Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

وہ پیکرِ اِستقامت۔آخری قسط (مفتی محمد اصغر خان کشمیری)

Wo Paikar e Isteqamatmufti-asghar

وہ پیکرِ اِستقامت۔آخری قسط

مفتی محمد اصغر خان کشمیری (شمارہ 621)

لہٰذامیری مانو ،ہم کسی دوسرے شعبے میں آپ کی تشکیل کر دیتے ہیں ،وہاں کام کر و۔تووہ لبیک کہہ کر تیا ر ہوگئے ۔

پھرمشاورت سے ان کی تشکیل کشمیر کے ناظم مالیات کے طور پر کر دی گئی۔ چنانچہ اب سے وہ ہمارے ناظم مالیات تھے اور لمبے وقت تک اسی ذمہ داری پر فائز رہے اور مشکل اور دودھار ی شعبے کو ایسے نظم اور سلیقے سے چلایا کہ پورے عرصے میں نہ کسی مجاہد کو ان سے شکایت ہوئی اور نہ ہی مرکز کو …پھر 2009؁میں ہمیں اپنے کمنیوکیشن پوائنٹ’’طوبیٰ‘‘کیلئے کسی معقول اور قابلِ اعتماد ذمہ دار کی ضرورت پڑ گئی تو ہماری نظریں سیدھی بھائی محمد پہ جا ٹکیں ۔پھرجب اس حوالے سے ان سے بات کی تو وہ جھٹ سے لبیک کہہ کر تیار ہوگئے ،حالانکہ مالیات سے فوراً طوبیٰ کی تشکیل نرم وگذاربستر سے اُٹھا کر یکدم یخ بستہ گلیشئروں میں پھینکنے والی بات تھی، مگر محمد بھائی نے لمحہ بھر بھی نہ سوچا اورنئی تشکیل کیلئے تیار ہوگئے ۔چنانچہ اب وہ ہمارے مواصلات کے ذمہ دار تھے اور طوبیٰ کابرف پوش پہاڑان کا مسکن تھا مگر کیا مجال کہ ان کی چال ڈھال یا بول چال میں ذرہ بھر فرق آیا ہو… وہی ظرافت وہی بشاشت اوروہی پرسکون انداز۔یہاں بھی محمد بھائی نے دو سال کا عرصہ کام کیا اورماشاء اللہ شعبے کو جدید سے جدیدتر کردیا۔

پھر 2012؁کا سال آگیا ہمیں مواصلات کے شعبے میں بھائی محمد کی بدستور شدید ترین ضرورت تھی ۔مگر اس سے کہیں زیادہ کہیں اور ان کی ضرورت محسوس ہونے لگی ۔ہوا یوں تھا کہ 2007؁میں ہماری جماعت کاآزاد کشمیر کا شعبہ دعوت ایک فتنے کا شکار ہوگیا تھا ،جس کے بعد اس کو دوبارہ منظم کرنے کیلئے مختلف تشکیلات  ہوتی رہیں ۔مگر :

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

شعبہ سنبھل نہیں پا رہا تھا اور تشکیلوں پر تشکیلیں تبدیل ہو رہی تھیں، ہمیں یہ دیکھ کر شدید درد ہوتا کہ پاکستان کے چپے چپے سے جانبازاُٹھ اُٹھ کر کشمیر جانے کیلئے ہمارے پاس آرہے ہیں مگر خود آزاد کشمیر جس کا یہ اصل مسئلہ ہے وہاں سے مکمل خاموشی ہے اور اِدھر سے افراد کی آمد مکمل بند ہے خصوصاًباغ،پونچھ اورپلندری جیسے مردم خیزخطے سے جہاد کیلئے مجاہد میسر نہ آنا کسی سانحے سے کم نہ تھا۔چنانچہ ہم نے فیصلہ کیا کہ اس شعبہ کو مضبوط کرنا چاہئے اور بھائی محمد کی قربانی پیش کرنی چاہئے ،کہ اپنے شعبے میں ان کی شدید ضرورت کے باوجود انکو شعبہ دعوت کے صوبائی ذمہ دار کی معاونت کیلئے ان کے حوالے کرنا چاہئے ،اس پر شعبہ دعوت کے مرکزی اور صوبائی ذمہ دارسے مشاورت بھی مکمل ہوگئی ۔

