Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

پُراَسرار بندہ…(۷) (مفتی محمد اصغر خان کشمیری)

Pur Israr Banda mufti-asghar

پُراَسرار بندہ…(۷)

مفتی محمد اصغر خان کشمیری (شمارہ 631)

مولوی صاحب نے ان کو بھی ہاں کرکے آج سے ان کو بھی بیوقوف بنانا شروع کردیا ،وہ مختلف معاملات پر میٹنگ کیلئے مولوی صاحب کو دہلی بھی بلاتے اور ہوائی جہاز کا ریٹرن ٹکٹ بھیج دیتے ، مولوی صاحب میٹنگ اٹینڈ کرنے دہلی بھی پہنچ جاتے، یہ سب ڈرامہ جاری تھا اور بڑے مزے سے جاری تھا کہ درمیان میں ایک دلچسپ بلکہ خطرناک موڑ بھی آگیا…ہو ا یہ کہ نومبر2016؁ کو نگروٹہ میں کور ہیڈکواٹر پر جیش محمد ﷺ کے جانبازوں نے فدائی حملہ کردیا جس میں دشمن کو بھاری جانی ومالی نقصان کے علاوہ سخت رسوائی بھی اُٹھانا پڑی تو طبعاََ دشمن کی نگاہیں مولوی صاحب کی طرف اُٹھیںاوران کو طلب کرکے پوچھا گیا کہ’’ جیش محمد ﷺ کاوادی میں فی الوقت تو سیٹ اپ اتنا مضبوط نہیں ہے تو انہوں نے یہ کاروائی کیسے کر ڈالی ،اس میں کوئی چکر نظر آرہا ہے‘‘ مولوی صاحب نے ان کو پورے دلائل کے ساتھ سمجھایا کہ یہ کاروائی جیش محمد ﷺکی ہے ہی نہیں یہ کسی اور برادر تنظیم کی ہے جیش کا نام ویسے ہی چل گیا ہے ۔

مگر ایجنسیوں نے ان کی بات تسلیم نہ کی اور اس بات پر زور دیا کہ یہ کاروائی کنفرم جیش محمدﷺکی ہے اس میں کوئی شک نہیںآپ اس میں بحث نہ کریں اگلی بات کریں یہ فدائی آئے کدھر سے ہیں اور پہنچے کیسے ہیں؟آپ کو مشن کیا سونپا گیا تھا اور یہ ہو کیا رہا ہے ؟جیش تو ختم ہونے کی بجائے ہمارے کور ہیڈکواٹر تک پہنچ گئی ہے اس کے جوابدہ تم ہو صرف تم…مولوی صاحب نے ان کو پُر اعتماد لہجے میں جواب دیا کہ میری رہائی سے ابھی تک ایک سال دوماہ کی پوری زندگی آپ کے سامنے ہے ۔ میں لمحہ بھر کیلئے غائب نہیں ہو ا اب یہ ایک واقعہ ہوگیا تو آپ کے پاس اتنا بڑا نظام ہے آپ کو اس کی اصلیت کا پتہ نہیں چل رہا تو مجھ غریب کو کیا پتہ چلے گا ۔پھر دھونس اور دبائو سے جب کام نہ چلا تو دشمن لالچ دینے پر اتر آیا اور مولوی صاحب کے بقول انہوں نے مجھے پچاس لاکھ تک پیش کش کی کہ یہ معلومات نکال دو کہ یہ فدائی کدھر سے آئے ہیں اور کور ہیڈکواٹر تک کیسے پہنچے ہیں تو نقد پچاس لاکھ لے لو،مگر دشمن کا یہ حربہ بھی ناکام رہااور کچے مکان کے باسی نور محمد نے پچاس لاکھ کو لات مار دی اور دشمن کو کوئی معلومات نہ دیں ۔واضح رہے کہ مولوی نور محمد صاحب نگروٹہ کاروائی میں شریک نہیں تھے مگر ان کے پاس معلومات ضرور تھیں…خیر یہ مرحلہ گزر گیا اور مولوی صاحب ان کو چونی کی معلومات دئیے بغیر مطمئن کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

