Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

کیا یہ حل ہے؟ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 629 (Talha-us-Saif) - kia-ye Hall hay

کیا یہ حل ہے؟

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 629)

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں اور ان کے کاروبار کے حوالے سے اب جو اَعداد و شمار کھل رہے ہیں اور جس قسم کے مافیاز سامنے آ رہے ہیں، ان سے بالکل صاف ہو رہا ہے کہ بات اتنی سادہ نہیں تھی، جس قدر بنائی جا رہی تھی۔ وہ تمام خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں جن کی طرف پچھلے کالم میں اِشارات کئے گئے تھے۔ بات تو پہلے سے حتمی تھی لیکن ہمارے ہاں چونکہ قانون ہی جرم کا سب سے بڑا محافظ اور سہولت کار ہے اس لئے وہی اس معاملے کا اب تک یہی رخ بتا رہا ہے کہ یہ بعض ذہنی نفسیاتی مریضوں کا ذاتی و اِنفرادی فعل ہے تاکہ اس کے پس پردہ چھپے چہرے بے نقاب نہ ہوں اور تحقیقات کا سرا اصل مجرموں تک نہ پہنچے۔ دنیا میں اصل قوت حاکمہ چونکہ سرمایہ دار ہے لہٰذا جس چیز سے سرمایہ دار کا مفاد وابستہ ہو جائے، باقی تمام عوامل اس کے محافظ بن جاتے ہیں۔

اب ایک کے بعد دوسری کڑی مل کر وہ زنجیر بن رہی ہے جو اگر درمیان میں انہی مفادات کی خاطر توڑ نہ دی گئی تو یہ اصل مجرم کو جکڑ سکتی ہے لیکن دیکھنا یہی ہے کہ قانون اس حوالے سے کہاں تک حساسیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ قانون کا ریکارڈ البتہ یہی بتاتا ہے کہ جونہی اس میں کچھ بڑے لوگوں کے نام سامنے آئے اس کے پر جل اٹھیں گے اور یہ کیس داخلِ دفتر کر دیا جائے گا ، پکڑے گئے مجرم منظر عام سے ہٹا دئیے جائیں گے، کوئی نیا سیاسی یا سماجی بحران کھڑا کر کے لوگوں کی توجہ اس کی طرف پھیر دی جائے گی اور قوم بھی اپنی عادت کے مطابق اس معاملے کو آئندہ کسی سانحے تک مکمل طور پر بھول جائے گی۔

ہمارے ہاں جو طبقہ ’’لبرل‘‘ کہلاتا ہے اور وہ ہر وقت یہاں کے معاشرے کو مغربی طرز میں ڈھالنے کے لئے کوشاں رہتا ہے ان کا ایک دیرینہ مطالبہ ہے کہ ہمارے ہاں سکولز اور کالجز میں مغرب کی طرز پر جنسی تعلیم کو بھی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ ان کا یہ مطالبہ ویسے تو ہمہ وقت جاری رہتا ہے لیکن ایسے معاملات سامنے آنے پر شدت اختیار کر جاتا ہے اور وہ اس کے حق میں بہت کھل کر لکھنے بولنے لگتے ہیں۔ جب ان کے اس مطالبے پر تنقید کی جائے تو وہ یہ کہہ کر اس کا استہزاء کرتے ہیں کہ جنسی تعلیم کا مطلب ہرگز معاشرے میں بے راہ روی پھیلانا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ بچوں میں اس حوالے سے درست اور غلط کا شعور پیدا کر دیا جائے تاکہ وہ کسی بھی ناپسندیدہ صورتحال کو سمجھ سکیں اور اس سے اپنا دفاع کر سکیں۔ اس دھوکے سے وہ خالی الذہن لوگوں کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا واقعی ان کا یہ مطالبہ درست ہے؟ کیا واقعی نصاب میں ایسی کوئی تبدیلی معاشرے سے ان جرائم کا سدباب کا ذریعہ بن سکتی ہے؟ اور کیا واقعی اس تعلیم کی حقیقت وہی ہے جو یہ طبقہ ظاہر کرتا ہے یا وہ کچھ اور ہے؟…

