Bismillah

631

۲۹جمادی الاولیٰ تا۵جمادی الثانی۱۴۳۹ھ  بمطابق ۱۶تا۲۲فروری۲۰۱۸ء

کشمیر ہمارا ہے (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 630 (Talha-us-Saif) - Kashmir Hamara Hay

کشمیر ہمارا ہے

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 630)

پہلے ایک بہت مزیدار بات سن لیجئے اس کے بعد "یکجہتی کشمیر " کی بات کرتے ہیں-

پاکستان میں دیندار مسلمانوں کے ایک طبقے سے جماعت کے دعوتی شعبے سے منسلک ہر فرد کو واسطہ پڑا ہوگا جن کا فرمانا تھا کہ "جہاد کشمیر کے پیچھے چونکہ ریاستی ایجنسیاں ہیں اسلیے یہ شرعی جہاد نہیں"...

یہ چند یا معمولی لوگوں کا فرمان نہیں تھا، ایک کافی بڑے ؛فعال اور معروف طبقے کا اجماعی فتوی تھا اگرچہ حقیقت سے اتنا دور جتنا کہ انکی زندگیاں عملی جہاد سے دور ہیں.. جہاد اور مجاہدین پر فضول اور غلط اعتراضات کرنے والوں سے قدرت کا انتقام ضرور ہوتاہے۔ جیسے شرعی حدود میں جہاد کرنے والے مجاہدین پر ایجنسیوں کی ایجنٹی کا الزام لگانے والوں کے اپنے دست وبازو یہ اعتراف کرتے نظر آئے کہ وہ انڈیا اور امریکہ کی ایجنسیوں کے آلہ کار بنے، اسی طرح جہاد کشمیر پر برسوں یہ ڈھنڈورا پیٹ کردیندارعوام کو اس سے بدظن کرنے والوں کو ایک ایسے فتوی پر دستخط کرکے اپنی پاکستانیت ثابت کرنا پڑی ہے جس نے جہاد کشمیر کو ان کی رائے میں بھی سب سے شرعی اور اجماعی جہاد ثابت کردیا ہے- فتوی آیا ہے کہ "شرعی جہاد صرف وہی ہوتا ہے جس کا انتظام ریاست کرے" اور یہ حضرات اس بات پر تو موت کی طرح ایمان رکھتے ہیں کہ جہاد کشمیر کا انتظام ریاستی اداروں کے ہاتھ میں ہے لہٰذا ان کے فتوی کے مطابق دنیا میں مکمل خالص اور شرائط پر پورا اُترنے والا کوئی جہاد ہے تو صرف جہاد کشمیر ہے...

اب سمجھ نہیں آرہا ان پر ہنسا جائے یا رویا جائے؟؟....

ہم نہ تو کشمیر کا جہاد اسلیے کررہے ہیں کہ یہ ریاست کا امر ہے بلکہ یہ حکمِ ربی کے طور پر کیا جا رہا ہے اور نہ شرعاً اس بات کو درست سمجھتے ہیں کہ ریاست کی اجازت جہاد کی شرعیت کی بنیاد ہے، جن لوگوں نے یہ دونوں مقدمات گھڑے ہیں انہی کاپاؤں اپنی زلفِ دراز میں اُلجھا ہے- دعوتِ جہاد کے کام سے منسلک اَحباب اب ان کی طرف سے یہ اعتراض آنے پر جواب ذہن میں رکھیں...

٭…٭…٭

 رہی بات "یکجہتی " کی تو

جن کے لئے سال کے ایک دن صرف چند گھنٹے کشمیر کے ساتھ، اہل کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا وقت ہوتا ہے، اُن کا ایک اور یومِ یکجہتی کشمیر گزر گیا

جو سال میں صرف اسی دن کشمیر سے رشتہ استوار کرتے ہیں، ان میں کچھ کی جھنڈا بردار گاڑیاں کل دارالحکومت کے چوکوں پر کھڑی سواریاں تلاش کررہی تھیں تاکہ اتنی ریلی بن جائے جو ٹی وی پر آسکے...

کچھ پریس کلبوں کے باہر چند کتبے تھامے کشمیر کو حاضری لگوارہے تھے...

