Bismillah

631

۲۹جمادی الاولیٰ تا۵جمادی الثانی۱۴۳۹ھ  بمطابق ۱۶تا۲۲فروری۲۰۱۸ء

آغاز (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 631 (Talha-us-Saif) - Aaghaz

آغاز

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 631)

۲۰۱۷؁ء کا اختتام جس شان سے ہوا تھا،  ۲۰۱۸؁ء کے آغاز میں ہی وہ مناظر پھر سے دیکھنے کو مل گئے۔ الحمد للہ رب العالمین

گذشتہ ہفتے کے کالم کا آغاز جس ہلکے پھلکے مزاح سے کیا تھا، اسے بعض حضرات نے شاید بہت ہی زیادہ دِل پر لے لیا ہے۔ انتہائی بھونڈے انداز میں دل کی بھڑاس نکالی گئی اور جب کوئی جواب اور جواب الجواب کی محفل نہ سجی تو میسجز کے ذریعے دل کا بوجھ اتارنے کی کوشش کی گئی۔بس مؤدبانہ عرض ہے کہ جہادِ کشمیر کے حوالے سے عرصہ 15 سال سے جو دِلخراش اور افسوسناک اِلزامات ، طعنے اور فضولیات، محض تقلیدی قسم کے بے بنیاد اِعتراضات اور شہدائِ کرام کی قربانیوں کے حوالے سے انتہائی حد تک دل دُکھانے والی باتیں سنتے چلے آ رہے ہیں، کبھی لہجہ سخت نہیں کیا اور نہ ہی اِن سوالات کی جنس سے کوئی جواب دیا۔ ایک ہلکا سا طنز جو بالکل حقیقت پر مبنی ہے، برداشت کرنے کی صلاحیت تو معترضین کو بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔ جہادِ کشمیر ہمارے عظیم، مخلص اور جانباز شہداء ومجاہدین کی امانت ہے، اس سے ہماری وابستگی اِیمانی اور جذباتی ہے اور الحمد للہ ثم الحمد للہ ہمیں اس کے شرعی جہاد ہونے کا آج بھی اتنا ہی یقین ہے جتنا معترضین کو اپنا مؤقف بدل لینے سے پہلے تک تھا۔ ا سلئے یہ کوئی نہ سوچے کہ جواب نہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ سوال درست ہیں یا مجاہدین کے پاس سوالات کے جوابات نہیں۔ دین کے مختلف شعبوں کے درمیان تفریق اور تنازعات اُبھارنے اور ان کے مابین اکھاڑ پچھاڑ کی پالیسی کسی کی ہو توہو، الحمد للہ ہماری جماعت کی نہ یہ پالیسی تھی اور نہ ہے۔ اس لئے باہمی احترام کو برقرار رکھنے کی حتی الوسع کوشش کی جاتی ہے۔

چلئے چھوڑئیے خوشی کی بات کرتے ہیں۔

9 فروری ہمارے عظیم ساتھی شہید مظلوم بھائی افضل گورو کا یوم شہادت ہے۔10 فروری کو ان سے پہلے اسی تہاڑ جیل میں جہادِ کشمیر کے بانیوں میں سے ایک جناب مقبول بٹ کو شہید کیا گیا تھا۔ ان دونوں شہداء کرام کا مدفن ہندوستان کی یہی جیل ہے۔ اور گیارہ فروری وہ دن ہے جب انڈیا نے حضرت امیر محترم حفظہ اللہ کو اننت ناگ ( اسلام آباد) میں گرفتار کیا تھا۔ ان تینوں واقعات کی مناسبت سے مقبوضہ جموں کشمیر کا سنجوال آرمی کیمپ’’ افضل گورو شہید سکواڈ ‘‘کے انتقامی حملوں کے سلسلے کا نشانہ بنا۔ جموں پٹھان کوٹ ہائی وے پر واقع یہ کیمپ کافی ہائی سیکیورٹی زون میں ہے اور جموں کشمیر میں آرمی کے بڑے کیمپوں میں اس کاشمار ہوتا ہے۔ فدائی مجاہدین کے ایک دستے نے رات کے آخری پہر اس کیمپ پر یلغار کی اور نو فروری کو اس مشن کے سفر کا آغاز کرنے والے مجاہدین نے دس اور گیارہ کا پورا دن بھارتی افواج کو تگنی کا ناچ نچایا۔ انڈین میڈیا کے مطابق ۴۸ گھنٹے گذر جانے کے باوجود علاقے میں ہائی الرٹ ہے۔ آپریشن جاری ہے۔ کیمپ میں اِکا دُکا دھماکے بھی ہو رہے ہیں اور انڈین آرمی کے مطابق کیمپ سے چالیس گھنٹے بعد زندہ نکلنے میں کامیاب ہونے والے فدائین کی تلاش کے لئے سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا اب تک اس حملے کے اختتام کا باضابطہ اعلان نہیں کیا جا سکا۔ حالانکہ جس وقت یہ تحریر لکھی جا رہی ہے حملہ شروع ہوئے اکاون گھنٹے گزر چکے ہیں۔

