Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

ختم نبوت پر ڈاکے کی بڑھتی کوششیں (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 621 - Mudassir Jamal Taunsavi - Khatm e Nubuwwat per Daake

ختم نبوت پر ڈاکے کی بڑھتی کوششیں

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 621)

ایک خبر آج کل سوشل میڈیا پر مسلسل گردش میں ہے لیکن خبر سے پہلے ایک سچی حکایت سن لیں۔ اس کے بعد خبر کی طرف آئیں گے۔

ایک دکان پر دو تین لڑکے بیٹھے تھے۔ ان کے قریب سے ایک قادیانی گزرا۔انھوں نیاسے سنانے کے لئے مرزا کو دو تین گالیاں دے دیں۔ یہ واقعہ اوکاڑہ شہر کا اور پاکستان بننے سے پہلے کا ہے۔اس وقت انگریز حکومت قادیانیوں کا پورا پورا ساتھ دیتی تھی۔ اس قادیانی نے مسلمان لڑکوں کے خلاف عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ کر دیا۔ اس پر اوکاڑہ کے مسلمانوں نے مجلس احرار لاہور کے دفتر کو خط لکھ کر ساری صورتحال بتائی اور درخواست کی کہ ان کی مددکے لیے دفتر سے کسی کو بھیجا جائے۔جو عدالت میں ہماری مدد کر سکے۔ حضرت عطا اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے مولانا محمد حیات رحمتہ اللہ علیہ کو حکم دیا۔ آپ اوکاڑہ چلے جائیں اور اس کیس کی پیروی کریں ۔ مولانا حیات اوکاڑہ پہنچ گئے۔ دوستوں سے ملاقات کی۔ سارے کیس کا مطالعہ کیا۔ پھر ایک وکیل کی خدمات حاصل کیں۔ اسے کتابیں دکھائیں حوالے دکھائے اور یہ بھی بتایا کہ مرزا نے مسلمانوں کو کیا کیا گالیاں دی ہیں۔ اور اسے سمجھایا کہ کیا کیا بات کرنی ہے اور کون کون سے دلائل دینے ہیں۔

مقررہ تاریخ کو عدالت لوگوں سے کھچاکھچ بھر گئی۔سب لوگ مقدمے کی کاروائی کو سننا چاہتے تھے۔ مولاناحیات صاحب نے وکیل کی بہت تیاری کروائی تھی اس لیئے وہ مطمئن تھے کہ ان کا وکیل سب کچھ سنبھال لے گا۔ لیکن وکیل نے انکی بتائی ہوئی ایک بات بھی نہیں کی وہ سب یونہی رہ گئی۔ وکیل اس طرف آیا ہی نہیں، بلکہ اس نے عدالت میں اس قادیانی سے یہ کہا۔ میں کوئی زیادہ لمبی چوڑی بحث نہیں کروں گا نہ ہی دلائل دوں گا آپ صرف اتنا بتائیں! ان لوگوں نے مرزا کو کون سی گالی دی ہے۔ تاکہ اسے سن کر فیصلہ کیا جاسکے کہ وہ گالی ہے بھی یا نہیں ۔ قادیانی کو یہ سن کر سکتہ ہوگیا کہ وکیل نے یہ کیا سوال کردیا اور مجسٹریٹ منہ پر رومال رکھ کر مسکرانے لگا کہ وکیل نے کیا خوب سوال کیا ہے۔ آخر مرزائی نے کہا۔ مجھے یاد نہیں کہ کونسی گالی تھی لیکن گالی ضرور تھی ۔ اس پر وکیل نے کہا: کوئی بات نہیں ، میں گالیاں دیتا ہوں، آپ سنتے جائیں، جب وہ گالی آئے مجھے بتادیں: وکیل نے ایک ہی سانس میں مرزائی کو کئی گالیاں دے دیں، پھر اس نے قادیانی سے پوچھا: کیا ان گالیوں میں وہ گالی آئی ہے، جو ان لڑکوں نے دی تھی۔ قادیانی نے پھر کہا : مجھے یاد نہیں ۔ اس پر وکیل نے کہا: تو پھر اور گالیاں سنو، اس مرتبہ وکیل نے پوری 51 گالیاں دیں۔ مجسٹریٹ اور تمام حضرات دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے۔ بس مرزائی ساکت کھڑا تھا۔ اس کا رنگ فق تھا۔ اب پھر وکیل نے کہا۔ ان میں سے کوئی گالی آئی ہے۔؟ اس نے پھر کہا مجھے یاد نہیں۔ اب وکیل نے کہا جج سے کہا کہ سر مجھے کل کی تاریخ دے دیں میں اور گالیاں یاد کرکے آؤں گا اور ہوسکتا ہے اس کو بھی کل تک وہ گالی یاد آجائے ۔ جج نے تیسرے دن کی تاریخ دے دی تیسرے دن جب وکیل اور مسلمان عدالت میں پہنچے تو قادیانی وہاں موجود نہیں تھا۔ مجسٹریٹ نے مسلمانوں کو بتایا: کہ وہ کل ہی درخواست دے گیا تھا کہ ہم اپنا کیس واپس لیتے ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کے خلاف وہ کیس خارج ہوگیا ۔