اب مسئلہ تھا محمد بھائی کو عسکری شعبے سے تبدیل کرکے شعبہ دعوت میں لانے کا  ۔چنانچہ بند ہ نے ان سے بات کی اور مسئلے کی نزاکت سے آگاہ کیا تو انہوں نے حسب ِروایت ایک لمحہ بھی دیر نہیں کی اور فوراً ہاں کردی اور ساتھ ہی ایک خوبصورت شرط بھی لگا دی کہ ٹھیک ہے ضرورت کے تحت میں وہاں جانے کیلئے تیار ہوں مگر مجھے آپ اپنے لانچنگ والے ساتھیوں میں ہی شمار رکھنا ۔میں ان شاء اللہ بہت جلد کام کومضبوط بنیادوں پر کھڑا کرلوں گا پھر اس کے اہل افراد تیار کرکے ان حوالے بھی کردوں گا ۔پھر لانچنگ کیلئے حاضر ہوجائوں گا۔بندہ نے تمام باتوں پر ہاں کہہ کر انکو شعبہ دعوت کے حوالے کردیا ۔

بھائی محمد میں شعبہ دعوت چلانے کی تمام صلاحتیں بدرجہ اتم موجود تھیں ،اخلاق کے وہ اعلیٰ درجے پر فائز تھے ۔ملنساری ان پر ختم تھی، چہرے کی مسکراہٹ وہ چاہیں بھی تو چھپا نہیں سکتے تھے، اور خطابت کے میدان کے تو وہ ایسے شہسوارتھے کہ ایک حوالے سے وہ بالکل ہی بے مثال تھے ۔میرا مقصد یہ ہے کہ یہ بات میںنے صرف انہیں میں دیکھی ہے ’’کہ اگر سٹیج کے آگے ایک بندہ بھی نہ ہو اوران کو کہہ دیا جائے کہ آپ تقریر شروع فرما دیں تاکہ لوگ جمع ہوجائیں اور جلسہ شروع ہوسکے تو وہ خالی پنڈال میں تقریر شروع کردیتے‘‘۔اور تقریر اتنی پر درد اور ولولہ انگیز ہوتی کہ لوگ جوق در جوق پنڈال میں پہنچنا شروع ہوجاتے ،اوردیکھتے ہی دیکھتے پنڈال بھر جاتا ۔بھائی محمد نے ان تمام صفات کے ہمراہ شعبہ دعوت میں قدم رکھا اور پھر ایسی محنت کی، ایسی محنت کی کہ آزاد کشمیر خصوصاً مظفرآباد ڈویژن اور پونچھ ڈویژن کا شاید ہی کوئی کونہ کھدراایسا بچا ہو کہ جہاں وہ نہ پہنچے ہوں اورجاکر کشمیر کا درد نہ بانٹا ہو ۔

چنانچہ بہت جلد یہاں کی فضا بدلنا شروع ہوگئی اورملک کے دیگر حصوں کی طرح آزاد کشمیر کے نوجوان بھی مراکز سے لیکر محاذوں تک ہر جگہ نظر آنے لگے آج الحمدللہ ہمارے کشمیر میں یہ شعبہ جوانی کے عروج پر ہے تو بجا طوریہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ محمد بھائی کاہی صدقہ جاریہ ہے ۔

کلیوں کو میں خونِ جگر دے کے چلا ہوں

صدیوں مجھے گلشن کی فضا یا د کرے گی

محمد بھائی نے ہماری درخواست پراس شعبے میں قدم تو رکھ لیا مگر اب وہاں سے واپسی نہ انکے بس میں رہی نہ ہمارے بس میں، پر آئے دن انکا کشمیر جانے کا جذبہ اور تقاضہ بڑھتا رہا مگر شعبہ دعوت میں انکی ضرورت بھی کام بڑھنے کے ساتھ بڑھتی ہی رہی ۔نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں سے چھٹکارے کی کو ئی صورت نہ رہی

