Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

غَزّہ …قندوز…کشمیر (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 639 (Talha-us-Saif) - Ghaza Qandoz Kashmir

غَزّہ …قندوز…کشمیر

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 639)

سلام اے غزّہ

اَبطالِ اسلام کے قدموں سے گونج رہے 

اور

جہاد، عزت، حریت اور شہادت کی خوشبو سے مہک رہے  غزّہ!

تجھے سلام

غزّہ اس بات پر راضی نہیں کہ اپنی مزاحمت ترک کردے

نہ اس بات پر

کہ

اپنا جہادی عَلم اور اپنے شہداء کا خون کافروں کے قدموں پر رَکھ دے

اس لئے

وحشی درندے ہر جانب سے اِس پر ٹوٹ پڑے ہیں

تاکہ عزت کے اس قلعے کو ڈھا دیں

صورتحال کی وضاحت کے لئے لفظوں کی حاجت نہیں… بہتا ہوا خون، کٹے پھٹے اَعضاء ، روتے چلاتے بچے اور بکھری ہوئی لاشیں ساری داستان سنا رہی ہیں

سلام اے غزّہ !

شاید تجھے اِس کام کے لئے منتخب کر لیا گیا ہے کہ تو ہمیں عزت، غیرت اور حریت کا مطلب سمجھاتا رہے، دھوئیں اور خون میں ڈوب کر اپنے جوانوں کی لاشوں سے اَٹ کر

اور ہاں اے غزّہ !

تیرے لئے یہ سب کچھ موت نہیں

تو زندہ ہے اور زندہ رہے گا کیونکہ

 خون مرتا نہیں

موت تواُن کے لئے ہے جنہوں نے اپنی عزت اور غیرت بیچ دی 

جبکہ تو اے غزّہ! معزز اور غیرت مند ہے

موت اُن کے لئے ہے جنہوں نے اپنی تاریخ اور اپنے آباء کا نام مٹا ڈالا اور اپنے د ل و دماغ اور سروں کو کفر کی طاعت میں جھکا دیا

جبکہ تیرے جوان تو آج بھی تاریخ دُہرا رہے ہیں اور آئندہ کے لئے تاریخ کا حصہ بن رہے ہیں

موت تو اُن کے لئے ہے جنکی آوازیں، ذلت اور کمزوری کی وجہ سے حلق سے باہر نہیں آسکتیں

جبکہ تُو آج بھی تکبیر کے نعروں سے گونج رہا ہے، دشمنوں کے دلوں میں شگاف ڈال دینے والی تکبیروں سے

موت اُن کے لئے ہے جو اِجلاسوں میں تیرا درد روتے ہیں اور پھر تیرے قاتلوں کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر رقص کرتے ہیں

موت اُن کے لئے ہے جو طاغوت کے بتوں کی پوجا کو مایۂ اِفتخار سمجھتے ہیں کبھی یہودی بچھڑا اور کبھی امریکی صدر

جبکہ تو رَبُّ العالمین کے سوا کسی کو نہ پوجنے کی قیمت چکا رہا ہے

موت اُن کے لئے ہے جن کے خزانے مال اور چھائونیاں اسلحے سے پُر ہیں

جبکہ اسلام کی عزت کے رکھوالے تیرے بچے اور جوان پتھروں سے لڑ رہے ہیں

وہ موت جو ہر آن اسرائیلی طیاروں، ٹینکوں، توپوں کی گھن گرج میں برس رہی ہے، وہ تیری موت نہیں

وہ تو تیرے علاوہ ہم سب کی موت ہے

وہ موت جو ہم تجھ سے دور اِبلاغی ذرائع سے دیکھ اور سن رہے ہیں، وہ تیری موت نہیں، ہم سب کی موت ہے

تو زندہ ہے ،زندہ رہے گا

اس لئے کہ 

خون کبھی مرتا نہیں خدا کی قسم کبھی مرتا نہیں

سلام اے قندوز!

افغانستان کے بے رحم اور بے وفا شمال کے بیچ وفا و محبت کے جزیرے قندوز…

اے میرے محبوب قندوز، اے میرے محسن قندوز!

تجھے سزا دی گئی اس بات کی کہ تیرے جوان، تیرے بچے اور تیری مائیں اسلام کے ساتھ کیوں ہیں؟ اہل ایمان اہل عزیمت سے وابستہ کیوں رہتے ہیں؟ قندوز نے لٹے پٹے طالبان لشکر کو پناہ دے کر شمال کو اِمارت کے جھنڈے تلے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

قندوز نے نفرت سے بھرے شمال میں طالبان کے لئے محبتیں نچھاور کیں۔

قندوز نے امریکی یلغار کے مدمقابل بھی لشکر ایمان کا ساتھ دیا اور قندھار کے بعد سب سے زیادہ آگ وبارود کو سہا۔

قندوز آج بھی پورے شمال میں مجاہدین کی اکلوتی آماجگاہ ہے۔

قندوز کو سزا دی گئی لیکن قندوز زندہ ہے۔پہلے سے زیادہ بھرپور زندگی کے ساتھ کیونکہ

خون کبھی مرتا نہیں خدا کی قسم کبھی نہیں۔

خاک وخون میں تڑپائے گئے معصوم حفاظ بھی زندہ ہیں۔ جنت میں، اُمت کے انتقامی عزائم میں اور دلوں میں بھڑک اٹھی کفر سے نفرت کی آگ میں۔وہ آگ جو آگ والوں کو بھسم کرنے کیلئے بیتاب ہے۔

وہ زندہ ہیں کیونکہ خون کبھی مرتا نہیں۔

سلام اے کشمیر!