اب خبر ہو جائے

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر نے قادیانوں کی باقاعدہ حمایت کا اظہار کیاہے اور ’’خلافت احمدیہ زندہ باد‘‘کانعرہ لگایا ہے۔ اور یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے کہ ملک بھر میںتحفظِ ختم نبوت کا مسئلہ کافی حساس نوعیت اختیار کیے ہوئے ہے، اور اس سے قبل شان تاثیر کاباپ سلمان تاثیر کا معاملہ بھی ابھی تک پوری قوم کے دل ودماغ میں اچھی طرح محفوظ ہے۔

 یادش بخیر !وہ کیس تھا ایک مسیحی عورت آسیہ بی بی کا جس پر الزام تھا

 کہ اس نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ۔ ملعونہ آسیہ بی بی جس نے عدالت میں اپنا جرم قبول بھی کیا اور قریب تھا کہ عدالت اسے سزا سنا دیتی مگر پھر اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر آڑے آئے اور آسیہ بی بی کو تحفظ فراہم کیا ۔ تب ایک نیا سلسلہ چلاجب سلمان تاثیر نے اسلامی قوانین کے مطابق توہین مذہب کے نام پر سزا کے قانون کو کالا قانون قرار دیا ۔ ان کا ماننا تھا کہ آسیہ بی بی معاشرے کی ستائی ایک مظلوم عورت ہے جس پر توہین مذہب کے تمام الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں ۔ سلمان تاثیر کا یہ بیان دینا تھا کہ مذہبی جماعتوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور دین معلیٰ کے پہریدار حرکت میں آگئے ۔ گورنر کے خلاف فتوے دیے گئے جن کی اڑتی اڑتی بھنک سلمان تاثیر کی سیکیورٹی پر مامور ایلیٹ فورس کے ایک اہلکار تک جا پہنچی ۔ ممتاز قادری نامی وہ پولیس اہلکار ایک سچاعاشق رسول بھی تھا ۔ ناموس مذہب پر حرف ممتاز کو گوار انہ ہوا اور اس نے سلمان تاثیر کو گولیوں سے چھلنی کر دیا ۔

اس واقعے نے سلمان تاثیر کے لبرل گھرانے کو میڈیا کے ذریعے عوام الناس سے روشناس کروایا۔ مقتول سلمان تاثیر نے پسماندگان میں 7بچے چھوڑے جن میں سے ایک کا تذکرہ آج کے ہمارے کالم کا حصہ ہے۔ شان تاثیر نے حال ہی میں جماعت احمدیہ کے موجودہ خلیفہ مرزا مسرور احمد سے ملاقات کی ایک تصویر سوشل میڈیا پیج پر لگاتے ہوئے ایک عوام کے نام ایک پیغام بھی دیا ہے کہ (خلافت احمدیہ زندہ باد ، ایک قوم ، ایک خون ، ایک پاکستان اور پاکستان سب کیلئے ہے )۔ واضح رہے کہ پاکستانی آئین کے مطابق احمدی غیر مسلم ہیںاور انہیں اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت نہیں ہے ۔شان تاثیر کے اس پیغام اور مرزا مسرور احمد کے ساتھ تصویر اپلوڈ کرنے کے بعد پاکستان کے مذہبی حلقوں میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑ گئی ہے  اور سوشل میڈیا پر دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر ٹاپ ٹرینڈ پر چلی گئی۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ شان تاثیر نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک بار پھر ختم نبوت کے مسئلے کو چھیڑا ہے ۔ جبکہ اس سے قبل پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بھی قادیانی نوازی میں ایک بیان داغا جس کی بناء میں علماء دین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور متعلقہ وزیر کے استعفی کا مطالبہ کیا گیا۔ تاحال یہ معاملہ چل رہا ہے۔

