی فراہمی بھی یقینی بناتا ہے جو فی الحال ان کے قوانین کی رو سے سند جواز سے محروم ہیں اور ظاہری طور پر انہیں جرائم میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس انڈسٹری کا پیٹ بھرنے کے لئے انہیں دنیا بھر سے ایسے لوگ درکار ہوتے ہیں جو اس بازار کو اس کی مطلوبہ جنس فراہم کریں۔ لہٰذا یہ نظام ایسے لوگ خود پیدا کرتا ہے جو ان جرائم کا ارتکاب کریں اور مسلسل کرتے رہیں۔

ایسے میں نہ تو ان جرائم پر روک مغرب پر تنقید کے ذریعے لگائی جا سکتی ہے اور نہ ہی ان قوانین کی مدد سے جو اس نظام نے بنائے ہیں جو خود ان جرائم کا بانی اور محافظ ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں یہ بحث مکمل طور پر انہی دو انتہاؤں پر دائر نظر آ رہی ہے۔ بعض لوگوں کا سارا زور ایک انتہا پر خرچ ہو رہا ہے اور بعض ان کی آڑ میں دوسری انتہا پر کھڑے اسلام کو کوس رہے ہیں اور مغربی قوانین جزا و سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان جرائم کا واحد اور قطعی حل صرف اور صرف وہ نظام پیش کر سکتا ہے جس میں ان جرائم کی کسی بھی شکل میں گنجائش تو کجا ان جرائم کے ذرائع پر بھی مکمل قدغن عائد ہے اور وہ کسی بھی ضرورت سے ان کی کسی بھی شکل کو جواز فراہم نہیں کرتا۔نہ وہ انہیں جنسِ بازار بنانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور نہ معاشرے میں ان کے نفوذ کو برادشت کرتا ہے۔ وہ نظام قطعی طور پر اسلام کا نظام ہے کیونکہ اسلام کے علاوہ جتنے بھی مذاہب اس وقت دنیا میں جس شکل میں موجود ہیں ان سب میں ان جرائم کے خلاف وہ حساسیت اور عدم برداشت موجود نہیں ہے جو ان کی مکمل روک تھام کا ذریعہ بن سکے۔ اسلام اس حوالے سے جزاء و سزا کا جو نظام رکھتا ہے وہ اگر دنیا میں کسی جگہ اپنی مکمل شکل کی بجائے ناقص شکل میں بھی نافذ ہو تو وہ معاشرہ ایسے جرائم سے محفوظ نظر آئے گا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اِنکار صرف عناد کی بناء پر کیا جا سکتا ہے دلیل سے نہیں اور اس کے مشاہدات اس قدر بدیہی ہیں جنہیں معمولی توجہ سے بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے کے لئے جس طرح ان جرائم کا وقوع شرمناک ہے اسی طرح یہ بات بھی انتہائی شرمناک ہے کہ اسلام جیسا نظام اور دین رکھنے کے باوجود لوگ ان مسائل کے حل کے لئے ان قوانین اور نظاموں کی طرف رجوع کر رہے ہیں جو اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ یقین کیجئے اگر ان جرائم کی تحقیق اور ان پر جزاء اور سزا کی تعیین اسلام کے اصولِ فقہ کی روشنی میں کر لی جائے تو صرف دو تین سزاؤں کے بعد یہ جرائم ہعاشرے سے نابود ہونا شروع ہو جائیں گے۔ معاشرہ اسلام کے اخلاقی اصولوں پر استوار ہو جائے، جرائم کی سزائیں اسلامی طرز پر نافذ ہوں، سارا نظام قضا ان جرائم کی تئیں اس حساسیت کا مظاہرہ کرے جو اسلام کا خاصہ ہے اس کے بعد یہ جرائم ہوتے رہیں ایسا ممکن ہی نہیں۔ اگر ہم سب اس حوالے سے فکر مند ہیں اور ہمیں اپنی نسلوں کی حفاظت کرنی ہے تو یہ تین اقدامات ناگزیر ہیں ورنہ ان جرائم کی آگ پتا نہیں کیا کیا نگل جائے گی۔