اے شیران اسلام کی جولانگاہ کشمیر،اے اہل عزیمت کے وطن کشمیر

فردین کھانڈے، افضل گورو اور برہان وانی کے کشمیر

تیرے شیر جاگ اُٹھے اور انکی یلغار سنگ باری سے بڑھ کر فدائی حملوں کا روپ دھارنے لگی۔

تونے فردین کی زبان سے اپنے جوانوں کی نئی منزلوں کا اعلان کرکے ہند کے ایوان ہلا ڈالے تو تجھے سزا دی گئی۔ایک دن میں درجنوں لاشیں اور دہشت کا راج۔لیکن کیا یہ نہیں جانتے

بڑھتا ہے ذوقِ جرم یہاں ہر سزا کے بعد

کشمیر نے دِکھا دیا کہ وہ ان لاشوں کے ساتھ بھی زندہ ہے اور پہلے سے زیادہ حرارت، جوش اور جذبے کے ساتھ زندہ ہے۔

یہ لاشیں قوموں کی موت کا نہیں حیات کا پیغام ہیں کیونکہ خون کبھی مرتا نہیں۔

نہ زمین اسے چھپا سکتی ہے اور نہ ہی تاریخ اسے مٹا سکتی ہے

یہ مقدس خون کیسے مر سکتا ہے؟

یہ تو عزت اور غیرت والے جوان پیدا کرتا ہے

یہ تو عزت اور حریت والی فصلیں اُگاتا ہے

یہ تو اِستقامت کے پہاڑ وجود میں لاتا ہے، اونچے پہاڑ جن کی بلندی ہر ایک کو پست کر دیتی ہے

اے غزّہ تجھے سلام، اے قندوز تجھے سلام، اے کشمیر تجھے سلام!

ہر ایک چیز پر موت آگئی اور زندگی نے رہنے کے لئے تمہاری گلیوں کا انتخاب کر لیا

وہ زندگی جو رَبُّ العالمین کے پڑوس میں لے جاتی ہے

واہ کیا خوبصورت زندگی ہے

دنیا کے پڑوس اور رَبُّ العالمین کے پڑوس میں کیا نسبت ہے؟

تمہارے جوان، اور بچے عرش کے مہمان بن رہے ہیں اور

تمہارے بوڑھوں، مظلوموں کی آہیں، سسکیاں اور نالے بھی وہیں پہنچ رہے ہیں

تمہیں مبارک ہو، تم ہی تو زندہ ہو

سو تم غم نہ کرو

غم ہم کریں کہ ہمارے شہروں میں سوائے بزدلی اور خوف کے کچھ پیدا نہیں ہوتا، جبکہ تمہارے ہر گھر سے شجاعت کے چراغ نکل رہے ہیں

غم ہم کریں کہ ہمارے اردگرد مکھیوں اور مچھروں جیسی حقیر مخلوق کا ہجوم ہے اور تمہاری گلیاں شیروں سے بھری ہیں

غم ہم کریں کہ تاریخ ہمیں غلام اور بے حمیت لکھنے جا رہی ہے

جبکہ تمہارا نام اس تاریخ میں حریت کا استعارہ بن رہا ہے۔ غم نہ کروکہ تم ہم سے زیادہ آزاد ہو، تمہارے جوانوں کے سر اونچے اور کندھے تنے ہوئے ہیں

جبکہ ہم ہر طرف سے محصور ہیں، مجبوریوں اور کمزوریوں کے حصار میں

 غم نہ کرو کہ تمہاری زمین تو شہداء کے معطر خون سے مہک ر ہی ہے

غم ہم کریں کہ ہماری زمینوں میں شراب اور غداری کی باس رچی ہے

غم نہ کرو کہ تمہارے نالے تو آسمانوں تک پہنچ رہے ہیں اور فرشتے انہیں لینے کے لئے لپک رہے ہیں

جبکہ ہماری آوازیں تو سینے میں ہی بند رہ گئی ہیں بے عملی کیو جہ سے 

غم نہ کرو کہ تمہاری زمین تو آج بھی عمرؓ، ابو عبیدہؓ، خالدؓ، صلاح الدین ؒ اور نور الدینؒ کے جانبازوں سے آباد ہے

جبکہ ہمارے ویرانوں پرتوجیسے اُلّووں کے ڈیرے ہیں

 اپنے بچوں اور زیتون کے خوبصورت باغوں کا غم نہ کرو

تمہارے بچوں کے پتھر اور جوانوں کی گولیاں اسلام کی عظمت کے آسمان پر ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں

اے غزّہ! اے قندوز!اے کشمیر!

تمہارے شہداء کا خون…اسلام کی عظمت کے لشکر پیدا کر رہا ہے

 گرے ہوئے گھر ،عزت کے مینار تعمیر کر رہے ہیں

جگہ جگہ لگی آگ عار و ذلت کا ہر نشان تمہارے چہرے سے مٹا رہی ہے

تمہیں شہداء مبارک ہوں، اللہ کے پڑوس میں مہمان

اور یہ سب رائیگاں نہیں…

خاکستروں میں چھپی چنگاریاں بھڑک رہی ہیں…

دلوں میں عزائم بیدار ہوریے ہیں…

لشکر نکل رہے ہیں…

سواروں نے لگامیں تھام لی ہیں اور گھوڑوں نے کان آوازوں پر لگا لئے ہیں…

دیر سہی مگر اندھیر نہیں…

نصرت کے قافلے ہجرت کی شاہراہوں پر گامزن ہونے کو ہیں…

تمہارا خون امت کے مردہ تن میں روح پھونک رہا ہے اور زندگی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں…

کیونکہ

خون کبھی مرتا نہیں…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online