Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

پرانے…… (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 644 (Talha-us-Saif) - Purane

پرانے……

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 644)

اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اگر کوئی ’’جہاد‘‘ کے ساتھ وابستہ ہے، اس کی یہ وابستگی شعوری ہے اور وہ چاہتا ہے کہ آخرت کے اس عظیم الشان سودے کے ساتھ تاحیات وابستہ رہے تو اسے کچھ لوگوں سے بچنا چاہیے…

٭جہاد کے خلاف وَساوس پھیلانے والے…

٭فاسد تلبیسات و نظریات عام کرنے والے…

٭بزدلی کے مارے دشمنوں کی طاقت، ٹیکنالوجی اور قوت کا پرچار کر کے مسلمانوں کو ڈرانے والے…

٭ قرآن مجید میں بیان فرمودہ علاماتِ نفاق کے حاملین خصوصاً جہاد فی سبیل اللہ اور مجاہدین کے بارے میں اُسی طرز کی باتیں کرنے والے…

٭ جہاد کے نام پر فساد ، خارجیت اور خونِ مسلم کی اِباحت کا نظریہ پھیلانے والے…

٭ کفار سے صرفِ نظر کر کے مسلمانوں کے خلاف سختی کے اَحکام کے پرچارک…

٭ جہاد کے لئے مخصوص اِیمان، مخصوص حالات اور مخصوص شرائط کا خود ساختہ معیار قائم کرنے والے…

لیکن ان سب سے بڑھ کر آج کل اُس طبقے سے بچنے کی ضرورت ہے جنہیں مجاہدین کی داخلی اِصطلاح میں ’’پرانے مجاہد‘‘ کہا جاتا ہے۔

پرانے کا ایک معنی تو بہت باعظمت ہے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جہاد میں ایک طویل زندگی عطاء فرمائی ہے۔ انہوں نے جہاد کے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کو صرف کیا ہے۔ وہ محاذوں کے مجاہد رہے، دعوتِ جہاد میں سبّاق رہے، انہوں نے جہاد میں اپنی قیمتی جوانی لٹائی، اپنے اَموال صرف کئے، اپنی بہترین صلاحتیں خرچ کیں، جہاد کے بدلتے حالات کا سامنا کیا، آسانی، راحت اور عزت ملی تو بھی جہاد کے ساتھ جڑے رہے اور مشکلات ، ملامتیں اور دھکے آئے تو بھی راستہ نہیں بدلا، ہوا موافق چلی تو بھی صفِّ جہاد میں نظر آئے اور مخالفتوں کی آندھیاں آئیں تو بھی صف نہیں بدلی، بنیان مرصوص بنے رہے، انہوں نے حالات سے سمجھوتے نہیں کئے بلکہ ہمیشہ حالات کو اپنے نظرئیے کے مطابق ڈھال لیا، اُن کی داڑھیاں جہاد کے میدانوں میں اُگیں پھر ان میں سفیدی کا نور آ گیا، انہوں نے اپنی نسبت نہیںبدلی۔ اس راہ کے ہر پتھر کو چوما، ہر ملامت کو سہا، ہر طعنے کو پیار کیا اور ہر اِلزام کو تمغہ سمجھ کر سینے پر سجایا۔ ’’ولا یخافون لومۃ لائم ‘‘ سچے مجاہدین کی علامت کے طور پر قرآن مجید میں مذکور ہے، پھر وہ اس سے گریزاں ہو کر اپنا راستہ کیوں کھوٹا کرتے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن مجید سے جہاد کی حقیقی روح کو سمجھا۔

’’ اے ایمان والو! صبر کرو اور مقابلہ میں مضبوط رہو اور لگے رہو‘‘ ( آل عمران)

جہاد میں آ کر صبر کرنے والے بھی بہت، مقابلے میں ثابت قدمی کے جو ہر دِکھانے والے بھی کثیر لیکن یہ تیسری بات کڑی ہے اور اس پر پورا اُترنے والے قلیل۔ ’’لگے رہو‘‘ یعنی یہ کام نہ چھوٹے اور یہ تعارف نہ بدلے۔ یہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی طرح سو سے زائد عمر ہو کر بھی میدانوں میں رہتے ہیں اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کی طرح چلنے سے عاجز ہو جائیں تو تخت نشین ہو کر بھی مجاہد میں رہتے ہیں۔ یہ ملا عمر ہیں اور کہیں جلال الدین حقانی اور ان جیسے کئی اور جن کا کل اور آج اگر مسلمانوں اور کفار کے ہاں کوئی تعارف ہے تو صرف اورصرف جہاد ہے۔ اگر کوئی ان سے محبت کرتا ہے تو صرف اسی عنوان سے اور اگر وہ کسی کے دل میں کھٹکتے ہیں تو بھی صرف اسی وجہ سے۔ یہ پرانے تو اسلام کا فخر اور جہاد کا مان ہیں۔ ان کے لئے قرآن کی خوشخبریاں ہیں۔

کچھ ’’پرانے‘‘ اس معنی میں پرانے ہوتے ہیں جیسے کباڑ کے کمرے میں رکھی ہوئی پرانی چیز۔ جو بس پرانی ہوتی ہے کسی کام کی نہیں ہوتی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے جہاد کیا۔ جہاد میں کارنامے کئے اور نام کمایا۔ لیکن پھر حالات بدلے تو وہ ’’لگے رہو‘‘ کی اصل روحِ جہاد پر کاربند نہ رہ سکے اور انہوں نے اپنے لئے کوئی اور کام، کوئی دوسرا راستہ اپنا لیا۔ اس حد تک خیر تھی کہ اگر اسی حد تک رہی ہوتی لیکن چونکہ جہاد سے روگردانی اختیار کر لینا ان کا عیب تھا اور اس عیب کی وجوہات اُنہی میں سے ایک یا چند تھیں جو سورۃ التوبہ میں بیان ہوئیں تو انہوں  نے جہاد اور مجاہدین کو اپنی زبان و قلم کا ہدف بنا لیا یا اپنی سابقہ جہادی خدمات کو دنیا کمانے او رنام بنانے کا ذریعہ۔ اب ان میں سے کئی مجاہدین کے خلاف مخبر ہیں، کئی جہاد اور مجاہدین پر اعتراضات ایجاد کر کے لوگوں کو جہاد سے گمراہ کرنے کا کام کر رہے ہیں اور سب سے خطرناک وہ ہیں جو اپنے اس پرانے پن کو جہاد کے خلاف فتویٰ بازی اور رائے سازی کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ جہاد کے خلاف کوئی فتویٰ لانا ہو، ان کی خدمات حاضر ہیں، کوئی متفقہ قرارداد منظور کرانی ہو یہ دستیاب ہیں۔ کوئی سرکاری ’’پیغام ‘‘ جاری کرانا ہو فوراً حاضر ہیں۔ میڈیا پر جہاد کا ایسا رُخ پیش کرنا ہو جو اسلام کے نظریہ جہاد کے خلاف ہو، یہ چوبیس گھنٹے مُعَمَّمْ مُوَسْکَٹْ مُخَضَّبْ تیار ملیں گے۔ جدہ سے جکارتہ تک یہ باور کراتے پھرتے ہیں کہ ہم ’’پرانے‘‘ ہیں اس لئے قیمتی ہیں،قیمت لگائی جائے اور حق میں بیان لے لئے جائیں۔ چونکہ پرانے ہیں اس لئے جس کی حمایت کردیں گے وہ طاقتور ہو جائے گا اور جس کے خلاف بول پڑیں گے اس پر دہشت سے رعشہ طاری ہو جائے گا۔ جو بات کردیں گے وہ مجاہدین کے ضمیر کی ترجمانی سمجھی جائے اور جو پالیسی وضع کریں گے وہ مجاہدوں کے دلوں کی آواز باور کرلی جائے گی۔ حالانکہ اب جہاد اور مجاہدین کے ساتھ ان کا تعلق محض اتنا ہی رہ گیا ہے جتنا تعلق سٹور میں پڑے پرانے سامان کا گھر سے ہوتا ہے اور ان کی بات کی وقعت بھی اتنی ہی رہ گئی ہے جتنی اولڈ ہوم میں رکھے کسی لاوارث بابے کی بات کی۔ آپ سیاست کا جھنڈا پکڑانا چاہیں یا سماجی خدمات کا، صحافت کی گندگی میں لت پت کرنا چاہیں یا دانشوری کے سنگھاسن پر بٹھانا چاہیں یہ بیرنگ لفافے ہر مہر کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کئے حاضر ہیں۔ یہ محض اپنے سابقہ اور پرانے پن کے بل بوتے ہی کئی قسم کے ’’تحفظ‘‘ کی ذمہ داریاں بھی سنبھالے ہوئے ہیں اور کئی جگہوں کے ’’دفاع‘‘ کی بھی۔ کئی لاکھ خرچ کر کے ایک اچھا سا میڈیا بریفنگ روم، اس کی دیواروں پر چند نقشے اور ایک بڑی سکرین اور لفافے بھیج کر بلائے گئے صحافی، ان صحافیوں کوا چھی جگہ خبر لگانے کے لیے دی گئی موٹی رقم اور پھر جہاد کے بارے میں وہ دُرفشانیاں اور گوہرافشانیاں کے میدانوں کے غازی اور کفر کی آنکھوں میں چبھنے والے حقیقی مجاہدین بھی انگشت بدنداں رہ جائیں۔بابرکت اتنے ہیں کہ کسی اچھے خاصے پر امن ملک میں جا کر فدائی حملوں کے خلاف فتویٰ جاری کرائیں تو وہاں خودکش دھماکے رکنے میں نہ آئیں۔

آہ! انہوں نے کیا بیچ دیا اور کتنا اَرزاں بیچ دیا۔ یہ ’’پرانے ‘‘ (یعنی بیکار) نہ بنتے بلکہ قدیم مجاہد بنتے اور جہاد سے ہی جڑے رہتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی آواز کو ان اسباب کے بغیر کفر کے ایوانوں تک پہنچاتا، ان کا رُعب قائم فرماتا۔ خدا کی قسم! اللہ کے دین کے سچے مجاہد تو آج بھی کسی کچی کوٹھڑی سے ایک بیان جاری کرتے ہیں، امریکہ اور انڈیا کا میڈیا اسے گھنٹوں خود اپنے عوام تک پہنچاتا ہے اور ان فقیروں کے اِبلاغ کا ذریعہ بنتا ہے۔ان کا لکھا بولا ایک ایک لفظ کفر کے خرچے پر کفر ہر گھر تک پہنچتا ہے۔ ان میں کچھ اپنے اسی پرانے پن کے تجربات کی بنیاد پر بزعم خود’’ مجدد الف و نصف‘‘ ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے جب چاہتے ہیں اقوام متحدہ تک کو ہلا دیتے ہیں۔تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ جہاد اور مجاہدین کے بار ے میں جتنی زہریلی اور نفرت آمیز ذہنیت ان ’’پرانوں‘‘ کے متعلقین ، متوسلین ، تلامذہ اور فالورز رکھتے ہیں اتنی لبرلز اور غامدیوں میںبھی نہیں پائی جاتی۔ وجہ وہی ہے کہ انہوں نے اپنے اس عیب کی پردہ پوشی اس زہریلی ذہن ساز ی کے ذریعے کی ہے۔

کراچی کی ایک دیوار پر ایک ’’پرانے‘‘ کا مقولہ پڑھا تھا۔ ’’ غلامی کے دنوں کے پراٹھے کھانے سے بہتر ہے ہم آزادی کے ساتھ سوکھی روٹی پر گذارا کر لیں‘‘…

اگر ’’پرانے ‘‘ہونے والے اسی مقولے پر جہاد کے حوالے سے بھی عمل کر لیا کریں اور جہاد کی سوکھی روٹی اور ملامت والی زندگی کو ’’پیغام‘‘،’’ دفاع‘‘ اور’’تحفظ‘‘ کے پراٹھوں اور جھوٹی میڈیائی عزت پر ترجیح دیا کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں پرانا نہیںہونے دیں گے۔

ان سے بچئے! یہ جہاد کے لئے اور مجاہدین کے لئے سب خطرناک دشمن ہیں۔ یہ جہاد سے جڑے لوگوں کو اپنی ذات کا حوالہ دے کر جہاد سے دور ہٹاتے ہیں کہ ایسے پرانے لوگ آخر کس وجہ سے جہاد سے دور ہوئے؟ ضرور کوئی معقول وجہ ہو گی حالانکہ کل تک یہی لوگ کہا کرتے تھے جہاد قیامت تک برابر جاری رہے گا۔ ان کے دھوکے میں نہ آیئے اور انہیں وہی پرانا مال سمجھئے جو کام کا نہیں رہا تو جہاد نے خود اسے میدان سے باہر پھینک دیا اور جو کام کا رہا وہ کتنی بھی عمر کو پہنچا، کتنا بھی پرانا ہوا جہاد اس کا تعارف بنا رہا اور ا سکی شان بنائے رکھی۔

ایک پرانا مجاہد جلال الدین حقانی ہے اور ایک پرانا مجاہد برہان الدین ربانی تھا۔ بس اس فرق کو ذہن میں رکھئے اور چند باتیں بطور نظریہ دل و دماغ پر نقش کر لیجئے۔

جہاد اللہ کا حکم ہے…

جہاد دجال کے قتل تک برابر جاری رہے گا، روئے زمین پر ایک دن بھی اس وقت تک ایسا نہیں آ سکتا جب حق کی خاطر جہاد کرنے والی جماعت کا زمین پر وجود نہ ہو اور جہاد نہ ہو رہا ہو…

مجاہدین کے اُمراء صالحین ہوں یا کمزور اَعمال والے بہرحال ان کے ساتھ مل کر جہاد کو جاری رکھنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے…

جہاد نہ کسی کی حمایت سے ناپاک ہوتا ہے اور نہ کسی کی معاونت سے مشکوک۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ کا شہکار ہے کہ وہ اپنے جانثار مجاہدوں کے لیے ان قوتوں کی مجبور کرکے مسخر کردیتا ہے اور محض اپنی نصرت کے بھروسے پر بے سر وسامان جہادشروع کرنے والوں کو اپنے دشمنوں کے ذریعے باوسائل کردیتا ہے۔ جہاد کا حق ہونا مجاہد کے نظریے ، تحریک کے مقاصد اور مجاہدین کے عمل سے پہچانا جاتا ہے، حامیوں اور مخالفوں سے نہیں…

اور جہاد کرنے، سمجھنے اور اپنانے کے لئے مثال اور اُسوہ پرانے ہو کر جہاد چھوڑ جانے والے نہیں بلکہ وہ ہیں جو اس حکم قرآنی کی روح کو اپنا کر ہمیشہ اور ہر طرح کے حالات میں جہاد کے ساتھ جڑے رہنے والے لوگ ہیں۔

’’اے ایمان والو! صبر کرو مقابلے میں ڈٹے رہو اور لگے رہو‘‘ ( آل عمران)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online