پہلی بات کہ ہمارے ہاں اس حوالے سے شعور کی کمی ہے اس لئے جنسی تعلیم لازمی ہے یہ بات ان لوگوں کے حق میں شاید کسی حد تک درست ہو جو دینی تعلیم سے بے بہرہ ہیں۔ ورنہ ہمارے کامل و مکمل دین میں جہاں اور معاملات کی رہنمائی موجود ہے ’’جنس‘‘ کے حوالے سے بھی احکامات کی بھی مکمل تفصیلات دستیاب ہیں۔ یہ انسان کی طبیعت میں رکھا گیا ایسا جوہر ہے جس کا احساس وقت کے ساتھ خودبخود بیدار ہوتا ہے اس کے لئے کسی تحریک و تعلیم کی حاجت نہیں ہوتی۔ بحیثیت مسلمان اس بارے میں ’’تعلیم‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس صورتحال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کیا ہیں؟ حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے؟ طہارت و نظافت کا اہتمام کیسے رکھا جائے؟ اس حوالے سے شریعت کی حدود کیا ہیں؟ احتیاط و حفاظت کس طرح کی جا سکتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام احکامات اپنی تمام تر تفصیلات کے ساتھ اسلامی فقہ میں موجود ہیں اور فقہ کا طالبعلم اور طالبہ بلوغت کی عمر سے پہلے ہی ان احکام سے ضروری واقفیت حاصل کر لیتے ہیں ۔ اسی طرح اسلام کا اخلاقی حکم ’’حجاب‘‘ ایک بچے اور بچی کے لئے بلوغ کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی اس کے لئے ایک عملی تربیت مہیا کرتا ہے کہ اسے کن رشتہ داروں سے قرب کی اجازت ہے اور کن سے حجاب کا حکم ہے تاکہ ایسے اختلاط کی بنیاد ہی ختم ہو جائے جو کسی بدکاری اور بداخلاقی کا سبب بن سکتا ہو۔ اسلام میں ان احکام کا اجراء بلوغ سے پہلے ہی کر دینے کا حکم ہے۔ یہ بات ایک بچے کو جنس کے حوالے سے جائز ، ناجائز کی بہترین تعلیم اسے گھر میں ہی مہیا کردیتی ہے۔ لہٰذا اگر جنسی تعلیم کا مطلب بڑھتی عمر کے ساتھ پیدا ہونے والی فطری تبدیلیوں سے متعلق شعور پیدا کرنا ہے تو کم از کم ایک اسلامی معاشرے کے بارے میں یہ بات ہرگز قابل تسلیم نہیں کہ اسے اس حوالے سے کسی مغربی نصاب کی حاجت ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ یہ تعبیر ہی دھوکہ ہے۔ جنسی تعلیم کا حقیقی مطلب وہ نہیں جو یہ طبقہ ظاہر کرتا ہے بلکہ مغرب میں رائج اس تعلیم کی حقیقت کچھ اور ہے۔ وہاں ایک بچے یا بچی کو فطری جنسی شعور کی بیداری سے قبل ہی اس بارے میں ان تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا ہے جن پر اسلام نے حیاء کا پردہ رکھا ہے۔ نتیجتاً یہ تعلیم حاصل کرنے والے بچے اور بچیاں قبل از وقت ان تجربات میں مشغول ہو جاتے ہیں جن کا درست وقت اور درست منہج کچھ اور ہے۔ اسی تعلیم کے زیر اثر مغربی نو عمر طبقہ جنسی آزادی اور بے راہ روی کا شکار ہے۔ نابالغ ماؤں ، بغیر نکاح اولاد اور جنسی جرائم کی کثرت ہے۔ خاندانی نظام بالکل تباہ ہو چکا ہے اور گناہوں کی بھوک اور حرص نے معاشرے کو اب فطرت سے مکمل بغاوت کی راہ پر چلا دیا ہے۔ یہ لوگ یہاں اسی باتصویر اور عملی تعلیم کو نافذ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہمارا بچہ بھی قبل از وقت حدود سے باہر نکل جائے۔ مغرب میں اس تعلیم کے زیر اثر معاشرے میں فروغ پا چکی جنسیت چونکہ وہاں قانونی طور پر جرم ہی نہیں بلکہ ایک مستحسن فعل ہے لہٰذا وہ اپنی اس تعلیم پر فخر کرنے میں حق بجانب ہیں لیکن کیا کوئی اسلامی معاشرہ جنسیاب کے ایسے فروغ کا متحمل ہوسکتا ہے؟ اور کیا وہ ایسی صورت حال میں اپنی اسلامی اقدار کو باقی رکھ سکتا ہے؟ ہمارے ہاں ایسے مہنگے اور مغربی طرز کے تعلیمی ادارے جو سرمایہ دار کی سرپرستی کی وجہ سے حکومتی نگرانی اور قانونی قدغنوں سے آزاد ہیں اور انہوں نے اپنے ایسے نصاب مقرر کر رکھے ہیں جو کافی حد تک مغربی ہیں، ان اداروں سے کیسا معاشرہ وجود میں آ رہا ہے اور کس طرح کی اخلاق باختہ سرگرمیوں کے یہ ادارے مرکز بن چکے ہیں۔

یہ حقائق اب قوم سے مخفی نہیں رہے۔ حکومت اور ان اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے بچوں، بچیوں کے والدین نے تو شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبا کر ان کی سرگرمیوں سے صرف نظر کر رکھا ہے

