Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

حب محمدﷺ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 621 (Talha-us-Saif) - Hubb e Muhammad

حب محمدﷺ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 621)

قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں  (صحیح بخاری )

مکتوب خادم میں آج کل محب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سبق پڑھایا سکھایا سمجھایا جا رہا ہے تو کیوں نہ آج کی محفل اسی سے سجالی جائے..

محب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کی لازمی شرط ہے اور یہ شرط خود نبی کریم ﷺ نے بیان فرمائی ہے کہ آپ ﷺ کی محبت جب تک ہر دنیوی کی محبت پر غالب نہ آ جائے اس وقت تک دعوی ایمان کامل کا معتبر نہیں ہوتا۔

 عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺحضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے تشریف لا رہے تھے، حضرت عمرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! مجھے آپ میری جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : نہیں اے عمر! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے جب تک میں تمہیں تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاوں (محبت کامل نہیں ہو سکتی )۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! اب تو آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: ہاں اب اے عمر  ( صحیح بخاری )

الآن یاعمر

ہاں اے عمر! اب یعنی بات اب پوری ہوئی۔ محبت اب کامل ہوئی، عشق اب سچا ہوا اور ایمان اب پورا ہوا۔ جب یہ بات دل میں آ گئی کہ کوئی رشتہ، کوئی تعلق ، کوئی رغبت، کوئی چاہت آقا مدنیﷺکی محبت سے بڑھ کر نہیں رہی۔

بات اختیاری نہیں بلکہ لازمی ہے، یہ مقام حاصل نہ ہونے تک خطرہ ہی خطرہ ہے۔ قرآن مجید دیکھئے۔ سورۃ توبہ میں کیا فرمایا گیا ہے:

 کہہ دیجیے اگر تمہارے باپ، تمہاری اولادیں، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے خاندان ، تمہارے جمع شدہ اموال اور تمہاری تجارت جس کے گھاٹے کا تمہیں خوف ہے اور تمہارے گھر جن میں رہنا تم پسند کرتے ہو، تمہارے نزدیک اللہ، اللہ کے رسول (ﷺ)اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہو جائیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے، بے شک اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا ( التوبہ)

جی ہاں!جب تک اللہ اور اس کے رسول ﷺکی محبت اور ان کے نام پر جان دینے کی رغبت اوپر مذکور تمام رشتوں اور تعلقات سے زیادہ نہ ہو جائے

انسان کا اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جانا اور رضائے الہی کا مستحق تو کیا بننا، عذاب کے خطرے سے دوچار رہتا ہے۔ اور قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الشفاء ‘‘میں یہاں تک لکھ دیا ہے کہ انہی لوگوں کو فاسق کہا گیا ہے۔  فاسق نافرمان کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف چلے اور اوامر کو توڑے اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو ہر تعلق پر غالب رکھنا  اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جو ایسا نہ کرے گا اور اس مقام کو پانے کی محنت نہ کرے گا وہ نا فرمان ہوا اور فسق میں پڑا

٭…٭…٭

ایک روایت ہے کہ حلاوت ایمان نصیب ہوتی ہے اس شخص کو جس کے دل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺکی محبت ہر تعلق پر غالب آ جائے۔ کیا حلاوت ایمان پانے کا اس کے سوا بھی کوئی راستہ ہے؟

نہیں ہے

دوسری روایت میں نفی کے ساتھ الفاظ ہیں:

 کوئی شخص حلاوت ایمان کو نہیں پا سکتا جب تک کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہر دوسری محبت پر غالب نہ آ جائے ( الحدیث شُعب الایمان )

دوسری اہم بات یہ کہ جب یہ بات اچھی طرح جان لی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی محبت ایمان کی لازمی شرط ہے

اورا س کے بغیر دعوئے ایمان سچا نہیں ہوتا

یہ بات شک سے بالاتر اور شبہے سے پاک ہے

اور اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں ہونے کی لازمی علامت نبی کریم ﷺ کی محبت اور اتباع کا نصیب ہونا ہے

قرآن مجید نے یہود کے اس دعوے کو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب و مقرب ہیں اسی دلیل کی بنیاد پر رد کر دیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے دلوں میں ہوتی تو ان کی زندگیاں اتباع رسول ﷺ سے اور ان کے قلوب محبت رسول ﷺ سے لبریز ہوتے۔

