Bismillah

627

۱تا۷جمادی الاولیٰ۱۴۳۹ھ   بمطابق ۱۹تا۲۵جنوری۲۰۱۸ء

ٹوئٹریات (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 627 (Talha-us-Saif) - Twitteriat

ٹوئٹریات

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 627)

تو قارئین آج کچھ سوشل میڈیا ہو جائے؟

گذشتہ سال اِختتامی دن پلوامہ کے سی آر پی ایف سپیشل کمانڈو ٹریننگ کیمپ میں ہونے والے ایمان افروز فدائی حملے کی تفصیلات اور اس پر اٹھنے والے بخارات جوں جوں سامنے آتے جا رہے ہیں، اُسی قدر اِیمان بڑھتا جا رہا ہے۔ ہمارے وہ ساتھی جو ایسی کارروائیوں کے بعد سوشل میڈیا کھنگالتے ہیں، اس بار ٹوئٹر پر بڑے اچھے اچھے تبصرے اور بہت اچھی اچھی خبریں چن کر لائے۔ آئیے ایک ایک خبر پڑھتے جائیں اور ایمان بڑھاتے جائیں۔

دل کا دورہ

سب سے پہلے تو یہ خبر کہ اس فدائی حملے کے دوران سی آر پی ایف کے ایک ( بقول انڈین میڈیا کے شیر دل اور جوانمرد) انسپکٹر کو دورانِ حملہ دل کا دورہ پڑا ہی تھا، جو اس کے لئے جان لیوا ثابت ہوا تھا، حملے کے چند دن بعد جموں میں تعینات سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل نے حملے میں زخمی ہونے والے فوجیوں کی عیادت کے لئے بادامی باغ ہیڈ کوارٹر میں قائم ملٹری ہسپتال کا دورہ کیا تو واپسی پر اسے بھی دل کا دورہ پڑ گیا ۔ خبر کی سرخی آپ اس تصویر میں دیکھ ہی رہے ہوں گے۔

یہ ہیں بھارت کے وہ شیردل جوان ۔ دل کے دورے سے مر جانے والا انسپکٹر اس کیمپ میں انسٹرکٹر بھی تھا اور اس کا کام جوانوں کو ایسے حملوں سے نمٹنے کی تربیت فراہم کرنا تھا۔ اور بعد میں دل کے دورے کا شکار ہونے والا پورے جموں و کشمیر میں تعینات سی آر پی ایف کے تمام دستوں کا انچارج ہے۔ سی آر پی ایف انڈین کی وہ بدمعاش ترین پولیس فورس ہے جسے خصوصی حالات میں ہنگامہ زدہ علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے تعینات کیا جاتا ہے۔ اس فورس کا کام چند بلوائیوں کو ہر جگہ تحفظ فراہم کر کے مسلمانوں کے قتل عام میں معاونت کرنا اور مسلمانوں کی طرف سے کسی بھی مزاحمت کو ختم کرنا ہے۔ ہندوستان میں اب تک ہونے والے تمام مشہور مسلم کش فسادات میں اس فورس نے اپنا یہی کردار بخوبی نبھایا ہے۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی مجوزہ تعمیر کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور اس دوران مسلمانوں کو اس مقام سے دور رکھنے کے لئے، منہدم بابری مسجد کے کمپاؤنڈ کو اسی فورس کا کمپنی ہیڈ کواٹر دیا گیا ہے۔ اس بہانے سی آر پی ایف کے ہزاروں سپاہی ہر وقت وہاں متعین رہتے ہیں اور ان کی نگرانی میں مندر کے اسٹرکچر کی تعمیر کا کام بحفاظت جاری ہے۔ کشمیر میں عوامی مظاہروں پر ظلم وتشدد ، پیلٹ گنوں سے وحشیانہ فائرنگ اور نہتے کشمیری عوام پر براہ راست فائرنگ اور خانہ تلاشی کے نام پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم میں یہی فورس سب سے پیش پیش رہتی ہے۔ اب جب مجاہدین نے اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے ان ظالموں کی سب سے مضبوط پناہ گاہ پر طوفانی حملہ کیا تو دل کے دوروں کا ایک دورچل پڑا ہے۔ گذشتہ ہفتے اس سلسلے میں ایک اور دلچسپ اور ایمان افروز خبر پلوامہ سے بھی آئی کہ سی آر پی ایف کے جوان اپنا ایک کیمپ رات کی تاریکی میں خالی کر کے فرار ہو گئے کیونکہ وہاں حملے کی اطلاع تھی۔علاقے کے لوگوں نے جب یہ منظر دیکھا تو وہ رات کو پٹرول کے کین اور دیگر سازو سامان لے کر اس کیمپ کو جلانے پہنچ گئے۔ کیمپ کو کافی نقصان پہنچا چکے تھے کہ راشٹریہ رائفلز کے ایک دستے نے قریبی کیمپ سے آ کر لوگوں پر فائرنگ کر دی جس سے لوگ منتشر ہو گئے۔ کشمیر کے اہلِ عزیمت، اہل ایمان کو سلام……

