Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

عافیت ایمان کے بعد سب سے بڑی دولت۔۲ (مفتی محمد ابراہیم صاحب صادق آبادی دامت برکاتہم العالیہ)

Afiyat Eman k baad sab se bari dolat

عافیت ایمان کے بعد سب سے بڑی دولت۔۲

مفتی محمد ابراہیم صاحب صادق آبادی دامت برکاتہم العالیہ (شمارہ 671)

آج کے مشینی دور میں نِت نئے اَمراض و آفات ، ناگہانی حادثات اور طرح طرح کی پریشانیاں وبائِ عام کی شکل اِختیار کرچکی ہیں۔ہر شخص اپنی جگہ حیران وپریشان اور سرگرداں ہے۔اس کا بنیادی سبب تو ہماری بداَعمالیاں ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا اِرشاد مبارک ہے:

’’اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے اور بہت سے کاموں سے تو وہ درگزر ہی کرتا ہے‘‘۔(۴۲:۳)

لیکن ان مصائب کے نزول میں بڑا دخل ہماری اس کوتاہی کا بھی ہے کہ ہم مصیبت کی گھڑیوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے، نہ ہی اُس سے عافیت وسلامتی کی دعاء کرتے ہیں،جبکہ عافیت ایک ایسی نعمت ہے جسے ’’صحیح حدیث‘‘ میں اِیمان کے بعد سب سے بڑی دولت قرار دیا گیا ہے۔

٭…چنانچہ حضورِ اَقدسﷺ کا اِرشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی اور عافیت وسلامتی کا سوال کرتے رہو، اِس لئے کہ ایمان ویقین کے بعد کسی اِنسان کو عافیت سے  بڑھ کر کوئی دولت عطاء نہیں کی گئی۔ (احمد، ترمذی، نسائی)

٭… عافیت: ایک ایسا جامع لفظ ہے جس میں ہرقسم کی ظاہری، باطنی، دُنیوی، اُخروی آفات وبَلِیَّات اور مکروہات ومَصائب سے پناہ، نیز دین و دُنیا کی تمام بھلائیوں کی طلب و اِستدعا موجود ہے۔

مشہور محدث علامہ محمد طاہر فتنی رحمہ اللہ تعالیٰ اِس لفظ کی تشریح میں لکھتے ہیں:

’’وھی متناولۃ لدفع جمیع المکروھات فی البدن والباطن فی الدین والدنیا والآخرۃ…وذٰلک لانہ جامع لاَنواع خیر الدارین‘‘ (مَجمع بحارالانوار(۳/۶۳۲)

٭…ایک صحابیؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! اَفضل ترین دُعاء کون سی ہے؟ آپﷺ نے اِرشاد فرمایا : ’’اپنے رب سے دُنیا وآخرت کی عافیت وسلامتی اور مُعافی کا سوال کرو، پھر وہ دوسرے دن آپﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: یارسول اللہ(ﷺ)! اَفضل ترین دُعاء کون سی ہے؟ آپﷺ نے وہی جواب ارشاد فرمایا۔ پھر تیسرے دن آئے اور وہی سوال دُہرایا تو آپﷺ نے پھر وہی جواب اِرشاد فرمایا اور فرمایا کہ جب تمہیں دُنیا وآخرت کی عافیت عطاء کی گئی تو تم فلاح پاگئے۔ (ترمذی)

٭… مزید آپﷺ کا اِرشاد ہے: اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس سے محبوب کوئی اور دُعاء نہیں کہ اُس سے عافیت کا سوال کیا جائے۔ (ترمذی، طبرانی، ہیثمی)

٭…نیز آپﷺ کا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا جو مصیبت میں مبتلا تھے، تو آپﷺ نے اِرشاد فرمایا: کیا یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے عافیت کی دُعاء نہیں کرتے تھے؟(بَزَّار)

٭…آپﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمائش کی: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی دُعاء سکھائیے جو میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرتا رہوں، تو آپﷺ نے اِرشاد فرمایا: چچا جان! اللہ تعالیٰ سے دُنیا وآخرت کی عافیت کا سوال کیجئے۔ (ترمذی)

٭…عافیت کی اِسی ضرورت و اَہمیت کے پیشِ نظر حضورِ اَقدسﷺ نے موقع بموقع دُعائِ عافیت کی اُمت کو تلقین فرمائی اور خود بھی اس کا اہتمام فرمایا: مثلاً

٭…قرآنی دعا:  رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا  حَسَنَۃً وَّ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ(اے ہمارے پروردگار! ہمیں دُنیا میں بھلائی عطاء کیجیے اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء کیجئے اور ہمیں جہنم کی آگ سے بچا لیجئے) جو دونوں جہانوں کی عافیت و سلامتی اور خیر و بھلائی پر مشتمل جامع ترین دُعاء ہے۔ رسول اللہﷺ کثرت سے یہ دُعاء مانگتے تھے۔ (بخاری ومسلم)

٭…راویٔ حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کچھ لوگوں نے دُعاء کی درخواست کی تو آپؓ نے اُن کے حق میں یہی دعاء مانگی۔ انہوں نے مزید دعاء کی فرمائش کی،  تو آپؓ نے فرمایا: میں دُنیا و آخرت (کی عافیت و بھلائی) تو مانگ چکا۔ مزید کیا چاہتے ہو؟ (تفسیرقرطبی ۲/۴۲۹)

