Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

چار باتیں (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 447 (Talha-us-Saif) - Char Batein

چار باتیں

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 447)

حکیم الامت مرشد الملت حضرت مولانا رومی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شہرہ آفاق ’’مثنوی‘‘ میں ایک حکایت لکھی ہے:

’’ ایک ’’بہادر‘‘ اور ’’شیر صفت‘‘ شخص کو اپنے بازو پر شیر کا ’’ٹیٹو‘‘ کھدوانے کا شوق چرایا( ممکن ہے اس علاقے کا مسلم لیگ ن کا کوئی عہدیدار یا ورکر ہو)وہ ٹیٹو ساز کے پاس گیا اور اس کے سامنے اپنا بازو پھیلا کر کہا اس پر میاں شیر شریف کی تصویر بنا دو۔مصور نے سوئی گرم کی۔سیاہی میں ڈبوئی اور بازو پر رکھی ہی تھی کہ نون لیگی صاحب چلائے:

’’ارے یہ کیا کر رہے ہو؟‘‘…

’’شیر کی دم بنا رہا ہوں‘‘…

’’ایسا کرو بغیر دم کے شیر بنا دو‘‘…

مصور نے پھر سوئی گرم کر کے دوسری جگہ لگائی تو ورکر صاحب پھر چلائے…

’’اب کیا بن رہا ہے…‘‘

بازو!

’’ایسا کرو شیر بغیر بازو کے بنا دو‘‘…

یوں ہر بار سوئی چبھونے پر وہ شیر کے اس مبینہ عضو کو کالعدم قرار دے کر باقی شیر بنانے کا کہہ دیتا…

مصور نے تنگ آ کر سوئی رکھ دی اور کہا:

’’بھائی ایسا شیر نہ دیکھا ہے نہ سنا ہے جس کے نہ کان ہوں نہ آنکھیں…نہ دانت ہوں اور نہ دم…

تم یا تو شیر بنوانے کا خیال دل سے نکال دو یا  پھر شیر بنو،تکلیف برداشت کرو اور شیر بنواؤ۔لیکن خدارا! شیر کو شیر ہی رہنے دو،اس کا حلیہ مت بگاڑو‘‘…

یہ ایک بات ہو گئی کہ شیر وہی ہوتا ہے جس کے دانت ہوں،دم ہو، مضبوط بازو اور بارعب چہرہ ہو…

اب سنیے دوسری بات!

جہاد کا معنی ہے قتال اور لڑائی۔اس میں سر کٹتے ہیں، جسموں کے ٹکڑے ہوتے ہیں،خون بہتا ہتے، گھوڑے دوڑتے ہیں،غبار اڑتا ہے،تلواریں چمکتی ہیں،نیزے جسم چھید ڈالتے ہیں،خنجر رگوں کا خون چوس لیتے ہیں،تیر بدنوں کو چھلنی بنا دیتے ہیں،لاشیں بکھرتی ہیں، زخمی تڑپتے ہیں، قیدی سسکتے ہیں، تاج اچھلتے ہیں اور تخت الٹتے ہیں۔نظام دگرگوں ہو جاتے ہیں اور آئین قدموں تلے روند ڈالے جاتے ہیں۔ظلم کا زور ختم ہوتا ہے اور عدل کا بول بالا ہوتا ہے۔باطل بھاگ اٹھتا ہے اور حق غالب آتا ہے۔اسی کو ’’جہاد‘‘ کہا جاتا ہے ناں جس میں لشکر صف آراء ہوتے ہیں اور گھمسان کے رن پڑتے ہیں؟ بے سروسامانی والے ’’بدر‘‘کو، زخموں سے چور چور ’’احد‘‘ کو،شب خون والے ’’خیبر‘‘ کو،سخت محاصرے والے ’’بنو نضیر‘‘ کو اور تین لاکھ کے ساتھ تین ہزار کے ٹکراؤ والے’’موتہ‘‘ کو ہی ’’جہاد‘‘ کہا جاتا ہے ناں؟…

غالباً قرآن میں،احادیث میں،اسلامی تاریخ میں اور سیرت میں ’’جہاد‘‘ اسی عمل کا نام ہے جس میں ابو جہل بد رکے گندے کنویں میں ڈال دیا گیا،ابن خطل کا بیت اللہ کی دیواروں پر خون بہا دیا گیا ہے،کعب بن اشرف اور ابو رافع جیسے گستاخانِ رسول کو ان کے مضبوط قلعوں میں سوتے خون میں تڑپا دیا گیا۔بنو قریظہ باندھ کر ذبح کر دئیے گئے اور بنو نضیر گھیر کر جلا وطن…