 اے نبی !ان سے فرما دیجیے: اگر اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میرا اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا ( آل عمران )

اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کی سچائی کا ثبوت حبّ رسول ﷺ

اللہ تعالیٰ کی محبت اور قرب پانے کا ذریعہ بھی حبّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم

گویا دنیا و آخرت کی ہر خیر، ہر بھلائی اور ہر راحت موقوف ہے نبی کریم ﷺکی محبت پر

٭…٭…٭

حبّ رسول ﷺسے کیا کیا ملتا ہے؟

کون کون سی بڑی نعمتیں اور سوغاتیں اس عمل سے متعلق ہیں؟

آئیے وہ روایت پڑھتے ہیں جسے سن کر صحابہ کرام سب سے زیادہ خوش ہوئے تھے:

 حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟

نبی کریم ﷺجواب دئیے بغیر نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔ نماز سے فراغت کے بعد فرمایا:قیامت کے بارے میں پوچھنے والا شخص کہاں ہے؟ اس شخص نے عرض کیا: میں ہوں۔

آپ ﷺنے فرمایا:تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟

اس شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ !میں نے اس کے لئے نہ زیادہ نمازیں تیار کر رکھی ہیں اور نہ روزے سوائے اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہوں۔

نبی کریم ﷺنے فرمایا:انسان جس سے محبت رکھے گا آخرت میں اسی کے ساتھ ہو گا۔

حضرت انسؓ  فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو اسلام لانے کے بعد سب سے زیادہ خوشی اسی دن یہ بات سن کر ہوئی ( ترمذی)

اسی سے ملتی جلتی ایک روایت ہے کہ ایک بلند آواز اعرابی نے نبی کریم ﷺکو آواز دے کر کہا:

ایک شخص ایک قوم سے محبت رکھتا ہے مگر ان جیسا عمل نہیں کر سکتا ( اس کا حشر اس قوم کے ساتھ ہو گا یا نہیں ؟)نبی کریم ﷺ نے جواب میں وہی بات ارشاد فرمائی۔  (ترمذی)

صحابہ کرام سب کے سب نبی کریم ﷺکی محبت میں فنا تھے…

انہیں دنیا میں نبی کریم ﷺکی رفاقت ملی جو انہیں ہر چیز سے محبوب تھی…

مگر ان کے دلوں میں ایک خوف اور دھڑکا تھا…

تڑپتے تھے مگر اظہار نہ کر سکتے تھے…

انہیں علم تھا کہ نبی کریم ﷺانبیاء کے امام اور سردار ہیں…

آخرت میں انبیاء کے مراتب سے بھی بلند ہوںگے تو امتی ان کی صحبت کا لطف اٹھا پائیں گے یا نہیں ؟…

ان کی دید سے فیض یاب ہو سکیں گے تو کیونکر؟…

عشق تڑپاتا تھا مگر بات زبانوں پر نہ آتی تھی…

اس سوال اور جواب نے انہیں وہ خوشخبری دے دی جس کی انہیں چاہت تھی…

اصول بیان ہو گیا کہ ہر انسان اپنے محبوبوں کے ساتھ ہو گا انہیں مل سکے گا دیکھ سکے گا اور صحبت سے فیضیاب ہو سکے گا…

اور یہ سوغات تو ان کے پاس موجود تھی وہ صرف  محب نہیں محبت کی مثال تھے…

عاشق نہیں عشق کا نشان تھے…

تب وہ خوش ہوگئے…

محبت رسول ﷺخوشخبری ہے عظیم خوشخبری اللہ کرے ہم سب کو نصیب ہو جائے۔آمین

حبّ رسول ﷺکی کچھ علامات ہیں چند ایک عرض کی جاتی ہیں:

(۱) حبّ فی الرسول ﷺ نبی کریم ﷺ کے محبوب افراد، محبوب اعمال اور محبوب اشیاء سے محبت رکھنا کہ اصول قطعی ہے محبوب کے محبوب کا محبوب ہو نااہل بیت اطہار سے محبت صحابہ کرام سے محبت مدینہ طیبہ سے محبت وغیرہ وغیرہ۔

