Bismillah

627

۱تا۷جمادی الاولیٰ۱۴۳۹ھ   بمطابق ۱۹تا۲۵جنوری۲۰۱۸ء

پُراَسرار بندہ…(۲) (مفتی محمد اصغر خان کشمیری)

Pur Israr Banda mufti-asghar

پُراَسرار بندہ…(۲)

مفتی محمد اصغر خان کشمیری (شمارہ 626)

مگروہ ناپیدتھااور عالم تصورسے نکل کر موجودات کی دنیامیں اس کاتصوربھی ناممکن تھا،مگراب یہ نہ صرف ممکن بلکہ موجود ہوچکاتھا۔

اس کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ مولوی صاحب ابھی ایکسپوز نہیں تھے یعنی بھارتی فورسز کوان کے جہادی کردار کاعلم نہیں تھا۔ وہ ان کو صرف تعویذدھاگے والے ’’پیربابا‘‘ہی سمجھتے تھے ۔ اپنی توہم پرست طبیعت کی وجہ سے ان کی بہت زیادہ قدربھی کرتے تھے۔ ہندو توہم پرست ہوتے ہیں، وہ تو ایسے لوگوں کو دیوتا بھی تسلیم کرلیتے ہیں، دوسری طرف مولوی صاحب نے ہمارے پاس آنے سے پہلے ہی تحریک میں خدمات سرانجام دینے کی نیت سے پورے کشمیرکے چپے چپے کاتعارف حاصل کر رکھا تھا اورنہ جانے انہوںنے کشمیرکے کونے کونے کے کتنے چکرکاٹے ہوئے تھے ۔ یہ کہیں بھی جاتے ، ان کو کوئی روک ٹوک کرنے والانہ تھا۔ بس پیربابا ہے اورتعویذدھاگے کے سلسلہ میں فلاں جگہ جانا ہے۔یہ تعارف کافی تھا، فوجی دونوں ہاتھ جوڑکر ، سرجھکاکر رخصت کردیتے تھے۔ چنانچہ مولوی صاحب ان تمام صلاحیتوں کے ساتھ کمانڈر شاہد گوریلا کے ساتھ چل پڑے ۔ اب بس یوں سمجھئے کہ شاہدبھائی کو اندھیری رات میں چلنے کے لیے مشعل ہاتھ لگ گئی ۔ابھی تک وہ جہاں جہاں تک پہنچ نہیں پائے تھے، مولوی صاحب نے ان کو تمام جگہوں کی سیرکروادی ۔ کئی مرتبہ ایسابھی ہواکہ آرمی کیمپ کے اندر سے ریکی کرنی تھی ، تو مولوی صاحب نے شاہد بھائی کو اپنامرید ظاہرکرکے ساتھ لے لیا اور کیمپ کے آرمی آفیسر سے تعویذ دھاگے کے لیے ٹائم طے کرکے شاہد بھائی کو ساتھ لے کرچلے گئے۔ پیربابا  نے توہم پرست آفیسر کو دم درود کر دیا اور شاہد گوریلانے اپنی ریکی مکمل کرلی ۔

شاہد بھائی نے پیربابا سے مکمل استفادہ کرنے کے بعد چیف کمانڈرغازی باباشہیدؒ کو ان کا تعارف لکھ بھیجا اور ان کی صلاحیتوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ غازی بابا کے لیے ایسے بندے کامیسرآنا کسی غیبی تائید سے کم نہ تھا۔ انہوںنے فوراً پیربابا سے ملاقات کی اوران کا تفصیلی جائزہ لیا جس کے بعد جلدہی ان کی صلاحیت کے عین مطابق ان کی تشکیل اسلحہ وایمونیشن کی سپلائی اور ساتھیوں کوایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے پرکردی۔

 ’’نورمحمدصاحب ‘‘کے لیے مطلوبہ گاڑی کابندوبست بھی ہوگیااور یوں وہ آج سے مرکزی سطح پر اپنی شخصیت کے جوہر دکھانے لگے ۔اب  ’’نورمحمدصاحب ‘‘کی حالت یہ تھی

