Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

خفیہ تیر (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 613 (Talha-us-Saif) - Sab Maze mein Hein

خفیہ تیر

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 613)

انڈیا کی خوشی دیدنی ہے اور ہمارا غم بھی بے حد ہے لیکن

صفِ دشمنان کو خبر کرو

کہ ’’یاسر‘‘ جیش محمد ﷺ کے ترکش کا آخری تیر نہیں تھا، ایسے بہت سے خفیہ تیر دشمن کو تکلیف دینے کے لئے موجود ہیں

خبأت لہ سہاما فی اللیالی

و ارجوا ان تکون لہ مصیبا

ہندوستان کے سیکیورٹی اِداروں کی رپورٹس کے عکس اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں، جو انہوں نے دہلی سرکار کو بھجوائیں۔ اس سیزن میں بارڈر کی صورتحال اس قدر ٹائٹ رکھی گئی کہ کسی تنظیم کا کوئی مجاہد بھی بارڈر پار کر کے وادی میں داخل نہیں ہو سکا۔ پورے سال میں جن دوگروپوں نے وادی تک رسائی میں کامیابی حاصل کی، وہ صرف کارروائی کرنے آئے فدائی تھے۔ انہوں نے کارروائی کی اور شہید ہو گئے۔ وادی میں موجود مجاہدین کو اس سال نہ کمک مل سکی اور نہ رسد پہنچ سکی۔ رپورٹ ایکسپوز ہوئے ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ ترال کی پولیس لائن میں واقع سی آر پی ایف کا ہیڈ کوارٹر فدائی یلغار سے گونج اُٹھا۔ ہندوستانی میڈیا کا شور تھا کہ جیش آ گئی۔ مجاہدین اتنے بڑے اور ہائی سیکیورٹی زون میں گھسنے میں کامیاب بھی ہو گئے اور پورے چوبیس گھنٹے پانچ فورسز کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا۔ مجاہدین کون تھے اور کہاں سے آئے؟ ترال تک کیسے پہنچے؟ کیمپ میں کس طرح گھسے؟ پندرہ فٹ اونچی خاردار باڑ اور کرنٹ والی دیوار پھلانگی یا گیٹ سے داخل ہوئے ؟انڈیا کے اِداروں کے پاس ان میں سے کسی سوال کا جواب نہیں ۔انہوں نے بس کارروائی کی ذمہ داری جیش پر ڈالی، سارا دن امیر محترم حفظہ اللہ تعالیٰ کے بیانات نشر کئے۔ جیش اور جہاد کا خوب پرچار کیا اور ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں تک جہاد کا پیغام اِضطراراً پہنچایا۔ جو بات اچھی طرح ثابت ہوئی وہ صرف یہ تھی کہ ایک ہفتہ قبل دہلی سرکار کو بھیجی گئی رپورٹ بکواس تھی ۔وزیر داخلہ نے اپنی پریس کانفرنس میں ان تمام اداروں پر دبے لفظوں میں ’’لخ دی لعنت‘‘ بھی بھیجی اور اگلے دن سرینگر پہنچ کر ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کر کے ان تمام اداروں کی گوشمالی بھی کی لیکن ہندوستان کے لئے اس سے بھی بری خبر راستے میں تھی اور خفیہ تیر عنقریب نشانے پر داغا جانے والا تھا۔

