Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

قندوز (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 640 (Talha-us-Saif) - Qandoz

قندوز

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 640)

وہ کسی عربی شاعر نے کہا:

"شلت یمینی ان نسیتک یا بلادی"

میرا دایاں ہاتھ شل ہو جائے اگر میں تجھے بھول جاؤں اے میرے پیارے شہر…

بس ایسا ہی تعلق میرا بھی چند شہروں سے قائم ہے، اللہ کرے قائم رہے۔ کسی سے کسی کی نسبت زیادہ، کسی سے کم… لیکن بھولتا کبھی نہیں…

قندوز افغانستان کا شہر خوباں انہی میں سے ایک ہے۔وہ کتنا میٹھا اور اس کی یادیں کس قدر شیریں ہیں۔ اندازہ لگا لیجئے کہ اس کے نام کا عنوان ہی ’’قند‘‘ ہے۔اگرچہ وہ نہ میرا وطن ہے اور نہ میرے کسی محبوب کا۔ لیکن یہ شہر میری اس عمر کا پیار ہے جس عمر کا پیار سنا ہے کبھی بھی دل کی جان نہیں چھوڑتا۔سوچتا ہوں اس عمر میں دھکے کھاتا قندوز نہ پہنچا ہوتا تو شاید کبھی جوان ہی نہ ہوسکتا۔بے خوفی، بہادری اور جرأت حاصل ہونا تو ابھی بھی خواب ہے لیکن ان کا لمس بھی شاید کبھی نہ پاسکتا۔ قندوز استاذ ہے، قندوز مربی ہے، قندوز محسن ہے اور قندوز… بس ایک پیار ہے، ایک محبت ہے۔ قندوز سے تعلق ایسا ہے کہ اب بھی اس کا ذکر آجائے تو محو ہوجاتا ہوں۔ اس دن بھی جس وقت قندوز نے بے تحاشا رُلایا، اُس سے چند گھنٹے پہلے ہی میں ایک مجلس میں اپنے قندوز کو اسی عنوان سے یاد کر رہا تھا۔