٭…ایک صحابیؓ نے بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یارسول اللہ(ﷺ)! میں اپنے رب سے کن الفاظ میں سوال کروں؟

آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یوں کہو: ’’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَ ارْحَمْنِیْ وَ عَافِنِیْ وَ ارْزُقْنِی‘‘

(اے اللہ! میری مغفرت فرمادیجئے اور مجھ  پر رحم کیجئے اور مجھے عافیت عطاء کیجئے اور رزق مرحمت فرمائیے)

ساتھ ہی آپﷺ نے چاروں انگلیاں جمع فرماکر اِرشاد فرمایا: یہ کلمات تمہاری دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے جامع ہیں۔ (مسلم)

٭…حضورِ اَقدسﷺ نے اِرشاد فرمایا: جو شخص کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعاء پڑھے، اللہ تعالیٰ اُسے اُس مصیبت سے محفوظ رکھیں گے، خواہ وہ کیسی ہی مصیبت ہو۔

’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہِ وَ فَضَّلَنِیْ عَلیٰ کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلًا‘‘(اُس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اِس آزمائش سے محفوظ رکھا، جس میں تجھے مبتلا کیا اور اپنی بہت سی مخلوق پر مجھے فوقیت دی) لیکن یہ دُعاء ذرا آہستہ سے پڑھے تاکہ اُس مصیبت زدہ کو سن کر اَفسوس نہ ہو۔

٭…آپﷺ کی نظر ایک ناقص الخلقت شخص پر پڑی، تو آپﷺ سجدہ ریز ہوگئے، پھر فرمایا: ’’اَسْأَلُ اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ‘‘ میں اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ (البیہقی)

٭…اَذان و اِقامت کے مابین قبولیت کا وقت ہے۔ حدیثِ پاک کی رو سے اِس وقت دُعاء رَدنہیں ہوتی۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ(ﷺ)! اس وقت ہم کس چیز کی دعاء کریں؟ آپﷺ نے اِرشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دنیا وآخرت کی عافیت مانگو۔ (ترمذی)

اس لئے علماء نے لکھا ہے کہ اُس وقت یہ دعاء کی جائے:’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَ الْعَافِیَۃَ وَ الْمُعَافَاۃَ فِی الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ ‘‘(اے اللہ میں آپ سے اپنے گناہوں کی معافی اور دنیا وآخرت کی عافیت و سلامتی کا سوال کرتا ہوں)

٭…اِس جامع ترین دعاء میں رسول اللہﷺ نے دین ودنیا، جسم وجان، اَہل وعیال، مال ومتاع غرض سب چیزوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کی ہے۔اِس دعاء کی اہمیت کا اَندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے عمر بھر اس دعاء کا ناغہ نہ فرمایا (حوالہ بالا) طبرانی کے الفاظ ہیں: حَتّٰی فَارَقَ الدُّنْیَا وَحَتّٰی مَاتَ (کہ دنیا سے رخصتی اور یومِ وصال تک آپﷺ نے اس دعاء کی پابندی فرمائی)

یہ نمونہ کی چند روایات ہیں، ورنہ صاحبِ حِصْنِ حَصِینْ امام اِبن جَزریؒ کے بقول دُعائِ عافیت رسول اللہﷺ سے پچاس سندوں سے منقول ہے۔ اِن اِرشاداتِ نبویہ کے پیشِ نظر بلا اِمتیاز مرد و زن ہر مسلمان کو چاہیے کہ عافیت کی اس مستند اور جامع ترین دعاء کو حرزِ جان بنالے۔ بالخصوص آج کے فتنہ خیز اور پُر آشوب دور میں تو اس دُعاء کی ضرورت و اَہمیت جس قدر بڑھ گئی ہے وہ محتاجِ بیان نہیں۔

اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی دِینِی وَدُنْیَایَ وَأَہْلِی وَمَالِی، اَللّٰہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِی وَآمِنْ رَوْعَاتِی، اَللّٰہُمَّ احْفَظْنِی مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِی وَعَنْ یَمِینِی وَعَنْ شِمَالِی وَمِنْ فَوْقِی وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِکَ  أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ(ابوداؤد۲/۳۴۴۔ حاکم۱/۵۱۷۔ابن حبان۲/ ۲۳۵ طبرانی۱۲/ ۲۶۳)

ترجمہ: اے اللہ! میں آپ سے دُنیا وآخرت کی عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں آپ سے اپنے دین، دُنیا اپنے اہل وعیال اور اپنے مال کے معاملے میں، معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میری پردوں کی چیزوں کو پردے میں رکھ اور گھبراہٹ کی باتوں سے مجھے اَمن میں رکھ۔ اے اللہ! میرے آگے اور میرے پیچھے، دائیں بائیں اور اوپر سے میری حفاظت فرما اور میں اس بات سے تیری عظمت کی پناہ میں آتا ہوں کہ اپنے نیچے سے ناگہاں ہلاک کردیا جاؤں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online