دریا است کہ صحرا است

تہہ بال و پر ما است

 پورا کشمیراور ہندوستان ہمارے چھوٹے سے مولوی صاحب کی جولان گاہ تھی اور کسی جگہ پر وادی کے کسی کونے کھدرے میں بھی موجود کسی مجاہد کویہ شکایت نہ رہی کہ میرے پاس اسلحہ /ایمونیشن نہیںپہنچتا۔

مولوی صاحب غازی بابا کی تشکیل اور تقسیم کے مطابق اپنی گاڑی پر ہر جگہ سامان پہنچاتے  اور ساتھیوں کو نہال رکھتے۔اس کے علاوہ جن ساتھیوں کے بارے میں ان کو کہاجاتاکہ ان کو فلاں فلاں علاقوں کا تفصیلی تعارف کروا دو تو وہ ان کو ساتھ گاڑی میں بیٹھاکر مطلوبہ علاقے کامکمل تعارف بھی کروادیتے۔

 وادی میں موجود مجاہدین کرام کو ایک پرابلم رقم کی ترسیل کی بھی ہوتی ہے، کیونکہ اس پر حکومت ہند نے سخت نظررکھی ہوتی ہے مگرمولوی صاحب کی وجہ سے یہ مشکل بھی کوئی مشکل نہ رہی اور انہوںنے اس میدان میں بھی مجاہدین کو خوب سہولت پہنچائی اور ہر ایک کی ضرورت اس کی جگہ تک پہنچائی۔ اس سلسلہ میں انہوںنے دہلی اور بمبئی تک کے بھی کئی اسفار کیے ۔

 اسی دوران اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت سے 1999؁کے آخرمیں انڈین طیارے کی ہائی جیکنگ کی کاروائی میں مجاہدین کے ہردلعزیز قائد حضرت اقدس ، امیرالمجاہدین حضرت مولانامحمدمسعودازہردامت برکاتھم کی کراماتی رہائی عمل میں آئی  اور اس کے بعد اہل حق کا منظم لشکر’’جیش محمدﷺ ‘‘معرض وجود میں آیاتوباقی مجاہدین کی طرح  ’’نورمحمدصاحب ‘‘بھی ہمارے ساتھ ہی اس لشکرمیں شامل ہوگئے اور ساتھ ہی عجیب وغریب ڈیمانڈ کر ڈالی کہ ’’مجھے پاکستان بھیجیں ، میں نے امیرالمجاہدین حضرت مولانامسعودازہرصاحب سے ملاقات بھی کرنی ہے اور مزید تربیت بھی حاصل کرنی ہے ‘‘ان کی یہ ڈیمانڈہمارے لیے کسی مذاق سے کم نہ تھی کیونکہ کہاں بارڈر کامشکلات بھرا سفر اور کہاں یہ ننھی سی جان ؟

اس لیے شروع میں ان کو خوب ٹرخایا کہ یہ ممکن نہیں ہے، آپ جو کام کررہے ہیں وہ بڑا کام ہے ، اس کوجاری رکھیں ۔مگرمولوی صاحب کا اصرار بڑھتاگیا۔ ’’نورمحمدصاحب ‘‘چونکہ لاڈلے اور انمول مجاہدتھے اس لیے ان کو صاف انکارکرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ ان کے پاکستان آنے کافیصلہ ہوگیااور ترتیب یہ طے ہوئی کہ مولوی صاحب بارڈر کے قریبی شہرتک اپنے بندوبست پر پہنچ جائیں، پھراگلاسفردوسرے طریقے سے ہوجائے گا۔ چنانچہ مولوی صاحب وادی سے پونچھ پہنچ آئے پھرادھر سے اگلے سفرمیں اپنی زندگی کی  ایک اور تاریخ رقم کردی  اور بارڈر کا وہ سفرکرڈالا جس کے تصور سے ہی بڑے بڑے سورمائوں کو پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online