Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

حَیَّ عَلیٰ الْجِہَاد (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 631 (Talha-us-Saif) - Hayi alal Jihad

حَیَّ عَلیٰ الْجِہَاد

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 633)

اَنبیائِ کرام علیہم السلام کا وطن، اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا خاص مہبط و مورِد، روئے زمین کے بابرکت ترین مقامات میں سے ایک، اِسلام کے بڑے بڑے فاتحین، علماء و مشائخ کی سرزمین ملک شام عرصۂ محشر میں ہے اور چند دن سے نہیں۔ کامل سات سال ہوتے ہیں۔

ان سات سالوں میں کون سا دن ہے کہ معصوم بچوں سے لے کر سفید ریش بزرگوں تک کی لاشیں نہیں گریں…

شام کی پاکیزہ ہوا، زہریلی گیسوں سے آلودہ نہیں ہوئی…

آسمان سے آگ برسا کرسرسبز زمین کو نہیں جھلسایا گیا…

حلب، رقہ، دیر الزور، حماۃ، ادلب کی خونچکاں داستانیں اور اب ’’الغوطہ‘‘ …

اللھم ارحم امۃ محمد ﷺ

اللھم فرّج عن المستضعفین من امۃ محمد ﷺ

ساری دنیا کا کفر ہے، ہر رنگ ، ہر نسل اور ہر مزاج کا کفر…

صلیب کا پجاری اور عالمی صلیبی جنگ کا علمبردار مغرب بھی…

صیہونیت کا سرپرستِ اَعلیٰ امریکہ بھی…

ملحد اور سیکولر لادین کُرد بھی…

کمیونزم کا شکست خوردہ سالار روس بھی

اور

اِسلام کے قلب میں پیوست نفاق کا سب سے بڑا اور خونی خنجر آل مجوس ایران بھی…

اور مقابل صرف ایک بڑے قصبے جتنا شہر الغوطۃ…

دن رات آگ برستی ہے اور زہریلی قاتل گیسوں کا قہر ٹوٹتا ہے…

ہزاروں ٹن بارود کی بارش ہوتی ہے اور گولیوں میزائلوں کے ٹڈی دَل حملہ آور ہوتے ہیں…

فضا چوبیس گھنٹے طیاروں کی خوفناک گھن گرج سے گونجتی ہے اور گلیاں گرد و غبار سے اَٹی رہتی ہیں…

بچوں کی آہ و بکا ہرآن جاری رہتی ہے۔ اجتماعی قبریں روز بنتی ہیں اور ہسپتالوں میں دلسوز مناظر کا راج رہتا ہے…

 لیکن

’’الغوطۃ‘‘ کی مسجدوں کے سپیکروں سے ایک ہی آواز آتی ہے…

حی علی الجہاد… حی علی الجہاد

’’الغوطۃ ‘‘ میں گرنے والی ایک ایک لاش رُلاتی ہے اور دل کا سکون و قرار چھینتی ہے…

اللہ تعالیٰ ہم پر وہ دن نہ لائے اور دل اس بے حسی کا شکار ہونے سے پہلے دھڑکنا بند کر دے کہ شام سے کشمیر تک گرنے والی کوئی لاش غمزدہ نہ کرے، آنکھوں کے بند نہ توڑے اور دل کو نہ تڑپائے…

ویرحم اللّٰہ عبدا قال آمینا…

’’الغوطۃ‘‘ کے بچوں ، ماؤں اور جوانوں کے ساتھ ہمارا یہ رشتہ الحمد للہ قائم ہے۔ غم بھی ہے اور تڑپ بھی اور بے بسی پر افسوس بھی، لیکن ’’الغوطۃ ‘‘ کے ساتھ ایک اور احساس بھی وابستہ ہے۔ ایک دلوں کو زندہ کرنے والا احساس، اُمید کے دیئے جلانے والا احساس، غم کے سیلاب میں ہمت کے جزیرے جیسا احساس اور سرزمین شام سے جڑے امت مسلمہ کے عروج کے خواب کے شرمندہ تعبیر ہونے کا احساس کہ ’’جہاد ‘‘ زندہ ہے اور جہاد بہت طاقتور ہے…

’’الغوطۃ‘‘ کی مساجد سے اُبھرنے والی یہ صدا ہر گھنٹے بتاتی ہے کہ جہاد ناقابل تسخیر ہے…

جہاد ہی سپرپاور ہے ، جہاد ہی غالب ہے اور جہاد ہی اسلام کی سب سے بلند چوٹی ہے، اتنی بلند کہ نہ اس تک کفر کے جہازوں کی رسائی ہے نہ بارود کی…

اندازہ تو کیجئے!

