Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

ماسٹر مائنڈ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 631 (Talha-us-Saif) - Master Mind

ماسٹر مائنڈ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 634)

’’الغوطۃ‘‘ کے بارے میں آج کچھ نہیں لکھ سکتا ،کچھ نہیں کہہ سکتا…

کچھ مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ الفاظ باقی نہیں رہتے بس آج کچھ ایسا ہی موقع ہے…

پاکستان کے معروف بیوروکریٹ مصنف قدرت اللہ شہاب مرحوم کے نواسے برطانیہ سے ایک وفد کے ہمراہ شام کی سرحد پر پہنچے ہیں تاکہ اندر داخل ہو کر غوطہ کے کچھ مسلمانوں کی کچھ امداد کر سکیں لیکن انہیں راستہ نہیں مل سکا۔ انہوں نے اندر موجود ایک شخص کی زبانی جو وہاں کے کچھ احوال نقل کئے ہیںبس کہنے کو کچھ نہیں رہا۔ صرف پانچ منٹ کا وائس میسج ہے لیکن پانچ بار کوشش کرنے کے باوجود پورا نہیں سن پایا ہوں۔ شاید یہی وہ احوال ہیں جن کے بارے میں کسی عربی شاعر نے کہا تھا:

بمثل ھذا یذوب القلب من کمد

ان کان فی القلب ایمان واسلام

( یہی وہ باتیں جن کی وجہ سے دل گھٹن کی وجہ سے پھٹ جایا کرتے ہیں اگر دلوں میں ایمان و اسلام کی رمق موجود ہو)

لیکن شاید دلوں کی یہ حالت سوشل میڈیا کی ایجاد سے پہلے ہوا کرتی تھی۔ اب تو ہر سانحہ محض ایک خبر ہے اور اہل ایمان کی ذمہ داری یہ ہے کہ ان سانحات کو آگے زیادہ سے زیادہ شیئر کر دیا کریں۔ صدیاں پہلے کے حالات پر غور کی نہیں میڈیا کے پھیلاؤ کے یہ دو عشرے چھوڑ کر پیچھے کی حالت ہی سوچ لیں۔ جن باتوں کے صرف زبانی نقل پر دلوں میںتلاطم اور آنکھوں میں طوفان برپا ہو جایا کرتے تھے اب ان مناظر کو دیکھ کر بھی عموماً آنکھ نہیں ٹپکتی۔ جو واقعات صرف اخبار یا جرائد میںپڑھ کر راتوں کی نیند اور دن کا طعام حرام ہو جایا کرتا تھا اب وہ صرف ایک خبر رہ گئے ہیں، اوران سے متعلق اہل ایمان کی ذمہ داری صرف انہیں آگے نقل کردینے تک محدود ہوگئی ہے۔ دلوں پر ان کا اثر تو وہ نہیں ہوتا جو ہوناچاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے قلوب پر رحم فرمائے۔

ہمارے لئے آج ’’ الغوطۃ‘‘ کے ساتھ ایک اور اندوہناک خبر بھی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جماعت کے آپریشنل چیف مفتی عبد المتین المعروف مفتی وقاص جام شہادت نوش فرما گئے ہیں۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون

ہمارے ساتھ جہاد کشمیر کی گذشتہ تین سال سے مسلسل یہ کیفیت چل رہی ہے جو قرآن مجید میں اس آیت میں بیان ہوئی:

’’اور ہم ( فتح و شکست) ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں‘‘ ( آل عمران)

اور نبی کریم ﷺ نے جنگ کو کنویں میں لٹکائے جانے والے چرخی کے ڈول سے تشبیہ دی جس کا وزن کبھی نیچے اور کبھی اوپر بڑھتا رہتا ہے۔ ایک دن فتح کی خوشی کا اور ایک دن کبھی پہاڑ کے غم کا…

ایک دن بدر کا اورایک دن احد کا۔ اور یہ لڑائی تو چونکہ ہے بھی انہی مشرکین کی اولادکے ساتھ تو اسی لئے یہاں وہ ساری کیفیات بھی زیادہ واضح نظر آتی ہیں۔

