Bismillah

659

۳تا۹محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۴تا۲۰ستمبر۲۰۱۸ء

عشر…زمین میں اللہ کا حق (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 642 (Talha-us-Saif) - Ushar

عشر…زمین میں اللہ کا حق

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 642)

پہلے ایک حدیث شریف کا مفہوم پڑھ لیں:

’’اللہ رب العزت اہل جہنم میں سے ایک شخص سے سوال کریں گے کہ  اگر میں تجھے جہنم سے نجات دے دوں تو کیا تو فدیے میں زمین سونے سے بھر دے گا؟ وہ کہے گا ہاں میں دوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو جھوٹ بولتا ہے میں نے تجھ سے اس سے کم مانگا تھا مگر تو نے نہیں دیا (المستدرک ،نسائی،ابوعوانہ)

مال کی زکوٰۃ اور کھیتی کا عُشر اللہ رب العزت کی طرف سے بندے پر فرض ہے، اللہ رب العزت نے حکم فرمایا ہے کہ ’’آتواحقہ یوم حصادہ‘‘ کھیتی کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو اور اس کا حق یہ ہے کہ اس کا عُشر ادا کیا جائے، اللہ رب العزت نے یہ کھیت اور کھلیان اپنی رحمت سے عطا فرمائے ہیں، ہم ایک دانہ زمین میں ڈالتے ہیں اور معمولی سی محنت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس ایک دانے سے ہمیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں عطاء فرماتے ہیں، حق تو یہ تھا کہ اللہ رب العزت ہمیں اس میں بقدر گزارہ عطا ء فرماتے جیسے کہ مزدور کو مزدوری دی جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا اور پورا ہمیں عطاء فرماکر معمولی سا حصہ مانگ لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نام پر دے دیا جائے۔ اگر کوئی انسان اس پر شکر کرکے عاجزی کے ساتھ اور دل کی خوشی کے ساتھ اتنا معمولی سا مال بھی نہ دے اور اس پر دل کی تنگی محسوس کرے تو وہ شاید انسان کہلانے کا بھی حق دار نہیں ، یہ اعلیٰ درجے کی کم ظرفی اور احسان فراموشی ہے ،نمک حرامی ہے۔ بندگی ہرگز نہیں ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے مسلمان کسان بھائیوں کی اکثریت اپنایہ اِسلامی، اَخلاقی اور اِیمانی فریضہ ادا کرنا تو دور کی بات اس کی فرضیت اور نصاب کے بارے میں ہی لا علم ہیں۔ ’’الرحمت‘‘  نے اللہ رب العزت کے عائد کردہ اس فریضہ کے اِحیاء اور عامۃ المسلمین کو اس فرض سے روشناس کرانے کا بیڑہ اٹھایا اور مسائلِ عُشر پر مشتمل ایک مفصل رسالہ شائع کرکے ہزاروں کی تعداد میں مفت تقسیم کیا اور علمائِ کرام کو ساتھ لے کر بھرپور مہم چلائی اور گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل یہ مہم چلائی جا رہی ہے، الحمدللہ اس محنت کے بہت مُثبت اَثرات سامنے آئے اور ہزاروں اہلِ ایمان اس فریضے سے روشناس ہوئے اور اب چندسالوں کی محنت سے کئی مقامات پر یہ حالت ہوگئی ہے کہ اہل علاقہ اجتماعی طور پر عُشر نکالتے ہیں اور اللہ رب العزت کے راستے میں خرچ کرتے ہیں لیکن ابھی بھی بہر حال اس میں بہت کمی باقی ہے، بندہ کا اس مہم کے سلسلے میں کئی بار مختلف علاقوں میں جانا ہوا، مثبت اثرات تو الحمدللہ بہت نظر آئے لیکن ایک تاثر اب بھی یہ باقی ہے کہ لوگ عُشر صرف گندم میں فرض سمجھتے ہیں اور کسی حد تک ادا بھی کرنے لگے ہیں مگر دیگر اَجناس میں اس کا اہتمام نہیں کرتے حالانکہ عشر تو ہر جنس میں لازم ہے ۔ اس لئے مزید محنت کرنے اور اس پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ ’’الرحمت‘‘ کے رضا کار جس کام میں لگے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ مزید محنت کریں اور کسان بھائیوں کو مکمل مسائل سے آگاہ کریں ۔ آج کل مسلمانوں کے اس طبقے کے حالات کافی دِگرگوں ہیں۔ اس خرابیٔ حالات کا ذمہ دار صرف حکومتوں کی کسان کش پالیسیوں کو ٹھہرا کر دل پشوری کرلی جاتی ہے۔ حکومت کی غلط کاریاں منجملہ اسباب سہی لیکن ہر مسلمان کو ایسی مشکلات وآفات میں سب سے پہلے جو بات سوچنے کا حکم ہے وہ یہ ہے کہ

" اے انسان تجھے جو بھلائی پہنچتی ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے وہ تیرے نفس کی طرف سے ہے" (النساء )

یعنی بُرے حالات کا سبب سب سے پہلے اپنے اندر تلاش کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کی پیداوار میں بہت معمولی سا حصہ لازم فرمایا ہے لیکن کتنے لوگ ہیں جو اس امر کی پابندی کرتے ہوں؟ اگر کسی حد تک ادائیگی ہوتی بھی ہے تو صرف گندم یا ایک آدھ دیگر فصل میں۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے اس حق کے ساتھ کسان برادری کا جو رویہ ہے اس کے پیش نظر تو تباہی بربادی کے کسی سبب کی تلاش ہی بیکار ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق دے اور یہ محنتی لوگ اس حق کی ادائیگی پر کمربستہ ہوجائیں تو دِنوں میں حالات کو اپنے حق میں بدلتے دیکھ لیں۔ لیکن عشر سے عمومی غفلت اور سود کے عمومی چلن نے اس پاک رزق کمانے والے طبقے کو معاشی بدحالی اور پریشانی کا نشانہ بنا دیا ہے۔ چند سال قبل پنجاب کے ایک گائوں میں جانا ہوا تھا غالبا ًاس وقت اس پر مختصر سا کالم بھی لکھا تھا۔اس گائوں میں کچھ اہل ایمان کی محنت سے یہ ماحول بنا ہوا تھا کہ تقریباً تمام زمیندار عشر کی پابندی کررہے تھے اور زمین سے نکلنے والی ہر پیداوار میں مکمل اہتمام کے ساتھ یہ حق ادا کر رہے تھے۔ مسجد میں حاضر ان تمام لوگوں نے گواہی دی کہ اس گائوں کی پیداوار اِردگرد کے دیگر علاقوں سے اس قدر زیادہ ہے کہ شہرت سن کر محکمہ زراعت والے یہ تحقیق کرنے چلے آئے تھے کہ شاید مٹی پانی کھاد بیج وغیرہ کے فرق کی وجہ سے ایسا ہورہا ہے۔ لیکن ظاہری اسباب میں کچھ فرق نہ نکلا بس فرق تھا تو یہی کہ اس جگہ زمین سے اللہ تعالیٰ کا حق اہتمام سے ادا کیا جارہا تھا۔ اس معاملے کو دیکھ کر جماعت کی اس مہم پر الحمدللہ مزید شرح صدر ہوا اور ان ساتھیوں پر رشک آیا جو اُمت میں اس عمل کو زندہ کرنے کی محنت کررہے ہیں۔

لیکن ابھی بھی بہت کام باقی ہے۔ اُمت کے اس محنتی طبقے میں شعور بیدار کرنے، انہیں مسائل سے آگاہ کرنے اور یہ یقین دِلانے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس حق کی ادائیگی ان کی پیداوار کو کم نہیں کرے گی بلکہ اس میں برکت کا ذریعہ بنے گی تاکہ وہ خوش دِلی سے یہ فرض نبھائیں اور بُرے حالات سے نجات پائیں۔

ابھی گندم کا سیزن ہے، وہ مسلمان بھائی جنہیں اللہ رب العزت گندم کی فصل عطاء فرمائیں وہ اس فریضے کو نہ بھولیں اور سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کریں ۔کئی سالوں سے اس طبقے نے ’’الرحمت‘‘ پر اس فریضے کی ادائیگی کے سلسلے میں اعتماد کیا ہے اور ہر سال اس میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ رضا کار خود جا کر عشر وصول کرتے ہیں، پھر اسے شریعت کے اصولوں کے مطابق مکمل نگرانی میں مصارف تک پہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں، درجنوں مدارس،کئی بڑے بڑے دینی مراکز اور شہدائِ کرام، اسیران اسلام، فدائی مجاہدین کے گھرانوں کا سال بھر کھانے کا دارومدار ان مخلص رضا کاروں کی محنت اور اہل ایمان کے تعاون پر ہے۔ اس لیے وہ تمام اہل ایمان جو یہ فریضہ بجا لانے کا عزم کر چکے ہیں مکمل اعتماد اور وثوق کے ساتھ اپنی امانت ’’الرحمت‘‘ کے رضا کاروں کے حوالے کریں اور یقین رکھیں کہ اس کا دانہ بھی نہ ضائع ہوگا اور نہ غلط استعمال ہوگا کیونکہ ان کی محنت کی بنیاد ہی دین کی خدمت اور اسلام کی سربلندی ہے۔

تو بس آج ہی کمر کس لیں ، یہ بابرکت باسعادت مہم جاری ہے اور تھوڑا ہی وقت باقی رہ گیا ہے۔آپ بھی پیچھے نہ رہ جائیں اس لیے کہ یہ آخرت کا میدان ہے جس میں سست چلنے کا نہیں، دوڑنے کا حکم ہے:

وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عرضہا السموات والارض اعدت للمتقین(آل عمران)

اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو اور بہشت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان اور زمین ہے جو پرہیز گاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online