Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

5 فروری ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ لمحہ بہ لمحہ (تحریر و ترتیب…زبیر طیب)

680 - Youm e Yakjehti Kashmir Lamha ba Lamha

5 فروری ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘  لمحہ بہ لمحہ

تحریر و ترتیب…زبیر طیب (شمارہ 680)

ہم لے کر رہیں گے آزادی

ہے حق ہمارا آزادی

ہم چھین کے لیں گے آزادی

بھارت بھی سن لے آزادی

یہ وہ نعرے تھے جو 5فروری کو زباں زد عام تھے۔ یوم یکجہتی کشمیر ہر سال 5فروری کوپورے پاکستان میں عموماً اور پوری دنیا میں خصوصاً بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے تجدیدِ عہد کرتے ہیں کہ ہر سطح پر اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

بھارتی حکمرانوں کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ تنازعہ کشمیر اس کے زیادہ سے زیادہ مفادات کے تحفظ اور پاکستانی کی کمزور سے کمزور حالت کی بنیاد پر حل کیا جائے۔ مسئلہ کشمیر درحقیقت تقسیم ہند کے ایک نامکمل اور مذموم ایجنڈے کا حصہ ہے۔ جس طرح شمالی ہند میں پاکستان مسلم اکثریت کی بنیاد پر وجود میں آیا، اسی اصول کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو 1947پاکستان میں شامل ہو نا چاہیے تھا۔ لیکن ہندؤں اور انگریزوں نے سازش کے ذریعے سے ریاست جموں وکشمیر کو پاکستان میں شامل ہونے میں رکاوٹ ڈالی اور جموں و کشمیر کا سازش کے ذریعے بھارت سے جبراً الحاق کردیا گیا۔ 1947 میں مہاراجہ کشمیر اور بھارتی حکمرانوں نے ناپاک گٹھ جوڑ کر لیا اور بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر کے اس کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ تاہم کشمیریوں کی بھر پور جدو جہد کے نتیجے میں جب کشمیر آزاد ہونے کے قریب تھا تو بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیرکا مسئلہ اٹھاکر اپنے لیے ایک نئی راہ تلاش کرلی۔اقوام متحدہ نے تنارعہ کشمیر کے حل کے لئے دو قراردادیں منظور کیں۔ جن میں نہ صرف کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا بلکہ یہ طے ہوا کہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے رائے شماری کا موقع فراہم کیا جائے گا۔لیکن اس کے بعد بھارتی حکمرانوں نے کشمیریوں کو نہ صرف حق خود ارادیت دینے سے انکار کر دیا بلکہ یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔حالانکہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے ساری ریاست کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔

کشمیری قوم گذشتہ کئی سالوں سے آزادی کی تلاش میںسرکردہ ہیں اور وہ اس مقصد کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ اس میں بڑے تو بڑے جوان، عورتیں، بچے سبھی شامل ہیں۔ہندوستان اپنی آٹھ لاکھ فوج استعمال کرنے کے باوجود کشمیریوں کی تحریک آزادی کو روک نہیں سکا اور وہ زیادہ دیر تک طاقت کے استعمال سے کشمیریوں کو غلام نہیں رکھ سکتا۔کشمیریوں کا ماضی بھی ظلم کی داستانوں سے رقم، حال بھی نہایت مخدوش ہے ۔بھارتی افواج نے ورکنگ باؤنڈری کی دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کی نسل کشی کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ آئے روز ورکنگ بائونڈری پر بمباری سے سول آبادی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ دراصل بھارتی افواج کو علم ہے کہ بائونڈری کے ایک جانب مرے یا دوسری سمت مرے وہ کشمیری ہی ہے اور مسلمان ہے لہٰذا سفاک بھارتی بے دردی کے ساتھ عورتوں اور بچوں کو بھی شہید کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ بھارت کی طرف سے ان تمام ستم ظریفیوں اور سفاکیوں کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت میں روز بروز اضافہ ہونا اپنے رب پر یقین کامل اور جری اسلاف کی پیروی سے ہی ممکن ہے۔کشمیری تحریک میں مجاہد محمد افضل گوروؒ اور برہان وانی کی شہادت نے خاص کر تحریک کشمیر کو ایک نیا رُخ دیا ہے جس سے یہ تحریک ایک بار پھر اپنا وجود منوا چکی ہے۔بھائی افضل گورو شہیدؒ کے بعد کشمیری نوجوان نے اپنے اندر ایک تبدیلی کو محسوس کیا اور اس نے میدانوں کا رخ کیا۔ پچھلے پانچ سالوں کے دوران کشمیر کی فضا ہی بدل چکی ہے۔ اب کشمیری نوجوان ہر قربانی دینے کو تیار ہو چکے ہیں۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب یہ قربانی اپنا رنگ لائے گی۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی ’’ یوم یکجہتی کشمیر ‘‘ کو بھر پور اندا ز میں منایا گیا۔درحقیقت یہ اُن قربانیوں کا اعتراف ہے جو ہمارے شہیدوں نے اس عظیم مقصد کے لئے دیں۔حضرت امیر محترم امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ کی قیادت و رہنمائی میں پاکستان بھر میں اس موقع پر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے  ریلیوں کا انعقاد کیا گیا جس میں عوام الناس کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔ الحمد للہ جماعت کشمیر کے میدانوں میں اپنا لوہا منوا چکی ہے۔ کشمیر میں نوجوانوں کے اندر بیداری کی عجیب لہر پیدا ہو چکی ہے۔ وہ احتجاج کا راستہ چھوڑ کر اب میدانوں کا رخ کر رہے ہیں جو کہ اس جدوجہد کا اصل مقصد اور روح رواں ہے اور یہی جماعت کا بھی حقیقی منشور ہے۔ بلاشبہ جماعت کے لئے ہر دن ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ ہے جسے شہداء کرام کے خون کی برکت سے سینچا جا رہا ہے۔ مگر چونکہ پاکستان اور دنیا بھر میں اس دن کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دستور بن گیا ہے اس لئے حضرت امیر محترم کی خصوصی ہدایت کے مطابق پورے ملک میں مکمل نظم و ضبط کے ساتھ پر امن ریلیوں اورجلسوں کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں عوام الناس نے بڑے جوش و ولولے کا اظہار کیا۔ جہادی پرچموں سے مزین ان ریلیوں میں نعروں ، ترانوں اور مختلف علماء کرام کی تقریروں کا بھی التزام کیا گیا۔ فلک شگاف نعروںنے امت مسلمہ کے نوجوانوں میں جذبہ جہاد کو دل سے محسوس کیا اور اس عزم کا ارداہ کیا کہ وہ ہر سطح پر اپنے کشمیری بھائیوں کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ شرکاء کی حالت ا س وقت دیدنی ہوتی جب آخر میں انہیں حضرت امیر المجاہدین حفظہ اللہ کا تازہ ریکارڈ شدہ پیغام سنایا جاتا۔ انتہائی خاموشی اور ادب کے ساتھ پیغام کو سن کر شرکاء کے چہروں پر عجیب تاثرات ابھر آتے۔یہ پیغام ہی 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کی اصل جان تھا۔ الحمد للہ ایک ہی دن میں بڑے منظم انداز میں حضرت امیر المجاہدین کا پیغام لاکھوں لوگوں نے سنا اور اپنے دلوں کو منور کیا۔

