Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

پُراَسرار بندہ…(۶) (مفتی محمد اصغر خان کشمیری)

Pur Israr Banda mufti-asghar

پُراَسرار بندہ…(۶)

مفتی محمد اصغر خان کشمیری (شمارہ 630)

اور پھر یہاں بیٹھ کرہی وہ عظیم منصوبہ بھی بنا جو مولوی صاحب کی اس کربناک قید سے رہائی اور پھر کارہائے نمایاں سرانجام دینے کا سبب بنا ۔دراصل بات یہ تھی کہ مولوی صاحب انتہائی ذہین فطین آدمی تھے اور وہ کبھی بھی حالات کے جبر کے آگے بے بس نہیں ہوتے تھے ۔بلکہ سخت بے بسی کے عالم میں بھی وہ نجات کی راہوں کی تلاش میں جتے رہتے تھے ۔ یہاں بھی ایسے ہی ہوا اور مولوی صاحب نے ایک راہ ڈھونڈ لی ،راہ پُر خطر ضرور تھی مگر اس راہ پر چل کر آگے امید کا ٹمٹماتا دیا بھی دیکھائی دے رہا تھا ۔اور بہت خاص بات یہ ہے کہ مولوی صاحب کے پیشِ نظر صرف اپنی رہائی  برائے رہائی مقصد نہ تھی بلکہ مولوی صاحب کا اصل مقصد وادی میں تنظیم کے روز بروزکمزور ہوتے ہوئے کام کو سہارا دینا تھا اور ان عزائم کی تکمیل کرنا تھا جن کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں

مولوی نور محمد صاحب نے وسیم بھائی کے توسط سے اس منصوبے کے حوالے سے ہم سے مشاورت کیلئے رابطہ کیااور کہا کہ میں پیرول پر رہائی کی درخواست دینا چاہ رہا ہوں ۔اور اس میں گھریلو حالات وغیرہ کو دلیل بنائوں گا۔ آجکل 2010؁ کے سیلاب کی وجہ سے رعائیت بھی ہے اور کئی لوگ پیرول پر رہا ہوبھی چکے ہیں۔اس لئے مجھے قوی امید ہے کہ میری دلیل چل جائے گی ،اور مجھے مختصر مدت کیلئے ہی سہی پیرول پر رہائی مل جائے گی ۔اس طرح قید سے رہا ہوکر کام کو منظم کرنے کا موقع مل جائے گا اور جتنے دن مقدر ہواگھوم پھر کرکام کر لوں گا ۔پھر مدت ختم ہونے پر پیش نہیں ہوںگا بلکہ فرارہوکر فیلڈ میں آجائوں گا ۔اس کے لئے آپ اسلحہ اور سازو سامان کا بندوبست کریں اور جب بندوبست ہوجائے تو میںبات آگے بڑھائوںگا تاکہ بعد میں کوئی مسئلہ نہ بنے ۔بندہ نے مولوی نور محمد صاحب کی حوصلہ افزائی کی اور انکو بتلایا کہ تنظیم کی سارے وسائل آپ کے لئے حاضر ہیں آپ بات بڑھائیں انشا ء اللہ ہم آپ کی ڈیمانڈ وقت سے پہلے مکمل کریں گے ۔

مولوی صاحب کے باہر کی دنیاسے رابطے تو بحال ہو ہی چکے تھے ،انہوں نے جنوری 2015؁میں اپنے دو پراسرارنمائندوں کاہمیں تعارف کروایا،جو انہوں نے جیل کی زندگی میں ہی تراش خراش کرتیار کئے تھے انہوں نے بتایا کہ آپ میرے لیئے مکمل سامان ان حضرات کے ہاتھ دے دیں وہ مجھ تک پہنچ جائے گا ۔چنانچہ وہ حضرات جنوری کے سخت موسم میں برفانی پہاڑوں کا سینہ چیرتے ہوئے اور برف میں غوطے کھاتے ہوئے ہم تک پہنچ آئے،اور مولوی صاحب کا مطلوبہ سامان وصول کرکے چلے گئے ۔او رکوئی ہفتے بھر کے وقت میں مولوی نور محمد صاحب تک پہنچا بھی دیا ۔مولوی نور محمد صاحب سامان ملنے پر بہت خوش اور مطمئن ہوئے جیسے کہ انہیں ابھی سے آزادی مل گئی ہے، چنانچہ انہوں نے پیرول پر رہائی کی کوششیں تیز کردیںاور متعلقہ حکام کے سامنے اپنا پوراکیس مکمل دلائل کے ساتھ رکھ دیا مگر توقع کے بالکل برعکس یہاں ایک نئی صورتحال پیش آگئی ۔

