Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

مادر زاد مجاہد۔۳ (مفتی محمد اصغر خان کشمیری)

Madarzaad Mujahid mufti-asghar

مادر زاد مجاہ۔۳

مفتی محمد اصغر خان کشمیری (شمارہ 655)

بہر حال حنظلہ نے زیتون کے تیل کو رات کے آخری پہر گھنٹوں دَم کیا اور پھر اس کے ذریعے کمر اور کندھوں اور سر کی عجیب وغریب مالشیں شروع کردیں، تو دوسرے دن ہی میں کھڑے ہو کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھنے لگا، تیسرے دن صحن میں واک شروع کردی، چوتھے پانچویں دن روڈ پر واک اور چھٹے دن رات تراویح کے بعد سامنے والی پہاڑی پر چڑھ گئے یہاں بھی ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ہوایوں کہ ہم چار آدمی تھے مگر کسی کو بھی یاد نہ آیا کہ پانی کی بوتلیں ساتھ لے چلیں ۔چنانچہ تھوڑا ہی اوپر جاکر میر احلق خشک ہو گیا جسم سے جان نکلنے لگی اور حالت خراب ہوگئی، ساتھی حنظلہ کو تنگ کرنے لگے کہ آپ نے پانی لانے کا ہمیں کیوں نہ کہا؟کسی نے ــطعنہ دیا کہ تمہارے دوستوں یاروں کا کیا فائدہ، اگر وہ یہاں مفتی صاحب کو پانی بھی نہ پلا سکیں،ایک ساتھی نے کہا میں واپس جا کرپانی لے آتا ہوںمگر حنظلہ نے اس کوروک دیا اور میرے پا س آکر کہنے لگا آپ ہمت نہ ہارنا ،چلتے رہیں آپ کے لئے پانی کا بندبست میں کروں گا ۔یہ کہہ کر وہ ہم سب سے پیچھے ہو گیا اور تسبیح پر انتہائی تیزرفتاری سے کچھ پڑھنے لگا ،تھوڑا ہی اوپر جا کر پیچھے سے آواز دی کہ رُک جائیں،ہم رُک گئے وہ میرے پاس آیا، گلے ملا اور میرے منہ کے اندر پھونک ماردی مجھے دفعتاً یوں لگا جیسے کسی نے آبِ حیات کا جگ میرے منہ میں انڈیل دیا ہے ۔میرے تنِ مردہ میں جان آگئی اور میں ہشاش بشاش ہوگیا ۔ایک ساتھی میرے قریب آیا اور کہا کیا صورتِ حال ہے میں نے کہا میرے ساتھ توحنظلہ نے یہ معاملہ کیا ہے میں تو بالکل تازہ دم ہوگیا ہوں ،میں نے حنظلہ والا عمل عملًا کرکے دکھایا تو وہ ساتھی بھی میرے ساتھ چھونے کی وجہ سے یکدم تازہ دم ہوگیا، اور کہنے لگا مجھے تو یوں لگ رہاہے جیسے میرے جسم میں نئی جان آگئی ہے۔ بہرحال ہم مقررہ ہدف تک پہنچ کر آرام کرنے کے بعد واپس مرکز آگئے مگر اس سفر کی یادیںآج تک دماغ میں تر و تازہ ہیں ۔

اس سے اگلا دن ہفتے کا آخری دن تھا ،عصر کے بعد حنظلہ نے کہا نیٹ لگائیں آج میں آپکو بیڈ مینٹن کھلاتاہوں پھر میرا کام پورا ہوجائے گامیںنے کہا رہنے دیں بس آپکا کام پورا ہوگیا۔ میںالحمدللہ ٹھیک ہوگیا ہوں یہ سن کر حنظلہ خوشی سے میرے گلے لگ گیا اور کہنے لگا پھر تو اب آپ کی باری ہے میں تیار ہوں فوراََہمیں بھیجنے کا بندوبست کریں ،میں نے کہا ایسا ضرور کروں گا ،مگر وہ تو میرے بس میں نہیں ،ہم لگے ہوئے ہیں ،جب اللہ کو منظور ہوا ،راستہ مل گیا تو آپ کو بھیج دیں گے ،اب اس میں کتنا وقت لگتا ہے وہ تو اللہ کو معلوم ہے ۔حنظلہ نے کہا میں نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا کہ معاملہ بڑا نازک ہے ،آپ کی بات صرف میرے ساتھ نہیں ہو رہی ،بلکہ آپ کا یہ عہد میرے مہمانوں کے ساتھ بھی ہورہاہے اور وہ یہاں مجلس میں موجود بھی ہیں لہٰذا اب بات کو دائیں بائیں نہیں کرنا بس صرف ایک بات ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمیں بھیج دیں ۔میں معاملے کی نزاکت سمجھ گیا اور خود سے کچھ بھی کرنے کی بجائے حنظلہ کے والد صاحب سے مدد لینے کی سوجھی ،میں نے ان کو فون کیا اور پوری صورت حال سے آگاہ کیا اور اشارہ یہی دیاکہ آپ اپنی طرف سے اسکو کچھ وقت کیلئے روک دیں ، سال دو سال کے بعد اسکو خود بھیج دیں گے ،وہ سمجھ گئے اور حنظلہ کو فون پر سمجھانے کی ناکام کوشش بھی کی ،پھر کہنے لگے میں خود مظفرآباد آجاتا ہوں ۔