 اور دوسری طرف وہ مجھے بار بار اپنی شرط یاد دلا رہے تھے کہ میں نے کام منظم ہونے کے بعد واپس عسکری شعبے میں آنے کی اور کشمیر جانے کی شر ط رکھی تھی جو آپ نے مان بھی لی تھی۔بندہ کو اس مسئلے کا بظاہر کوئی حل نظر نہیں آرہا تھا۔

مگر پھر محمدبھائی نے خودہی اس کا حل تلاش کرلیا اور حضرت اقدس امیر محترم کو تفصیلی خط لکھ کر اپنے حالات بتلا کر کشمیر کیلئے اپنی تشکیل کروا لی ۔اس طرح وہ 2015؁ کے وسط میں دوبارہ ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ مگر میںنے دیکھاکہ اب انکے حالات کافی بدل چکے ہیںاور انکی وہ پہلے والی فٹنس بھی نہیں رہی ہے اور ساتھ ہی گھٹنے میں شدید درد کی شکایت بھی ہے ۔تو ان سے عرض کیا کہ ماشاء اللہ تشکیل تو آپ کی عسکری شعبے میں ہوگئی مگر اندر کشمیر کیلئے آپ فٹ نظر نہیں آرہے دوسری طرف ہمیں اپنے کئی شعبوںمیں آپ کی ضرورت بھی ہے ۔لہٰذاادھر ہی کہیں آپ کی تشکیل کر دیتے ہیں ۔تو وہ کہنے لگے ۔

بھائی جان !یہ شعبے ادھر ہی ہیں، مجھے آپ خوشی سے اجازت دیں اور مجھے کشمیر کیلئے آخری زور لگانے دیں ،ابھی میں جوان ہوں ،تین چار سال لگا تار کشمیر جانے کی کوشش کروں گا، اگر پھر بھی نہ جا سکاتو جس شعبے میں چاہیں بٹھا دینا، پھر پڑے رہیں گے اور کام کرتے رہیں گے۔ مجھے بھائی محمد کا جواب سن کر بہت خوشی ہوئی ۔کیونکہ اندر کشمیر میں کام کو ازسرِنو منظم کرنے کیلئے ہمیں وہاںانکی شدید ضرورت بھی تھی، اور ان سے امیدیں بھی تھیں۔ انکے جواب سے ان کے حوصلوں کی جوانی کا اندازہ ہوگیا۔ تو میں نے ان سے عرض کردیا کہ جب عزم اتناپختہ ہے تو ہمت کرو اور جسمانی تیاری بھی شروع کرلو ۔

چنانچہ بھائی محمد نے اب سے خوب ورزش بھی شروع کرلی اور ڈاکٹروں اورحکیموں سے گھٹنے کا علاج بھی کرواتے رہے انکو جہاں کا پتہ چلتا کہ وہاں گھٹنے کا علاج ہو سکتا ہے وہاں پہنچ جاتے مگر گھٹنا تھا کہ ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔آخر میں تھک ہار کہ ایک دن حضرت امیر محترم کی کتاب الیٰ مغفرہ اُٹھا کر لے آئے اور اس میں سے آیت کریمہ کا بارہ دن والا وظیفہ نکالا اور کہا کہ میں اپنے گھٹنے کیلئے یہ وظیفہ کرتا ہوں اور ان شا ء اللہ اس کی برکت سے گھٹنا ضرور ٹھیک ہوگا۔ چنانچہ و ہ روز دوپہر کے وقت یہ وظیفہ کرتے اوردرد میں فرق محسوس کرتے، پھر ادھر وظیفہ مکمل ہوااور اِدھر گھٹنے سے درد غائب ہوگیا۔ انہوں نے آکر مجھے خوشخبری سنائی کہ میرا گھٹنا ٹھیک ہوگیا ہے۔ لہذااب کوئی رکاوٹ نہیں رہی، مجھے کشمیر روانہ کردیں ۔اس طرح انکا سفر ممکن ہوگیا اور وہ 12سال کا عرصہ ہمارے ساتھ گزارنے کے بعد مئی 2017؁ میں کشمیر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔

پہنچی وہاں پہ مٹی جہاں کا خمیر تھا

تو یہ تھا وہ طویل اور کٹھن سفر جو طے کرکے محمد بھائی کشمیر پہنچے تھے ۔کہتے ہیں سفر میں جتنی مشقت ہو منزل کی قدراسی قدرزیادہ ہوتی ہے ۔چنانچہ ہمارے محمد بھائی بھی اس قدر صعوبتیں جھیلنے کے بعد جب کشمیر پہنچے تو وہ کشمیر سے لپٹ گئے ،اور کشمیر ان سے ایسا لپٹ گیا، جیسے برسہابرس سے بچھڑے ہوئے عاشق ومعشوق کو منزل ِوصال مل گئی ہو ۔۔چنانچہ وہ بہت کم وقت میں ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دے گئے جن کیلئے اک عمر درکار ہوتی ہے ۔

محمد بھائی کی ایک اورخوش قسمتی ایسی تھی جوکم ہی مجاہدین کو نصیب ہوتی ہے وہ یہ کہ بھائی محمد کو جہاد میں اپنے والدین کریمین کی مکمل حمایت اور دعائیں حاصل تھیں۔اور یہ معاملہ اس حد تک آگے بڑھا ہوا تھا کہ محمد بھائی جب مقبوضہ کشمیر میں برسرِپیکار تھے تو والدہ محترمہ الگ اور والد گرامی الگ رابطہ کرکر کے انکا حوصلہ بڑھاتے ۔والدہ کے ہمیشہ یہ الفاظ ہوتے ’’کہ بیٹا ڈٹ کے رہنا اور کمزوری نہ دکھانا‘‘اور والد محترم اپنے ہونہار بیٹے کو حوصلہ بھی دیتے اور تقویٰ کی بھی نصیحتیں کر تے۔اور یہ اجازت اور حمایت اس کے باوجود تھی کہ انکے ایک اور بیٹے اور محمد بھائی کے جڑواں بھائی حبیب اللہ فاروقی پہلے ہی افغانستان میں لڑتے ہوئے شہید ہوچکے تھے ۔

آج محمد بھائی ہم میں نہیں ہیں مگر انکی یادیں کشمیر کے آرپاردونوں طرف بکھری پڑی ہیں ۔ہماری شدید خواہش تھی کہ محمد بھائی آزاد کشمیر کی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی طویل وقت پاتے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے ذریعے تحریک ِکشمیر کو بام ِعروج تک پہنچاتے مگر اس کو ہماری بد قسمتی یا انکی خوش قسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ اب ان کابلاواآچکا تھا ۔اور اب انہوں نے جانا ہی تھا، چنانچہ و ہ اس پر آشوب اور آزمائشوں بھری دنیاسے بہت دوراپنے رب کی میزبانی کے مزے لوٹنے اوپر کی طرف پرواز کرگئے۔ اب ہم اللہ سے دعا ہی کرسکتے ہیں کہ ! یا اللہ انکو شہادت کے تمام فضائل سے نواز دے اور ہمیں انکا صحیح نعم البدل عطا فرمادے۔

اور ہاں آخر میں ملک کے طول وعرض میں پھیلے اپنی جماعت کے ہزاروںلاکھوںکارکنوںکو یہ دعوت کہ بھائی محمد کے ادھورے مشن کی تکمیل کیلئے کمر بستہ ہوجائواور میدان ِجہاد کی بھٹی کو ٹھنڈا نہ پڑنے دو ،یقینا اس راہ میں تھوڑا وقفہ بھی منزل کو بہت دور کردیتا ہے ۔ہم نے اس جنگ کے تسلسل کو جاری رکھنا ہے اور اسی میں ہماری بقا ہے ۔

کفر سے جنگ ہے اس جنگ کو جاری ر کھنا

تجھ کو اسلام کی تابندہ روایت کی قسم

باندھ لے سر سے کفن پھر سے مجاہد بن جا

قومِ مسلم!تجھے اسلا م کی غیرت کی قسم

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online