اور ہاں!’’جہاد‘‘ اسے کہتے ہیں جس میں آقا مدنی ﷺ کے دندان مبارک شہید ہو گئے۔چہرہ مبارک خون آلود ہوا،رخسار مبارک میں کڑیاں پیوست ہو گئیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی لاشوں کے ٹکڑے جمع کر کے چادروں میں لپیٹ کر دفنانے پڑے…

دنیا کا ہر مسلمان،ہر کافر،ہر منافق آج تک یہی جانتا آ رہا ہے کہ ‘‘جہاد‘‘ کے اعضاء اور اجزاء وہی ہیں جو اوپر تحریر کیے گئے،انہی کاموں کا کرنے والا شخص نام مجاہد پاتا ہے اور جہادی کے تمغے سے سرفراز ہوتا ہے۔اوبامہ سے لے کر کرزئی تک اور نریندر مودی سے لے کر پرویز مشرف تک سب یہی جانتے اور مانتے ہیں…

اب سنیے تیسری بات:

یار لوگوں نے مولانا روم والے’’شیر‘‘ کی طرح کا ایک عمل بنایا ہے جس میں نہ تلوار ہے نہ تیر، نہ خنجر ہے اور نہ گھوڑا،نہ خون ہے نہ پسینہ،نہ لاشیں ہیں نہ زخمی،نہ حق کا غلبہ ہے نہ باطل کی رسوائی،نہ مسلمانوں پر کوئی مشقت ہے نہ کفار پر کوئی شدت۔ اور ان کا اصرار ہے کہ یہ ’’جہاد‘‘ ہے۔،اصلی، خالص اور بڑا جہاد… ’’الجہاد الاکبر‘‘…

چوتھی اور آخری بات یہ ہے کہ انہیں اس حرکت پر اگر کوئی جہاد کا منکر یا مخالف کہہ دے تو سخت ناراض ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے ساتھ بڑے زیادتی ہو رہی ہے۔ہم تو ’’جہاد‘‘ کے داعی ہیں اور بڑے مفکر (یہ لوگ داعی تو نہیں البتہ ’’دائی‘‘ ضرور ہیں جنہوں نے الحاد کی کوکھ سے ایک نامعلوم الجنس بچہ نکالا ہے اور اس کا نام ’’جہاد‘‘ رکھ دیا ہے۔) ان چار باتوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ آپ خود کر لیں۔ساری بات میں ہی لکھوں تو اخبار کم پڑ جائے گا۔

مثل مشہور ہے’’ سو سنار کی اور ایک لوہار کی‘‘…

امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ نے ’’القلم‘‘ کے گذشتہ شمارے میں اپنے مضمون بعنوان’’مسلمانوں کے لئے دردمندی‘‘ میں چند مختصر الفاظ ان ’’شیروں‘‘ کے بارے میں تحریر کیا فرما دئیے کہ ان لوگوں نے فوراً مختاراں مائی کا روپ دھار لیا اور مظلومیت کے ساتھ شکوہ شروع کر دیا کہ ہماری اس بلند پایہ کا وش کو ’’انکار جہاد‘‘ کا نام کس طرح دے دیا گیا…تو جناب! جس طرح بے اعضاء شیر کو شیر نہیں کہا جا سکتا اسی طرح جو کام آپ نے لکھا ہے اے ’’جہاد‘‘ تو ہرگز نہیں کہا جا سکتا اور اگر آپ اصلی جہاد کی جگہ اسی کو جہاد کہنے پر مصر ہیں تو آپ کو اصلی جہاد کا منکر نہیں تو اور کیا کہا جائے گا؟…

قرآن مجید بتاتا ہے کہ ’’حق جب باطل پر ٹوٹتا ہے تو اس کا بھیجا نکال کر باہر کرتا ہے‘‘

آپ کس حق کو باطل کے مقابل لا رہے ہیں جو بھیجا تو کیا باطل کا ایک دانت بھی نہیں توڑ سکتا بلکہ باطل کے لئے ہر طرح سے قابل برداشت ہے اور وہ ان لوگوں کو ناقابل برداشت بتا رہا ہے جو حق کے اس معیار پر پورا اتر رہے ہیں۔