جہادی اِستقبالیہ

ہمارے یہاں پاکستان میں جب بڑے جہادی اِجتماعات ہوا کرتے تھے، تو ان کے لوازم میں سے ایک چیز ’’استقبالیہ‘‘ ہوتی تھی۔ اب بھی جہاں بڑے اجتماع ہوں اس کی ایک جھلک تو نظر آتی ہے لیکن چونکہ عمومی ماحول خوف کا ہے اس لئے وہ شان باقی نہیں۔ جہاں اجتماع ہوتا اس علاقے کا داخلی راستہ جہادی بینروں ، خیر مقدمی بینروں ، جہادی کتبوں اور رنگ برنگے پینا فلیکس سے مزین کر دیا جاتا۔ آپ میں سے کئی حضرات نے وہ حسین مناظر دیکھے ہوں گے۔ لیکن کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ہندوستان کے زیر قبضہ کسی علاقے میں لاکھوں آرمڈ فورسز کی موجودگی میں بھی ایسا ہو سکتا ہے؟…

وہ ہندوستان جہاں لوگ جہاد کا دور پورے دین کا نام بھی نہیں لے سکتے۔ جہاں گائے کے نام پر مجمعے لگا کر مسلمانوں کو شہید کر دیا جاتا ہے اور کروڑوں مسلمان صرف شکایت ہی لگا سکتے ہیں، مزید کچھ نہیںکر سکتے…

کیا وہاں ایسا ممکن ہے؟…

جی ہاں!

بات جب اہل عزیمت، اہل کشمیر کی ہو تو بالکل ممکن ہے بلکہ وا قع بھی ہے، آپ کچھ تصاویر دیکھ رہے ہوں گے۔ گاؤں کے داخلی راستے پر دو رویہ جھنڈے اور وہ بھی جیش محمد ﷺ کے۔ شہدائے جیش کی تصاویر اور ناموں سے مزین بینر اور ایک خوبصورت بنگلہ نما مکان کے فرنٹ پر چسپاں ایک بہت بڑا پینا فلیکس کہ جس پر ایک طرف امیر جیش حضرت مولنا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ کی تصویر ہے۔ دوسری جانب فردین عرف معاذ شہید کی اور درمیان میں جیش کا تعارف تحریر ہے۔ یہ گاؤں ہے پلوامہ میں فردین شہید کا اور جس مکان پر یہ بڑا بینر آویزاں ہے وہ مکان بھی ان کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد اور مزاحمت میں یہ قوت رکھی ہے کہ جو کام کسی آزاد کہلانے والے مسلمان ملک میں بھی کافی مشکل ہے وہ ایک جبر زدہ اور مقبوضہ ماحول میں بھی اتنی آسانی سے ممکن ہو جاتا ہے۔ کاش کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ نکتہ سمجھ میں آ جائے تو حالات کی تصویر ہی بدل جائے۔

پانڈہ مر گیا

پانڈہ مر گیا ہے مگر ہندوستان مان نہیں رہا۔ اب اس کے لئے اپنے شور کر رہے ہیں کہ پانڈہ واقعی مر گیا ہے اس کی موت کو تسلیم کیا جائے۔ حیران مت ہوئیے یہ چینی خوبصورت بھالو پانڈے کے نہیں، مجاہدین کے ہاتھوں واصل جہنم ہونے والے ہندوستانی پانڈے کی بات ہو رہی ہے۔

عرصہ چھ سال سے کشمیر میں فوجی مقابلوں میں پیش پیش رہ کر کئی میڈل حاصل کرنے والا ریپیڈ ایکشن فورس کا جوان جو پانڈہ کے لقب سے مشہور تھا، پلوامہ کے فدائی حملے میں مجاہدین کے ہاتھوں مارا گیا۔ ہندوستانی سرکار اس کے مارے جانے کی خبر چھپا رہی ہے، تاکہ کشمیری عوام کے ذہنوں میں اس کا خوف باقی رکھا جا سکے۔ کشمیری صحافی اس امر پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔ وہ سمجھ نہیں رہے کہ جس فوج کے انسٹرکٹرز اور آئی جی حملوں کی وجہ سے دل کے دوروں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس قوم کے لئے پانڈہ جیسے جوان کتنی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ہندوستانی فوج میں تو یہ نسل چینی پانڈہ سے بھی زیادہ نایاب ہے، اس لئے اس کی موت کی خبر کو ایسے آسانی سے کس طرح قبول کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال مانیں یا نہ مانیں، ان کی مرضی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ پلوامہ کے شیروں کے ہاتھوں پانڈہ مارا جا چکا ہے۔

خوشخبری

کشمیر کے ایک معروف صحافی نے فردین اور منظور بابا کے بعد کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے انڈیا کو ایک بہت بُری خبر سنائی ہے جو ہمارے لئے ایک بڑی خوشخبری بھی ہے۔ اس ٹویٹ کا مضمون اسی خبر پر مشتمل ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:

’’ شہدا کے یکے بعد دیگر جنازوں کے اجتماعات، مسلم خراج تحسین ، اخبارات کے صفحہ اول کی کوریج، چار روزہ ہڑتال، عوامی نمائندوں کی طرف سے خراج عقیدت اور اَرکانِ اسمبلی کی طرف سے عوامی مطالبات نے کشمیر پر دہلی کی گرفت نہ ہونے کو بالکل واضح کر دیا ہے۔ یقینی طور پر 2018؁ء میں اور بہت سے فردین اور منظور بابا دیکھنے کو ملیں گے۔‘‘

یہ ایک گھر کے واقف حال بھیدی کی گواہی ہے جو نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online