ملک کے طول وعرض میں چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبا 50 سے زائد جگہوں پر ریلیوں اور جلسوں کا انعقاد کیا گیا۔ ان ریلیوں میں علماء کرام سمیت تاجر، وکلاء اور عوام الناس نے بھرپور شرکت کی۔ ریلیوں میں موٹر سائیکل، ٹرک، مختلف گاڑیوں کے قافلوں اور پیدل چلنے والوں نے شرکت کی۔ کئی جگہوں پر ریلیوں نے ایک بڑے جلسے کی شکل بھی اختیار کر لی۔ ان ریلیوں کی مختصر کارگزاری پیش خدمت ہے:

کراچی

صوبہ ابوعبیدہ ؓ کراچی میں پانچواں سالانہ’’ آزادی کشمیر کانفرنس‘‘ کا شاندار انعقاد ہوا، تقریب کا آغاز بعد نماز مغرب تلاوت ،حمد و نعت اور پھر مفتی خلیل اللہ صاحب نے مجلس ذکر کروائی۔ اس کے بعد اسیرہند مولانا الیاس قاسمی صاحب کا بیان ہوا۔بعدنماز عشاء تلاوت قرآن کے بعد نظم پھر مولانا عمار صاحب کاولولہ انگیز بیان ہوا جس میں انہوں نے خاص طور پر بتایا کہ جس طرح امریکہ نے افغانستان میں گھٹنے ٹیکے ہیں اور شکست سے دوچار ہوا ہے ان شاء اللہ ایک دن بہت جلد انڈیا بھی کشمیر سے دم دبا کر بھاگ کھڑا ہو گا۔ بھارت کسی خوش فہمی کا شکار نہ رہے کیونکہ مجاہدین کشمیر اب سر دھڑ کی بازی لگا چکے۔ انڈیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں مجاہدین کی پہنچ نہ ہو۔ مجاہدین کو ان شاء اللہ کوئی بارڈر یا باڑنہ روک سکے گی۔

اس تقریب کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ کراچی شہر کے ان 5شہداء کرام کے والد صاحبان کو اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا جو اس ایک سال کے دوران شہید ہوئے۔ اس کے بعد بھائی فیاض نے ترانہ جیش پڑھا، پھر جرنیل جیش حضرت مفتی عبدالرؤف صاحب کا تفصیلی بیان ہوا۔جس میں انہوں نے فرمایا کہ :

جس طرح ہندوبنئے کو روندنے ایک محمود غزنوی آیا تھا، جس طرح ہندو کو سبق سکھانے ایک شہاب الدین غوری آیا تھا اسی طرح اس دور میں مولانا محمد مسعود ازہران گائے کے پجاری ہندؤوں کو سبق سکھانے آیا ہے اور ان شاء اللہ ایک دن آئے گا جب ہندوستان مجاہدین کشمیر سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہو گا۔

اس کے علاوہ آپ نے فرمایا کہ:

 شہداء کرام کا مقدس لہو ان شاء اللہ ایک دن ضرور رنگ لائے گا۔ کشمیر کے ماؤں بہنوں بیٹیوں کی پکار پر لبیک کہنے والے سرفروش مجاہدین یوم یکجہتی کشمیر اپنے خون سے مناتے ہیں۔ یہ ولولہ انگیز خطاب تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہا ۔ اس کے بعد آخرمیں ہم سب کی دلوں کی دھڑکن حضرت اقدس شیخ حفظہ اللہ تعالیٰ کا تازہ بیان سنایاگیا۔جسے سامعین نے بڑے پر سکون ہو کر سنا اور اس پر عمل کرنے کا عہد کیا۔

 اس پر رونق اور عظیم الشان تقریب کا اختتام حضرت مفتی عبد الرؤف اصغر دامت برکاتہم کی دعا سے ہوا۔شرکاء کی کم و بیش تعداد10000 تھی۔ الحمدللہ رب العالمین

پشاور

پشاور میں ریلی کا انعقاد صبح 11:30بجے جی ٹی روڈ مغلپورہ سے کیا گیا۔ اورامن چوک دلہ زاک روڈ پر ریلی اختتام پذیر ہوئی اور یہاں اس نے ایک جلسہ کی صورت اختیار کر لی۔ریلی میں دوگاڑیوں کو باقاعدہ جہادی جھنڈوں اور بینرز سے سجایا گیا تھا جو ریلی میں آگے آگے چل رہیں تھیں پھراس کے بعد پیدل دستہ تھا جنہوںنے ہاتھوں میں جہادی پرچم تھامے ہوئے تھے۔ اس کے بعدموٹرسائیکلوںکی ایک قطارتھی،پھرکاریں اور آخرمیںبڑی گاڑیاں ۔ قافلہ بڑی نظم و ترتیب کے ساتھ قائم و دائم رہا۔

تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی اور اسداللہ بھائی نے نظم پیش کی پھرمولانا مغیرہ صاحب نے مختصربیان کیااورپھرمولاناریاض صاحب نے بیان پیش کیااس کے بعدبھائی علی محمد صاحب نے مختصربات کی پھرمہمان خصوصی امیر المجاہدین کے برادرصغیر مولانا طلحہ السیف صاحب نے کشمیراورجہاد پرتفصیلی بات کی کہ جہاد کشمیر شرعی جہاد کا تسلسل اور امت مسلمہ کی دینی غیرت کا زندہ ثبوت ہے ۔ اہل کشمیر کی جرات و شجاعت اور وفاداری اپنی مثال آپ ہے ۔ اہل دل اس تحریک کی اہمیت اور افادیت کو بخوبی سمجھتے ہیں اور جو اس پر اعتراضات کرتے ہیں وہ بہت سے حقائق سے نظریں چراتے ہیں ۔ جہاد کشمیر سے ہماری وابستگی دین اور ایمان اور شرعی تقاضوں کی بنیاد پر ہے اس لیے اس سے دستبرداری کا کوئی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ کشمیری ماوں بہنوں اور نوجوانوں سب کی بے پناہ قربانیاں ان کے اخلاص اور ان کی وفا کاسب سے مضبوط ثبوت ہیں جنہیں کسی پروپیگنڈے سے چھپایا نہیں جا سکتا۔آخرمیں امیرمحترم کاآڈیو بیان سنایاگیا پھرمولانا گلاب شاہ نے آخری دعاء کرائی۔شرکاء کی تعداد تقریباً 1500 سے 2000 تک تھی۔

