Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

راولاکوٹ میں ریلی اور شہدائے کشمیر کانفرنس (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 621 - Naveed Masood Hashmi - Rawla Kot mein Raili

راولاکوٹ میں ریلی اور شہدائے کشمیر کانفرنس

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 621)

راولا کوٹ شہر میں داخل ہوئے۔۔۔ تو سفید پرچم ہاتھوں میں تھامے ایک کارواں۔۔۔آگے بڑھتاہوا نظرآیا۔۔۔ یہ جہاد کشمیر کے متوالوں کی ریلی تھی۔۔۔ کہ جس میں سینکڑوں نوجوانوں سمیت ہر عمر کے لوگ شامل تھے۔۔۔ وہ راولا کوٹ کے بازاروں میں سبیلنا،سبیلنا، الجہاد، الجہاد، کشمیر کی آزادی تک جنگ رہے گی،جنگ رہے گی۔۔ کے نعرے بڑے والہانہ انداز میںبلند کر رہے تھے۔۔۔ اس ریلی میں چونکہ زیادہ تر مولانامحمد مسعود ازہر کے جانباز ساتھی اور شہداء کے ورثاء شریک تھے۔۔۔اس لئے ٹریفک کی روانی میں بھی کوئی فرق نہ پڑا تھا۔۔۔ نہ دوکانیںبند کروانے کی کسی نے کوشش کی اور نہ ہی کسی چوک، چوراہے یا کسی سڑک میں بندش ڈالنے کی کوشش کی۔

ریلی کا اختتام صابر شہیداسٹیڈیم سے متصل جلسہ گاہ کے سامنے ہوا۔۔۔

کشمیر‘ کشمیریوں کا ہے اور جب تک کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی کی نعمت حاصل نہیں ہوتی اس وقت تک... کشمیر کا جہاد جاری رہے گا... ہفتہ کے دن راولاکوٹ میں منعقدہ شہدائے کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس خاکسار نے عرض کیا کہ آج بھی پاکستانی میڈیا میں بعض کالی بھیڑیں... بھارت کی دَلالی کرتے ہوئے... کشمیری مجاہدین کے خلاف... پروپیگنڈہ کرتی ہیں... صرف کشمیری مجاہدین ہی نہیں بلکہ پاک فوج کے خلاف بھی ہریزہ سرائیاں کرنا اب عام سی بات بن چکی ہے... پاکستان کے عوام ہوں یا آزادکشمیر کے عوام‘ ایسے بھارتی دلالوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔

امن کی ’’آشا‘‘ نے لگتا ہے کہ اب نئی انگڑائی لی ہے... شاید اسی لئے بھارتی پٹاری کے قلم فروش،یہاں مولانا مسعود ازہر سمیت دیگر کشمیری مجاہدین کو پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں بنیادی رکاوٹ قرار دے کر ... دہلی اور واشنگٹن کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں... لیکن ان ناپاک عناصر کو کوئی بتائے کہ وہ منہ دھو رکھیں... جب تک بھارتی فوج‘ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں پر مظالم بند نہیں کرتی... کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی کا پروانہ حاصل نہیں ہو جاتا اس وقت تک پاکستانی قوم کشمیر کے مسلمانوں کی دامے درمے‘ سخنے مدد جاری رکھے گی۔

کوئی بھارتی پٹاری کے ان خرکاروں سے پوچھے کہ... پاک‘ بھارت تعلقات بہتر ہی کب تھے کہ جو اب خراب ہوچکے ہیں... حقیقت یہ ہے کہ 14اگست1947ء سے لے کر 4دسمبر2017ء یعنی آج کے دن تک ... ان ستر سالوں میں کوئی ایک دن ثابت کرو کہ ... جب تمہارے بھارت نے کبھی پاکستان کو دل سے قبول کیا ہو؟

تم امن کی آشا کے گیت گاتے رہے... اور بھارتی فوج کشمیری مسلمانوں کے لاشے تمہیں تحفے میں پیش کرتی رہی... تم بھارتی اداکاروں اور گلوکاروں کو پاکستان میں پروٹوکول دیتے رہے... جبکہ بھارت عالمی سطح پر پاکستان کو دہشت گرد ریاست ڈکلیئر کروانے کے لئے ... ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہا... تم اپنے ہی ملک کے معززین ترین علماء کے خلاف بھارتی ایجنڈے کے تحت شور مچاتے رہے... جبکہ بھارت نے ’’کلبھوشن‘‘ جیسے بدنام زمانہ’’ را‘‘ کے دہشت گرد کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھیں... آزادکشمیر‘ مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کا بیس کیمپ ہونا چاہیے تھا... لیکن افسوس کہ جہاد کے ذریعے حاصل کی جانے والی اس دھرتی کو بھی کسی نے سیاسی اکھاڑہ بنانے کی کوشش کی تو کسی نے دھریت اور قادیانیت کا مرکز بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا... مولانا محمد مسعود ازہر ہوں یا حافظ سعید... مقبوضہ کشمیر کے مسلمان... ان سے تو محبت کرتے ہیں، ان کی حفاظت کی تو وہاں دعائیں مانگی جاتی ہیں... ہاں البتہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان ’’مجھے کیوں نکالا گیا‘‘...  ’’مجھے کیوں نکالا گیا‘‘ کی رٹ لگانے والے نواز شریف سے یہ ضرور پوچھتے ہیں