 لیکن کیااس نمونے کو دیکھ لینے کے باوجود قوم کا اجتماعی ضمیر ایسے نصاب کا اِجراء گوارہ کر سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت متعین کرے گا۔دینی اور لبرل طبقہ دونوں اپنی تگ ودو میں ہیں کہ جواب ان کے حق میں نکلے۔

رہی تیسری بات کہ کیا ایسے کسی نصاب کا اجراء معاشرے سے ان جرائم کے خاتمے اور سدباب کا ذریعہ بن سکتا ہے؟ تو اس کا جواب خود ان معاشروں کی زبانی بھی مکمل نفی میں ہے جو جنسی تعلیم کے نہ صرف حامی ہیں بلکہ ان کے ہاں یہ لازمی طور پر رائج بھی ہے۔ کیا وہ معاشرے جو اپنے بچوں کو پرائمری سے اس حوالے مکمل آگہی فراہم کرتے ہیں ان کے بچے اس تعلیم و آگہی کے بل بوتے پر اس طرح کے استحصال سے بچ پاتے ہیں؟ کیا وہ معاشرے جن میں جنسی گھٹن کا وجود ہی نہیں بلکہ اس حوالے سے فرد کو مکمل آزادی حاصل ہے وہاں اس آزادی نے ان گھٹن زدہ جرائم کا راستہ روک لیا ہے؟ اس کا جواب جمعرات 25جنوری کو بی بی سی اردو کا پروگرام سیربین سننے سے بہت تفصیلی اور مدلل مل جائے گا۔امریکہ کی مشہور زمانہ مشی گن یونیورسٹی کے فزیو ڈاکٹر کا معاملہ اس معاملے کی ایک واضح مثال ہے جس نے اس آزاد معاشرے میں مکمل تعلیم یافتہ اور شعور سے لیس سو سے زائد طالبات کا استحصال کیا۔ اول تو ان طالبات کا جنسی شعور انہیں اس جرم سے نہ بچا سکا اور وہ شکار ہوئیں۔ دوسری بات جو لبرلز کے ہاں تواتر کے ساتھ یہ کہا جاتا ہے کہ بچوں کو شعور دیا جائے گا تو وہ ان جرائم کا احساس کر سکیں گے اور وہ اس کے خلاف آواز اٹھا کر اپنا دفاع اور جرم کا سدباب کر سکیں گے تو ان طالبات نے آواز بھی اٹھائی لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور یہ سلسلہ جاری رہا۔ اور سب سے عبرت ناک پہلو یہ ہے کہ اس مشہور زمانہ تعلیمی ادارے کی انتظامیہ نے بھی اس معاملے میں جرم اور مجرم کا ساتھ دیا ناکہ استحصال زدہ طالبات کا۔ یہ اس تعلیمی ادارے کا احوال ہے جو عالمی سطح پر ایک بڑے نام کا حامل ہے اور بہترین اداروں میں شمار ہوتا ہے چھوٹے اور غیر معروف اداروں میں کیا صورتحال ہو گی اس کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے ۔ ایسے میں یہ نصاب ہمارے ہاں رائج ہو کر کیا انقلاب برپا کرے گا، بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔

اصل بات وہی ہے کہ بدقسمتی سے جرم کے اسباب کو ہی علاج قرار دیا جا رہا ہے اس لئے جرم اور بد اخلاقی حدود کو پار کرتے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے ذریعے جو اخلاقی تعلیمات بھیجی ہیں انہیں میں اس مسئلے کا حقیقی حل پنہاں ہے۔ حیاء کے فروغ سے معاشرہ پاک ہو سکتا ہے۔ نہ کہ بے حیائی کے فروغ سے۔ مغربی جنسی تعلیم اول تا آخر بے حیائی کا مرقع ہے۔ وہ معاشرے کو مزید بربادی اور تباہی کی طرف ہی دھکیلے گی۔

بچوں کی حفاظت اور گھروں کو ان جرائم سے پاک رکھنے کا ایک اہم نسخہ شرعی پردے کے احکام کی مکمل پاسداری ہے ۔ ہمارے ہاں جن رشتہ داروں کو ’’قریبی‘‘ قرار دے کر گھروں میں آمد و رفت اور قریب البلوغ نابالغ بچیوں سے اِختلاط میں مکمل آزادی دے دی گئی ہے ان میں اکثر رشتوں کو شریعت میں غیر محارم کہا گیا ہے اور ان سے پردے کا حکم ہے۔ ان میں سے کئی رشتے ایسے ہیں جنہیں حدیث شریف ’’الموت‘‘ کا لقب دیا گیا یعنی ان سے بچنے کی شدید تاکید فرمائی گئی ہے۔ اللہ اور رسول ﷺ کے اس صریح حکم کی خلاف ورزی نے گھروں میں کیسے فتنے برپا کر رکھے ہیں، وہ بیان سے باہر ہیں اور بچاؤ کا واحد راستہ شریعت کی مکمل پاسداری ہے اور کچھ نہیں……

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online