Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

مادر زاد مجاہد۔۴ (مفتی محمد اصغر خان کشمیری)

Madarzaad Mujahid mufti-asghar

مادر زاد مجاہ۔۴

مفتی محمد اصغر خان کشمیری (شمارہ 656)

سفرکی پانچویں رات تھی اور یہی اہم رات تھی ۔ دشمن کی پوسٹوں کے جنگل سے ساتھیوں نے گزرنا تھا مگر عین موقع پر جا کر پتہ لگا کہ صورتحال بدل چکی ہے اور یہاں سے گزرنے کی جو گنجائش ریکی کے دوران دیکھی تھی وہ اب موجود نہیں ہے ،اس ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قافلہ سالار بھائی قمر نے رفقاء سفر سے صلاح مشورہ شروع کر دیا مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا ، دشمن مجاہدین کی آمد کو محسوس کر چکا تھا ،اس نے ذرہ برابر تاخیر نہ کی اور دیکھتے ہی دیکھتے فضا روشنی کے گولوں سے روشن ہو گئی اور رات کا سناٹا وکرس کی ترتراہٹ اور مارٹر گولوں کی گھن گرج سے ٹوٹ گیا ، الغرض ہر قسم کا فائر کھل گیا اور وہ کچھ شروع ہوگیا جس سے بچنے کے لیے ہم سب نے چار دن سے اللہ کے آگے جھولیاں پھیلائی ہوئی تھیں ، پر اللہ کا لکھا اٹل ہے اور وہ ہو کر رہتا ہے۔ اس میں اس حکیم ذات کی کیا کیا حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں ؟یہ سمجھنا ہماری محدود عقل کے بس کی بات نہیں ہے ۔بہر حال رات بھر یہ معرکہ چلتا رہا اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ روشنی کے گولوں اور مارٹر کی گولہ باری میں اضافہ ہی ہوتا رہا ،صبح سات بجے تک یہ سلسلہ جاری رہا اور ہمارے جانباز ایک ایک کرکے شہید ہوتے رہے۔ ظاہر ہے دشمن اپنے مضبوط بنکروں کے اندر تھا اور ساتھی کھلے پہاڑپر تھے ،چنانچہ ہمارے آٹھ میں سے 6ساتھی ادھر ہی لیلائے شہادت سے ہم آغوش ہوگئے ۔ ایک ساتھی عبداللہ بھائی جو سرینگر کے رہنے والے تھے لاپتہ ہوگئے اور دوسرے ساتھی حنظلہ کے قریبی اور گہرے دوست بھائی اعجاز تھے جو دشمن کو چکمہ دے کر وہاں سے نکلنے اور ہم تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔بھائی حنظلہ کی شہادت بالکل ان کے پہلو میں ہوئی وہ حنظلہ شہید کے آخری لمحات کے بارے میں بتلاتے ہیں کہ سخت گولہ باری میں ہم زمین پر لیٹ گئے تھے اور کھسک کھسک کر محفوظ جگہوں کی طرف بڑھ رہے تھے اتنے میں میں نے اپنے آپ کو بھائی سرفراز شہید اور حنظلہ شہید کے درمیان پایا ،سرفراز بھائی تو سینے پر گولیاں کھا کر گہری نیند سو چکے تھے جبکہ حنظلہ بھائی کے چہرے کی ایک سائیڈ پر گولیاں لگ گئیں تھیں اور خون بہہ رہا تھا مگر ابھی وہ زندہ تھے انہوں نے مجھے دیکھتے ہی دونوں ہاتھ میری طرف پھیلا دیئے جیسے وہ گلے ملنا چاہ رہے ہوں یا مجھے حفاظت کے لیے نیچے لیٹنے کی ہدایت کر رہے ہوں، بھائی اعجاز کہتے ہیں کہ اتنے میں روشنی کا گولہ چڑھا تو اس کی روشنی میں میں نے دیکھا کہ حنظلہ زخموں سے چور ہے مگر چہرے پر مکمل سکون واطمینان ہے اور چہرہ چاند کی طرح چمک رہا ہے ، پھر زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ اس بے قرار روح کے قرارکا وقت آگیا اور سترہ سال پہلے خوشبوئیں بکھیرتے ہوئے دنیا میں آنے والا یہ بچہ کشمیر کے برف پوش کہساروں کو اپنے خون سے رنگین کرکے آسمانوںمیںخوشبوئیں بکھیرنے کے لیے اوپر کی طرف اُڑان بھر گیا۔اللہ تعالیٰ ان سب جانبازوں کی شہادت کو قبول فرمائے۔ آمین