ہمارے حکمران امریکہ اور بھارت سے دوستی اور امن کی آشا کی باتیں کرتے نہیں جھکتے، مگر وہ مختلف طریقوں سے مسلمانوں اور پاکستان کی جڑوں کو کرنے کے درپے ہیں ۔ پاکستان دشمنی میں ،اسر ائیل کی خفیہ ایجنسی مو ساد، بھا رت کی را اور امریکہ کی سی آئی اے اور انگریزوں کا لگا یاہوا پوداقادیانی پیش پیش ہیں۔ ایک مشہو ر اخبا ر ڈیلی میل کا کہنا ہے کہ بھارت کی اندرا گاندھی نے جو نہی بھارت کی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھا لا تو ا نہوں نے بھارت کی خفیہ ایجنسی کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ کوئی ایسا منصوبہ بنائیں تاکہ پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹا یا جاسکے۔ جس نے یہ منصوبہ بندی کی تھی اس کا نام رامیش ور ناتھ کائو تھااور اس منصوبے کو اُسی کے نام کائو سے یاد کیا جاتا ہے۔ منصوبہ یہ تھا کہ مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک چلائی جائے گی ۔ اوراس کوایک خود مختار ریاست بنایا جائے گا اور بد قسمتی سے را کے قیام کے 30 مہینے بعد 1971 میں مشرقی پاکستان پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ ''کائو''منصوبے کے تحت بلوچستان کو اور خیبر پختون خوا کو ایک علیحدہ خو د مختار ریاست بنانے کی منصوبہ بندی ہے ۔ فی الو قت بلو چستان ، فاٹا اور ملک کے دوسرے حصوں میں جو افرا تفری اور غیر یقینی صورت حال ہے ، اس میں بھارت ، امریکہ، اسرائیل اور پاکستانی قادیانی ملو ث ہیں۔

قادیانی دجال کے دجل وفروب سے دنیابھر کے انسانوں، مسلمانوں اور خود قادیانیوں کو آگاہ کرنا عین عبادت ہے تاکہ وہ اس گمراہی اور کفروضلالت سے محفوظ رہ سکیں۔ تاجدارِ ختم نبوت جناب رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت اور محبت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کی عزت وناموس کی جان و مال سے حفاظت کریں اور سارق تاج ختم نبوت کا ہر کہیں تعاقب کریں۔ مبارک ہیں وہ لوگ جنہوں نے قادیانیت کے خلاف جہاد میں حصہ لیا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کو امر بنادیا۔ ایسے تمام عشاق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دین و دنیا کی بشارتیں ہیں اور مردود ہیں وہ لوگ جو اس قادیانی دجال کو کس بھی درجے میں انسان بھی گردانتے ہیں۔اسلام کے اندر اس فتنہ ارتداد کے بانی مرتد غلام قادیانی کی سزا رجم اور قتل ہونی چاہیے تھی۔ افسوس راجپال تو واصل جہنم ہوگیا مگر مرتدین کی یہ اولاد انگریز کی چھترچھایا تلے قوت پکڑتی رہی اور آج کل بین الاقوامی اسلام دشمن قوتیں اور عالمی صیہونیت اس کی مربی اور پشت پناہ ہے اور وہ پوری دنیا میں کفروضلالت پھیلا رہے ہیں۔ یہ اسرائیل کے ایجنٹ، ہندو کے گماشتے، مغربی طاقتوں کے آلہ کار اور پاکستان اور عالم اسلام کے دشمن نمبر ایک ہیں۔

ایسے گمراہ کن عناصر کی حمایت کرنے والے یاد رکھیں کہ وہ پاکستان کی جڑوں کو مزید کھوکھلا کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کر رہے۔ الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا ملک بھی اسلامی ہے۔ الحمد اللہ ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہمارا ملک غریب کمزور اور غریب ضرور ہے مگر ہم دین اسلام پر جان دے سکتے ہیں۔ہم قادیانیت سے برء ات کا اظہار کرتے ہیں اور ان لوگوں سے بھی جو ان کی حمایت کرتے ہیں۔

بلکہ ہم قادیانیوں کو پہلی نہایت ہی خیرخواہانہ دعوت یہ دیتے ہیں کہ وہ ختم نبوت کے منکرقادیانی دجال سے براء ت کا اعلان کرتے ہوئے خاتم النبیین حضرت محمدﷺ پر ایمان کے سائے میں آجائیں کہ اسی میں ان کی دنیا وآخرت کی بھلائی ہے اور اگر وہ یہ نہیں مانتے تو دوسرانہایت ہی خیرخواہانہ مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنے بارے میں غیر مسلم اقلیت کا فیصلہ خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے اسی کی اپنے لیے بڑی غنیمت سمجھیں ورنہ اگر ان کی چالیں زیادہ بڑھیں تو ختم نبوت کے پروانوں کو وہ تاریخ اچھی طرح یاد ہے کہ کس طرح ختم نبوت کے منکرین کو ٹھکانے لگایاجاتا ہے!!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online