حید ر آباد

ریلی کا انعقاد صدیق اکبرمسجد ہالاناکہ سے2بجے شروع ہوا۔ ابتداء میںافراد تقریباً 1500تھے۔ریلی سینڑل جیل سے گزارکر ٹاور مارکیٹ تک پہنچی۔لیبرٹی چوک پر صوبائی منتظم محترم محمداحمد صاحب کابیان ہوا۔حضرت نے فرمایا: سیدسعد،عبدالحسیب شہید جیسے شہداء کشمیر کاخون انشاء اللہ ضرور رنگ لائے گا اورکشمیرآزاد ہوگا اس کے بعدریلی تلک چاڑی،کوہ نورچوک، حیدرچوک سے گزر کر رسالہ چوک پر پہنچی تو یہاں حضرت مولانامحمد عمارصاحب( برادر صغیر مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ ) کابیان ہوا حضرت نے فرمایا:

’’ باب السلام کے رہنے والو! آج پھرکشمیرکی مائیں بہنیں بیٹیاں کسی محمدبن قاسم کی منتظر ہیں ، قومیت لسانیت کے نعرے چھوڑ دو، کشمیرکی ماؤں بہنوںکے دوپٹہ کوسندھی اجرک جتنی عزت دو تویہ چادرجنت کی چادربن جائے گی۔ان شاء اللہ ایک دن کشمیر آزا د ہو گا اور ہم یوم تشکر منا رہے ہوں گے۔‘‘

اس کے بعد حضرت امیرمحترم کا آڈیوبیان چلایاگیا جسے سامعین نے بڑے جوش و ولولے سے سنا۔آخرمیں بھائی سیداقبال صاحب نے دعاء کرائی۔ شرکاء کی تعداد یہاں 2500 سے زائد ہو گئی تھی۔

بہاولپور

یہاں ریلی 10بجے مرکز عثمان ؓو علی ؓسے روانہ ہوئی۔ریلی میں بہاولپور کے گرد و نواح کے علاوہ جامعۃ الصابر سے بھی تین سو سے زائد طلبہ کرام کی بھرپور ریلی شامل تھی۔ مرکز عثمانؓ و علیؓ سے روانہ ہوتے وقت دو ہزار میٹر لمبی ریلی کا نظم و ضبط دیدنی تھا۔ریلی جہادی پرچموں سے مزین تھی۔ فلگ شگاف نعروں اور ترانوں کی گونج میں قافلہ بہاولپور کے مشہور ختم نبوت چوک پہنچا۔جہاں مجلس ذکر اور دورات کا تعارف مولانا ظہور احمد صاحب نے کروایا۔

آخری بیان حضرت اقدس استاذ الحدیث مولانا مدثرجمال تونسوی صاحب کاہوا، انہوں نے جہاد کشمیر کی اہمیت و ضرورت پر مختصر روشنی ڈالنے کے علاوہ جماعت کی تین نکاتی دعوت :کلمہ طیبہ، اقامۃ صلوۃ اور جہاد فی سبیل اللہ کو اپنانے کا بھی عہد لیا۔اور آخر میں حضرت اقدس امیر المجاھدین مولانا محمد مسعود ازہرحفظہ اللہ کا آڈیو بیان بھی ہوا۔موٹر سائیکل 700،گاڑیاں 11، اور باقی پیادہ ۔کل تقریباً تین ہزار افراد نے شرکت کی۔

ضلع مالاکنڈ

یوم یکجہتی کشمیرریلی ضلع ملاکنڈ میں منعقد کی گئی۔ 10 حلقوں کے تقریبا 4500 شرکاء ، قافلوں کی شکل میں ظفرپارک جمع ہوئے۔ریلی کا نیو اڈہ تک یادگارسفر پراثر جھاد بیانات اور نظموں کے ساتھ طے ہوتا رہا۔مہمان خصوصی قاری ضرارصاحب نے اپنے مختصرمگر جامع خطاب میں اہلیان ملاکنڈ کو مخاطب کرکے کہا:

’’آج جس کشمیر کو مظفرآباد اور کوٹلی کہا جاتا ہے وہ آپ کے بزرگوں نے آزاد کیاتھامقبوضہ وادی کے مسلمان بھی آپکے منتظرہیں۔‘‘

کلمہ،نمازاور فریضہ جھاد کے موضوع مقامی جماعتی علماء اور مجاھد ساتھیوں کے بیانات مثالی تھے۔عوام الناس نے عہد کیا کہ ضلع ملاکنڈ کشمیرکی آزادی کیلئے عارف حسین شہید کی طرح مخلص اور فداء ساتھی پیش کرتے رہیں گے ان شاء اللہ

فیصل آباد

جہادی ترانوں اور فلک شگاف نعروں کی گونج میں ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ 5 کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد یہ ریلی جب اختتام پذیر ہوئی تو ایک جلسے کی شکل اختیار کر گئی۔جس میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے نمائندوں کے خطاب کے علاوہ پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی صاحب اور فیصل آباد بار کونسل کے سیکرٹری جنرل رانا شاہد منیر نے بھی خطاب کیا۔صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی صاحب نے اپنے خطاب میں کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کی بھرپور مذمت کی اور کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والوں کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔

اور فرمایا ہم امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ کی سیاسی اخلاقی دینی حمایت کے لئے ہر وقت ہر جگہ حاضر ہیں۔اس کے بعد استاذ المجاہدین مولانا ابو جندل حسان صاحب نے کلمہ نماز اور جہاد پر مفصل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ’’ جہاد کی برکت سے اور مجاہدین کی قربانیوں سے بہت جلد ہندوستان مجاہدین اور پاکستان سے مذاکرات کی بھیک مانگے گا اور اللہ تعالی کشمیر کو آزادی عطا فرمائیں گے۔‘‘

آخر میں امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر صاحب کا کشمیر ریلی کے لئے تازہ بیان سنایا گیا جس سے ریلی کے شرکاء کا جوش و جزبہ اور بڑھ گیا اور ایمان بھی تازہ ہو گیا۔ریلی میں شریک افراد کی تعداد تقریبا 700 تھی۔

صوابی

صوابی شہر میںریلی کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں تقریباً2200  افراد نے شرکت کی۔ جن میں علماء کرام، صحافی، ڈاکٹر، وکلا تاجران وغیرہ نے شرکت کی۔ ریلی کالار سے شروع ہوئی اور امن چوک تک مارچ کیا۔جس میں ساڑھے3سو سے زائد موٹر سائیکل اور50 کے قریب دوسری گاڑیاں شامل رہیں۔ اس ریلی میں عوام اورانتظامیہ نے عجیب منظردیکھا اور جماعتی نظم سے متاثرہوئے کہ 1طرف ہزاروںکی تعدادلوگ اوردوسری طرف ٹریفک رواں دواں تھا۔کسی طرح کی کوئی بدنظمی دیکھنے میں نہ آئی۔