کچھ کے ڈرافٹ میکرز نے بڑی تگ ودو کے ساتھ ایسے بیانات گھڑے جن سے کشمیر کو بھی سلام ہوجائے اور ہندوستان بھی ناراض نہ ہو، پھر پریس کو لفافے بھیج کر گھر بلوا لیا اور یکجہتی کا اِظہار فرمالیا...

یکجہتی کا سارا زور کشمیریوں کو یہ سمجھانے پر صرف ہوا کہ کشمیر اقوام متحدہ اور نریندر مودی سے بھیک مانگ کر آزاد کرایا جائے، لڑائی جھگڑے سے نہیں- کتنے بے خبر ہیں کہ نہ مکہ کی تاریخ سے واقف ہیں، نہ ابوجہل سے...

جو سال میں ایک دن کشمیریوں کے ہوتے ہیں کشمیری کبھی ان کے نہیں ہوتے، وہ نہ ان کا نام لیتے ہیں نہ انہیں مدد کیلئے پکارتے ہیں، نہ ان سے اپنا ناتا جوڑتے ہیں اور نہ ان سے امیدیں وابستہ رکھتے ہیں..

کشمیر سے ہمارا رشتہ سال کے تین سو ساٹھ دن ہفتے کے سات ایام اور دن کے چوبیس گھنٹے ہے..

ہماری یکجہتی اٹوٹ اور غیر متزلزل ہے..

اس یکجہتی کا اظہار ہم صرف بینروں، کتبوں، ریلیوں سے نہیں، طلحہ رشید جیسے جگر گوشوں کے لہو سے کرتے ہیں...

کشمیر ہمارے دلوں میں بستا ہے، سوچوں میں رہتا ہے اور بازوئوں میں مچلتاہے، اسلیے کشمیری بھی ہمیں یاد رکھتے ہیں...ان کے جلوسوں میں ہمارے جھنڈے، زبانوں پر ہمارے نعرے، اور گھروں میں امیرمحترم کے پینا فلیکس ہوتے ہیں..

اس لازوال رشتے اور اٹوٹ یکجہتی کی آواز پورا سال سرینگر اور پلوامہ سے کپواڑہ تک انڈین آرمی کے کیمپوں میں گرجتی رہی ہے اور انڈیا کے ٹی وی چینلوں پر گونجتی رہتی ہے، نہ لفافہ لگانا پڑتا ہے اور نہ منت اٹھانا پڑتی ہے ...

لیکن چونکہ رسم دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے، اسلیے پانچ فروری کو یکجہتی کا اظہار ہم نے بھی کیا..

لیکن کیسے!!

مجاہدین نے یکجہتی کا اظہار کیا تجدید عہد کے ذریعے، اعلان کیا گیا کہ کشمیر کا جہاد اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے احکام کی روشنی میں کیا جا رہا ہے۔ ہمیں مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے اِعراض کرنے اور سستی دِکھانے پر ومالکم کہہ کر جھنجھوڑا گیا ہے۔ اس کے ترک پر وعید سنائی گئی ہے۔ فعلیکم النصر کا امر وجوبی دیا گیا ہے اور غفلت کرنے پر فساد کبیر اور فتنہ کے وقوع سے ڈرایا گیا ہے