اس کو کہتے ہیں     ؎ 

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل

اور کوئی تمام عمر میری طرح سفر میں رہا

حنظلہ شہید اور ان کے دیگر ساتھیوں کی شہادت کا دکھ بہت گہرا ہے۔ یہ سب انتہائی با صلاحیت لوگ تھے اور ابھی انہوں نے بہت کچھ کرنا تھا خصوصاً بھائی حنظلہ کی عمر اور شکل وصورت کے مطابق ہم نے ان کو کام کے بہت بڑے بڑے منصوبے دیئے تھے جن کو سر انجام دینے کے لیے وہ مکمل تیار اور یکسو تھے مگر اللہ کی حکمتوں بھری تقدیر درمیان میں حائل ہوگئی اور حنظلہ بھائی اپنے رفقاء سمیت کشمیر پہنچنے کی بجائے رب کی جنتوںمیں پہنچ گئے، اللہ کی حکمتیں اللہ کو ہی معلوم ہیں مگر میں اپنی ناقص عقل سے یہ سمجھ پایا ہوں کہ حنظلہ شہید کے اس حسین لشکر کے ساتھ اللہ نے جو جانوں کے بدلے جنت کا سودا کیا تھا وہ اللہ کے ہاں بھی اس قدرحسین اور مقبول تھا کہ اللہ نے سودا کرتے ہی مبیع کو بھی فوراًاپنے پاس بلا لیا اور عام معمول کے مطابق اس کو مزید دنیا کی الجھنوں اور آزمائشوں میں نہیں ڈالا ، بس نقدونقد سودا ہوگیا

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

 ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں

حنظلہ شہید کے والدین کو دھری چوہری مبارک کہ رب نے ان کے ساتھ نقد سودا کیا ہے یہ افسوس کی بات نہیں ہے کہ حنظلہ زیادہ دیر تک کام نہیں کر سکا بلکہ زیادہ خوشی کی بات ہے کہ اللہ نے آپ کے تحفے کو فوراً شرف قبولیت سے نوازدیا  ہے    ؎

عش وجنوں کا راستہ نکلا قریب کا 

 کیفی حرم کی راہ طوالت کی راہ تھی

ساتھیوں کی شہادت کے بعد بزدل دشمن ان کی لاشیں عام عوام کے سپرد کرنے کی ہمت نہ کر سکا اور اس نے شہداء کو ادھر پہاڑ کی چوٹی پر ہی دفن کرنے کا فیصلہ کر لیا چنانچہ وہاں قریب بہکوں سے عام لوگوں کو اور ٹنگڈار کی پولیس کو بلوا کر ان کے ذریعے بارہ تیرہ ہزار فٹ بلندبملہ کی اس برف پوش چوٹی پر ان کو دفنا دیا ، میں نے جب سنا کہ یہ انوکھا کام ہوگیا ہے کہ پہلی مرتبہ ہمارے شہداء کو آرمی کیمپوں اور پولیس سٹیشنوں کے چکروں کی بجائے فوراً ہی دفن کر دیا گیا ہے تو دل سے سبحان اللّٰہ نکلا…سبحان اللّٰہ   کیا بات ہے دہلی کی تہاڑ جیل سے لیکر جموں سے ہوتے ہوئے کشمیر کے چپے چپے پر اور اب بملہ پہاڑ کی چوٹی پر بھی ہمارے شہداء کا قبضہ ہو چکا ہے ،بھارت اب کشمیر کو کیسے ہضم کرے گا ؟؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں ۔ ہمارے شہداء کشمیر کا پہرہ دے رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ کشمیر ہضم کرنے کے لالچ میں بھارت ان پہرے داروں کے ہاتھوں اپنے دانت بھی تڑوا بیٹھے گا جس کے بعد اس کے لیے اپنے وجود کو برقرار رکھنا بھی ان شاء اللہ اس کے بس میں نہیں رہے گا ۔