ریلی کی اختتامی تقریب کا انعقاد ہوا تو تلاوت کلام کے بعد نظم پیش کی گئی۔اس کے بعد ضلعی منتظم بھائی میاںگل جان نے بیان کیا اور کہا کہ ’’ہم صرف آج کشمیریوںکے ساتھ نہیں بلکہ ہر دن ہر روز ساتھ ہیں۔ بلکہ جیش نے1ہزار سے  زائد شہداء کی قربانی دی مزید کہا کہ مظلوم کشمیریو! ہمت نہ ہارنا۔ جماعت مسلمانوںکوآپکے ساتھ کھڑاکرنے کی محنت کررہی ہے اورمزید کہا کہ اے مودی یا تواسلام کے جھنڈاکینیچ آجا یامزید حملوں کیلیے تیار ہو جا۔

 اسکے بعد مہمان خصوصی حضرت مفتی منصور احمد صاحب حفظہ اللہ کابیان شروع ہوا۔ انہوںنے فرمایاکہ:

’’ اللہ تعالی نے ہمیںمظلوموںکے خاطرلڑنیکاحکم دیا ہے۔کشمیرکاذکرکرتے ہوے فرمایاکہ:

’’ ایک وقت وہ تھاجب پورے ایشیا میںکشمیرحسین وادیوںکوہساروں آبشاروںیعنی ہرقسم کی خوبصورتی میں مشہورتھا لیکن آج ہرطرف ظلم چیخ و پکار اوربارودکی بو ہے ۔اس لیے مسلمانوں عزم کروکہ جبتک کشمیرآزاد نہیںہوتا ہم جیش محمد ﷺکے شانہ بشانہ لڑیںگے۔سب نے ہاتھ بلندکرکے عزم کیا۔سب سے زیادہ دل کو رلا دینے والامنظروہ تھا جب سارے مجمع والوں نے اونچی آواز سے کلمہ طیبہ کاذکر شروع کیا۔آخرمیں امیرمحترم کاپیغام سنایاگیا اورمفتی صاحب کے پرسوزدعا پرریلی اختتام پذیر ہوئی۔

ضلع روالپنڈی(صوبہ سیدناعثمان غنی ؓ )

شہر بھر میں ہزاروں جھنڈوں اور اشتہارات سے ایک رات پہلے ہی سجا دیا گیا تھا۔ اگلے دن ریلی کا انعقاد ہوا تو عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ تقریبا ایک سو کے قریب موٹر سائیکل اور بسوں کا قافلہ بھی ساتھ رواں دواں تھا۔ریلی کے اختتام پر خصوصی خطاب مولانامجاہدعباس صاحب کا ہوا۔ جس میں انہوں نے دورات کی بھرپوردعوت دی او رلوگوں کو جذبہ جہاد پر ابھارا۔ خصوصی بیان حضرت امیرمحترم حضرت شیخ  نے فرمایا.۔اس  کے بعد اختتامی دعا ہوئی۔ افراد 1100 تقریبا شریک تھے۔

ضلع مانسہرہ ( بالاکوٹ)

ریلی میں 100 سے زائد موٹر سائیکل، 50 سے زائد گاڑیاں اور600 سے زائد افراد نے بھرپور جوش و ولولہ سے شرکت کی۔ریلی کے اختتامی مقام پر پہنچ کر باقاعدہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔تلاوت اور نظم کے بعد ریلی کے مہمان خصوصی مولانا عطاء اللہ کاشف صاحب نے بیان میں انڈیا کی دھجیاں اڑا دی اور انڈیا کو وارننگ دی کہ اگر وہ کشمیر سے بے دخل نہیں ہوتا تو اسے مجاہدین کشمیر کے قہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور آخر میں حضرت امیر محترم صاحب کا آڈیو بیان سنایا گیا اورپھر دعا کی گئی۔

پنو عاقل

پنوعاقل میں ایک کامیاب ریلی کا انعقاد ہوا جس میں 70 موٹرسائیکلوں اور 6 بڑی گاڑیوں سمیت 200 ساتھی شریک ہوئے۔ ریلی کو بڑے جوش وجذبہ کے ساتھ جہادی نعروں اور ترانوں کے ساتھ بائجی چوک سے پنوعاقل سٹی سے گزارا گیا۔ درمیان میں عید گاہ چوک پر مولانامحمد وقاص صاحب کا ولولہ انگیز بیان ہوا جس میں انہوں نے جہاد کشمیراورغزہ ھند کو بڑے موثر انداز میں بیان کیا بیان کو بڑی تعداد میں شہریوں نے بھی سنا۔دعا چوک پرریلی کااختتام ہوا جہاں پر شرکاء کو امیر محترم کا بیان سنایا گیا جومرکزکیطرف سے 5 فروری کیلئے خصوصانشرکیاگیا تھا۔بعدمیںتمام قافلہ ریلی کی صورت میں گھوٹکی کی مرکزی ریلی میں جاکر شریک ہوا۔

لسبیلہ ( صوبہ عبدالرحمن بن عوف ؓ)

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ریلی کا انعقاد کیا گیا ۔جس نے بڑے منظم انداز میں شہر کا چکر لگایا۔  لسبیلہ پریس کلب کے سامنے مفتی خلیل اللہ صاحب کا بیان ہوا آخر میں حضرت امیر محترم کا بیان سنایا گیا اور آخر میں دعا کے ساتھ ریلی اختتام پذیر ہوئی۔موٹرسائکلوں سمیت چھوٹی بڑی گاڑیاں تقریبا 100 سے زائد تھیں مزید پیدل شامل ہونیوالے افراد کی تعداد بھی 100 سے زائد تھی ۔