 اللہ تعالیٰ سے محبت کرو کہ وہ تمہیں صبح وشام نعمتیں دیتا ہے اور مجھ سے محبت کرو اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے  اور میرے اہل بیت سے محبت کرو میری وجہ سے  (ترمذی )

اہل بیت کا گستاخ صحابہ کرام کا دشمن یا مدینہ طیبہ سے لوگوں کو کاٹنے والاکبھی محب نبی نہیں ہو سکتا یہ بات دلوں پر لکھ لی جائے…

(۲) غیرت اللہ کے رسول ﷺکی حرمت و ناموس کے سوال پر بھڑک اٹھنا خون کا جوش مارنا اور رونگٹے کھڑے ہو جانا…اس نام پر جان دینا اور جان لینا آسان ہو جانا …محبت کا لازمی تقاضا ہے جو اس سے محروم   ہے یا اخلاق کے نام پر محروم کرتا ہے وہ محبت سے عاری ہے…

وہ سنے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے عبد الرحمن کو کیا فرما رہے ہیں:

 بیٹا تم ایک بار بھی میرے قابو میں آتے تو زندہ نہ چھوڑتا کیونکہ تم اس وقت اللہ کے رسول سے لڑ رہے تھے…

وہ نبی کریم ﷺکے اخلاق میں رنگے ہوئے صدیق اکبر کے اس تھپٹر کی گونج مدینہ کی گلیوں سے سنے جو گستاخ رسول ابن صوریا یہودی کے چہرے پر اپنا اثر چھوڑ گیا تھا…وہ امین الامۃ ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی تلوار اپنے والد کے سر پر برستی اور دو ٹکڑے کرتی دیکھے…یہ ابوعبیدہ وہ ہیں جو زمانہ جاہلیت میں بھی مشہور بحب الوالدین  والدین سے محبت کرنے والے مشہور تھے…کافر باپ گرفتار کر کے مدینہ کی طرف لے جایا جا رہا تھا بیٹے کے سامنے آقا مدنی ﷺکی شان میں کچھ کہہ دیا اور ٹکڑے ہوا…ویسے بھی دنیا میں ہی کسی سے پوچھ لیں۔

غیرت سے خالی محبت کو کوئی بھی محبت نہیں کہتا

اُسے کیا کہتے ہیں؟ یہ بات چھوڑ دیجیے

(۳)کثرت درود شریف:جس کے دل میں محبت ہو گی یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ نام نہ لیا کرے

اور درود شریف کیسی نعمت ہے؟ آج عرض کرنے کا موقع نہیں

اور ہاں عشق اور سچی محبت کی ایک اور علامت وہ  حالت بھی تو ہے جو استوانہ حنّانہ کو پیش آئی

بے جان کھجور کا تنا کسی کی محبت میں دھاڑیں مار کر روتا تھا…

قصویٰ اونٹنی کو بھی پیش آئی بھوکی پیاسی مر گئی…

حجۃ الوداع کے دن ذبح کے لئے لائے جانے والے اونٹ بھی تو اسی سے گزرے…کہ آگے بڑھ کر اپنی گردنیں پیش کرتے تھے…

ایک خلش ایک جلن ایک کڑھن جس کی تشریح کوئی نہیں کرسکتا…

کوئی میرے دل سے پوچھے تیرے تیر نم کش کو

یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

اور وہ خالد بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ

باغ میں کام کر رہے تھے کہ کسی نے آ کر خبر دی آقا مدنیﷺنے انتقال فرمایا

آنکھیں بند کر کے دست بدعا ہوئے:

یا اللہ!جن آنکھوں نے تیرے محبوب کا رخ انور دیکھا ہے وہ اب آپ ﷺکے جانے کے بعد کچھ نہ دیکھیں

دعا قبول ہوئی اور نابینا ہو گئے …

چھین لے مجھ سے نظر اے جلوہ خوش روئے دوست

میں کوئی محفل نہ دیکھوں اب تیری محفل کے بعد

جی ہاں !یہی تو وہ خلش ہے جو حضرت نانوتویؒ سے لے کر فقیر عطاء اللہ شہید تک عاشقوں کو یہ کہلواتی ہے کہ ان کی خاک کے ذرے آقا مدنی ﷺکے راستے پر نثار ہو جائیں

اللھم ارزقنا حبک وحب رسولک صلی اللّٰہ علیہ وسلم  آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online