قرآن مجید نے جہاد کے ایک ایک جزوی مسئلے کو بھی اتنی وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا کہ کوئی سوال یا خفاء باقی نہیں رہا۔جہاد کے کسی موضوع کو لے لیں قرآن مجید نے اس کے ہر پہلو کو اچھی طرح اجاگر کر رکھا ہے اور آپ سے ابھی تک یہی طے نہیں ہو سکا کہ جہاد ظلم کے خلاف ہے یا کفر کے خلاف،جہاد کے وجوب کی علت حربیت ہے یا شرک؟…جہاد کا مقصد کیا ہے اور منہج کیا؟…جہاد کا معنی کیا ہے اور حکم شرعی کیا؟…

ہر چیز میں فضول بحثیں ہیں اور خلاف اصل باتیں اور مقصد صرف یہی کہ ’’شیر‘‘ کو شیر نہ رہنے دیا جائے بکری بنا دیا جائے۔

اس لئے گستاخی معاف! آپ کے بارے میں ’’القلم‘‘ میں جو لکھا گیا وہ کافی کم تھا لیکن لگتا ہے کہ کافی رہا۔اللہ کرے آپ لوگوں کو اسی قدر سے ہی خوف خدا نصیب ہو جائے اور امت مسلمہ کے حالات کا ادراک کرتے ہوئے آپ اپنی مساعی رذیلہ سے باز آ جائیں۔امت مسلمہ کو ’’جہاد‘‘ کے بارے میں فضول لفظی مباحث کی نہیں کھلی دعوت کی ضرورت ہے جو ’’تحریض‘‘ کی شان رکھتی ہو اور نبی کریم ﷺ کی وراثت کا تقاضا بھی یہی ہے۔مسلمانوں کو مسجد اقصی کی زمین کے تنازعے میں الجھانے کی نہیں قبلہ اول کے بارے میں اپنی ایمانی ذمہ داری کا احساس دلانے کی ضرورت ہے۔اہل ایمان کو ناموس رسالت کے بارے میں غیرت مند بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ گستاخانِ رسول کی سزاؤں اور شرعی حد میں رعایتیں نکالنے کی۔قرآن مجید کی حرمت و تقدس اور اسلام کے غلبے کی ذمہ داری کے حوالے سے نوجوانوں کے جذبات ابھارنے کی ضرورت ہے نہ کہ ابھرے ہوئے جذبات کو دبانے کی مذموم کوششوں کی۔جہاد کے بارے میں اہل کفر مستشرقین کے وساوس کا جواب دینے اور الحاد و تلبیس کے پردے چاک کرنے اور مسئلہ بے غبار کرنے کا وقت ہے نا کہ مزید پردے ڈالنے اور نئے شبہات پیدا کرنے کا۔بے راہ روی اور نفس پرستی کے زمانے لوگوں کو ’’مرکز‘‘ کے ساتھ اور اسلاف کے ساتھ جوڑنے کی حاجت ہوتی ہے نہ کہ تحقیق جدید کے نام پر نفس پرستی کو نئے بہانے فراہم کرنے اور اکابر سے کاٹ کر نئی راہوں پر چلانے کی۔لیکن جب دماغ الٹ جائیں تو ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں اور سوچ کا پہیہ الٹی جانب چل پڑے تو عمل کی گاڑی بھی صراط مستقیم سے اتر کر الحاد کی پگڈنڈیوں پر چل پڑتی ہے۔ اور اگر آپ کو اصرار ہے کہ آپ کو یہی کچھ کرنا ہے تو کم از کم ’’جہاد‘‘ کی جان چھوڑ دیجیے۔جہاد ایمان کا امتحان ہے۔جہاد ایمان اور نفاق کے درمیان فارق ہے اور جہاد ہی اس وقت امت مسلمہ کے مسائل کا حل ہے،جہاد سے ہی امت مسلمہ کی بھنور میں پھنسی کشتی کو اس گرداب سے نکالا جا سکتا ہے۔اس لئے شوق تحقیق کے لئے کوئی اور میدان منتخب کر لیجیے۔ویسے ہمیں آپ کی ان کاوشوں سے ادنی سا خطرہ بھی نہیں کیونکہ ’’جہاد‘‘ کی حقیقت اور اصلیت سمجھانے کے لئے خود قرآن موجود ہے۔اس کے سامنے کسی خصوصی شمارے یا چند ایک لفاظی سے بھر پور مضامین کی کیا مجال کہ ٹھہر سکیں۔آپ کو مشورہ دینے کا مقصد محض خیر خواہی ہے کہ آپ اس گناہ سے توبہ کر لیں اور آئندہ بچ جائیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online