1997کی بات ہے۔ بندہ سبزہ آغاز نو عمر نوجوان تھا۔ کابل سے سفر شروع ہوا جو اس قدر فتوحات سے لبریز تھا کہ ہم بہت پیچھے چل رہے تھے اور فتوحات آگے دوڑتی جا رہی تھیں۔ اسی دوڑ میں پُل خَمری پہنچے تو پتا چلا کہ فتوحات سراب نکلیں اور اب ہولناک محاصرہ منہ پھاڑے کھڑا ہے۔ محاصرے کے وہ ستائیس دن اللہ اکبر۔ ہم ہر روز کم ہو جاتے تھے۔ کچھ لوگ آگے نکل جاتے اور ہر محاصرے سے، آزارسے آزادی پا لیتے اور کچھ حیلے بہانے سے پیچھے نکل جاتے اور اس آزار کو اور مشکل کر جاتے۔ کھانا ختم ہوا، سازو سامان ختم ہوا اور پھر ایک دن آخری ٹھکانہ بھی ختم ہو گیا۔ ایک کافی بڑا مگر بالکل بے سروسامان لشکر ایک اجنبی شہر میں حالات کے  تھپیڑوں کے رحم و کرم پر آ بیٹھا۔ نہ حال کی صورت واضح تھی اور نہ مستقبل کا کوئی اندازہ قائم کیا جا سکتا تھا۔ ایسے میں لشکر کا رُخ ایک بڑے شہر کی طرف پھیرنے کے احکامات آ گئے۔ ایک انتہائی دشوار اور عسکری اعتبار سے مضبوط شہر۔ بظاہر اس تدبیر کی کوئی عقلی وجہ سمجھی نہ آتی تھی لیکن عقلی وجہ ہوتی بھی کیسے؟ عقل کا تو اس فیصلے میں کہیں سے گذر بھی نہ تھا۔ یہ فیصلہ عشق و اِطاعت کا تھا۔ امیر لشکر کو خواب ہی میں مدینہ منورہ سے حکم آیا کہ قندوز کی طرف چلو۔ پھر روزانہ اس قدر حصہ بھی دِکھا دیا جاتا، جتنا اُس دن فتح ہونا ہوتا۔ سات دن کی مہم اور قندوز کی فتح۔ دو شہروں میں وہاں کے مکینوں کی خوانخوار نگاہوں ، نفرت بھرے جملوں اور توہین آمیز سلوک کے آزار سے مسلسل ڈیڑھ ماہ گذار کر قندوز میں داخل ہوئے تو دل میں یہی خیال تھا کہ یہاں بھی ویسا ہی سلوک ہو گا اور انہی حالات میں گذارا کرنا ہوگا لیکن یہ اندازے کی پہلی غلطی اور قندوز کی محبت کا نقش آغاز تھا۔ قندوز تو یوں ملا جیسے وہ عرصے سے ہمارے لئے نظریں فرش راہ کئے بیٹھا تھا۔ ہم شہر میں داخلے کے لئے جونہی بلندی سے نشیب میں اُترے بچے جی ہاں بالکل ایسے ہی بچے جن کی تصویریں آج کل دل کا زخم اور روح کا آزار بن چکی ہیں۔ سڑک کے کنارے ہاتھوں میں پھول لئے کھڑے تھے اور گاڑیوں پر گُل پاشی کر رہے تھے۔ بزرگوں نے کنارِراہ چھوٹے چھوٹے دستر خواں لگا رکھے تھے۔ دودھ، لسی یا زیادہ سے زیادہ سبزی کی ترکاری اور روٹی۔ وہ گاڑی رکواتے، اُترنے والوں کی پیشانی چومتے، دسترخوان پر بٹھاتے اور ہاتھوں میں روٹی تھام کر کھڑے ہو جاتے۔ ہم منتیں کرتے رہے کہ روٹی دستر خوان پر رکھ دیں اور بیٹھ جائیں لیکن انہیں گوارہ نہ ہوتا۔ زندگی کتنے مراحل سے گذر گئی لیکن اس دسترخوانِ محبت کا مزا ایک بار دوبارہ پانے کی حسرت ہے اور ابھی تک حسرت ہی ہے۔ قندوز نے دیدہ و دل فرش راہ کئے اور آگے شمال کی طوفانی فتوحات کا راستہ ہموار کر دیا۔ امارت اسلامیہ کو قندوز نے ان علاقوں تک بھی پہنچا دیا جہاں تک رسائی بظاہر ممکن نظر نہ آتی تھی۔ قندوز اور یہاں کے وفا شعار باسیوں سے پہلی ملاقات نے ان کی محبت کا اسیر بنا دیا لیکن ابھی تو حیرت کے کئی مقام باقی تھے۔قندوز نے ابھی محبت کے کئی اور مناظر دِکھانے تھے۔ پُل خَمری کے محاصرے کی مسلسل مارا ماری اور بھاگم دوڑ میں سامان گم ہو گیا تھا۔ جو ایک جوڑا تن پر تھا وہ ہی رہ گیا۔ کم از کم بیس دن ایسے گذرے کہ اسے بھی دھونے کی فرصت نہ ملی۔ قندوز پہنچ کر امن و آرام ملا تو ایک دن اسی جوڑے کو تہبند باندھ کر دھو لیا۔ پہنا تو عجیب سی خوشی کا احساس ہوا۔ شام کو کھانا پکانے بیٹھا تو ایک شرارتی شعلے نے دامن کو پیچھے سے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔جب تک معلوم ہوا آدھا جوڑا جل کر خاکستر ہو گیا اور نہ قمیص قابل استعمال رہی نہ شلوار۔ تہبند باندھا اور اسی دشت کی ایک مسجد میں چلا گیا۔ ایک بچہ ملا۔ عمر یہی کوئی دس سال۔ فارسی ان عزت مند پشتونوں کی دوسری زبان ہے، سو اسی کو بروئے کار لا کر اسے ماجرا بتایا۔ وہ دوڑتا ہوا اپنے گھر گیا اور والد کا سوٹ لا کر دے دیا۔ پہنا تو قمیص ٹخنوں سے بھی نیچے تک آئی لیکن غنیمت جانا۔ شکریہ ادا کر کے جانے لگا تو اس نے کہا میری امی نے کہا ہے گھر کے اندر آؤ۔ حیران و پریشان اندر گیا تو تخت پر کھانا رکھا ہوا تھا اور ساتھ والے تخت پر ایک ادھیڑ عمر خاتون چادر لپیٹے مکمل پردے میں براجمان تھیں۔ سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور ٹوٹی پھوٹی اردو میں کہا شرماؤ مت میں تمہارا" ماں" ہوں …اور میں قتل ہو گیا۔ اس مسافرت اور دربدری میں "ماں" ہی تو سب سے بڑی کمی اور سب سے بڑی یاد تھی۔  وہ ہجرت کے زمانے میں پشاور رہے تھے تو انہیں کچھ اردو آتی تھی۔ وہ مجھ سے مسلسل باتیں کرتی رہیں  اور میں روتا رہا۔ وہ بار بار مجھے کہتی میں تمہارا ماں ہوں اور میں مزید رو پڑتا۔ دودھ والی چائے خاص طور سے بنوائی اور مجھے کہا "آپ تو اس کے لئے اداس ہوںگے آپ کی امی آپ کو دودھ والی چائے پلاتی ہوگی یہاں اس کا رواج نہیں میں نے تمہارے لیے بنوائی ہے میں تمہارا ماں ہوں نا"۔میں اس زمانے میں چائے بالکل نہیں پیتا تھا مگر وہ بہت اچھی لگی۔ ماں نے جو پلائی۔ سچ اس دن اس ماں نے میری دِل جوئی کرتے کرتے مجھے بہت رُلا دیا۔

