Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

گن کنٹرول (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 637 (Talha-us-Saif) - Gun Control

گن کنٹرول

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 637)

امریکہ میں آج کل عوام سڑکوں پر ہے۔بڑے بڑے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ تمام بڑی ریاستوں میں ریلیاں نکالی گئی ہیں اور اِحتجاج شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ احتجاج کس بات پر ہے؟ قانون کی حکمرانی، امن و امان، ریاست کی بالادستی اور ناقابل تسخیر سیکیورٹی کے حوالے سے دنیا میں مثال کے طور پر پیش کئے جانے والے معاشرے میں یہ احتجاج اس بات پر ہو رہا ہے کہ اسلحہ رکھنے کی اجازت محدود کی جائے۔معاشرے سے ہتھیاروں کا چلن کم کیا جائے۔ گن کنڑول پالیسی نافذ کی جائے اور اس حوالے سے سخت قوانین متعارف کرائے جائیں۔ ذرا سوچئے! یہ صورتحال کسی اسلامی ملک و معاشرے میں درپیش آئی ہوتی تو اس وقت مغرب کیا کر رہا ہوتا؟

اقوام متحدہ میں قرارداد پاس ہو چکی ہوتی۔ یورپ کے ممالک کی تنظیم اس ملک سے تعلقات منقطع کرنے کی بات کر رہی ہوتی۔ پابندیوں کی باتیں دنیا کے میڈیا کا گرم ترین موضوع ہوتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں تو درد سے بے حال ہو چکی ہوتی۔ اعداد و شمار اس درجہ ہولناک ہیں کہ ان کا تحمل کسی بھی معاشرے میں نہیں کیا جا سکتا لیکن یہاں عالم یہ ہے کہ خود امریکہ کا میڈیا اسے ایک تیسرے درجے کی خبر جتنی کوریج دے رہا ہے اور ہمارے ہاں تو ویسے ہی پی ایس ایل چل رہا ہے اس لئے کسی اور خبر کو موقع کا ملنے کا امکان کم ہی ہے۔ ویسے بھی ہمارا میڈیا جتنا باخبر ہے اس کے پیش نظر اس بات کی توقع کم ہی ہے کہ اس پر کسی سنجیدہ عالمی موضوع کو کوریج مل سکے۔ میچ ختم ہوں گے تو کسی کی شادی آ جائے گی اور شادی سے فرصت ملی تو کوئی طلاق ڈھونڈ لی جائے گی یا تماشہ لگانے کے لئے کچھ لاشیں…

گذشتہ ہفتے بی بی سی ہندی نشریات پر اس حوالے سے ایک بہت تفصیلی رپورٹ نشر ہوئی۔ امریکہ کی ڈیلوور یونیورسٹی کے پروفیسر مقتدر خان بتا رہے تھے کہ امریکہ میں گن کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے قتل کے واقعات کے حقیقی اَعداد و شمار یہ ہیں کہ سالانہ مقتولین کی تعداد دنیا بھر کی جنگوں میں مارے جانے والے افراد سے زیادہ ہے۔ صرف ’’ ٹوڈلرز‘‘ یعنی چڈی بلکہ پیمپر پوش بچوں کے ہاتھوں کھیل کھیل میں سالانہ تین ہزار کے لگ بھگ قتل ہو جاتے ہیں۔ امریکہ میں گن کنٹرول کی مخالفت میں پیش پیش رہنے والی ایک خاتون وکیل اپنے ڈھائی سال کے بچے کے ہاتھوں اس وقت گولی کا نشانہ بن گئی جب وہ گن کنڑول کے خلاف ایک سیمینار میں تقریر کرنے کے بعد گاڑی میں واپس آ کر بیٹھی۔ وہ اپنے ’’ ٹوڈلر‘‘ کو گاڑی میں چھوڑ گئی تھی اور اس کا لوڈ پسٹل بھی گاڑی میں ہی تھا۔ چند ماہ قبل امریکہ میں ایک باسٹھ سالہ بوڑھے نے اپنی ’’بڈھی فرینڈ‘‘ کے ساتھ مل کر ایک ہوٹل کے کمرے سے فائرنگ کر کے تین سو کے لگ بھگ افراد کو قتل کر ڈالا۔ سکولز اور نائٹ کلبز میں ایسے واقعات معمول کا حصہ بن چکے ہیں جبکہ ایک دو قتل والی وارداتوں کو تو اب خبر کے طور پر پیش ہی نہیں کیا جاتا۔