سیالکوٹ

بمقام سٹی سیالکوٹ سے ریلی کا انعقاد کیا گیا۔آغاز ریلی سے قبل مجلس ذکراللہ کا خصوصی اھتمام کیا گیا۔لیبر کالونی چائینہ چوک سے منی بسوں،چھوٹی بڑی کاروں،موٹر سائیکلوں اور پیدل جہادی پرچموں،پینافلیکس،پلے کارڈ  اٹھائے ہوئے تھے۔اور ان پر حضرت امیرمحترم صاحب حفظہ اللہ کے نام کی برکات اور کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے نعروں کا حسن۔الحمدللہ۔منی ٹرک میں قافلے کی قیادت کرتا ہوا اسٹیج اورساؤنڈ سسٹم میںحضرت الشیخ  حفظہ اللہ کے بیانات کلپس اور جہادی ترانے ہر دیکھنے اورسننے والوں کو دعوت جہاد اور مظلوم کشمیریوں کا پیغام غیرت پہنچا رھا تھااور بہترین سکیورٹی میں اکرام مسلم کو ملحوظ خاطر رکھتے ھوئے یہ ریلی علامہ اقبال چوک میں شاندار کانفرنس میں تبدیل ھوگئی۔آعاز تلاوت قرآن پاک اورجہادی ترانے سے ہوا۔مولانا عمیر صاحب نے ماشاء اللہ بہت خوبصورت و دلکش بیان فرمایااور آخر میں حضرت امیر محترم حفظہ اللہ کا بیان سنایا گیااور خاص بات ماقبل پورے سٹی کو جہادی پرچموں اوراشتہاروں سے سجایاگیا۔رقت آمیزدعاکے ساتھ ریلی کا پر امن اختتام ہوا۔تعداد تقریباً 1000 کے قریب رہی۔

باجوڑ

 یوم یکجہتی کشمیر ریلی میں ضلع باجوڑ سے  5 گاڑی 15موٹر سائیکل شریک ہوئے۔ان گاڑیوں میں تقریبا 150افراد تھے۔

ضلع ہٹیاں بالا ( جہلم ویلی آزاد کشمیر )

شہر میں شاندار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ 1200افراد کثیرتعداد تاجربرادری چناری بازار نے بھی شرکت کی۔ تفصیلی خطاب مفتی اشتیاق صاحب کاہوا۔ ریلی مولانا الطاف صدیق صاحب کی قیادت میں نکالی گئی۔ اسکے بعد انڈیاکے بارڈر چکوٹھی میںمحمد اسلم صاحب کا بیان ہوا  پھر اختتام ہٹیاں بالا میں ہوا۔

ضلع لیہ

یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے لیہ مرکز میں اجتماع ہوا۔اپہلے قرآن پاک کی تلاوت اور پھر ذکرکی محفل جمی  اور بھر جھادی نظم پیش کی گئی اسکے بعدمیں مولانامحمد رفیق صاحب (استاذ جامعۃ الصابر)نے کلمہ نماز اورجھادپر مدلل بیان فرمایا اور حضرت امیرمحترم کا تازہ بیان سنایاگیا وصولی بھی ہوئی اورتقریبا15افرادنے دورہ تربیہ کے لیے نام لکھوائے پھر دعاپر پروگرام کااختتام ھوا شریک افراد200 سے زائد تھے۔

تیمر گرہ

تیمر گرہ کی تاریخ میں سب سے منظم اور بڑی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ 300موٹر ساکل.250گاڑی 4000افراد شریک ہوئے۔ پہلا بیان مولانا محمد الیاس,دوسرا بیان ضلعی منتظم مختار لملکی,خصوصی بیان مولانا محمد ابراھیم صاحب (کوہاٹ) کا ہوا۔ نظم و ضبط کے ساتھ ریلی اختتام پذیر ہوئی۔

 

میلسی

میلسی شہر میں ایک شاندار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔جس میںموٹرسائیکل 250 سے زائد تھے۔ کل افرادقریبا700 کے لگ بھگ تھے۔تلاوت و نظم کے بعد حضرت امیر صاحب حفظہ اللہ کا بیان ہوا۔ اس کے بعدمہمان خصوصی مولاناعبدالرحمان خان صاحب نے دعا کروائی۔

رحیم یار خان

شہر میں ایک عظیم الشان ریلی کا پر امن انعقاد کیا گیا۔ریلی شرکاء تقریبا 500 کے لگ بھگ تھی۔ بیان شعبہ تبلیغ کے مولانا انوارلحق صاحب اور مولانا شاھد محمود چیمہ صاحب نے کیا۔ اور آخر میں حضرت امیر محترم کا بیان اور پھر دعاء کے بعد یہ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

خانیوال

خانیوال شہر میں جہادی پرچموں سے مزین اور نعروں کی گونج میں شاند ار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔تعدادموٹرسایکل:80شریک افراد:210تعدادگاڑی:3  جبکہ آخری بیان مولانا حسنین معاویہ صاحب کا ہوا۔

مردان

پانچ فروری یوم یکجھتی کشمیر ریلی کا انعقاد ہوا۔ ریلی صبح 10 بجے مردان مرکز سے ہزاروں کارکنوں کا قافلہ ذکراللہ کیساتھ جماعتی پرچموں کو لہراتے ہوئے روانہ ہو۔ چاٹو چوک اور شمسی روڈ سے گزرتے ہوئے تقریبا 11 بجے کالج چوک پہنچ کر ضلع مردان کے اس مرکزی چوک میں ایک بڑا اجتماع ہوا۔تلاوت، ذکراللہ اوربھائی عباد کی نظم کے بعد ضلعی منتظم بھائی انورزادہ نے بیان کیا کہ

’’ ہم نے حضرت امیر محترم حضرت مولانا محمد مسعود ازہر صاحب کے ہاتھ پر جھاد اور موت کی بیعت کی ہے۔ امیر محترم کا جو حکم ھوگا ہم تیار ہیں  انشاء اللہ۔‘‘

بھائی حدید کے جیش ترانے کے بعد مہمان خصوصی مولانا جمال الدین صاحب کا بیان ہو اور اجتماع میں شرکت کرنے والوں کو غزوۃ الہند کیلئے ابھارا۔پورے اجتماع والوں سے غزوۃ الہند میں شرکت کیلئے ارادے اور وعدے لئے۔ آخر میں حضرت امیر محترم کا خصوصی آڈیو پیغام سنایا۔جس سے اجتماع والوں کا جذبہ مزید پختہ ہوگیا۔ مولانا عزیزالرحمان صاحب نے دعا فرمائی. جس سے اجتماع کا اختتام ہوگیا۔

کوہاٹ

ضلع کوھاٹ ریلی میں  ابتدائی شرکاء کی تعداد 500آخری بیان صوبائی نائب ذمہ دار بھائی زبیرصاحب کا ہوا جب کہ اس ریلی میں شرکاء کی تعداد 800تھی۔

راجن پور ، روجھان اورجام پور

روجھان اور راجن پور میں یوم یکجہتی کشمیر پر اجتماع ہوا۔ شریک افراد 110  تھے۔ جبکہ جام پور ریلی میں شریک 50 افراد نے شرکت کی۔