پھر انہوں نے کہا مسجد میں جا کر بیٹھو ابھی جانا مت۔ میں مسجد میں آ کر بیٹھ گیا۔ چند منٹ بعد ایک بزرگ آئے اور پشتو میں کچھ اعلان مسجد کے اسپیکر سے کیا۔ تھوڑی دیر میں بچوں کا ایک نورانی لشکر مسجد میں در آیا۔ خوبصورت عمامے باندھے بچے با ادب اندر آئے۔ ہر بچہ آ کر سلام کرتا۔ ہاتھ پر بوسہ دیتا اور سامنے صف میں بیٹھ جاتا۔ کچھ دیر بعد بزرگوں کی آمد شروع ہوئی۔ ہر آنے والے کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا خوان، ایک روٹی، ساتھ میسر ترکاری اور لَسّی۔ ایک صف پر یہ سب کچھ رکھ دیا گیا اور میری قندوزی امی کے بڑے بیٹے میراعظم نے مجھے آ کر کہا:

 ہر گھر سے آنے والا کھانا تھوڑا تھوڑا کھا لو۔ جس برتن سے تم نے نہ کھایا اس گھر میں آج ماتم ہوجائے گا۔

بیس سے زائد خوان تھے ہر ایک سے محبت کی خیرات چُگ لی۔ بچے اٹھے اور ایک بار پھر سلام اور بوسے دے کر برتن لے کر چلتے بنے اور بزرگوں نے کپڑے وارنے شروع کر دئیے۔ کم وبیش بیس جوڑے بغیر سلے اور اتنی ہی چادریں ملیں۔ میں حیران واپس آ گیا۔ مہینے سے زیادہ وقت قندوز میں رہنا ہوا مگر میں نے امی کا دیا ہوا وہ لمبا کرتا ہی پہنے رکھا، اسے بعد میں بھی کئی بار پہنا اور پھر چھوٹے بھائی نے محبت کی وہ نشانی مجھ سے لے لی۔