بھائی حنظلہ شہیدکی شہادت کی خبر جب ان کے عظیم والدین کو پہنچی  تو انہوں نے انتہائی صبر اور حوصلے کے ساتھ خبر کو لیا ، وہ الحمدللہ خود بھی مجاہد ہیں مگر یہ سچ ہے کہ اتنی جلدی شہادت کی خبر سننے کے لیے وہ تیار نہ تھے بلکہ وہ تو ابھی حنظلہ کے جہادی کارنامے سننے کے منتظر تھے مگر مبارک ہے ان کو کہ تو قع کے برعکس خبر سن کر بھی وہ نہ تو سٹپٹائے اور نہ ہی آہ وواویلا کیا بلکہ اس خبر کا انہوں نے پوری گرم جوشی سے استقبال کیا اور خبرکے بعد پہلی افطاری پر ہی ان کے گھر پر بہت بڑا اجتماع منعقد ہوا ، پرجوش اور نظریات بھری تقریریں ہوئیں جس میںسب سے زیادہ وزن دار تقریر خود حنظلہ کے والد گرامی کی تھی … میں اس مجلس میں تو حاضر نہیںتھا البتہ اس کے دو دن بعد وہاں حاضری دی تو دیکھا کہ اس پورے گھرانے پر نور کی بارش جاری ہے ، حنظلہ کے والد ہوں یا والدہ ، بھائی ہوں یا بہنیں ، ہر ایک کی زبان اور دل شکر میں ڈوبے ہوئے ہیں اور سب مزے لے لے کر حنظلہ اور اس کی پر نور زندگی کا تذکرہ کر رہے ہیں۔

 یہاں ان کے گھر پر ایک اور بات بھی پیش آئی اس کا تذکرہ کر کے بات ختم کرتے ہیں اس کا تذکرہ اس لیے ضروری ہے تاکہ ایک عام غلط فہمی کا ازالہ ہوسکے ۔ہوا یوں کہ ہم ابھی ادھر گھر پر ہی موجود تھے کہ وہاں مزید کچھ لوگ بھی آگئے جن میں کچھ بزرگ حضرات بھی تھے ۔دوران گفتگو پہلے دبے لفظوں میں پھر سرعام حنظلہ کی اس عمر میں لانچنگ پرسوال اُٹھنے لگے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آوازیں بھی بلند ہونے لگیں ،میرے لیے وہاں بولنا مناسب نہیں تھا اور مجھے ہدایت بھی یہی دی گئی تھی کہ آپ خاموش رہنا ،مگر کچھ دیرخاموش رہ کر میں نے محسوس کیا کہ خاموشی کا صاف مطلب یہی ہے کہ ہم بھی اس عمر میں جہاد کرنے کو جرم ہی سمجھتے ہیں اور حنظلہ کو کشمیربھیجناواقعتا ہمارا جرم ہے ،چنانچہ مجھے بولنا ہی پڑا اور میں نے بزرگوں کی خدمت میں مختصراً عرض کر دیا کہ جناب میں اور آپ بلکہ پورے برصغیر کے لوگ جو آج کلمہ پڑھ کر ایک خدا کے آگے جھک رہے ہیں یہ سب کچھ حنظلہ ہی کی عمر کے ایک 17سالہ مجاہد جسے تاریخ اسلام محمد بن قاسم کے مبارک نام سے جانتی ہے کا مرہون منت ہے ،اگر وہ نہ ہوتے تو کیا معلوم آج ہم ہندوستان کے بتکدوں میں کیسے کیسے بھگوانوں کے سامنے سجدے کر رہے ہوتے ، محمد بن قاسم سترہ سال کی عمر میں بحیرہ عرب کا سینہ چیرتے ہوئے ادھر پہنچے ،جہاد کیا ،اسلام کو غالب کیا ،تو آج ہم بھی مسلمان ہیں اور محمد بن قاسم کو اپنے ماتھے کا جھومر سمجھتے ہیں … تعجب کی بات ہے کہ ہم محمد بن قاسم اور ان کے جہاد کوتو اسلام کی سنہری تاریخ قرار دیتے ہیں مگر اس گئے گزرے دور میں اگر کوئی ہمارا بچہ اس محمد بن قاسم کی راہ پر چل پڑے اور مظلوم مسلمان  بہنوں کی چیخ وپکار پر محمد بن قاسم بن کر میدان میں نکل پڑے تو ہماری زبانیں دراز ہو جاتی ہیں اور ہم اعتراضات کی وہ بوچھاڑ کر تے ہیں کہ تاریخ ہم پر ہنس پڑتی ہے  انا للّٰہ واناالیہ راجعون