میڈیا پر صرف وہی واقعات آتے ہیں جن میں کچھ غیر معمولی بات پیش آ جائے یا واقعہ مجمع عام میں ہو۔ اسلحہ کی فراوانی کا یہ عالم ہے کہ اوسطاً امریکہ کے ہر فرد کے پاس ایک سے زائد ہتھیار موجود ہے۔ امریکہ میں گاڑیاں اور مہنگے الیکٹرانک ساز و سامان کے ساتھ سکیم میں فری گن دینا عام ہے اور گرین کارڈ پر بھی ایسی کوئی حد متعین نہیں کہ ایک فرد زیادہ سے زیادہ کتنا اسلحہ رکھنے کا مجاز ہے۔ ایسے میں اس جرائم پیشہ اور سیاہ باطن قوم میں کیسے کیسے واقعات پیش آتے ہوں گے وہ ہمارے اندازے سے بھی بڑھ کر ہیں۔ اسی طرح امریکہ میں پرائیویٹ آرمی بنانے تک کی اجازت ہے۔ یہ فورسز عموماً ریٹائر فوجیوں پر مشتمل ہوتی ہیں اور صرف سیکیورٹی فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ جنگوں کے لئے بھی اپنی خدمات پیش کرنے کی مجاز ہیں۔ ان فورسز کے امریکہ سے باہر اور اندر جرائم دنیا بھر میں معروف ہیں۔

امریکہ میں جب بھی ایسا کوئی بڑا واقعہ رونما ہو جائے تو گن کنڑول کے مطالبے میں شدت آ جاتی ہے لیکن ڈاکٹر مقتدر خان کے بقول امریکہ میں گن لابی اس قدرمضبوط ہے کہ اگر کسی حکومت نے سنجیدگی سے اس مطالبے پر غور کیا اور قانون سازی کی نیت بھی کی تو یہ لابی اس حکومت کو گرا سکتی ہے۔ خصوصاً ریپبلکن کے دور حکومت میں تو ایسا سوچنا بھی محال ہے۔ آپ اس لابی کی طاقت کا اندازہ اسی بات سے لگا لیجئے کہ وہ اس مطالبے اور احتجاج کو ایک بڑی خبر ہی نہیں بننے دے رہے اور اسے ایک اہم ایشو کے طور پر ابھرنے نہیں دیں گے۔ اس لابی کا بس ایک نعرہ ہے کہ اسلحہ رکھنا ہر امریکی کا حق ہے اور کوئی انہیں اس حق سے محروم نہیں کر سکتا۔ ایسا کرنا جمہوریت اور شخصی آزادی کے بنیادی اصول کے ہی خلاف ہو گا کہ ایک فرد کے جرم کی وجہ سے معاشرے پر کوئی قدغن عائد کر دی جائے۔