 افغانستان کے بے رحم اور بے وفا شمال میں قندوز نامی ایک وفاء کا جزیرہ اسی طرح مجاھدین اور جہاد سے اپنی وفا نبھاتا رہا اور امارت کے مرکز سے زمینی طور پر کٹے ہوئے مجاھدین کے لئے محفوظ چھائونی بنا رہا۔ امارت پر حملہ ہوا تو شروع دن سے اس کی برکات سے مستفید ہورہے کئی شہروں نے بھی بے وفائی کرلی اور مجاہدین کے خلاف ہوگئے لیکن قندوز وفاء پر قائم رہا اور آج تک اسلام اور اسلام کے خادموں سے اپنی وفاء کی قیمت چکا رہا ہے۔ اس نے امریکی حملے میں بھی سب سے زیادہ آگ و بارود کو سہا۔ سب سے زیادہ خون شہداء کو اپنی مٹی میں جذب کیا اور سینکڑوں شہیدوں کو اپنا مستقل مکین بنایا۔ وہ آج بھی شمال میں اسلام کی امید اور فتوحات کا مرکز ہے۔ وہ میری امی جیسی ماؤں اور مجاہدین پر محبت کے پھول نچھاور کرنے والے معصوم بچوں کا شہر ہے۔ ان ماؤں اور بچوں کو اسی جرم کی سزا دی گئی۔ میری آنکھوں سے قندوز کو دیکھو تو سوال نہیں اٹھے گا کہ قندوز اور اس کے معصوم بچوں کے ساتھ ہی یہ سلوک کیوں ہوا؟

قندوز کی ماں اور وہ بچے بہت یاد آئے، بہت یاد آ رہے ہیں۔

ختم قرآن اور دستار بندی کے دن سے میں بھی گذرا ہوں اور آپ میں سے بھی ان گنت لوگ گذرے ہوں گے۔ اس دن بچے کے کیا جذبات اور ولولے ہوتے ہیں؟ ماں اس دن کے لئے اپنے شہزادوں کو کیسے ارمانوں سے سنوارتی ہے اور باپ کس فخر کے ساتھ اپنے دولہا کا ہاتھ پکڑ کر اسے مجلس میں لاتا ہے۔ بچے کا نام پکارا جاتا ہے تو باپ کی آنکھوں سے کیسے بے ساختہ آنسو ٹپک پڑتے ہیں ہم نے یہ سب دیکھا ہے۔ اورپھر اگر اسی دن ان شہزاوں کو کفنانا دفنانا پڑ جائے تو ماں پاب پر کیا گذر گئی ہو گی۔ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

یہ سب کچھ دُکھی کرنے والا ہے لیکن ایک بات تو ہے جو غم کو کم کرتی ہے۔ قندوز والے بہت غیور ہیں وہ اپنا انتقام نہیں بھولیں گے اور ہم عنقریب ان شاء اللہ ، دشمنانِ اِسلام کو اس آگ میں جلتا دیکھیں گے۔ جو قندوز ہمارے دِلوں میں بَستا ہے وہ کبھی اپنا انتقام فراموش نہیں کرے گا۔

قندوز کا پانی بہت شیریں ہے۔ اس کے پھل بہت میٹھے ہیں۔اس کی مٹی بہت نرم اور اس کے لوگ بہت محبت والے ہیں لیکن اس کا انتقام بہت کڑوا ہو گا، انتہائی کڑوا۔ قندوز کو خوشی کے دن غم میں مبتلا کرنے والے بھول رہے ہیں کہ گہرے زخم کی ٹیسیں بہت دیرپا ہوا کرتی ہیں اور ان کی کسک جلد مندمل نہیں ہوتی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online