مجاہدین نے کیمپ میں جہاں سے انٹری کی، وہ رہائشی کمپاؤنڈ ہے اور اس میں آفیسرز کے سرکاری مکانات واقع ہیں۔ صبح کے وقت انہوں نے بیس کے قریب آفیسرز کو یرغمال بنا لیا ان کے فون کھلے رکھے اور ان کی میڈیا سے بات کرائی۔ میڈیا پر یہ رپورٹ صبح کے ابتدائی بلیٹن پر نشر کی گئی پھر اس کا گلہ گھونٹ دیا گیا۔ وہ بیس آفیسرز کہاں ہیں؟ اس کا بالکل درست جواب آپ کو اس تصویر میں مل جائے گا۔ تابوتوں کی گنتی آپ خود کر لیجئے۔

اس کے بعد فائٹ شروع ہوئی، چوبیس گھنٹے تو مسلسل جاری رہی اور اختتام کا اعلان تو ابھی تک نہیں ہو سکا۔ تین بڑے بلاسٹ بھی کیمپ کے مختلف کمپاؤنڈز میں ہوئے۔ فائٹ اس قدر شدید تھی کہ فوج کو اپنی مدد اور مجاہدین پر قابو پانے کے لئے ٹینکوں کی مدد بھی لینا پڑی۔ کشمیر کے ایک معروف صحافی نے ٹوئیٹر پر اس حوالے سے انتہائی طنزیہ تبصرہ کیا۔

’’ اے کے 56 اور چند ہینڈ گرنیڈز سے لیس تین یا چار مسلح مجاہدین کے مقابلے میں ٹینک کا استعمال کر کے بھارتی فوج نے ثابت کیا ہے کہ وہ انتہائی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل فوج ہے۔لگتا ہے 2018؁ء ڈیسائڈر ( فیصلہ کن ) ثابت ہو گا‘‘…