کشمیر کے مسلمان نے اپنی امیدیں ہم سے وابستہ کر کے ہم پر اِتمام حجت کیا ہے۔ وہ آج بھی پاکستان کے جھنڈے لے کر نکلتے ہیں، پاکستان کے نعرے لگاتے ہیں اور اپنی مدد کے لئے پاکستانیوں کو ہی پکارتے ہیں۔ جنہوں نے کشمیر کا جہاد کسی کے کہنے پر، کسی کی پالیسی پر شروع کیا ہو گا، وہ راستہ بدل لیں، بڑے شوق سے بدل لیں بلکہ اکثر نے بدل بھی لیا۔ کل تک تیس بتیس ناموں کی گونج سنائی دیا کرتی تھی آج صرف ہاتھ کی انگلیوں جتنے رہ گئے۔ کچھ حکمرانوں کی سوچ میں بہہ گئے ، کوئی بدلنے والوں کے اشارۂ ابرو پر بدل گئے، کسی سے باڑ کی سختی نہ جھیلی جا سکی، چند دورِ ابتلاء سے نہ اُبھر پائے اور بعض نے دوسرے جھنڈے تھام لئے۔ اب وہ کشمیر کو چھوڑ کر ان کا تحفظ کرتے ہیں جن کے تحفظ کے لئے پہلے ہی لاکھوں کے لشکر موجود ہیں۔ خیر نصیب اپنا اپنا، قسمت اپنی اپنی۔ جن کا جہاد اللہ و رسول کے حکم کی تعمیل اور کشمیری مسلمان کی آرزووں کی تکمیل کے لئے تھا وہ تو پابندی اور تبدیلیوں کے اس موسم میں اور زور سے گرجے اور ان کے قدم کشمیر کی حدوں کو پار کر کے بہت دور دور تک جا پہنچے۔ کشمیری مسلمان آج بھی گھر سے انہی کی تصویریں ہاتھوں میں تھامے نکلتاہے اور پیلٹ گنوں کے سامنے انہی کے جھنڈے لہراتا ہے۔ بدگوئی کرنے والوں کی الزام تراشی کی عادی زبانیں کوئی نہیں روک سکتا۔ شکوک پھیلا کر اپنے لئے بہانے تراشنے والوں کو پابند نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا یہ کام غزوہ بدر کے دن سے آج تک برابر جاری ہے۔ وہ کسی بھی تحریک کو کچھ بھی کہہ کر مشکوک کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں لیکن اللہ نے سننے کے لئے محض کان نہیں دئیے۔ بات کا جھوٹ سچ، غلط ٹھیک پرکھنے کو عقل بھی دی ہے۔ اَعداد و شمار بھی تو سامنے ہیں۔ حقائق بھی تو چلا چلا کر کچھ کہہ رہے ہیں۔ حکمرانوں کی پالیسیوں، اداروں کی سوچ اور قوم کا عمومی نظریہ بدلنے پر اگر سب بدل گئے ہوتے تو یہ اِلزام روا ہوتا مگر جنہوں نے جفاء کے اس موسم میں وفا کو شعار بنایا۔ رکاوٹوں کے اس سفر میں رُکنے کی بجائے قافلے کو تیز تر کیا اور

نوا را تلخ تر می زن چوں ذوقِ نغمہ کم یابی

حدی را تیز تر می خواں چوں محمل را گراں بینی

کو اپنا شعاروعمل کیا اور ملک میں آپریشنوں، انتظامیہ کی سختیوں سے لے کر خونی باڑ تک ہر پابندی کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھا۔ انہیں اس بات کی بھی کوئی پراوہ نہیں کہ لوگ ان کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں اور تجزیہ نگار ان کے لئے کیا الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس دن پھر اعلان کیا ہے کہ وہ نصرۃ المستضعفین کے عظیم مقصد پر مبنی اپنا یہ جہاد ہر حال میں جاری رکھیں گے، اسے نہ کسی عادل کا عدل روک سکے گا اور نہ کسی جابر کا جبر۔ اگر حالات موافق ہوں گے اور پالیسیاں ہم آہنگ تب بھی اور اگر مزاج شاہی برہم ہوا تب بھی۔ جب تک کشمیر سے پکارا جاتا رہے گا فعلیکم النصر کا واجب نبھایا جاتا رہے گا۔

لاکھوں فوج کھڑی کر کے ، پورے کشمیر کو فوجی چھاؤنی اور کیمپ جیل بنا کر، ناقابل عبور باڑ لگا کر اور اب اقوام متحدہ کے در پر دُہائیاں دے دے کے روکنے کی کوشش کرنے والے ہندوستان کے لئے بھی یہی اعلان ہے اور یہاں ایکشن پلان کی دھمکیاں دینے والے حکمرانوں اور ایجنٹی کے طعنوں کے ذریعے ٹانگیں کھینچنے والے معوقین کے لئے بھی۔ اور ہاں!آج بھی امید بھری نظروں سے بارڈر کے اُس پار دیکھنے والی کشمیری قوم سے بھی اس عہد کی تجدید ہے کہ افضل گورو اور طلحہ رشید شہید کے وارث کشمیر کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ان شاء اللہ تعالیٰ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online