جہاد کشمیر پر ۲۰۰۳؁ء سے ۲۱۰۷؁ء تک عرصۂ امتحان گذرا ہے۔ غازی بابا شہید اور ان جیسے دوسرے کئی قائدین کی پے درپے شہادتیں اور پاکستان میں پرویز مشرف کا مسلط کردہ پابندیوں کا دور۔ کشمیر کی تحریک کمزور ہوتے ہوتے اس مرحلے پر جا پہنچی کہ ہندوستان میں ’’ کمپلیٹ وکٹری‘‘ کا اعلان کرنے کے لئے وقت طے کئے جا رہے تھے لیکن پھر حالات نے پلٹا کھایا اور جہاد نے اپنی طاقت دکھانا اور منوانا شروع کر دی۔ افضل گورو شہید کی ہنستی مسکراتی لاش تحریک کشمیر کے اس نئے اور پہلے سے زیادہ فداکار اور نظریاتی طور پر مضبوط آغا زکا استعارہ بنی۔ اندرونی طور پر شوکت وانی اور برہان وانی جیسے کشمیری نوجوان تحریک کا نیا چہرہ بن کر سامنے آئے تو سرحد پار سے عدیل شہید جیسے باہمت نوجوانوں نے پہنچ کر تحریک کی عسکری قیادت ہاتھ میں لے لی۔

جیش محمد ﷺ تحریک کے اس دور میں ہر اول دستہ بن کر اُبھری اور پھر جیسے عرصے سے خاموش پڑی تحریک میں فدائی حملوں سے روح پھونک کر ہندوستان کے اعصاب پر بری طرح سوار ہو گئی۔ آزاد کشمیر کے مردم خیز علاقے عباس پور سے تعلق رکھنے والے بھائی عدیل شہید نے کشمیری نوجوانوں کو ساتھ لے کر اس فیلڈ کو فعال کیا جو ہندوستان اور پرویز مشرف کی مشترکہ کوششوں سے غیر فعال ہو چکی تھی۔ اس موقع پر تحریک کو نور محمد تانترے کی خفیہ سرپرستی بھی نصیب ہو گئی جس کی مفصل اور ایمان افروز داستان آپ گذشتہ کئی شماروں سے جہاد کشمیر کے رازدان مفتی محمد اصغر خان صاحب زید مجدہم کے قلم سے ملاحظہ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد جس شخص نے اس فیلڈ کو اپنی سرگرم اور کار آفرین طبیعت سے ہندوستان کے لئے موت کا جال بنا دیا وہ اسی عباس پور سے جانے والے جیش محمد ﷺ کے لشکر دعوت کے ایک فعال رکن ’’مفتی عبد المتین‘‘ تھے۔ مفتی عبد المتین ان نوجوانوں میں سے تھے جن کی اٹھان جہاد اور دعوت جہاد کے ماحول میں ہوئی۔ وہ زمانہ طالبعلمی سے ہی جہاد کے سرگرم داعی تھے۔ آزاد کشمیر میں جماعت کا دعوتی شعبہ ان کی خدمات کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ آزاد کشمیر سے تحریک میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کی تعداد تیزی سے کم ہوتے ہوتے معدومیت کی سرحدوں کو چھو رہی تھی۔ مفتی صاحب کی ولولہ انگیز دعوت اور فکر مندی نے پورے کشمیر میں دعوت جہاد کی زبردست مہم برپا کر دی۔ اورکشمیر کے ہر علاقے سے نوجوان جہادی ولولے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ وہ اس میدان میں بہت تیزی سے کام کر رہے تھے کہ عدیل بھائی شہید ہو گئے اور اندر تحریک میں پھر قیادت کا خلاء پیدا ہو گیا۔ ایسے میں نظریں ان کی طرف اُٹھیں اور وہ اسی طرح دوڑتے ہوئے بارڈر پار کر کے اندر چلے گئے اور میدان سنبھال لیا۔وہ چونکہ دل سے اور فطرت سے میدان کے مجاہد تھے تو ان کی دعوت نے بھی محاذوں کی طرف قافلے چلا دئیے۔ ان کے دعوتی میدان کے رفقاء میں عبد الشکور اور حافظ عبد الکبیر شہید جیسے نوجوان تھے جو ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیر گئے اور وہاں انڈیا پر وہ ضربیں لگائیں جن کی کسک وہ کبھی فراموش نہ کر پائے گا۔