دنیا کے سارے کفر کے مقابل ایک محلے کا سربلند کھڑے رہنا… کس کی طاقت ہے؟

شام کی تحریک جب شروع ہوئی کچھ عرب طاقتیں اس کی پشت پر تھیں، پھر ان کی طرف تاریک خیالی اور لبرل ازم کا سیلاب آیا۔ انہیں یاد آگیاہے کہ سینما بہت ضروری ہیں، تفریحات لازم ہیں، حجاب سے چھٹکارا واجب ہے۔ فیشن شوز اور میوزیکل کنسرٹس کا انعقاد فرائض میںسے ہے، امریکہ کی نظر میں کلین ہونا اور مغرب کے ہاں پسندیدہ قرار پانا ہی اصل ذمہ داری ہے۔ لہٰذا وہ ہٹ گئے انہوں نے راستے بدل لئے لیکن جہاد سرنگوں نہیں ہوا۔ یہ صرف شام کی بات نہیں افغانستان ، کشمیر ، فلسطین ، عراق اور اب شام ، ہر جگہ یہی داستان ہے لیکن جہاد کے بارے میں صدیوں پہلے اعلان صادر ہو چکا ہے کہ

’’اسے نہ عادلوں کا عدل بند کر سکتا ہے نہ ظالموں کا ظلم‘‘…

یہ نہ راستہ بدل جانے والوں کی کثرت سے ختم ہوتا ہے نہ شکوک و شبہات پھیلانے والوں کی پھونکوں سے۔ یہ ہمیشہ تروتازہ رہتا ہے اور ہر طرح کے حالات میں اپنا وجود منواتا ہے۔

دیکھو! غور سے دیکھو!

’’ الغوطۃ‘‘ ہو یا ہلمند، سرینگر ہو یا کابل، جہاد کو مٹانے کے لئے زمین پر برسنے والے بارود کا دھواں ابھی اچھی طرح تحلیل بھی نہیں ہوا ہوتا کہ جہاد کی صدائیں پھر بلند ہوتی ہیں اور پورے آہنگ سے ہوتی ہیں۔ جہاد کا نام لینے والوں کے لاشے ابھی بے جان نہیں ہوتے اور علَم اٹھانے والے تازہ دم دستے وجود میں آ جاتے ہیں…جہاد کو مٹانے کے عزائم کا اظہار کرنے والوں کے جملے ابھی مکمل نہیں ہوئے ہوتے کہ جہادی نعروں سے زمین گونج اُٹھتی ہے…

ہر جہاد کے پیچھے ’’ہاتھ‘‘ ڈھونڈنے والے دیکھ لیں، کوئی ہاتھ ہمراہ نہیں رہا، لیکن جہاد باقی ہے اور سینہ تان کر کھڑا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کچھ ہوا تویہی ہوگا کہ جہاد اپنی جگہ بدل لے گا اور نئے مطلع سے ابھر آئے گا۔ ختم ہونا ناممکن ہے۔

بے شک سچ فرمایا آقا مدنی ﷺ نے…

’’اور جہاد جاری رہے گا برابر جاری رہے گا جب تک اس امت کا آخری لشکرِ جہاد، مسیح دجّال کو قتل نہ کر ڈالے‘‘…

’’الغوطۃ ‘‘ اسی آخری لشکر کا مقام ہے۔ وہ لشکر اسی میدان میں پڑاؤ ڈالے گا۔ الغوطۃ اس فیصلہ کن جنگ کا اہم کردار ہے اور اس وقت اپنے اسی کردار کی تربیت سے گزر رہا ہے۔ زیر تربیت مجاہد خوب پراگندہ حال ہوتا ہے۔ غبار آلود، اجڑا اجڑا سا، تھکا ماندہ اور شکستہ پا… ’’الغوطۃ ‘‘ آج اسی مجاہد کی حالت میں دکھائی دے رہا ہے لیکن یاد رہے تربیت میں خوب تھکنے اور خوب زخم کھانے والا مجاہد اپنے عملی کردار کی ادائیگی کے وقت بہت سخت اور بہت خوفناک ثابت ہوتا ہے۔ الغوطۃ کی تباہ حالی پر خوش ہونے والے کفار خوش نہ ہوں…

’’ چاہیے کہ بہت روئیں اور تھوڑا ہنسیں‘‘…

الغوطۃ سے اُٹھنے والی فیصلہ کن یلغار اس عارضی خوشی کا شدید اِنتقام ہو گی…

الغوطۃ کی تباہ حالی پر غمگین اور دل گرفتہ اہل ایمان الغوطۃ کے لئے دعاء کریں، اسلام کا یہ سربلند مجاہد اپنی تربیت کے مرحلے میں ہے۔ ہاں وہ اچھی طرح نوٹ کر رہا ہے ایک ایک لاش اور خوب اچھی طرح ضبط کر رہا ہے ایک ایک آہ کو…

بس مایوس نہ ہوں اور ’’الغوطۃ‘‘ کے ساتھ رہیں، دل سے بھی اور عزم سے بھی…

جہاں سے حی علی الجہاد کی مبارک صدا لگ رہی ہو، ایک مسلمان کے لئے اسی جانب کھڑا ہونا ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے…

الغوطہ کی صدا ئے حی علی الجہاد پر لبیک تو کہہ دیتے ہیں اس دعاء کے ساتھ اس عزم کے ساتھ کہ رب کائنات قادر ہیں وہ راستہ بھی پیدا فرما دیں گے…

لبیک، لبیک، لبیک

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online