’’سرینگر‘‘… مقبوضہ کشمیر کا دارالحکومت… ایک زمانے میں تحریک کشمیر کا سب سے گرم محاذ۔ ایک ایسا شہر جس میں دنیا کے کسی بھی دوسرے شہر سے زیادہ فورسز تعینات ہیں۔ دنیا کے کسی بھی دوسرے شہر سے زیادہ آرمی کیمپس ہیں اور دنیا کے ہائی سیکیورٹی علاقوں میں اس کا پانچواں نمبر رہا ہے لیکن وہاں صورتحال یہ تھی کہ اس کی ہر گلی میں مجاہدین رہتے تھے اورکارروائیاں کرتے تھے۔ لال چوک پر مجاہدین کے جھنڈے لہراتے تھے۔ اس کی سڑکوں پر روزانہ ہندو فوجیوں کی لاشیں گرتی تھیں اور گاڑیوں کے چیتھڑے اُڑتے تھے۔مثل مشہور تھی کہ سرینگر کا دِن آرمی کا، رات مجاہدین کی۔ سرینگر کی گلیوں میں راتوں کو مجاہدین کے قافلے مسلح چلتے تھے، کارنر میٹنگز ہوتی تھیں ، ملاقاتیں اور پلاننگز سر انجام دی جاتی تھیں، کھلے عام گشت ہوتا تھا اور یوں یہ اس کی رزم گاہ غازیوں کے ولولوں سے آباد رہتی تھی۔غازی بابا جیسے شیروں نے سالوں تک سرینگر پر راج کیا اور ان کا وجود یہاں رہنے والے ہر بھارتی فوجی کو زندگی کے احساس سے محروم کئے رکھتا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ پاکستان میں ’’ہنومان‘‘ پرویز مشرف کی حکومت آ گئی اور سرینگر کی رزم گاہ ویران ہو گئی۔ آہ یہ دلخراش داستان ۔ جب بھی یاد آتی ہے دل میں اُٹھنے والے خیالات بد دعا بن کر زبان پر جاری ہو جاتے ہیں۔ میںجو اس حسین زمانہ کے ساتھ تھوڑا سا دور بیٹھ کر منسلک رہا اپنی کیفیات اَلفاظ میں دکھانے سے قاصر ہوں، تو وہ سرینگر جس نے سالہا سال ان مبارک قدموں کی چاپ سنی، اس معطر خون سے مہکا اور ان نورانی وجودوں کو اپنے وجود میں سموئے رکھا ہے وہ کتنی بددعائیں دیتا ہو گا، چشم تصور بہت کچھ دکھا دیتی ہے۔ آٹھ سال …پورے آٹھ سال ایسے گذرے کہ سرینگر نے اپنی زمین کو شرک کے تسلط سے بوجھل کر رکھنے اور ظلم سے تاریک بنا دینے والے کسی وجود کو نشانِ عبرت بنتے نہیں دیکھا۔ اس نے گولیوں کی تڑتڑاہٹ کے ساتھ اللہ اکبر کے والہانہ نعرے نہیں سنے۔ ایسا تو ہرگز نہیں ہوا کہ سرینگر عزیمت کے راستے سے ہٹ گیا ہو، خوئے حریت کھو بیٹھا ہو،ہاں ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ سرینگر کی سڑکیں اور گلیاں حریت کے زمزموں سے ضرور آباد رہیں اور اس نے اہل عزیمت کو ہر حال میں اپنے لال چوک کی طرح استقامت کے ساتھ اپنی جگہ کھڑا پایا مگر وہ کچھ خاص مناظر سے ضرور محروم رہا۔ یقینا! وہ انہیں دوبارہ دیکھنے کے لئے ضرور تڑپتا ہو گا اور اس کی زمین ضرور ان غازیوں کے قدم چومنے کے لئے بے تاب ہوتی ہو گی، جنہوں نے بادامی باغ سے پارلیمنٹ تک اور لال چوک سے ڈل جھیل تک اس کے ایک ایک چپے کو اپنے خون سے مہکایا۔ سرینگر کی قسمت جاگی اور پورے آٹھ سال بعد اس نے عظیم استاد غازی بابا اور عزیز ترین دوست حذیفہ شہید کے جانشینوں کے نعرے سنے۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونجا۔ غاصب اَفواج کی چیخیں اور دہائیاں سنیں اور دہلی کے ایوانوں میں زلزلہ محسوس کیا۔ سرینگر میں مجاہدین کی آٹھ سال بعد واپسی ہوئی اور اس شان سے ہوئی کہ اس کا سب سے ہائی سیکیورٹی زون نشانہ بنا۔ بی ایس ایف کشمیر میں ظلم و وحشت کا وہ اِستعارہ ہے کہ اس کا نام سنتے ہی ہر کشمیری مسلمان کی آنکھوں میں خون اُتر آتا ہے۔ آپ کو پورے جموں و کشمیر میں کوئی ایک مسلمان بھی ایسا نہیں ملے گا جو اس ظالم فورس کے ہاتھوں زخم خوردہ نہ ہو۔ مسلمان عورتوں کی عزت سے کھیلنا اور بزرگوں کی بے حرمتی کرنا جس کا سب سے پسندیدہ مشغلہ ہے۔ مجاہدین سرینگر لوٹے اور سیدھے بے ایس ایف پر لوٹے اور بڑی آن بان کے ساتھ لوٹے۔پھر چوبیس گھنٹے وہی کہانی دُہرائی گئی جو چند دن پہلے ترال کی سرزمین پر لکھی گئی تھی۔ ایوانوں میں شور اُٹھا۔ وزیروں کے ہنگامی دورے ہوئے۔ میڈیا نے شام غریباں برپا کی۔ ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اُٹھے اور ایک بار پھر ان رپورٹوں کا تمسخر اُڑا جن میں کشمیر پر مکمل کنٹرول کے دعوے کئے گئے تھے۔