ڈیرہ اسماعیل خان

ضلع ڈیرہ اسماعیل خان شہرمیں عظیم الشان 5 فروری یوم یکجہتی کشمیرریلی نکالی گئی جس میں ڈی آئی خان وانا اور ٹانک کے کارکنان نے شرکت کی۔کشمیراورجھادکے عنوانات کے بینر سے خوبصورت گاڑی سجائی گئی تھی جس میں ساؤنڈ سسٹم لگایاہواتھا۔ ریلی پیدل سڑک کے ایک سائڈ پررواں دواںرہی اور پورا راستہ امیر محترم صاحب کی تقاریر اورجہادی نظمیں چلتے رہے۔ مختلف مقامات پر7 بیانات ہوئے۔ ریلی ساڑھے11.30 بجے روانہ ہوئی اور شہر کے مختلف بازاروں سے ھوتی ہوئی2  بجے امیر محترم صاحب کے تازہ بیان سنانے کے بعد اختتامی دعاء مولانا فیاض صاحب کے ساتھ ریلی کا اختتام ہوا۔شرکاء تعداد 400 سے زیادہ تھی۔

ضلع فاروڈ کہوٹہ( آزادکشمیر)

ریلی میں سکول کالج مدارس کے طلبا ملازمین تاجراور دیگر لوگوں سمیت 1500افرادنے شرکت کی۔جس میں جیش محمد کی طرف سے 50افراد کے قافلے کی شرکت.شرکاء جلسہ کو جیش محمد کی طرف سے5فروری کا  زبردست پیغام دیا گیا۔

ضلع وہاڑی

وہاڑی شہر میں شاندار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کا آغازتلاوت،ذکر، درودشریف اوراستغفارکے عمل سے ہوا۔4چوکوںپردس دس منٹ کے بہت ایمان افروز4بیان ہوئے آخری پانچواں امیرمحترم کاتازہ ریلی کے حوالے سے آڈیوبیان ہوا۔ریلی بہت منظم رہی۔300 پرچموں اورامیرمحترم کے کلپس نے ریلی کوپرکشش بنایا۔موٹرسائیکل 250 سے زائد،کل افرادتقریبا700۔اسکے بعد مہمان خصوصی مولاناعبدالرحمان خان صاحب نے دعاکروائی۔

تحصیل برنالہ ( آزاد کشمیر )

5 فروری یوم یکجہتی کشمیر تحصیل برنالہ آزاد کشمیر میں سب دینی جماتوں نے مل کر سکول و کالج کے طلبہ اور تاجروں دوکانداروں مجاھدوں اور بہت سے افراد نے  ریلی میں حصہ لیا۔ افراد کی تعداد 1200 سے زیادہ تھی سب جماعتوں کے سربراہان نے کشمیر  کے بارے میں مفصل بیانات کیے۔ جیش محمد کے یونٹ منتظم قاضی عبد الغفور نے بیان کیا.

ضلع باغ ( آزاد کشمیر )

5 فروری کے حوالے سے پروگرام تین جگہ طے ہوئے۔ مرکزی پروگرام تمام جماعتوں کے ساتھ مشترکہ شریک افراد 1200 ۔جماعت کے خطیب مولانا ساجد شاھین  صاحب نے نمائندگی کی ۔جماعت کا تعارف پیش کیا جماعت کے کام پر روشنی ڈالی ۔

ضلع باغ کا دوسرا پروگرام تحصیل دھیرکوٹ سے ریلی کھولہ تک گئی۔ 20گاڑیاں 30 موٹر سائیکل  جبکہ شرکاء کی تعداد 150 سے 200 ۔پہلے خطیب مولانا خرم صاحب  آخری خطیب مولانا عبداللہ صاحب کا بیان ہوا۔

3 فروری نبی الصیف اور یوم یکجہتی کشمیر کانفرنس ضلع باغ کی تحصیل دھیرکوٹ کے علاقہ  مناسہ  میں پہلی جہادی کانفرنس لوگوں کے عجیب مناظر۔ جھاد پر تفصیلی بیان۔

ضلع بھکردریا خان

 ضلع بھکردریا خان ریلی ریلوے گراونڈ سے شروع ہوئی۔ جماعتی پینا فیلکس سے امیرمحترم کے نام کے نعروں سے مزین  یہ ریلی بڑی شاندار تھی۔آگے بڑی گاڑی ساؤنڈ والی پھر پیدل پھررکشا پھرموٹرسائیکل کی قطاریں۔ ماشااللہ فوارہ چوک برمولانا امان اللہ کا خطاب ہوا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ

’’مودی سن مسلمان اپنے بچے قربان کرکے تجھ سے کشمیرچھین لیں گے‘‘

 پھرامیرمحترم کا بیان سنایا گیا ماشاء اللہ مجمع نے خوب جم کرسنا۔ شریک افراد 300  کے لگ بھگ تھے۔

گھوٹکی

ضلع گھوٹکی میں ایک کامیاب ریلی کا انعقاد ہوا جس میں 200موٹرسائیکلوں اور 30 بڑی گاڑیوں سمیت تقریباً1000 ساتھی شریک ہوئیَ ریلی کو بڑے جوش وجذبہ کے ساتھ جہادی نعروں اور ترانوں کے ساتھ سرکٹ ھائوس سے  ماتہیلو چوک سے جھادی ترانوں کی گونج میں میزائل  چوک  تک پہنچایا گیا جہان پر مولانامحمد وقاص صاحب کا ولولہ انگیز بیان ہوا۔ جس میں انہوں نے جہاد کشمیراورغزہ ھند کو بڑے موثر انداز میں بیان کیا ۔بیان کو بڑی تعداد میں شہریوں نے بھی سنا۔ریلی میزائل چوک سے ہوتی مین چوک پہنچی  جہاں  پر مہمان خاص مفتی رفیق احمد صاحب کا بیان ہوا مفتی صاحب نے مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی اور بتایا:

’’ جھاد میں عزت ہے۔اگر دنیا میں عزت چاھتے تو جہاد کرنا ھوگا خلافت چاہتے ھو تو جہاد کرنا ہوگا ظلم سے نجات چاہتے ھو تو جہاد کرنا ہوگا وہ دیکھو افغانیوں نے جہاد کیا تو دنیا کی سپر پاور کہلانے ولا امریکہ ان کے قدموں مین بیٹھ کر مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے ۔

اس کے بعد شرکاء کو امیر محترم کا بیان سنایا گیا آخر مین بزرگ عالم دین مولانابشیراحمد نے دعاء کی۔

بہاولنگر

ضلع بہاولنگر میں بھی ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی ساتھیوں اور عام شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔موٹر سائیکل: ۱۳۰،کاریں : ۳،شہ زور ڈالا : ۱

 تقریباًافراد : ۱۸۰ ریلی کے آخر میں حضرت شیخ کا بیان چلایا گیا۔

ڈیرہ غازی خان

ڈیرہ غازی خا ن میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بھر پور انداز سے ریلی نکالی۔ شرکاء نے خوب نعرہ بازی کی۔ بینرز اور جھنڈے خوب لہرائے گئے مولانا محمد زاہد حنفی صاحب نے کشمیریوں کی قربانیوں کو سراہا مجاہدین جیش محمد کی قربانیوں کا تذکرہ کیا امیر جیش حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر کی قیادت میں ہم کشمیرکی آزادی تک جہاد کرتے رہیں گے کے عزم کو دہرایا۔