اس کے برخلاف مسلم ممالک اور مسلمانوں کے لئے ان کا طرز فکر و عمل کیا ہے؟ مسلمانوں کے لئے اسلحہ دہشت گردی کی علامت بنا دیا جائے۔ اول تو اس حوالے سے ہر مسلمان ملک میں سخت قدغنیں عائد ہیں۔ انتہائی سخت قسم کے ضابطوں سے گذر کر بھی ایک راسخ الفکر مسلمان کے لئے اسلحہ رکھنا کس قدرمشکل ہے۔ اس کا اندازہ ہم اپنے ملک سے لگا سکتے ہیں۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو امریکی اپنی نسبت جس مذہب کی طرف کرتے ہیں اس میں اسلحہ رکھنا اور استعمال کرنا کوئی فضیلت کی بات نہیں جبکہ ہمارے مذہب اسلام میں اسلحہ رکھنے، سیکھنے اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین و ضوابط کے مطابق استعمال کرنے کو ایک عظیم نیکی اور اہم عبادت کا درجہ دیا گیا ہے اور اس کی پُرزور ترغیب قرآن و حدیث میں دی گئی ہے۔تلواروں کے سائے میں جنت ہے۔تیر جنت میں لے جانے والی چیز ہے اور جہاد کا گھوڑا تو گویا فضائل کا ایک پورا باب عظیم ہے لیکن آج مسلمانوں کے لئے ان چیزوں تک رسائی کس قدر مشکل بلکہ ناممکن بنا دی گئی ہے جبکہ عالَم کفر اپنی افواج کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کو بھی نا صرف یہ تمام سازو سامان مہیا کر رہا ہے بلکہ ہر طرح کی تربیت بھی فراہم کر رہا ہے۔ آپ عالَم مغرب کا جائزہ لیجئے، آپ کو جس طرح جدید اسلحہ کی بہتات اور اس کی تربیت کا نظام ہر طرف نظر آئے گا اسی طرح قدیم اسلحہ و سامانِ حرب یعنی تلوار، تیر کمان، نیزہ اور گھوڑے بھی آپ کو نہ صرف اس معاشرے میں عام اور مہیا نظر آئیں بلکہ ان معاشروں کے اکثر افراد ان میں مہارت رکھتے ہوئے ملیں گے۔ہندوستان میں باقاعدہ  بڑے بڑے ادارے قائم ہیں جہاں ہندوستان کو قدیم و جدید اسلحہ کی مہارت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ آر ایس ایس کے زیر انتظام تو اب سکولوں میں بچوں کو تلواربازی، تیر اندازی اورنشانہ بازی کی تربیت بہم پہنچائی جا رہی ہے۔

وجہ اس کی یہی ہے کہ یہ مشرک اور صلیبی اقوام دنیا پر غلبے اور اسلام کے خاتمے کی فکر سے دستبردار نہیں ہوئیں بلکہ اپنے آباؤ و اجداد کی طرح ان کی اولین ترجیح اپنے انہیں اہداف کو حاصل کرنا ہے لہٰذا وہ ہر طرح سے تیار ہیں جبکہ ہمارے لئے اس سوچ کو ایسا جرم بنا دیا گیا ہے کہ اب تو دیندار طبقہ بھی ماضی میں یہ سوچ رکھنے پر برملا شرمندگی کا اظہار کرتا ہے اور ہر اس شخص سے علانیہ براء ت کا اعلان کرتا ہے جو ذرا بھی اس سوچ کا حامل ہو۔ وا اسفاہ!! جس امت کے لئے قرآن مجید کی آیات اسلحہ سے محبت کا پیغام لے کر اترتی رہیں، وہ اس قرآنی نعمت سے کس قدر غفلت میں جا گری۔ اور اپنی اس حالت پر مطمئن اور فخر بھی ہے۔

اسرائیل کی سابق وزیراعظم گولڈامیئر کا ایک واقعہ بہت مشہور ہے جو اس نے ایک انٹرویو میں بیان کیا:

’’ اس انٹرویو کا ایک سوال جتنا دلچسپ تھا اس کا جواب اس سے بھی کہیں دلچسپ تھا۔ صحافی نے اسرائیلی وزیراعظم گولڈا میئر سے پوچھا:آپ نے امریکا سے اسلحے کی خریداری کا فیصلہ کیسے کیا؟ـ گولڈا میئر نے کیا جواب دیا،میں اس طرف آنے سے پہلے آپ کو اس جواب کا پس منظر بتانا ضروری سمجھتا ہوں۔ عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے سائے چھا گئے، اسرائیل پر خوف و اضطراب گہرا ہو گیا، اسرائیل کی یہ حالت دیکھتے ہوئے امریکی اسلحہ کمیٹی کا سربراہ بھاگتا ہوا اسرائیل پہنچا۔ اس نے اسرائیلی وزیراعظم سے اس کے گھر میں ملاقات کی۔ گولڈا میئر امریکی نمائندے کو اپنے کچن تک لے گئی۔ کچن میں ہی کرسی پر بٹھادیا اور خود اپنے ہاتھوں سے چائے بنانے میں جت گئی۔ جب تک چائے بنتی اس دوران دونوں اسلحہ کی خریداری پر گفتگو کرتے رہے۔ یہ اسلحہ کس نوعیت کا ہوگا، امریکا کس طرز پر اسلحہ دے گا، اسرائیل کو اس کے لیے کیا کرنا پڑے گا، یہ باتیں چلتی رہیں، اتنے میں چائے تیار ہوئی۔ گولڈا میئر نے ایک کپ امریکی مہمان کو پیش کیا، دوسرا اپنے سامنے رکھا اور تیسرا دروازے پر کھڑے گارڈکو دے دیا  چائے کی بھاپ اور پھیلتی خوشبو میں دونوں حکام سر جوڑ کر میز پر بیٹھ گئے۔ یہ ایک ایک سپ لیتے معاہدے کی تفصیل طے کرتے اور شرائط کی گتھیاں سلجھاتے رہے۔ چائے ختم ہوئی، وزیراعظم نے کپ اُٹھائے،دھو کر الماری میں رکھے اور امریکی مہمان کی طرف مسکرا کر ہاتھ بڑھایا اور گویا ہوئی:مجھے یہ معاہدہ قبول ہے۔ امریکی اہلکار نے کندھے اچکائے، سر جھکا کر شکریہ ادا کیا اور واپس چلا گیا۔ اگلے دن گولڈا میئر نے معاہدہ اپنی کابینہ کے سامنے رکھ دیا۔ کابینہ میں بھونچال آ گیا۔ لے دے شروع ہو گئی۔ وزراء کا کہنا تھا اسرائیل مالی بحران کا شکار ہے۔ حالت پتلی ہونے کی وجہ سے ہم یہ معاہدہ نہیں کر سکتے۔ اگر یہ معاہدہ ہوگیا تو اسرائیلی باشندے دو دن بعد فاقے کا شکار ہو جائیں گے۔ یوں کابینہ نے بیک زبان یہ معاہدہ مسترد کر دیا۔ وزیراعظم پریشان ہو گئی۔ اس نے تھوڑی دیر سوچا اور اس کے بعد کابینہ سے مخاطب ہوئی مائی فرینڈ!آپ غور کیجئے اگر ہم یہ جنگ جیت گئے تو تاریخ ہمیں فاتح کا تاج پہنائے گی۔ جب تاریخ کسی قوم کو فاتح قرار دے دے تو وہ یہ بھول جاتی ہے جنگ کے دوران فاتح نے کتنے دن فاقہ کیا؟ اس کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے یااس کی تلواروں کے نیام پھٹے ہوئے تھے۔ وہ اگر یاد رکھتی ہے تو فاتح کی عظیم فتوحات یاد رکھتی ہے، لہٰذا اگر ہمیں بھوک کاٹنی پڑے تو ہم کاٹیں گے، لیکن ہم یہ معاہدہ ضرور کریں گے۔ یہ ہماری فنا نہیں، یہ ہماری بقاء ہے۔

گولڈا میئر کے دلائل کے سامنے کابینہ گنگ ہو گئی اوراسرائیل امریکا ہتھیاروں کی خریداری کا معاہدہ طے پاگیا۔ اسی معاہدے کی وجہ سے اسرائیل عربوں سے یہ جنگ جیت گیا۔ اب میں دوبارہ آتاہوں گولڈا میئر کے جواب کی طرف۔ صحافی کے سوال پر گولڈامیئرنے چونکا دینے والا جواب دیا۔ اس نے کہا:میں نے زمانہ طالب علمی میں مسلمانوں کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی کا مطالعہ کیا۔ جب ان کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں چراغ کا تیل خریدنے کے لیے رقم تک نہیں تھی، لیکن اس وقت محمدﷺکے گھر کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں۔ اس وقت مسلمانوں کے نبی کے گھر میں غربت کا راج تھا، لیکن مسلمانوں کا سکہ آدھی دنیا پر رائج تھا،لہٰذا میں نے فیصلہ کیا مجھے اور میری قوم کو چاہے برسوں بھوکا رہنا پڑے ہم اسلحہ خریدیں گے اور تاریخ میں مسلم فاتحین کی طرح مشہور ہوںگے۔‘‘

اس واقعہ کے بعد آخر میں یہ خبر سن لیجئے بات مکمل ہو جائے گی۔

’’ بہاولپور میں طلبہ کو سنت نبوی کے اتباع کے طور پر پیش کرنے کے لیے منگوائی جانے والی وزیر آباد میڈ بغیر دھار اور بالکل ناقص میٹریل سے تیار شدہ تلواریں مسجد پر چھاپہ مار کر بحقِ سرکار ضبط کر لی گئیں اور مسجد کے امام اور خادم پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online