چنانچہ وہ دوسرے دن ہمارے پاس آگئے ،وہ جو ں ہی میرے کمرے میں داخل ہوئے حنظلہ بھی فوراََ وارد ہوگیا ،حالانکہ ہم تھوڑی دیر تنہائی میں بات چیت کرنا چاہ رہے تھے ہم نے حنظلہ کو باہر بھیجنے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانا اور کہنے لگا میرے سامنے بات کریں ۔دراصل اسکو شک تھا کہ یہ دونوں حضرات مل کر مجھے کشمیر جانے سے روکنے کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں ۔اس لئے وہ ہمیں اکیلا چھوڑنے پر آمادہ نہ تھا،چاروناچار اسکے ہوتے ہوئے ہی بات شروع ہوگئی ،میںنے پوری بات اسکے والد صاحب کے آگے رکھ دی ،پھر وہ اپنے بیٹے سے مخاطب ہو کر اسے سمجھانے لگے ،بیٹا بھی آگے سے بول پڑا کہ جب آپ نے مجھے پیدائش سے پہلے سے جہاد کیلئے وقف کر رکھا ہے تواب آکر روڑے کیوں اٹکا رہے ہیں، اس پر دونوں باپ بیٹے میں بہت دلچسپ مناظرہ ہوا جس سے ہم خوب محظوظ ہوئے ۔ دراصل والد صاحب بھی اسکو روک نہیں رہے تھے صرف یہ کہہ رہے کہ تھوڑامزید بڑے ہو جائو تو چلے جانا ۔حنظلہ کی دلیل یہ تھی کہ میں سترہ سال کا ہو گیا ہو ں جو جہاد کیلئے آئیڈیل عمر ہے اب مزید کس چیز کا انتظار کرنا ہے ،حنظلہ دلیل میں بار بار بدر شہیدؒ کا تذکرہ کر رہا تھا جو گذشتہ سال صرف سولہ سال کی عمر میں جموں کے سنجواں برگیڈ پر دوسرے دو ساتھیوں کے ہمراہ قہر بن کر ٹوٹا تھا اور تین دن تک پورے انڈیا کو تگنی کا ناچ نچا کر خود ساتھیوں سمیت لیلائے شہادت سے ہم آغوش ہوگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو غریق ِ رحمت کرے ۔

باپ بیٹے کا بحث مباحثہ جب کسی نتیجے پر نہ پہنچا تو فیصلہ آکر اس پر ٹھہراکہ کل حنظلہ اپنے والد کے ہمراہ گھر جائے گا پھر وہاں فیصلہ ہوگا کہ کیا کیا جائے ۔ میں بھی اسی پر خوش تھا کہ یہ گھر جائے تاکہ اگر خدانخوستہ یہ کسی غلط غیرمر ئی مخلوق سے متاثر ہے تو والد صاحب وہاں گھیر گھار کے علاج کردیں گے اور یہ نارمل ہو جائے گا ۔واضح رہے کہ اتنا کچھ دیکھنے کے بعد حنظلہ پر اس قسم کے شک کی کوئی گنجائش نہیں تھی ۔مگر ایک کمزور انسان ہونے کے ناطے دل میں کچھ کچھ شک آہی جاتاتھا ،