بھائی عبد المتین اندر گئے اور ان کے جاتے ہی عدیل شہید اور مولوی نور محمد کی فیلڈ نے اپنے اثرات دکھانا شروع کر دئیے۔ پلوامہ کا علاقہ ان کی تگ و دو کا خاص مرکز بنا اور اس کی ایک ایک گلی، ایک ایک کیمپ ان کے اور جیش کے نام سے گونج اٹھے۔ انہوں نے جموں سے لے کر سرینگر تک شہداء کے خون کے سارے قرض اُتارے۔ ٹنگڈھار سے شروع ہو نے والا ان کی کارروائیوں کا سلسلہ سنجوان کی اس کارروائی تک جا پہنچا جس نے انڈیا کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے سارے کس بل نکال دئیے۔ انہوں نے تحریک میں ہر چیلنج قبول کیا اور اسے پورا کر دکھایا۔ ہندوستان ہر کارروائی کے بعد ان کا نام لیتا اور انہیں اس کا ماسٹر مائند قرار دیتا اور حقیقت بات یہ ہے کہ غازی بابا شہید ؒ کے بعد اگر ’’ماسٹر مائند ‘‘ کا خطاب کسی شخص پر جچا ہے تو وہ مفتی عبد المتین ہی تھے۔ انہوں نے مجاہدین کی سپلائی لائن کو منظم کیا۔ ہر مشکل سے مشکل ہدف تک رسائی کا نظم قائم کیا اور ان اہداف کو سر کیا۔ انہوں نے غازی بابا کے بعد پہلی بار کشمیر کے اندر فدائین کھڑے کئے۔ انہوں نے عرصہ دراز سے بند پڑا داخلی عسکری تربیت کا نظام فعال کیا اور کشمیری نوجوانوں کے لئے تربیت کے مواقع فراہم کئے۔ انہوں نے کشمیر کے ایک ایک علاقے میں فردین خان جیسے فدائین بھرتی کئے جو آج بھی مکمل تربیت کے ساتھ اپنی باری کے انتظار میں ہیں ۔ غرضیکہ وہ انڈیا کے لئے حقیقی معنوں میں موت کے ماسٹر مائند ثابت ہوئے۔ سنجوان کیمپ کی کارروائی ان کی عسکری مہارت کا نقطہ عروج تھی۔ اس کارروائی نے ہندوستان کے ایوانوں اور اداروں کو بری طرح لرزایا۔ کارروائی کے دوران انڈین آرمی چیف کا خود جموں آنا اور کارروائی کی کمان سنبھالنا، وزیر داخلہ اور جموں کشمیر کی وزیر اعلیٰ کی فوری جموں طلبی، وزارت دفاع کے ہنگامی اقدامات یہ سب بتا رہے تھے کہ ماسٹر مائند کا ہاتھ اس بار کافی بھاری پڑ گیا ہے۔ اس دن سے ہندوستان کے سارے ادارے ایک ہدف کے طور پر انہیں متعین کر کے ان کی تلاش میں سرگرم ہوگئے اور بالآخر آج یہ خبر آ گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

دل سخت رنجیدہ ہیں، زخمی ہیں اور ہم سب اپنے اس عظیم ساتھی کی جدائی میں غمگین ہیں ۔ لیکن زبان سے صرف وہی کہیں گے جو ہمارے رب کو پسند ہے… انا للہ وانا الیہ راجعون

اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے، انہیں اس کا شایان شان اجر عطاء فرمائے اور انہیں مقبول ترین شہداء میں شامل فرمائے۔

بظاہر ان کی شہادت تحریک کے لئے بڑا دھچکا ہے لیکن شہداء اور اہل عزیمت کی اس تحریک کا وارث اللہ تعالیٰ ہے۔ جہاد کی حفاظت اور جاری رکھنے کا ذمہ خود اس نے اٹھایا ہے اس تحریک کو مفتی عبد المتین کا بہترین نعم البدل اور زبردست ماسٹر مائند عطاء کرے گا۔ شہید کے والدین اور تمام رفقاء سے قلبی تعزیت اور صبر جمیل کی دعاء ہے اور شہید کے لئے ایک محبت بھرا، عقیدت بھرا، اور امید بھرا سلام

سلام اے شہید اسلام… سلام

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online