احساس؟ (نظم ۔ پروفیسر انور جمیل)

احساس؟

دوستوں کا کس گھڑی ہم پر ستم ہوتا نہیں

سازشوں کا اِک تسلسل ہے کہ کم ہوتا نہیں

کفر کا تو بچہ بچہ در پئے اسلام ہے

قوم کا لیکن تمہیں کیوں فکر و غم ہوتا نہیں

جس کو نہ اولادِ آدم کا ذرا اِحساس ہو

وہ زمانے کی نظر میں محترم ہوتا نہیں

کیوں نہیں اُترا ابھی تک تیری غفلت کا خمار

ایسا بے حس تو نگہبانِ حرم ہوتا نہیں

تیری تاریخِ عزیمت کا بھی تجھ سے ہے سوال

کیوں فسانۂ شجاعت اب رقم ہوتا نہیں

کس لئے جیشِ محمدﷺ سے اَبھی تک دور ہے

ایک پل بھی سرنِگوں جس کا علَم ہوتا نہیں

مورچہ زن ہیں وہی دو چار دیوانے فقط

جن کا سر فرعونِ اعظم سے بھی خم ہوتا نہیں

بڑھ رہے ہیں دھیرے دھیرے اپنی منزل کی طرف

فیصلہ صدیوں کا انورؔ ایک دم ہوتا نہیں

٭…٭…٭

(پروفیسر انور جمیل)