ہو ا یہ کہ پتہ نہیں کیوں دشمن وہ سارے زخم بھول گیا جو مولوی صاحب نے اپنی گرفتاری سے پہلے والی جہادی زندگی میں اس کو لگائے تھے ،یا یہ کہ زخم تو نہیں بھولا البتہ اسکو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ مولوی صاحب طویل قید سے ٹوٹ پھوٹ چکے ہیںاوراب یہ ہر قیمت پر رہائی کے متمنی ہیں لہذارہائی کے بدلے یہ ہمارا ہر مطالبہ پورا کردیں گے الغرض وجہ کوئی بھی ہو مگر ہو ایہ کہ بڑے آفیسروں نے غیر سرکاری اور نجی گفتگو کے دوران مولوی صاحب کے سامنے مطالبہ رکھ دیا کہ ہم اس شرط پر آپ کو پیرول پر رہائی دیں گے کہ آپ ہمارے لیئے کام کرو ،جیش محمد ﷺ والے آپ پر مکمل اعتماد کرتے ہیں آپ اس اعتماد کو کام میں لائو اور باہر جاکر انکی مکمل معلومات از قسم لانچنگ کے راستے ،سپلائی ،ذرائع نقل وحمل اور ٹھکانے وغیرہ کی معلومات جمع کرکے ہمیں دو تاکہ ہم وادی سے ان کا مکمل صفایا کرسکیں ۔اگر اس کام کیلئے آپ تیار ہیں تو پیرول پر رہائی مل جائے گی اور اس کی مدت میں حسبِ ضرورت اضافہ بھی ہوتا رہے گا اور اگر آپ اس کیلئے تیار نہیں ہیں تو رہائی کا تصور بھی ذہن سے نکال دو پھر اسی جیل میں گل سڑکر ختم ہوجائو گے ۔اب مولوی صاحب کے سامنے دو ہی راستے تھے یا ہمیشہ کیلئے جیل میں پڑے کراہتے رہیں اور اپنے وطن وقوم کی درازہوتی ہوئی غلامی کی شبِ تاریخ کو دیکھ دیکھ کر کڑہتے رہیں یا الحرب خدعۃ والے اسلام کے عظیم جنگی اصولوں کا سہارا لے کر اپنی رہائی کا ساما ن کریں اور پھر دشمن کو میدان میں نکل کر بتائیں کہ مولوی نور محمد تانترے جیسی ہستیوں سے غداری کی توقعات لگانے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اور ظاہر ہے مولوی صاحب کو ہر صورت دوسرا راستہ ہی چننا چاہئے تھا۔

چنانچہ مولوی صاحب نے دشمن کو سبق سکھانے کی ٹھان لی اور اسی دوران اپنے مرکز کو بھی صورت ِحال سے آگاہ کردیا ، ادھرمولوی صاحب پر ہمارے اندھے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ اگر ہم کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھتے کہ مولوی صاحب ہمیں بتلائے بغیر انڈیں جرنیلوں کے ساتھ ہیلی کاپٹر پرگھوم پھر رہے ہیںتو پھر بھی ہم آنکھیں بند کرکے پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے تھے کہ ضرور مولوی صاحب ہمارے ہی کسی کام میں لگے ہونگے اور کوئی جنگی چال چل رہے ہونگے ۔لہذاتنظیم کی طرف سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مولوی صاحب کو رہائی کیلئے کوئی بھی امکانی راستہ اختیار کرنے کا مکمل اختیار دے دیا گیا ۔ ۔۔۔۔۔اب عجیب تماشہ تھا ایک طرف ہمارے چھوٹے سے مولوی صاحب تھے جنہوں نے عزم کر رکھا تھا کہ وہ باہر جاکر بھارت کے ایک ایک ظلم کا بدلہ چکائیں گے اور اپنی تنظیم جیش محمد کومنظم کرکے دوبارہ پرانی پوزیشن پر بحال کردیں گے۔

اوردوسری طرف انڈیاکے بڑے بڑے دماغ بیٹھے تھے جو مولوی صاحب کے ساتھ بیٹھ کر جیش محمد ﷺ کو مکمل ختم کرنے کی پلاننگ کررہے تھے ۔مولوی صاحب نے ان کے ساتھ پورے اعتماد سے بات چیت کی اورانکوبھی ہاںکردی۔ اس طرح ایک عجیب متضاد نقشہ بن گیا مگر مولوی صاحب کی پیرول پر رہائی طے ہوگئی ۔