شرمناک نظریہ

مسلمانوں میں جو غلط نظریات فتوں کی صورت میں رائج کئے جاتے ہیں ان میں آخری زمانے کا سرفہرست فتنہ انگیز نظریہ ’’غامدیت ‘‘ کا ہے۔تفصیل کا موقع نہیں خلاصے کے طور پر یہ سمجھ لیجیے کہ موجودہ زمانے کا استعمار ’’لبرل ازم‘‘ ہے جو ممالک پر جبری قبضے کی بجائے ان کے نظام پر قابض ہونے کی تگ و دو میں ہے۔ مسیحیت کے پیروکاروں میں اس نظرئیے کو بآسانی فروغ حاصل ہو گیا اور کوئی مزاحمت پیش نہیں آئی کیونکہ وہ مذہب ہی تحریف زدہ ہونے اور مسلمہ اصولوں سے محروم ہونے کے سبب اپنا اعتبار کھو چکا تھا۔ اس استعمار کو مزاحمت کا سامنا صرف چند اسلامی معاشروں میں ہے۔ لہٰذا وہاں اس مزاحمت کو ختم کرنے کے لئے انہوں نے ایک نظریہ ایجاد کر کے اپنے تمام تر مادی وسائل اس کی ترویج کے لئے وقف کر رکھے ہیں۔ اس نظریے کا عنوان ہر جگہ مختلف ہے، حقیقت بالکل ایک ہے۔ ہندوستان میں یہ وحید الدین خان کی طرف منسوب ہے اور ہمارے ہاں جاوید احمد غامدی کی طرف۔ اس نظریے کا کام یہ ہے کہ یہ استعمارِ جدیدکے ایجنڈے اور نظام سے مزاحم ہر اسلامی نظرئیے اور قانون و اصول کو اس شکل میں ڈھال کر معاشرے میں رائج کر دے کہ مزاحمت کا عنصر باقی نہ رہے اور اسلامی کہلانے کے باوجود وہ قانون لبرل ازم کے رنگ میں ڈھل جائے۔

یہ اسلام کے ہر اس حرام کو حلال کر دے جو اس استعماری نظام میں حلال ہے اور اسلام کے ہر اس قانون پر تنسیخ یا تغییر کی تلوار چلا دے جو استعماری ایجنڈے میں رکاوٹ بن رہا ہو۔ اگر اب تک کسی کو غامدی نظرئیے کی اس حقیقت میں شک تھا بھی تو قصور واقعے کے بعد غامدیت کے طرز عمل اور طرز فکر کو دیکھ کر بالکل دور ہو جانا چاہیے۔ معصوم زینب کے ساتھ ہونے والی درندگی پر جب ہر دل غمزدہ تھا اور ہر سوچ فکر مند تھی کہ حل کیا ہونا چاہیے ایسے میں غامدی کے ترجمانوں نے یہ بحث چھیڑ دی کہ اسلام کا نظام قضاء اس طرح کے معاملات کو حل کرنے سے قاصر ہے۔ آپ تھوڑا سا غور کیجئے کہ اس بحث کو چھیڑنے کے لئے اس وقت کے انتخاب کا مقصد کیا ہے؟ اور اس بحث کا اس قضیہ سے کیا تعلق ہے کہ اسلام کا نظام جزاء و سزا زنا بالجبر کے اثبات کے لائق ہے یا نہیں؟

تعلق بالکل ظاہر ہے اگر تھوڑا سا باریکی سے جائزہ لیں…

ان واقعات کے تسلسل سے تنگ آئے لوگ جب یہ دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ مروجہ نظام قانون اس مسئلے کے حل سے قاصر ہے اور جرائم بڑھ رہے ہیں تو کہیں مسلمان یہ مطالبہ نہ شروع کر دیں کہ ان جرائم سے نمٹنے کے لئے اسلامی نظام انصاف کو نافذ کیا جائے۔ لبرل ازم اور سرمایہ دارانہ نظام کے محافظین کو مکمل ادراک ہے کہ اسلامی قوانین کا اجراء معاشرے سے ان جرائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا اور اس کے ساتھ ان غیر اخلاقی اقدار کو بھی جنہیں رائج کرنے پر استعمارِ جدید کے اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کی غیر اخلاقی انڈسٹری کو یہاں سے ملنے والا مواد بھی رُک جائے گا اور معاشرے میں اس کے صارف بھی نہ رہیں گے لہٰذا انہوں نے اپنے ان خدام کے ذریعے اس موقع پر یہ بحث شروع کرا دی تاکہ مطالبہ کمزور پڑ جائے۔

اسلام کے دامن پر بدنما داغ ہیں مسلمان کہلانے والے یہ لوگ جو اسلام کے محاسن سامنے لانے کی بجائے اس کے زریں نظام کو مشکوک بنانے کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے مجرمین سے اُمت کو نجات عطاء فرمائے ۔ ایسے ایمان کے چوروں سے ہوشیار رہئے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online