 اس کارروائی میں بھارتی میڈیا نے اپنی لاشوں کی تعداد تیس تک پہنچائی لیکن پھر یک دم میڈیا پر شکنجہ کس دیا گیا اور کارروائی کے بارہ گھنٹے بعد مرنے والوں کی تعداد تین بتائی جانے لگی جو آج بمشکل چھ تک پہنچی۔ اسی کشمیری صحافی نے کارروائی کے ابتدائی گھنٹوں میں پاکستان اور عالمی میڈیا کے چند مشہور صحافیوں کو ٹیگ کرکے ٹویٹ کیا کہ کیمپ میں سو سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں اور میڈیا کو مکمل بلیک آؤٹ کر دیا گیاہے۔ یہ ٹویٹ کچھ دیر بعد ڈیلیٹ کروا دی گئی لیکن اس کے سکرین شاٹ محفوظ کر لئے گئے تھے۔ بہرحال اس کارروائی کے فوراً بعد ہی انڈین آرمی چیف اور جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ کا جموں پہنچنا،دہلی میں وزارت خارجہ کی ہنگامی میٹنگ، وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس ، جموں سے سرینگر تک ہسپتالوں میں ایمرجنسی کا نفاذ، اور کیمپ میں ہیلی کاپٹرز کی درجنوں بار آمدو رفت کا میڈیا پر دکھایا جانا کچھ اور کہانی سنا رہا ہے اور آج جموں پنجاب شاہراہ پر واقع آرمی کیمپس کے حفاظتی انتظامات کی بہتری کے لئے وزارت دفاع کی جانب سے 15 ارب روپے ہنگامی امداد کی منظوری بھی نقصانات کے اصل گراف کو واضح کر رہی ہے۔ان سب حقائق سے زیادہ پُرلطف انڈین چینل ABPنیوز پر نشر کی جانے والی تقریباً بیس منٹ کی وہ رپورٹ ہے جو اس حملے کے شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد نشر کی گئی۔ اس رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ مودی سرکار نے قوم سے جو بڑے دعوے کئے تھے ان میں سرفہرست یہ تھا کہ وہ کشمیر میں جاری تحریک جہاد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے، ہر فوجی کے قتل کے بدلے میں پاکستان تک جا گھسیں گے اور فوج و قوم کو مکمل تحفظ فراہم کریں گے جبکہ صورتحال یہ ہے کہ 2017؁ء گذشتہ آٹھ سالوں کے مقابلے میں بھارت کی افواج کے لئے سب سے خونی سال ثابت ہوا ، کشمیر کی تحریک گذشتہ دس سال کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی ہے۔ وادی میں عوامی تحریک اور عسکری تحریک کا گراف انتہائی تیزی سے بلند ہوا ہے۔ تحریک میں پہلی بار کشمیر کے اندر سے مقامی فدائین سامنے آ گئے ہیں۔ غرضیکہ رپورٹ میں پیش کئے جانے والے تمام اعداد و شمار ہمارے لئے انتہائی ایمان افروز ، حوصلہ افزاء اور جذبات آفرین جبکہ ہندوستانی عوام اور افواج کے لئے انتہائی حوصلہ شکن اور مایوس کن تھے۔ رپورٹ سن کر دل کو اتنی خوشی اور اطمینان نصیب ہوا کہ بیان سے باہر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان شہداء کرام کی قربانیوں کو قبول فرمائے جن کے خون نے جہاد کشمیر کے پورے منظر نامے کو ہی بدل ڈالا ہے۔

انڈیا کس قدر مایوس ہے اس کا اندازہ اس رپورٹ سے ہوا اور مجاہدین کس قدر بے خوف، جانباز اور مطمئن ہیں اس کا اندازہ اس تصویر سے لگا لیجئے۔

سنجواں کیمپ کے اندر ہزاروں فوجیوں کے گھیرے ، ٹینکوں کی گولہ باری اور بکتر بند گاڑیوں کی یلغار کے درمیان مجاہدین لڑائی کے میدان میں داد شجاعت دینے کے ساتھ ساتھ دیواروں پر آزادی اور جہاد کے نعرے بھی تحریر کرتے رہے، جو میڈیا سے چھپانے کے لئے بھارتی فوج کو رنگ پھیر کر مٹانے پڑے۔ وہ دیوار آپ اس تصویر میں ملاحظہ کر لیں۔ نعروں کے ساتھ گولیوں کی آواز سے جس فوج کے انسٹرکٹرز کو دل کا دورہ پڑ جاتا ہو اس کا مقابلہ ان اللہ کے شیروں کے ساتھ ہے کہ شدید گولہ باری میں جن کے ہاتھ بھی نہیں کانپتے اور نہ ان کے قلم رکتے ہیں۔ سلام ہو اسلام کے ان عظیم شیروں کو اور ان کی پرورش کرنے والے والدین کو…

یہ تصویریں چلا چلا کر اس کشمیری صحافی کے بیان کی تصدیق کر رہی ہیں کہ 2018؁ء ان شاء اللہ فیصلہ کن ثابت ہو گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online