 ضلع خوشاب

ریلی کا شاندار آغاز ہوا۔آغاز میں تعداد: ۱۰۰ اور اختتام پر تقریباً : ۲۰۰ ہو گئی۔سیاسی ، تاجر اور مقامی علماء کے بیان کے بعد حضرت امیر صاحب کا مضمون چلایا گیا۔عوام نے توجہ سے سنا اور منظم انداز میں ریلی اختتام پذیر ہوئی۔

ایبٹ آباد

ایبٹ آباد میں مقامی مجاہدین کی طرف سے ریلی کا شاندار آغاز ہوا۔ 25موٹر سائیکل اور10گاڑیاں تقریباً 130افراد نے بھرپور شرکت کی۔تلاوت کے بعد مہمان خصوصی مفتی عاصم فیصل آبادی صاحب کا بیان ہوا۔ اس کے بعد حضرت امیر محترم کا بیان سنایا گیا اور اس کے بعد دعا ہوئی۔

اختتامی ریلی کے وقت تعداد مزید بڑھ گئی۔

ہری پور

ریلی میں 40سے زائد موٹر سائیکل10 سے زائد گاڑیاں اور300 زائد افراد نے بھرپور جوش فروش  ولولہ سے شرکت کی۔تلاوت، نظم کے بعد ریلی کے مہمان خصوصی مولانا  قمرزمان صدیقی نے خصوصی خطاب فرمایا۔ اس کے بعد حضرت امیر محترم صاحب کا آڈیو بیان سنایا گیا اور آخر میں دعا کی گئی.

لاہور

 پہلی مرتبہ ضلع لاہور میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے ایک شاندار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ دن 12 بجے فیروز پور روڈ پر کلمہ چوک سے لے کر 3 بجے قرطبہ چوک پر پہنچے تلاوت، ذکر اور بیانات سے مز ین یہ قافلہ ترانوں،نعروں کی گو نج اور امیر محترم کے بیانات کے کلپ چلاتے ہوئے جہادی پرچم اٹھائے اور سروں پر جیش محمد کے رومال اور نعروں سے سجی پٹیاں باندھے ہوئے جس میں 350 موٹر سائکل سوار 20 سے زائد گاڑیاں اور 15 رکشہ اور 100 سے زائد افرادپیدل تھے آخری پوائنٹ پر مولانا عبدالعزیز صاحب کا کشمیری بھائیوں سے ہمدردی اور غزوہ ھند پر جذ بات اور نظریات سے معمور بیان اور آخر میں امیر محترم کا بیان بہت خاموشی سے مکمل مجمع نے سنا اور دعا کے ساتھ ریلی منتشر ھوگئی۔ تمام شرکاء بہت پر عزم ہوئے اور خوشی کا اظہار فرمایا اور نقد مالی تعاون بھی فرمایا۔

سکھر

 ضلع سکھر( ابوبکر رضی اللہ عنہ) میں ریلی کا انعقاد ہوا۔ریلی شاہ خالد کالونی سے3 بجے شروع ہوئی۔ درمیان میںامیرمحترم کے جہادی کلپ اورنظمیںچلتی رہی۔ پہلا بیان مولاناجمال دین صاحب کاہوا۔ جسمیں بھرپور دعوت جہاد اور مجاہدین سے جوڑنے کی ترغیب تھی۔دوسرا بیان مولانا عبدالحکیم صاحب کاہوا. مولانا نے جہادہند کی فضیلت پرجوش خطاب کیا۔تیسرا بیان مولانانصیب اللہ صاحب نے فوری طورپر جہادکشمیرکی طرف خروج کی ترغیب دی۔چوتھا بیان مفتی خبیب صاحب کا ہوا۔مولانانے انڈیاکے بارے کہاکہ کشمیرکی آزادی قرارداد مذمت سے نہیںبلکہ انڈیا کی مرمت سے ہوگی۔اورتربیہ ارادے لیے۔ آخر میںامیرمحترم کاخصوصی آڈیوبیان ہوا۔ ریلی کااختتام مکی مسجدپرہوا. شرکاء تعدادتقریبا 800  تھے۔

بصیر پور ( اوکاڑہ)

بصیر پور ضلع اوکاڑہ میں 5 فروری ریلی منعقد ہوئی۔آج صبح 8 بجے سے ہی بازار رفیق شہید روڈ پر سٹیج لگا دیا گیا جس میں جہادی ترانے گونجتے رہے اور پھر 10 بجے قاری محمد طیب صاحب کی قیادت میں ریلی کو موٹر سائیکل، گاڑیوں اور پیدل افراد کے ساتھ شہر کے مختلف مقامات پر ریلی نعروں اور جہادی ترانوں کی گونج سے گزاری گئی۔ ریلی میں تقریبا 600 افراد نے شرکت کی ۔پھر 11 بجے ریلی دوبارہ سٹیج کے پاس پہنچ گئی جہاں پر جہادی ترانوں کے بعد اوکاڑہ کی مشہور شخصیت مفتی کفایت صاحب کا بیان ہوا پھر مرکز سے آئے ہوئے مفتی مدثر صاحب کا بیان ہوا اور پھر آخر میں دعا سے پہلے حضرت امیر محترم کا بیان سنایا گیا اور آخر میں قاری محمد طیب صاحب کی دعا سے اختتام ہوا۔

دیر بالا

دیر بالا 5 فروری ریلی اور اجتماع پہلی مرتبہ منایا گیا ۔بارش اور بعض جگہ برف کے باوجود بہت عظیم الشان پروگرام ہوا۔ حلقوں کے کارگزاری کے مطابق 4200 افراد شریک رہے۔ پہلے گاڑیوں کے ریلی پھر پیدل ریلی ہوئی اور پھر اجتماع ہوا۔  ذکر اللہ کے ساتھ ساتھ بیانات اور نظمیں پیش کی گئی۔ مہمان خصوصی بھائی حذیفہ نے اپنے بیان میں کشمیریوں کے مظلومیت اور انڈیا کے ظلم کو بیان کیا اور اس کا علاج جھاد قرار دیا اور غزوہ ہند کے فضائل سنائے۔ جھاد اور شہادت کا شوق دلوں میں اتارا جماعت میں اپنے صلاحتیں لگانے پر زور دیا اور امیر محترم کی سچے اطاعت پر زور دیا۔ آخر میں امیر محترم کا بیان نشر کیا گیا اور مفتی عزیز اللہ صاحب نے دعا کروائی۔

ملتان

  ملتان ریلی میں تین سو  سے زائد موٹر سائیکل اور دو کارں نے شرکت کی۔شریک افراد 500 شیخ کا بیان بھی سنایا گیا ۔