انہی دنوں کی بات ہے کہ اس رہائی کے حوالے سے کچھ قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے پولیس نے مولوی صاحب  کے گھر جانا تھا ۔ چنانچہ پولیس کے آفیسر انکے گھر گئے اور وہاں مولوی صاحب کا کچا اور جھونپڑی نما مکان دیکھا تو وہ حیران رہ گئے ۔اونتی پورہ کے ایس پی ارشاد سے تو رہانہ گیا اور اس نے مولوی صاحب سے پوچھ لیا کہ ’’نور محمد ـیہ کیا ہے ؟آپ تنظیم کے اتنے بڑے کمانڈرہیں اوراتنے عرصے سے کیا کچھ کررہے ہیں، تم نے اپنے لیئے کیا بنایا ہے ‘‘ مولوی صاحب نے دہیمے انداز میں اسکو ٹال دیا اور کہا کہ ہمار اکام اپنے گھر کی تعمیر کی خاطر نہیں تھا ۔بحرحال یہ بات ضمناََآگئی اور اسمیں ہمارے لئے بڑا سبق تھااس لئے لکھ دی ۔۔۔اب اصل بات کی طرف لوٹتے ہیں کہ مولوی صاحب کی رہائی طے ہوگئی ،کاغذی کاروائی بھی مکمل ہوگئی اور یوں مولوی صاحب 12سال دشمن کی قید کاٹنے کے بعد ستمبر 2015؁ میں رہا ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ۔مولوی صاحب نے رہائی سے پہلے ہی مجھے بتادیا تھا کہ تنظیم کا کوئی بندہ مجھے ملنے کیلئے میرے گھر بالکل نہ آئے میرے اوپر سخت نظریںہونگی ۔میں آرا م سے کچھ وقت گھر پر گزاروں گاپھر حالا ت کی مناسبت سے خود ہی رابطے کرلوں گا

 چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مولوی صاحب نے کچھ وقت مکمل سکون کے ساتھ گھر پرہی گزارااور دشمن کو مطمئن رکھا ،پھر آہستہ آہستہ نقل وحرکت اور اسفار شروع کردیے اور پرانے لوگوں سے ملاقاتیں بھی ہونے لگیں ۔تعجب ہے کہ بہت سے وہ لوگ جن کے گھروں میں مولوی صاحب کے خفیہ ٹھکانے تھے اور وہاں مولوی صاحب نے اسلحہ بھی ڈیمپ کر رکھا تھا 12سال کی قید کے دوران ایک مرتبہ بھی ان کانام مولوی صاحب نے زبان پر نہیں آنے دیا اس طرح وہ محفوظ رہے تو انہوں بھی کمال بدلہ دیا ہوا تھا کہ ابھی تک مولوی صاحب کے ہیڈآئوٹ بمعہ سازوسامان اسی طرح محفوظ رکھے ہوئے تھے ۔اور وہ اسی حالت میںمولوی صاحب کو واپس حوالے کر دیے۔اس طرح مولوی کے ہاتھ کچھ پرانا سامان بھی لگ گیا اور انکے حوصلے بھی مزید بڑھ گئے ۔مولوی صاحب کی رہائی کے وقت مقبوضہ میں ہماری تنظیم سخت انحطاط کا شکار تھی اور بارڈر سے آمدورفت بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی ایسے میں مولوی صاحب کی ذمہ داریاں بہت بڑھیںہوئیں تھیں ، کہ وہ نئے ساتھیوںکی آمدورفت کیلئے بھی کوئی سورس تلاش کریں اور ممکنہ طور پر وہاں پہنچنے والے نئے ساتھیوں کیلئے پہلے سے شہری اور جنگلی ہر دو قسم کے ٹھکانے بھی مہیا کرکے رکھیں مولوی صاحب نے دونوں ذمہ داریاں قبول کرلیں ،اور دن رات ایک کرکے کام میں جت گئے ۔کام کیلئے انہوں نے گاڑی کی ضرورت کا اظہار کیا تو فوری طور پر انکے لئے گاڑی کا بندوبست بھی کردیا گیا ۔اس طرح مولوی صاحب آج سے 12سال پہلے کی طرح ایک مرتبہ پھر وادی کے طول وعرض میں گھومنے پھرنے لگے اور ہندوبنیا اتنے جوتے کھانے کے بعد ایک مرتبہ پھر اسی پرانے جھانسے میں آگیا ،کہ یہ پیر بابا ہے اور ہمارے کام کیلئے دوڑبھاگ کررہا ہے ۔

مولوی صاحب ہمارے ساتھ مکمل رابطے میں رہ کر مشاورت کے ساتھ تنظیم کی ڈیمانڈکے عین مطابق دن رات کام میں لگے ہوئے تھے اور دوسری طرف یہ انہی کی ذہانت تھی کہ انہوں نے دشمن کو بھی بالکل مطمئن رکھا ہو اتھا اور اپنے اصل مشن کے بارے میں ان بڑے بڑے دماغوں کو ذرا بھر بھنک بھی نہ پڑنے دی۔

2016؁ہمارے لیئے بڑے مزے کا سال تھا مولوی صاحب پیرول کی مدت کی تجدید پر تجدید کرواتے رہے اور پوری آزادی کے ساتھ وادی بھراور جموں سمیت اندرون ِہندستان تک متحرک رہے ۔انہی دنوں انڈیاکے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’’این آئی اے ‘‘کو بھی بھنک پڑ گئی کہ نور محمد تانترے پیرول پر رہا ہے اور فورسز کیلئے کام کر رہا ہے تو وہ بھی درمیان میں ٹپک پڑے اور مولوی صاحب کی خدمات مانگ لیں۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online