Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

انفاق فی سبیل اللہ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 648 (Talha-us-Saif) - Infaq Fi Sbilillah

انفاق فی سبیل اللہ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 648)

رمضان المبارک میں جہاں مسلمان عموماً نیک کاموں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ان میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہیں ایک خاص عمل جس کی ادائیگی رمضان میں زیادہ ہوتی ہے زکوٰۃ اور اِنفاق فی سبیل اللہ کا عمل ہے۔ اسی مقصد سے جماعت کی طرف سے انفاق فی سبیل اللہ مہم کیلئے اسی ماہ مبارک کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اب رمضان المبارک اپنے اِختتامی اَیام سے گذر رہا ہے اور پورا مہینہ القلم میں مضامین کے ذریعے اس عمل کی فضیلت واہمیت پر مضامین آتے رہے۔ اس وقت اس یاد دِہانی کا مقصد ایک تو یہ ہے کہ باقی وقت اس عمل میں مزید حصہ شامل کرنے کی تحریض ہوجائے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہم سب سمجھ لیں کہ یہ عمل صرف رمضان المبارک یا ایک مہم تک محدود نہیں بلکہ جس طرح جہاد ہر وقت جاری ہے اسی طرح اس عمل کی تاکید بھی ہر وقت ہے۔ اِنفاق فی سبیل اللہ، اللہ تعالیٰ کے محبوب اَعمال میں سے ایک ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی ترغیب اور فضائل پر درجنوں آیات اور سینکڑوں صحیح احادیث وارد ہیں۔ انسان چونکہ طبعاً مال پر حریص ہے اور اس کی محبت میں بھی گرفتار رہتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسے اس قدر ے مشکل عمل پر اُبھارنے کیلئے عجیب اُسلوب اِختیار فرمایا ہے کہ یہ مال اس سے بطور قرض مانگتے ہیںاور پھر قرض کی ادائیگی بھی برابری کی سطح پر نہیں بلکہ بڑھا کر کرنے کا وعدہ فرماتے ہیں۔ انسان اپنے مال کو بڑھانے کے لئے دُنیا میں یہی صورت حرام طریقے پر اختیار کرتا ہے اور سود اور ظلم کی برائی میں گرفتار ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے اِسلامی بینکنگ سکھا دی کہ تم اگر چاہو کہ تمہارا مال بڑھتا رہے اور اضعافاً مضاعفۃً اس میں اضافہ ہوتا رہے تو تم اسے اللہ کے راستے میں خرچ کردو۔ اس طرح یہ مال کبھی ضائع نہیں ہوگا اور تم آسودگی کے ساتھ زندگی گزار سکو گے۔

دوسرا حسین اسلوب یہ اختیار فرمایا کہ اِنفاق فی سبیل اللہ کو ایک کامیاب تجارت قرار دیا۔ انسان اپنا مال محفوظ رکھنے اور اس میں بڑھوتری کے لئے جو ذرائع استعمال کرتا ہے ان میں بہترین ذریعہ تجارت ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی ایسی تجارت میں مال لگا دے جہاں ضائع ہونے کی اندیشہ بھی نہ ہو، نقصان کا احتمال بھی کم ہو اور منافع کی شرح زیادہ ہو۔ لیکن اس کے پیش نظر صرف دنیا کی چند روزہ زندگی ہوتی ہے کہ یہ کس طرح راحت و سکون سے گزر جائے جبکہ وہ اس زندگی کو فراموش کر دیتا ہے جو اس کا اصل مستقبل ہے اور ہے بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔ اس کا سکون اصل سکون اور اس کی کامیاب اصل کامیابی ہے۔  اللہ تعالیٰ نے اسے بتایاکہ تم اگر اس مال کو اللہ کے راستے میں جہاد میں خرچ کردو گے تو یہ تمہاری آخرت کی کامیابی کا ضامن بن جائیگا۔ دیکھئے سورۃ الصف… اور یہ تجارت ایسی ہے جس میں نقصان کا احتمال سرے سے ہے ہی نہیں کیونکہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔

یوں تو اِنفاق فی سبیل اللہ کا مصداق عام لیا جاتا ہے کہ دین کے کسی بھی کام پر مال خرچ کرنا انفاق فی سبیل اللہ ہے لیکن یہ بات مصدقہ اور تسلیم شدہ ہے کہ اس باب میں وارد ہونے والی آیات اور احادیث کا اولین مصداق جہاد فی سبیل اللہ یعنی اللہ کے راستے میں لڑائی پر مال خرچ کرنا ہے۔ قرآن کریم میں مال خرچ کرنے کا حکم یا تو جان خرچ کرنے کے ساتھ مذکور ہے جو ظاہر ہے قتال سے ہی متعلق ہے، دیگر آیات جن میں مطلق اِنفاق کا حکم ہے ان کی تفسیر معتبر تفاسیر میں اِنفاق فی الجہاد سے کی گئی ہے۔

تفصیل کے لئے فتح الجوّاد میں ان آیات کے ذیل میں ملاحظہ فرما لیں اور جو حضرات عربی جانتے ہوں وہ تفسیر ابن کثیر، روح المعانی، البحر المحیط اور قرطبی وغیرہ میں دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح حدیث کی کتب میں اِنفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب یا فضائل پر مشتمل احادیث کو کتاب الجہاد، کتاب السیراور کتاب المغازی میں ذکر کیا جاتا ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ محدثین کرام کے نزدیک انفاق فی سبیل اللہ کا اولین اور حقیقی مصداق انفاق فی القتال ہے۔

رأس المحدثین شارح بخاری علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف فتح الباری میں اسی تعامل کے پیش نظر لکھا ہے کہ لفظ فی سبیل اللہ کا اولین اور فوری ذہن میں آنے والا معنی جہاد فی سبیل اللہ  ہے۔ (فتح الباری ج۶ صفحہ ۲۹ ) اور یہ اصول اہل لغت کے ہاں طے شدہ ہے کہ لفظ کے حقیقی معنی وہی ہوتے ہیں جو فوری ذہن میں آجائیں۔ التبادر امارۃ الحقیقۃ

اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جو واقعات انفاق کے باب میں مشہور ہیں وہ زیادہ جہاد کے موقعوں پر ہی رونما ہوئے۔ مثلاً حضرت ابو بکر صدیقؓ کا اپنا تمام مال راہ خدا میں قربان کرنا، حضرت عمرفارقؓ کا نصف مال دینا، حضرت عثمان غنیؓ کا ایک ہزار دینار قدموں میں نچھاور کرکے جنت و رضاء مندی کی بشارتیں پانا اور آئندہ سرزد ہونے والی لغزشوں کی پیشگی معافی کا پروانہ حاصل کرنا اور اس طرح کے دیگر واقعات ۔اسی طرح ان مفلس صحابہ کرام کی عظیم قربانی جو انفاق کا ثواب حاصل کرنے کے لئے دن بھر مزدوری کرتے اور اس کی اجرت میں سے بچوں کی روٹی کا انتظام کرکے باقی صدقہ کر دیتے یہ تمام واقعات غزوہ تبوک کے موقع پر پیش آئے جب نبی کریم ﷺ نے اسلامی لشکر کی تیاری کے لئے مسلمانوں سے مال مانگا اور خرچ کرنے کی ترغیب دی۔اس موضوع پر چند اشارات عرض کردئے ہیں تفصیل کیلئے دور حاضر کے مایہ ناز فقیہ اور مسائل جدیدہ کے ماہر محقق حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ کا مبسوط مقالہ ملاحظہ فرمالیں جو فتح الجواد کی تیسری جلد میں شامل کیا گیا ہے۔اس میں انہوں نے قطعی دلائل سے ثابت کیا ہے کہ آیت صدقہ میں لفظ ’’فی سبیل اللہ‘‘ کا مصداق قتال فی سبیل اللہ ہے۔ ذیل میں ہم چند احادیث ذکر کرتے ہیں جن میں جہاد میں مال خرچ کرنے کے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔

(۱)سات سو گنا اجر

حضرت ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص لگام والی ایک اونٹنی لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ میں اللہ کے راستے میں دے رہا ہوں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تیرے لئے اس کے بدلے میں قیامت کے دن سات سو لگام دار اونٹنیاں ہوں گی (صحیح مسلم)۔

حضرت علی، ابو الدردائ، ابو ہریرہ، ابو امامہ الباہلی، عبداللہ بن عمر، جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جس شخص نے اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے مال بھیجا اور خود گھر بیٹھا رہا اس کے لئے ہر درہم کے بدلے سات سو کا اجر ہے۔ (ابن ماجہ، ابن حبان) 

واضح رہے کہ یہ ثواب اس شخص کے لئے ہے جو صرف مال خرچ کرے خود جہاد پر نہ جائے جبکہ وہ شخص جو خود بھی نکلے اور مال بھی خرچ کرے اس کا اجر ایک کے بدلے میں سات لاکھ ہے جیسا کہ ابن ماجہ اور بیہقی کی دیگر روایات میں واضح ہے۔

(۲)جہاد کا اجر

زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺنے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں نکلنے والے مجاہد کو سامان فراہم کیا اس نے بھی جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے گھر والوں کی بھلائی کے ساتھ دیکھ بھال کی اس نے بھی جہاد کیا ۔ (بخاری و مسلم)

زید بن خالد جہنیؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺنے فرمایا:جس نے روزہ دار کو افطار کرایا یا مجاہد کو سامان ِ جہاد فراہم کی یا اس کے گھر کی اچھی طرح دیکھ بھال کی اسے روزہ دار اور مجاہد کا اجر ملے گا جبکہ ان کے اجر میں کوئی کمی نہ کی جائے گی۔ (مصنَّف ابن ابی شیبہ)

ان دونوں احادیث میں مجاہدین اور شہداء کے گھرانوں کی کفالت کی فضیلت بھی خصوصیت سے معلوم ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺخود شہداء کے گھرانوں کا خصوصیت سے خیا ل رکھا کرتے تھے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مدینہ میں اپنے گھروں کے علاوہ صرف حضرت ام سلیم ؓ کے گھر جایا کرتے تھے اور فرماتے تھے مجھے ان پر رحم آتا ہے ان کے بھائی میرے ساتھ قتل ہوئے۔ (بخاری)

(۳)افضل صدقہ

حضرت ثوبانؓ فرماتے ہیں کہ خرچ ہونے والے دیناروں میں افضل دینار وہ ہے جو کوئی شخص اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ ہے جو کوئی (مجاہد) اپنی سواری پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جو آدمی اللہ کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔ (صحیح مسلم)

حضرت عدی بن حاتم ؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے پوچھا:افضل صدقہ کونسا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ کے راستے کے مجاہد کو خادم مہیا کر دینا (یعنی خدمت کے لئے غلام خرید کر دے دینا) یا اسے سایہ مہیا کر دینا یا جوان جانور سواری کے لئے لے دینا۔ (ترمذی)

(۴)عرش کا سایہ

حضرت عمر ؓ سے روایت ہے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:جس نے مجاہد کو سایہ فراہم کیا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن سایہ دیں گے اور جس نے مجاہد کو اتنا سامان دے دیا جس سے اس کی ضروریات پوری ہو گئیں اس کے لئے غازی کا اجر ہے۔ (المستدرک)

حضرت سہل ؓ سے روایت ہے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:جس نے غازی کی اِعانت کی یا مقروض کی اعانت کی قرض ادا کرنے میں یا غلام کی اعانت کی آزاد کرانے میں اللہ تعالیٰ اسے اس دن اپنے عرش کا سایہ عطاء فرمائیں گے جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ (المستدرک)

(۵)جوڑا خرچ کرنے کی فضیلت

حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جس نے اللہ کے راستے میں اپنے مال سے (کسی بھی چیز کا ) جوڑا خرچ کیا جنت کے فرشتے اس کی طرف دوڑتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا کہ جوڑا خرچ کرنے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا دو گھوڑے یا دو اونٹ (اسی طرح اور چیزوں میں سے بھی دو دو مثلاً دو گائے ، دو کپڑے وغیرہ)۔ (نسائی، مستدرک)

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کیا اسے جنت کے دربان ہر دروازے سے پکاریں گے اے فلاں ادھر آئو۔ (بخاری)

یعنی اسے جنت کے ہر دروازے سے داخلے کی دعوت دی جائے گی۔

(۶)جہاد میں خرچ نہ کرنے کا وبال

حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا :جس شخص نے خود بھی جہاد نہ کیا اور نہ کسی مجاہد کو سامان فراہم کیا نہ مجاہد کے گھر کی اچھائی کے ساتھ دیکھ بھال کی اللہ تعالیٰ قیامت سے پہلے اسے بڑی مصیبت میں مبتلا کردیں گے۔ (ابو دائود)

حضرت ابو جحیفۃ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کوئی بندہ اپنے مسلمان بھائی کی اعانت کے لئے چلنے سے رُکتا ہے تو اسی قدر اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے لئے اسے چلنا پڑتا ہے، کوئی بندہ اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے سے رُکتا ہے تو اس سے کئی گنا زیادہ گناہوں میں خرچ کرتا ہے۔ (المعجم الکبیر)

یعنی اس کا مال بچے گا نہیں بلکہ اس پر یہ عذاب مسلط ہوگا کہ یہ مال برائیوں پر خرچ ہو کر آخرت کا وبال بنے گا۔

(۷)سب سے بہتر شخص

حسن بصری ؒ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عمر ؓ کو خیر الناس (لوگوں میں بہترین شخص) کہا ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں تمہیں نہ بتائوں کہ خیر الناس کون ہے؟ خیر الناس وہ شخص ہے جو مسلمانوں اور کافروں کے بیچ میں (سرحد پر) رہتا ہو، اس کے پاس اونٹوں اور بکریوں کا غلہ ہو، وہ اسے شہر میں لاکر بیچ دے اور قیمت اللہ کے راستے میں صدقہ کردے۔ (ابن ابی شیبہ)

اللہ کے راستے میں برسرپیکار مجاہدین کی اعانت، نصرت اور ان کے گھر کی کفالت کے لئے فضائل کی حدیثیں تو بے شمار ہیں، مختصر مضمون میں چند ایک ذکر کر دی گئیں۔ آج بھی ہمارے ارد گرد ہر طرف جہاد کے میدان سجے ہیں۔ کشمیر کے عوام اور مجاہدین سخت ترین حالات اور شدید تنگی کے عالَم میں دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں، افغانستان میں مجاہدین کفر کے متحدہ لشکروں کے خلاف میدان میں ہیں۔ ان سب کو اسباب فراہم کرنا اور ان کے ہاتھ مضبوط کرنا ہماری ذمہ داری ہے، اس طرح ہم انفاق کا اجر بھی پائیں اور ان کے جہاد کے اجر میں بھی شریک ہوں۔ اسی طرح شہدائ، اسیران اور غازیوں کے ہزاروں گھرانوں کی کفالت بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے جس سے سبکدوش ہونے کا طریقہ یہی ہے کہ جو لوگ اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں انہیں اسباب فراہم کئے جائیں تاکہ وہ اس ذریعے سے مستحقین تک پہنچ سکیں۔ رمضان المبارک کا مہینہ اس کام کے لئے خصوصی اہمیت رکھتا ہی ہے کیونکہ اس میں ہر عمل کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ لیکن یہ عمل ایسا عظیم ہے اس کا ثواب دیگر اعمال سے زیادہ ہونا صرف رمضان کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اس کا ثواب عام حالات میں بھی گنتی سے باہر ہے۔ اس لئے اس کا ذوق وشوق تو صحابہ کرام کی طرح ہماری پوری زندگی کا لازمی حصہ ہونا چاہئے۔بس یہ بات ہم بھول نہ جائیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online