بنوں

 ضلع بنوں شہرمیں عظیم الشان 5 فروری یوم یکجہتی کشمیرریلی نکالی گئی جس میں بنوں،نورنگ اور لکی مروت کے کارکنان نے شرکت کیں۔کشمیراورجھادکے عنوانات کے بینرز سے خوبصورت گاڑی سجائی گئی تھی۔ جس میں ساؤنڈ سسٹم لگایاہواتھا۔ ریلی پیدل سڑک کے ایک سائڈ پررواں دواںرہی۔ پورا راستہ امیر محترم صاحب کی تقاریر اورجہادی نظمیں چلتے رہیں مختلف مقامات پر 5 بیانات ہوئے۔ریلی ساڑھے 10 بجے روانہ ہوئی اور شہر کے مختلف بازاروں سے ھوتی ہوئی 1 بجے امیر محترم صاحب کے تازہ بیان سنانے اختتامی دعاء مولانا کلیم اللہ سیف صاحب کے ساتھ ریلی کا اختتام ہوا. شرکاء تعداد 550 سے زیادہ تھی۔

کوئٹہ

صوبہ عبدالرحمن ؓ  ضلع حضرت ابوبکر رض کوئٹہ کی طرف سے 5فروری ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ یکجہتی کشمیر ریلی منظم انداز میں اذکار کے بعد مسجد افضل گوروؒ سریاب روڈ سے سوا ایک بجے روانہ ہوئی۔امیر محترم کے کلپس اور جہادی ترانوں کے ساتھ روانگی ہوئی۔ کوئٹہ کے حلقہ منتظم خلیل بھائی کا بیان ہو۔پریس کلب پہنچ کر صوبائی ذمہ دار بھائی شریف اللہ صاحب کا بیان ہوا۔ اس کے بعد ڈاکٹر اسامہ کا بیان ہو۔ا اس کے بعد مہمان خصوصی حضرت مولانا عبدالرشید صاحب کا جہاد کشمیر پر مفصل بیان ہو۔ا اس کے بعد امیر محترم حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر صاحب حفظہ اللہ کا آڈیو ابیان سنایا گیا۔برف باری کے باوجود سب شرکاء نے توجہ سے بیان سنا۔ انڈیا کا ترنگا جلایا.آخر میں مہمان خصوصی کی دعا کے ساتھ ریلی اختتام پذیر ہوئی۔  تعداد : موٹرسائکل 110گاڑیاں تقریبا 25 : ،رکشے 20  سے زائد تھے۔کل شریک افراد تقریبا 700.

نواب شاہ

ضلع نواب شاہ میں بھی ایک کامیاب ریلی کا انعقاد ہوا۔ جس میں 100 سے زائد موٹر سائیکل اور 18 بڑی گاڑیوں سمیت تقریباً 400 ساتھی شریک ہوئے۔ ریلی کو  بڑے جوش و جذبے کے ساتھ جہادی نعروں اور ترانوں کے ساتھ پورے شہر سے گزارا گیا۔آخر میں حضرت امیر محترم حفظہ اللہ کا بیان سنایا گیا۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں شاندار ریلی کا آغاز ہوا اور پورا شہر چکر لگانے کے بعد یہ ریلی ایک ایک جلسے کی شکل اختیار کر گئی۔ جس میں وکلاء ، تاجر اور مختلف جماعتوں اور تنظیموں کے نمائندوں کے خطاب کے بعد مولانا سرفراز صاحب نے جہاد کے موضوع پر مفصل خطاب کیا۔ آخر میں امیر محترم حفظہ اللہ کا بیان سنایا گیا۔ شرکاء کی تعداد تقریباً 250 سے زائد تھی۔

یہ وہ چند کارگزاریاں تھیں جو بیان کر دی گئیں۔

اس کے علاوہ بھی مختلف جگہوں پر رییلیوں اور جلسوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔ عوام الناس کی اس قدر کثیر تعداد کا ان ریلیوں میں اپنے جوش و جذبے کا اظہار یہ بات ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی عوام کشمیری مسلمانوں کا سہارا بنے کھڑی ہے، چاہے جیسے بھی حالات کیوںنہ بن پڑیں۔ کشمیری قوم کا ساتھ نہیں چھوڑا جائے گا۔

لیکن اے اہل پاکستان ! ابھی سفر بہت باقی ہے۔ ابھی ہمت نہیں ہارنی۔ آئیے جہاد کشمیر کا ساتھ دیجئے۔ مجاہدین کشمیر کا ساتھ دیجئے جو اپنے مقدس خون سے اس سرزمین کو سینچ رہے ہیں۔

پورا اب تک ہوا نہیں ہے، آزادی کا خواب

نسلوں نسلوں گرم لہو کا بہتا ہے سیلاب

بچوں ، بوڑھوں اور نوجوانوں کی آنکھیں بے تاب

گلشن گلشن ویرانی، آباد ہیں قبرستان

کشمیر برصغیر کارستا ہوا زخم بن چکا ہے کہ جس میں لہو بہتا ہی چلا جا رہا ہے۔ انسانیت اور انسانی حقوق کی باتیں سب فسانے ہوئے۔ ہمارے حکمران ابھی تک مشرف کی اس پالیسی سے چمٹے ہوئے ہیں جس نے کشمیر کی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ کہاں گئی وہ شہہ رگ کی باتیں اور کہاں چھپ گئے وہ کٹ مرنے کے جذبے۔

کہاں گیا وہ دلکش نعرہ ، شہہ رگ ہے کشمیر

کہاں گیا ہے زور بازو، کہاں گئی شمشیر

لیکن کشمیری قوم مایوس نہیں ہے اور قربانی دینے والے اور جرات و بہادری کی عظیم مثال بننے والے مایوس ہوا بھی نہیں کرتے۔ وہ دہائیوں سے قربانی دیتی آ رہی ہے۔ اس امید اور یقین کے ساتھ کہ ان شاء اللہ ظلم وجبرکی یہ کالی گھٹا ایک دن ضرور ختم ہو جائے گی۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر کے ساتھ جڑے رہیں، زیادہ سے زیادہ ہر ممکن مدد فراہم کریں، مجاہدین کشمیر سے تعاون کریں۔ ہمارا وقت جتنا بھی قیمتی ہو ہمارا مال جتنا بھی قیمتی ہو ہمارے کشمیری بھائیوں کی جان سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتا۔ لہذا اپنے وقت اور اپنے مال میں سے کچھ ان پر ضرور قربان کریں جن کے ساتھ ہمارا رشتہ ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کا ہے۔  اور وہ اس رشتے کی لاج رکھنے کے لئے ، اس رشتے سے جڑے رہنے کے جرم میں میں صرف اپنی جانیں نہیں اپنی نسلیں تک قربان کر رہے ہیں۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ  جہاد فی سبیل اللہ اور مجاہدین کے ساتھ جڑے رہنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor