Bismillah

651

۲۷شوال المکرم تا۳ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۳تا۱۹جولائی۲۰۱۸ء

قطعی دلیل (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 643 (Talha-us-Saif) - Qatai Daleel

قطعی دلیل

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 643)

’’جہاد‘‘ کی طرف نوجوانوں کے میلان کا بڑا سبب معاشرے میں پھیلی غربت، جہالت اور بے روزگاری ہے‘‘…

یہ بات آپ نے کئی بار پڑھی ہو گی، دانش خوروں کے منہ سے متواتر سنی ہوگی،اس موضوع پر ہونے والے سیمینار دیکھے ہوں گے اور حکمرانوں کو اس کے علاج کے لئے فنڈز مختص کرتے بھی دیکھا ہو گا۔

لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ بات اتنی ہی درست ہے جتنی یہ کہ

٭نواز شریف چور نہیں…

٭آصف علی زرداری ایک ایماندار آدمی ہے…

٭جمہوریت ایک بہترین طرز حکومت ہے…

٭سیاستدان ملک کے ساتھ مخلص ہیں…

٭لبرلز انسان دوست لوگ ہیں…

٭جاوید احمد غامدی ایک اسلامی سکالر ہے…

اور

مولوی دنیا کی ترقی میں رکاوٹ ہیں…وغیرہ

اور پھر جب پروفیسر رفیع بٹ،افضل گورواور شوکت وانی جیسے لوگ میدانوں کا رخ کر لیتے ہیں تو ویسے ہی اس بات کا جھوٹ ہونا،وہم اور بے بنیاد ہونا ثابت ہوجاتاہے…

دنیا بھر میں جہادی تحریکات سے اس وقت جو طبقہ وابستہ ہے اور تیزی سے ہو رہا ہے وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سرتاپاجدیدیت کے رنگ میں رنگا ہوا طبقہ ہے جواَب اس رنگ سے آزاد ہو کر شعوری طور پر یہ سمجھ رہا ہے کہ امت کے مسائل کا حل اگر کسی عمل میں مضمر ہے تو وہ صرف جہاد کا عمل ہے۔ یہ طبقہ نہ سیاست سے نابلد ہے نہ جدید معاشرت کے اصول و ضوابط سے۔ اسے عالمی حالات کا مکمل اِدراک ہے۔ یہ مسائل کی حقیقی بنیادوں کو جانتا ہے اور ان کے جتنے بھی ممکنہ حل تجویز کئے جاتے ہیں ان تمام کو عملی طور پر پرکھ بھی چکا ہے۔ اگر معاشی ترقی کو اُمت کے مسائل کا حل قرار دیا جاتا ہے تو یہ زمانہ حاضر کی معیشت کی رگوں سے واقف ہے اور ایقان کے ساتھ جانتا ہے کہ یہ مسئلے کا حل نہیں۔ اگر کوئی سیاست حاضرہ میں رسوخ کو حل گردانتا ہے تو یہ سیاست کے باب میں دفتروں کے دفتر کھنگال کر اور عملی طور پر اس جدوجہد کا حصہ رہ کر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسئلے کا حل یہاں نہیں ہے۔ اگر کسی کا دعویٰ ہے کہ جدید علوم میں مہارت سے اُمت اپنا کھویا ہوا مقام واپس پا سکتی ہے تو یہ محض نظری طور پر نہیں عملی طور پر ان علوم کے اعلیٰ ترین درجات پر پہنچ کر یہ فیصلہ کر کے لوٹ آئے ہیں کہ یہ دعویٰ محض ایک سراب ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کے اس شعور و ایقان کو نہ محض اٹکلوں سے رد کیا جاسکتا ہے، نہ محض نظری اور خیالی دلیلوں سے۔ اور اگر مثالیت کوئی دلیل ہے تو پھر سب سے بڑی دلیل تو ہے ہی ان کے ہاتھ میں…

وہ کیسے؟…

زمانے سے ہی پوچھ لیتے ہیں۔ وہ سچی گواہی دے گا…

پہلا گواہ اسلام کا صدر اول۔ ابتدائی زمانہ نہ تو غلبے کا زمانہ ہے نہ اقتدار کا۔ وہ تو ایک شدید ابتلاء اور کسمپرسی کا زمانہ ہے۔ کمزوری عروج پر ہے اور ضعف انتہا پر۔ نہ زمین ہے نہ جائے پناہ۔ قرآن خود وہ وقت یاد دلاتا ہے…

’’یاد کرو جب تم تھوڑے تھے، زمین میں انتہائی کمزور، ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اچانک اچک نہ لیں‘‘( الآیہ۔ الانفال)

یہ حالت طاقت، اقتدار ، غلبے اور تمکین فی الارض سے تبدیل ہوئی۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے، مگر کیسے ہوئی؟…

ہم جب غالب ہوئے معاشی غلبہ اس وقت بھی کفار کا تھا اس لئے فتح کے بعد جب انہیں مکہ مکرمہ سے نکال باہر کرنے کا حکم آ گیا تو معاشی پریشانی کا خوف مسلمانوں کو ستا رہا تھا۔ ہم ان اقوام پر غالب آئے تھے جو سیاست و معاشرت میں فارس، عسکریت و مادیت میں روم اور تجارت و معیشت میں مشرکین مکہ تھے۔ ہم ان میں سے کسی کے بھی ہم پلہ تو کیا قریب بھی نہ تھے۔ ان اقوام کی معیشت، معاشرت اور مادیت انہیں ہم سے نہ بچا سکی۔

دوسری گواہی فتنہ تاتار میں ہے۔ہم جس وقت دنیا کی سب سے مضبوط معیشت تھے۔ علوم کی تاجداری کا شرف ہمیں حاصل تھا۔ دنیا بھر میں ہماری معاشرت کا سکہ چل رہا تھا۔ ہم جب ایجادات کر رہے تھے اور عالم کو تحیر زدہ کر دینے والی تعمیرات۔ تب ہم پر کون غالب آئے تھے؟ ایک مکمل غلبہ جس نے ہم سے عزت و شرف کا ہر نشان چھین لیا تھا۔

وہ قوم نہ تو کوئی علم رکھتی تھی نہ کسی ہنر میں یکتا تھی۔ان کی تو معاشرت بہائم سے بھی بدتر تھی۔ نہ انہیں لباس کا شعور تھا نہ مکان کا۔ اور معیشت تو ان کے ہاں لاشئے تھی۔ تب کیا ہمارے علوم ، فنون ، ترقی ، ٹیکنالوجی، معاشری برتری ہمارے کسی کام آئی؟ کیا وہ ہمارے غلبے کی حفاظت کر سکی؟ کیا وہ ہماری جان و مال کا تحفظ کر سکی؟ کیا وہ ہماری عزتیں اور شعائر بچا سکی؟ زمانے کا ایک ہی جواب ہے کہ ’’ نہیں‘‘…

اور کیا تاتار کو کسی نے یہ درس دیا کہ زمانے میں غلبہ علوم و فنون و معیشت بنانے سے ہوتا ہے لہذا غلبہ پانا ہے تو اس کی فکر کرو؟…

تیسری گواہی جو اس سے بھی وقیع ہے وہ فتنہ تاتار سے نجات کی ہے۔

ہم نے اس فتنے سے خلاصی پائی، اس طوفان کا رخ موڑا، مغلوبیت سے نجات حاصل کی۔ چھن چکی خلافت بحال کی اور کوئی بہت طویل عرصے میں نہیں بلکہ محض دو سال میں…مگر کیسے؟

کیا امت نے بکھرا ہوا شیرازہ مجتمع کر کے معیشت کو مضبوط خطوط پر استوار کر دیا اور تاتاری بھاگ گئے؟…

کیا امت کے چنیدہ دماغ نئے علوم و فنون حاصل کرنے نکل گئے اور ان میں ایسی مہارت بہم پہنچائی کہ تاتاری تاب نہ لا سکے اور فرار ہوئے؟…

یا ہم نے میدان سیاست میں اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑ کر اقتدار حاصل کر لیا اور تاتاری منہ دیکھتے رہ گئے۔ یوں اقتدار سے محروم ہو کر خائب و خاسر ہوئے؟…

تاریخ تو یہاں ممالیک کے ’’جہاد ‘‘ کا ذکر چھیڑتی ہے۔ علوم و فنون و معیشت و سیاست کا نہیں…

چلئے چھوڑئے ماضی کی تمام گواہیوں کو

آج اس لمحہ موجود میں دنیا میں رول کون کرتا ہے؟

کیا وہی جس کے پاس ٹیکنالوجی سب سے بڑھ کر ہے؟

کیا وہی جو سب سے مضبوط معیشت کا حامل ہے؟

کیا وہی جس کا سیاسی نظام بہت مضبوط ہے؟

علوم و فنون میں ترقی کی سب سے اونچی منازل پر براجمان کئی ممالک ایسے ہیں جن کی بات کی وقعت کو دنیا میں گدھے کی آواز سے زیادہ وقعت حاصل نہیں۔ کتنے معیشت کی بلندیوں پر پرواز کرنے والے کمزور پرندوں سے بھی کمتر سمجھے جاتے ہیں۔ جن کے ہاں سیاست و جمہوریت عبادت کا درجہ رکھتے ہیں ان میں سے کتنے ایسے ہیں جن کے نام بھی دنیا میں کم لوگ جانتے ہیں۔

غلبہ آج بھی طاقت کا ہے۔ سربلندی آج بھی اسی کی ہے جو بزور بازو اسے حاصل کر لے۔ پھر معیشت بھی اسی کی طرف کھنچی چلی آتی ہے۔ معاشرت بھی اسی کی رائج ہو جاتی ہے۔ علوم و فنون کی مرجعیت بھی اسی کو مل جاتی ہے۔ غلبے سے یہ سب کچھ مل جاتا ہے لیکن ان کے ذریعے غلبہ مل جاتا ہو، عزت و سربلندی حاصل ہو جاتی ہو اس کی کوئی مثال تو تاریخ کے پاس محفوظ ہوتی، اگر موجود ہوتی…

پروفیسر رفیع بٹ شہید اور ان سے پہلے شوکت وانی اور افضل گورو شہید جیسے لوگوں کا شعور دراصل اسی تاریخ اور اٹل حقیقت کا آئینہ دار ہے۔ وہ ایک مضبوط حجت پر ہیں اور جو ان کے بارے میں حیران ہیں وہ حجت و برہان سے محروم ایک خیال اور ظن کا اتباع کر رہے ہیں۔

’’ اور بے شک وہم، حق کی جگہ کچھ کام نہیں آتا‘‘ ( النجم ۲۸)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online