 دوسرے دن فیصلے کے مطابق مولانا نوازصاحب حنظلہ کو لیکر گھر کیلئے نکلے تو انکا کہنا ہے کہ جب ہم مظفرآباد اڈے پر پہنچے تو حنظلہ کے جسم سے اچانک وہی خوشبوپھوٹ پڑی جو اسکی پیدائش کے وقت مری میں ہمارے گھر میں اور آس پاس پھوٹ پڑی تھی گاڑی کا ڈرائیور جو اپنا ہی ایک ساتھی تھا حیران رہ گیا کہ یہ کیا ہے اس کی آنکھوں سے آنسورواں ہوگئے ،میںنے اسکو صبر کی تلقین کی اور ماجرا بتایا کہ حنظلہ کی کشمیر کی تیاری ہے بس یہ اسی کے اثرات ہیں ،انکے والد صاحب کہتے ہیں کہ پورے راستے میں یہ سلسلہ جاری رہا ،حنظلہ ہمارے درمیان بیٹھا تھا اور ہم یوں محسوس کر رہے تھے جیسے ہم اپنے درمیان کوئی پھولوں کا گلدستہ رکھ کر سفر کر رہے ہیں ۔گھر پہنچے تو حنظلہ نے پہلے مرحلے میں ہی اپنی والدہ اوربڑے بھائی کو اپنا ہمنوابنا لیا اور وہ حنظلہ کے موقف کی بھرپور تائید کرنے لگے ۔اب والد صاحب کے پاس اسکو روکنے کا کوئی بہانہ نہ تھا ،کہتے ہیں میں آخری چارے کے طورپر اسکو اکیلے کمرے میں لے گیا اور بات کرنا چاہی مگر اس نے چھوٹتے ہی مجھے عجیب و غریب مشاہدات کروا ڈالے اور پھر میری طرف مخاطب ہو کربولا اب بتائیں اسکے بعد آپ مجھے دنیا کے اس قید خانے میںکیسے روک رہے ہیں ؟میں اس کے سامنے لاجواب ہوگیا ،اور ادھر ہی میں نے طے کرلیاکہ اب اسکو رکنے کا نہیں کہوں گا ۔

چنانچہ ایسے ہی ہوا، ادھر حنظلہ نے رابطہ کرکے مجھے بتایا کہ گھر سے میرا مسئلہ حل ہوگیا ہے ،بس اب میں آ رہا ہوں اورادھراسکے والد محترم کا بھی فون آگیا کہ ہم حنظلہ کو بھیج رہے ہیںاور اسکا سارا معاملہ آپ پر چھوڑ رہے ہیں ۔بس آپ مناسب فیصلہ کرلیں۔چنانچہ حنظلہ مکمل فاتحانہ انداز میں ہمارے پاس واپس آگیا اور آکر کہنے لگا اب سب مسائل ختم ہو گئے ،ہر طرف سے اجازت مل گئی ،بس اب جلدی کریں اور ایفائے عہد کا بندوبست کریں۔

پھر یہ حسن ِاتفاق تھا یا حنظلہ شہید کی کرامت تھی کہ ُادھراس کے سارے مراحل طے ہو رہے تھے اور اِدھر بارڈر پر ہمارے عظیم مجاہد کمانڈر بھائی قمر راستے ڈھونڈنے میں لگے ہوئے تھے ، پھر ادھر جوں ہی حنظلہ کے مسئلے حل ہوئے اِدھر سے بس چند دن کے بعدہی بھائی قمر نے بھی خوشخبری سنا دی کہ راستہ صاف ہے اور اندر کے سفر کیلئے سازگار ہے بس حکم کا انتظار ہے ۔حنظلہ میرے پاس ہی بیٹھاکرتا تھا اس نے ہماری گفتگوسن لی بس پھر کیا تھا ؟جیسے گلاب کا پھول صبح کی شبنم پڑنے سے کھل اُٹھتا ہے حنظلہ ایسے کھل اُٹھا، حنظلہ کی امیدیں بھر آئیں،گروپ کی تیاری ہوگئی ،آخر میں میں نے حنظلہ کو کہا :آپ کے والدصاحب کو بلوالیتے ہیں تاکہ آخری ملاقات ہوجائے مگر اس نے سختی سے منع کردیا اور کہا میں تمام گھر والوں سے آخری ملاقات کرکے آیا ہوں ،بس اب دوسری ملاقات جنت میں ہوگی ادھر کسی کو نہیں بلانا ۔میں نے اس کے انکار کے باوجود کال ملانے کی کوشش کی مگر حنظلہ نے فون ہاتھ سے لے لیا اور رابطہ نہ ہو سکا  ، حنظلہ کو غالباً یقین تھا کہ والد محترم تمام تر پختہ جہادی نظریات کے باوجود محبت پدری سے مجبور ہو جائیں گے اور وہ اپنے لاڈلے بیٹے کو  یوں رات کی تاریکیوں میں کسی گمنام راستے میں آنکھوں سے اوجھل ہونے کے منظر کو برداشت نہیں کر سکیں گے ۔ ہم نے بھی حنظلہ کی بات مان لی اور مولانا  نواز صاحب کو نہیں بلوایا ۔