میڈیا سے لے کر سرکار تک سب کی زبانوں پر اس بار بھی ایک ہی نام تھا ’’ جیش محمد ﷺ‘‘ نہ کوئی ثبوت نہ کوئی کھرّا۔ کسی نے کوئی دوسرا نام لیا تو بھی اسے فوراً ٹوک دیا گیا کہ نہیں کسی اور میں یہ دَم کہاں ہے؟ … بہرحال جو بھی آیا، جہاں سے بھی آیا، اسے سلام، ہمارا سلام اور سرینگر کا سلام… سرینگر کو مبارک ہو اس کی زمین کو پھر غازیوں کے قدموں نے چھوا۔ اس پر معطر لاشے گرے اور اس پر غاصبوں کی کمر ٹوٹی۔

جنگ کا ایک مخصوص مزاج ہے۔ اس میں کسی کیفیت کو دوام نہیں رہتا۔ اس کی خوشی ہو یا غم ،فتح ہو یا شکست، ان کے ایام بدلتے رہتے ہیں۔ قرآن نے یہی حقیقت سمجھائی ہے۔ ہم سرینگر میں مجاہدین کے لوٹ آنے کی خوشی میں تھے اور ہمارے دشمنوں کی صفوں میں ماتم تھا۔ پھر آج ایک ایسی خبر آ گئی کہ ہم غم سے نڈھال ہیں اور دشمن صبح سے خوشی کے شادیانے بجا رہا ہے۔ لیکن کوئی بات نہیں! اہل ایمان کو تو جہاد میں جو غم پہنچے اس میں بھی خوشی اور مبارکبادی کا بہت سا سامان ہوتا ہے جبکہ کافروں کو جنگ میں ملنے والی خوشی بہت عارضی اور وقتی ہوا کرتی ہے۔ یاسر بھائی عرف کمانڈر خالد ان مجاہدین میں سے تھے جو سو گن بردار مجاہدوں سے زیادہ قیمتی اور دشمن کے لئے ایک پورے گروپ سے زیادہ خطرناک ہوا کرتے ہیں۔ ان کی خدمات بظاہر پوشیدہ لیکن حقیقت میں بہت دیرپا اور مؤثر ہوا کرتی ہیں۔ وہ کشمیر گئے تو اس اہم کام کے لئے چنے گئے اور پھر انہوں نے سالہا سال تک وہاں کی زمین اور ماحول کا حصہ بن کر وہ خدمات سر انجام دیں جن کی تفصیل کے لئے پوری کتاب بھی ناکافی ہے۔ سرینگر کی شکست سے زخمی سانپ کی طرح لوٹ رہے انڈیا کو ان کا سراغ مل گیا اور پھر آج یہ غمناک خبر آ گئی کہ انہیں شہید کر دیا گیا۔ میں ہندوستان میں نشر ہونے والی خبر سن رہا تھا اور غم کے ساتھ رب تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کی نشانی پر قربان بھی۔ ایک مجاہد جس کے پاس گن نہیں تھی بلکہ اپنے دفاع کے لئے صرف ایک پسٹل تھا ہندوستان کا میڈیا اس کی شہادت کے آپریشن کی جو تفصیلات بیان کر رہا تھا وہ کچھ اس طرح تھی

’’ صبح سوا نو بجے انڈین پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے ان کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا۔انہوں نے اپنے پسٹل سے اس آپریشن گروپ پر فائرنگ کر دی۔ اس پر آپریشن رُک گیا اور فورسز نے کمک طلب کی۔ سی آر پی ایف کی 177. 179 اور 92 بٹالین کو مدد کے لئے روانہ کیا گیا۔ اس طرح تقریباً ۳ ہزار کے لگ بھگ فورسز نے اس ایک پسٹل بردار مجاہد کو شہید کیا۔ اس کارروائی میں چار گھنٹے کا وقت صرف ہوا‘‘…

سبحان اللہ…یہ ہے دست غیب و قدرت کی وہ طاقت جو جہاد کے دوران مجاہد کے بازوؤں میں آ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے کفر کو ذلیل فرماتے ہیں۔

’’یاسر بھائی‘‘ اپنی عظیم خدمات کا صلہ پانے اپنے رب کریم کے حضور پہنچے۔ جتنا وقت انہیں ملا اس میں انہوں نے شہداء کرام کی امانت تحریک کشمیر کو پہاڑوں سے اُتار کر ایک بار پھر کشمیر کے ہر شہر اور ہر کیمپ تک پہنچانے کا سامان فراہم کر دیا۔ الحمد للہ! ان جیسے اور کئی دیوانے اسی طرح اپنے آپ کو خطرات میں ڈال کر دشمن کے لئے بہت سخت خطرات پیدا کر رہے ہیں، اس لئے خوشی منانے والے دشمن کے لئے اس خبر میں خوشی کا کوئی زیادہ سامان نہیں۔ ہاں مجاہدین کی خوفناک اِنتقامی لسٹ میں ایک اور بڑے نام کا اضافہ ضرور ہو گیا جو یقیناً کفر کے لئے ایک بہت بُری خبر ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online