Bismillah

663

۱تا۷صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۲تا۱۸اکتوبر۲۰۱۸ء

اونچے لوگ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 631 (Talha-us-Saif) - Onchay Log

اونچے لوگ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 635)

جماعت کی برکت سے ملنے والی اللہ رب العزت کی بڑی بڑی نعمتوں میں ایک یہ بھی ہے کہ گزشتہ سات سالوں کے دوران سینکڑوں شہدائِ کرام کے والدین، بھائیوں اور دیگر اَقارب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ کتنے قریبی تعلق والے بھائیوں کی وصیت پر اِطلاع کے لئے خود ان کے گھروں میں حاضری دی۔ مرکز تشریف لانے والے ورثائِ شہدائِ کرام سے اکثر ملاقات ہوتی ہے، جتنا ایمان و یقین ان لوگوں سے مل کر حاصل ہوتا ہے یقین کیجئے یہ کیفیات کہیں اور نصیب نہیں ہوئیں۔ اللہ، اللہ کیا لوگ ہیں ، یقین نہیں آتا کہ اس زمانے کے لوگ ہیں، نہ جانے کس زمانے کے لوگ ہیں۔

اصل موضوع تو آج کچھ اور ہے لیکن ایک بات عرض کرنے کی بہت ضرورت محسوس کر رہا ہوں۔ شہدائِ کرام کے ورثاء کے گھروں میں عموماً سوگ کا ماحول نہیں ہوتا بلکہ ان کا برتاؤ اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ خوشی کا گمان ہوتا ہے لیکن اس موقع پر ساتھی اکثر ایک غلط رَوِش اختیار کرتے ہیں جو قابل اصلاح ہے۔ شہید کا گھر ایک سانحے کا شکار گھرانا ہوتا ہے اس لئے وہاں جا کر تعزیت کا اِظہار کرنا چاہیے اور اُنہی مسنون اَلفاظ میں کرنا چاہیے جو ہمیں اِسلام میں سکھائے گئے ہیں۔ شہید مُردہ نہیں، اس میں کوئی شک نہیں لیکن وہ بہرحال اپنے پیاروں سے جدا ہوا ہے، جس کا انہیں صدمہ ضرور ہوتا ہے اور ہوتا رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ شہدائِ کرام کی کرامت کے طور پر اللہ تعالیٰ ان کے اہل خانہ اور پسماندگان کو وہ صبر عطاء فرما دیتے ہیں جو شکر کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور اس شکر کا اظہار وہ مہمانوں کی ضیافت اور ظاہری خوشی کے ذریعے کرتے ہیں لیکن دل کا صدمہ بہرحال ایک یقینی چیز ہے۔ اس لئے اطلاع کے لئے یا اس کے بعد جانے والوں کو خوشخبری کا اَنداز اختیار کرنے کی بجائے تعزیت اور تسلی کا انداز اختیار کرنا چاہیے اور شہداء کرام کے اعزاز و مقام کا ذکر کر کے ان کے قلوب پر مرہم رکھنا چاہیے۔ ملتے ہی مبارک باد کے الفاظ کہہ دینا بسا اوقات قلوب کو مجروح کرنے کا سبب بن جاتا ہے ۔ شعبہ کے جو ساتھی مستقل اطلاعات کے لئے شہداء کرام کے گھرانوں میں حاضر ہوتے ہیں انہیں اس امر کی تاکید کی جاتی ہے البتہ عمومی طور پر ساتھی اس بارے میں اسی رَوِش کو اپناتے ہیں جس کی اصلاح ضروری ہے۔ شہید کے گھرانے کے لئے جو اعزاز و اکرام ہے اس کا ذکر ضرور ہو، ترغیب ہو ، تسلی ہو لیکن ملتے ہی مبارکباد کے کلمات کہنا بہرحال عجیب سا لگتا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون کہیں، مغفرت اور رفع درجات کی دعاء ہو، شہادت کی قبولیت کی دعاء ہو، صبر جمیل کی دعاء و تلقین ہو اور اس کے بعد حسب موقع جو بات مناسب لگے کہی جائے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے بعض حضرات تو اس معاملے میں مبالغے کی اس حد تک جا پہنچے ہیں کہ شہید پر اگر کسی قریبی کو روتے دیکھ لیں تو وعیدیں سنانے پر اتر آتے ہیں حالانکہ نبی کریم ﷺ کا بعض شہداء کرام پر بنفس نفیس آبدیدہ ہونا ثابت ہے، حضرات صحابیات کے رونے کے واقعات منقول ہیں اور غمزدہ ہونا روایت ہوا ہے۔ ہمارے ایک بہت قریبی ساتھی کافی عرصہ قبل شہید ہوئے تھے۔ ان کا بہت زیادہ وقت بندہ کے ساتھ گذرا۔ شاگرد بھی تھے تو انہوں نے وصیت کی کہ ان کی اطلاع کے لئے میں خود ان کے گھر جاؤں۔ اس وقت تو میں کسی عذر سے نہ جا سکا البتہ کچھ دن بعد حاضری ہوئی۔ان کی والدہ کے بارے میں مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ انہوں نے اپنے لعل کو ذاتی دلچسپی سے جہاد کے لئے نکالا تھا۔ جب وہ اپنے آخری سفر پر جا رہے تھے تو ان کی والدہ سے ان کی آخری بات بھی میں نے اپنے فون سے کرائی تھی اور انہوں نے جو کچھ اس وقت اپنے لخت جگر کو کہا تھا وہ ایمانی کلمات آج بھی حافظے میں ہیں اور دل میں ایمان کی شمع جلائے رکھتے ہیں۔غرضیکہ ایک مکمل نظریاتی خاتون تھیں اور ایمانی کیفیات سے مالا مال۔ جہاد کے مقام سے باخبر اور شہید کے اعزاز و اکرام سے آشنا اور اپنے بیٹے سے مکمل راضی۔ خیر جب حاضری ہوئی تو انہوں نے پردے سے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ مولوی صاحب ایک مسئلہ بتائیں۔ مجھے الحمد للہ اپنے بیٹے کی شہادت پر خوشی بھی ہے اور فخر بھی۔ اسے اپنے لئے بہت بڑا اعزاز بھی سمجھتی ہوں لیکن وہ مجھے ہر نماز کے بعد شدت سے یاد آتا ہے اور میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ اس پر شہید کے والد اور بہنیں مجھے کہتے ہیں کہ اس طرح تمہارا اجر ضائع ہو جائے گا۔ کیا واقعی ایسا ہے؟…

میں نے ان سے عرض کیا کہ ہرگز ایسا نہیں ہے۔ آپ کا بیٹا توجب ہمیں بھی یاد آتا ہے تو ہم اپنی آنکھوں پر قابو نہیں رکھ سکتے حالانکہ چند سالوں کی رفاقت رہی جبکہ آپ نے تو اسے پالا ، اس کی تربیت فرمائی تو آپ کا حق ہے آپ اس پر رویا کریں، بس یہ احتیاط رہے کہ اظہار غم میں حدود شرع سے تجاوز نہ ہو، آواز بلند نہ ہو، کوئی شکوہ شکایت نہ ہو، نوحہ نہ ہو وغیرہ۔ انہوں نے کہا! پتر میں نے یہ سب کرنا ہوتا تو میں اپنے بیٹے کو بھیجتی ہی کیوں؟…اس کے بعد انہوں نے میرا اتنا شکریہ ادا کیا کہ شرمندگی ہونے لگی۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ شہید کے والد محترم کو بھی یہ بات سمجھا دیں۔ واقعہ عرض کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس سلسلے میں ہونے والی بے اعتدالی کا خاتمہ ضروری ہے۔ لہٰذا کسی بھی شہید کے اہل خانہ کو ملیں تو ’’بہت بہت مبارک ہو‘‘ جیسے الفاظ کہنے کی بجائے پہلے مسنون تعزیت کریں ، تسلی دیں اور پھر کوئی اور بات کہیں… اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے…

لیجئے دوسری بات اتنی لمبی ہو گئی کہ اصل بات کی جگہ کم رہ گئی۔

گذشتہ ہفتے ہمارے ہر دلعزیز عظیم کمانڈر مفتی عبد المتین صاحب نے جام شہادت نوش فرمایا۔ ان کی جدائی چونکہ ایک اجتماعی صدمہ تھااس لیے دل بہت حزین تھے۔ اسی شام معلوم ہوا کہ ان کے والد محترم جناب قاضی عبد الحمید صاحب تبلیغی جماعت کے ساتھ بہاولپور تشریف لائے ہوئے ہیں۔ فوراً ان کی خدمت میں وفد بھیجا گیا اور انہیں مرکز لانے کی ترتیب بنی۔ وہ تشریف لائے، ساتھیوں نے پُرجوش استقبال کیا اور ہم نے ان سے درخواست کی کہ کچھ کلمات ارشاد فرمائیں۔

انہوں نے جو کچھ فرمایا وہ اسی کیفیت کا آئینہ دار تھا جس کے ذکر سے کالم کی ابتداء ہوئی ہے۔ اللہ اللہ دھیمے سے لہجے میں انہوں نے وہ کچھ فرما دیا جس کی ہم سب کو اشد ضرورت تھی۔ ہم ان سے تعزیت کرتے حق تو یہ تھا لیکن عظیم شہید کے والد جبل استقامت بنے اپنے لئے خوشی کا اظہار کر رہے تھے اور جماعت سے تعزیت…

’’ ہمیں تو اعزاز مل گیا، ہم بہت خوش ہیں، ہم نے اسے اسی دن کے لئے تیار کیا تھا، غم تو جماعت کے لئے ہے، نقصان تو جماعت کا ہوا ہے، اب ہماری دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو جلد اس کا نعم البدل عطاء فرما دے‘‘…

کوئی شکوہ تھا نہ شکایت۔ تشکر ہی تشکر تھا…

’’جماعت کا شکریہ، حضرت امیر محترم کا شکریہ کہ ان کی تربیت نے ہمارے بیٹے کو اس قابل بنایا کہ وہ اسلام کا سپاہی بنا۔ ہم آپ سب کے شکر گذار ہیں‘‘…

ایک عزم کا اظہار تھا اور ایک یقین کا…

’’ ہم کل بھی اس جماعت کے ساتھ تھے، اس کے خادم تھے، آگے بھی رہیں گے اور مزید جو قربانی ممکن ہو گی پیش کرتے رہیں گے‘‘…

فکر تھی تو بس یہ کہ…

’’عبد المتین کا جتنا کام تھا وہ پورا کر گئے اب آپ کی اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس کام کو رُکنے نہ دیں اور اس علم کو تھامنے والے آگے آتے رہیں‘‘…

عظیم لوگ اور کون ہوتے ہیں؟ بڑے لوگ اور کنہیں کہا جاتا ہے؟

خوش قسمت ہیں ہم کہ ان لوگوں میں رہتے ہیں…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online