 یہ چھ جون 2018؁ٗ؁ء کا بدھ کا روز تھا ، رمضان المبارک کی معطر بہاریں تھیں ، گلفاموں اور مہہ پاروں کا قافلہ تیار ہوگیا  یہ کل آٹھ ساتھی تھے  جن میں سے ہر ایک دوسرے سے  بڑھ کر چمک دھمک رہا تھا ، بھائی حنظلہ، بھائی افضل خان ، بھائی سرفراز احمد ، بھائی قمر خان ، بھائی عاقب، بھائی گل زیب ، بھائی اعجاز ، اور بھائی عبداللہ  ۔  21رمضان المبارک کی افطاری کی محفل خوب سجی ، ان جنتیوں کے ساتھ ہمیں بھی آخری افطاری کی سعادت ملی اور پھر رات کی تاریکیاں تھیں اور یہ قافلۂ عشق ووفا تھا ، حنظلہ بھائی سب ساتھیوں کے آخر میں  جب گلے مل کر رخصت ہوئے پھر ان کو یقین آیا کہ ہاں وہ واقعتا کشمیر کے لیے روانہ ہو گئے ہیں ورنہ وہ تیاری کر لینے کے بعد بھی انجانے خوف میں مبتلا تھے اور بات بات پر ٹھٹھک کر ادھر ادھر  دیکھنے لگتے تھے کہ مبادا مجھے روکنے کا کوئی مشورہ تو نہیں ہو رہا پھر جب ان کے تمام خدشات ٹل گئے اور میں نے ان کو گلے مل کر الوداع کر دیا اس وقت ان کا چہرہ دیکھنے کے قابل تھا ، میں بلا مبالغہ لکھ رہا ہوں کہ اندھیری رات کے اندر ان کا چہرہ تمام خدو خال کے ساتھ اس طرح چمک رہا تھا جیسے ان کی جلد کے پس پردہ کوئی بلب لگا دیا گیا ہو ۔ اب وہ کشمیر کی راہوں پر تھے اور ہم سدا کے مسافر ان کو الوداع کر کے اپنی قرار گاہ کی طرف چل دئیے۔

اس جنتی قافلے کا سفر انتہائی ذوق و شوق کے ساتھ کٹتا گیا ،سفر کا دوسرا یا تیسرا دن تھا نہ جانے ساتھیوں کے دل میں کیا آئی کہ ہر ساتھی نے دوسرے ساتھی سے ایک دوسرے کے حق میں ہونے والی کوتاھیوں کی معافی مانگی اور کہا کہ اس سفر میں کسی کے دل میں کسی کے لیے کدورت نہیں ہونی چائیے۔ یہ مبارک سفر صاف دل کے ساتھ کرتے ہیں ۔ میں نے جب یہ سنا تو مجھے لگا کہ اللہ رب العزت نے جنت کی خاصیت اس قافلے پر دنیا میں ہی اتار دی کہ ان کے دلوں کو کینے ،بغض ، اور باہمی نفرت سے پاک کر کے انھیں شیشہ دل بنا دیا ، پھر چوتھا دن تھا ،قافلہ ایک جگہ دشمن کی پوسٹوں سے اوٹ لے کر بیٹھا ہوا تھا ، بھائی عاقب شہید کو تھوڑی سی اونگھ آئی پھر وہ جھٹکے سے ہنستے ہوئے اٹھ گئے اور کہنے لگے میں نے دیکھا کہ مولانا عبدالمتین شہیدؒسفید لباس اور سفید پگڑی پہنے ہوئے انتہائی خوش وخرم ہمارے درمیان بیٹھے ہیں اور مسکرا رہے ہیں ۔ اس خواب اور مشاہدے سے ساتھی اور زیادہ خوش اور شیر دل ہوگئے اور آگے کا سفر شروع کر دیا ، بھائی حنظلہ پورے سفر میں ذکر اذکار اور معمولات میں مکمل طور پرغرق تھے اور ساتھیوں کو بھی بار بار یہی تلقین کرتے رہے ۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online