 کہ بتائیے آپ نے گجرات کے مسلمانوں کے بدنام زمانہ قاتل کو ... جاتی امراء رائے ونڈ میں اپنی پوتی کی شادی کا مہمان خاص کیوں بنایا تھا؟

آپ اپنے مخالف پرویز مشرف کو تو ابھی تک معاف کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں... مگر کشمیری مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہانے والے... ایشیاء کے سب سے بڑے دہشت گرد ’’نریندر مودی‘‘ کے راستے میں پھول بچھانا اپنے لئے ثواب دارین سمجھتے ہیں تو کیوں؟ کیا کشمیری مسلمانوں کے خون کی تمہارے نزدیک کوئی قیمت نہیں ہے؟

کشمیر کے مظلوم مسلمان سوال کرتے ہیں کہ ’’سجن جندال‘‘ سے مری میں ہونے والی ملاقات میں کیا سودے بازی ہوتی رہی؟ کس‘ کس کے خون کو بیچا گیا؟ کشمیری مجاہدین پر انگلیاں اٹھانے والے خرکاروں کو کوئی بتائے کہ کشمیر کی آزادی کے راستے میں اصل رکاوٹ ایوان اقتدار میں بیٹھے ہوئے وہ لوگ ہیں کہ جو ’’دہلی‘‘ کی ایک چیخ پر ... پاکستانی نوجوانوں کو گرفتار کرکے ٹارچر سیلوں کا رزق بنا دیتے ہیں... کشمیر کی آزادی میں اصل رکاوٹ وہ مخصوص مائیڈ سیٹ ہے کہ جو بھارتی فوج کا مقابلہ کرنے والے مظلوم مجاہد کو تو دہشت گرد قرار دیتا ہے... مگر دہشت گرد نریندر مودی کی راہوں میں آنکھیں بچھانا اپنے لئے سعادت سمجھتا ہے... لیکن بھارت اور ان کے گماشتے خاطر جمع رکھیں... کشمیر کے مسلمان اب ’’آزادی‘‘ سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گئے... چاہے شہداء کی تعداد میں جتنا بھی اضافہ ہو جائے... چاہے زخمیوں کی تعداد جتنی بھی بڑھ جائے ... معیشت رہے یا نہ رہے... بھارت اور ان کے ایجنٹ جتنا چاہے ظلم ڈھالیں... لیکن ایک نہ ایک دن کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہو کر رہے گا ’ان شاء اللہ‘‘

شہر راولاکوٹ میں ہونے والی شہدائے کشمیر کانفرنس میں حال ہی میں مقبوضہ کشمیر میں شہادت کا جام نوش کرنے والے ... مولانا طلحہ رشید‘ بھائی محمد اور بلال شہید کے علاوہ ممتاز کشمیری کمانڈر سجاد افغانی شہید کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا... کانفرنس میں عباس پور سے تعلق رکھنے والے بزرگ محمد دین اور مفتی محمد اصغر خان خاص طور پر شریک ہوئے... محمد دین کے دو بیٹے جبکہ مفتی محمد اصغر خان کے دو بھائی... مقبوضہ کشمیر میں شہید ہوئے‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماسٹر محمد دین نے ... دوسرے بیٹے کی شہادت کی خبر سننے کے بعد ... اپنے تیسرے بیٹے کو بھی جہاد کشمیر کے لئے وقف کر ڈالا... جبکہ دو سگے بھائیوں کی شہادت کے باوجود مفتی اصغر خان اپنی ساری زندگی جہاد کشمیر کو دے چکے ہیں... ان کے علاوہ بھی درجنوں کشمیری  شہداء کے ورثاء نے کانفرنس میں بھرپور شرکت کرکے بھارت سے نفرت کا اظہار کیا۔

کانفرنس سے کشمیر کے بزرگ علماء مولانا مفتی عبدالخالق‘ مولانا سعید خان‘ مولانا اشفاق کشمیری‘ مفتی محمد اصغر خان کشمیری اور مولانا اتفاق احمد کے علاوہ جماعت اسلامی کے رہنما سردار اعجاز افضل نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کا اہتمام مجلس ورثاء جموں وکشمیر کی طرف سے کیا گیا تھا اور اس کے روح رواں... نوجوان جہادی رہنما مفتی مسعود الیاس کشمیری تھے... شہداء کشمیر کانفرنس سے سینئر کالم نگار اور استاذ حدیث مولانا طلحۃ السیف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جہاد‘‘ بھی نبی مکرمﷺ کی سیرت طیبہ کا حصہ ہے اور جہاد ہند کی خوشخبری تو چودہ سو سال قبل رسول کریمﷺ  امت کو دے کر گئے تھے... انہوں نے اپنے خطاب میں قرآن و حدیث کی روشنی میں جہاد کشمیر کی اہمیت و افادیت پر کھل کر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا جہاد انتہائی متبرک اور مقدس جہاد ہے جسے آخری فتح تک جاری رکھا جائے گا(ان شاء اللہ)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online