 خوب یاد رکھیں حنظلہ شہید جیسے نوجوان جیسے کل اس امت کے ماتھے کا جھومر تھے ویسے ہی آ ج بھی اس امت کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔ میں تو کہتا ہوں کہ یہ وہ قابل فخر لوگ ہیں جنہوں نے ہمارے آج کو اُٹھا کر ہمارے گزشتہ کل سے ملا دیا ہے اور ان کی روشن پیشانیوں کی کرنوں سے لَو لے کر ہم دیکھ رہے ہیں کہ جیسے کل کفر کا سورج غروب اور اسلام کا سورج طلوع ہو ا تھا ایسے آج بھی ہونے والا ہے۔

لہٰذا اے نوجوانان اسلام !تم کسی کی باتوں اور اعتراضات سے متأثر نہ ہونا ،وہ دیکھو میدان بدر میں عمیر بن ابی وقاصؓ اتنی کمسنی کے عالم میں مشرکین کے لشکر پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں کہ ان کے بھائی سعد بن ابی وقاصؓان کی کمسنی کی وجہ سے ان کی تلوار کے پٹے کو گرہیں لگا رہے ہوتے ہیں ، وہ دیکھو انصار کے دو کم سن لڑکے معاذؓاور معوذؓ اس امت کے سب سے بڑے فرعون ابو جہل کا قصہ اپنے ہاتھوں سے تمام کررہے ہیں، وہ دیکھو رافع بن خدیجؓ اور سمرہ بن جندب ؓ  چودہ چودہ سال کی عمر مین غزوہ احد میں شمولیت کے لیے نبی کریمﷺ کی موجودگی میں کشتیاں کر رہے ہیں اور وہ دیکھو  سلطان محمد فاتح  صرف 22سال کی عمر میں  خلافت کا بوجھ اٹھا تے ہیں اور پھر خشکی پر کشتیاں  چلاتے ہوئے سلطنت روما کے آخری  گڑھ قسطنطنیہ کو روند کر فتح کر لیتے ہیں اور حضور ﷺ سے جنت کی بشارت پاتے ہیں۔

 لہٰذا اعتراضات کی پرواہ نہ کر و اٹھو ،آگے بڑھو اور اس امت کی کشتی کو جو بیچ منجھدار کے ہچکولے کھارہی ہے اس کو کنارے لگا دو، یقیناً یقیناً اگر تم نے یہ کر لیا تو بعد والی نسلیں تمہیں ایسے ہی یاد کریں گی جیسے آج ہم محمد بن قاسم ؒ،طارق بن زیاد ؒ،سلطان محمد فاتحؒ اور دوسرے فاتحین کو یاد کرتے ہیں اور جہاد پر ہونے والے اعتراضات ماضی کی طرح معترضین سمیت مٹ جائیں گے اور تم زندہ رہوگے ۔

ہم چراغوں کو تو تاریکی سے لڑنا ہے فراز

 گل ہوئے پر صبح  کے آثار بن جائیں گے ہم

آخر میںحنظلہ شہیدکی خدمت میں چند اشعارجو حنظلہ کے مکمل حسب حال ہیں   ؎

وہ شخص تھا ایک گلاب جیسا

چمن میں رنگ شباب جیسا

جہاں کی ہنگامہ خیزیوں میں

محبتوں کا تھا باب جیسا

پہاڑوں جیسا تھا عزم اس کا

جنوں تھا اک سیلِ آب جیسا

وہ روبرو سارے جابروں کے

کھڑا  تھا  یوم  حساب  جیسا

نظام  باطل کے  رہبروں کو

وہ اک  شعلہ  عذاب  جیسا

سحر  کا  تھا  ایک  استعارہ

طلوع   ہوا  آفتاب   جیسا

افق کے اس  پار  جا  چکا  ہے

وہ دل میں زندہ ہے خواب جیسا

اللہ سے دعاء ہے کہ وہ اس امت کی گود مولانا نواز صاحب جیسے لوگوں  سے بھر دے جن کی گود میں حنظلہ شہید جیسے بچے پروان چڑھیں اور پھران کے ہاتھوں اس امت کی عظمتِ رفتہ اور سطوتِ گزشتہ بحال ہوجائے۔ وما ذلک  علی اللّٰہ بعزیز

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online