بات دور نکل گئی میں عرض یہ کر رہا تھا کہ 2016؁ہمارے لئے بڑے مزے کا سال تھا اس سال مولوی صاحب نے خوب خوب چو مکھی لڑائی لڑی، مولوی صاحب کے سامنے دو بڑے چیلنج تھے ۔ایک چیلنج دشمن کو مطمئن رکھنے کا تاکہ وہ پیرول منسوخ کرکے دوبارہ جیل میں نہ بٹھا دیں اور دوسرا چیلنج تنظیم کے کام بڑھانے اور اُٹھانے کا… ان میں سے پہلے چیلنج میں تو وہ خوب کامیاب رہے  جبکہ دوسرے چیلنج یعنی کام کے حوالے سے جو دو ذمہ داریاں انہوں نے لی تھیں ان میں سے پہلی میں تو وہ کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکے اوربارڈر پر آمدورفت کیلئے کوئی بڑے وسائل مہیا نہیں کرسکے اور جو سورس انہوں دیئے تھے ایک دو چکروں کے بعد انہوں نے بھی جان چھڑوا لی ،مگر دوسری ذمہ داری مولوی صاحب نے خوب نبھائی’’ یعنی ممکنہ طور پر ہماری طرف سے وہاں نئے پہنچنے والے ساتھیوں کے لئے پہلے سے شہری اور جنگلی سیٹ اپ تیار کرکے رکھنا ‘‘چنانچہ مولوی صاحب نے وہاں اس کی بھرپور تیاری کرلی اور پھر پُر زور مطالبے کرنے لگے کہ میدان تیار ہے بندے لائو…مگر کیسے اور کدھر سے ؟؟؟ یہ ایک سوال تھا جس کا کوئی جواب نہ تھا …پر ایک ازلی اور ابدی حقیقت نے اپنا آپ دکھانے میں زیادہ دیر نہ لگائی …اور وہ حقیقت یہ کہ جو لوگ ہر حال میں کچھ کرنا چاہتے ہوں اللہ ہر حال میں ان کے لئے راستے نکال لیتا ہے۔

چنانچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوااور کشمیر نے اپنا دامن کھول دیا عرصہ دراز کے بعد پیاسی دھرتی کو پانی میسر آیا اور پانی کو برسنے کیلئے دھرتی میسر آئی اور ہمارے پیارے ساتھی مفتی وقاص اپنے گروپ کے ہمراہ 2017؁کے آغاز میں وادی کشمیر میں وارد ہوگئے ۔اب آگے عجیب نظام تھا،مولوی نور محمد صاحب نے مفتی وقاص لوگوں کو ایسے وصول کیا جیسے کوئی آسودہ حال میزبان اپنے خصوصی مہمان کو آگے بڑھ کر گلے لگا لیتا ہے اور پھر ہاتھ تھام کر اکرام سے اپنی رہائش گاہ پر لے آتا ہے ۔پھر مہمانی اور میزبانی کی حسین محفل سجتی ہے یہاں بھی بالکل ایسے ہی ہوا۔حالانکہ جو لوگ کشمیر کی تحریک سے عملاََ وابستہ ہیں ان کوبخوبی معلوم ہے کہ کشمیر میں سات لاکھ آرمی اوردرجنوں ایجنسیوں کی موجودگی میں نئے آنے والے لوگ آتے ہی کن آزمائشوں کا شکار ہو جاتے ہیں اوران کاایک ایک لمحہ کیسے صدیوں میں کٹتا ہے ۔مگر مفتی وقاص کے لئے ان میں سے کوئی آزمائش موجود نہ تھی بلکہ یہ طنزیہ جملہ یہاں حقیقت کا روپ دھارے بیٹھا تھا اور مفتی وقاص حقیقتاََ کشمیر پہنچ کرمحسوس کررہے تھے کہ جیسے ’’میں خالہ کے گھر آگیا ہوں ‘‘  2016؁ کی مولوی صاحب کی محنت سر چڑھ کر بول رہی تھی اور وہاں پہنچتے ہی مفتی صاحب کو بیک وقت شہر اور جنگل دونوں جگہوں پر ٹھکانے مل گئے تھے اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا اور بڑھتا ہی چلا گیا ۔

ان تازہ حالات میںمولوی صاحب کی خواہش یہ تھی اور برحق تھی کہ آپ لوگ فی الوقت مکمل خاموش رہیں اور دشمن کو جتنا لمبا وقت ہوسکے اپنے بارے میںبھنک نہ پڑنے دیں ،تاکہ ہم خاموشی سے دشمن کے ہوشیار ہونے سے پہلے پہلے پوری وادی میں اپنا نیٹ ورک پھیلا دیں اور ہر جگہ ساتھیوں کو بٹھلا دیں، پھر بے شک شورشرابا ہوجائے،ہمارا نیٹ ورک مکمل ہوجائے گا اور میںروپوش ہوجائوں گا اس طرح ہم اپنے مشن میں مکمل کامیاب ہوجائیں گے ۔

مگر ہو ایہ کہ بہت ساری جہادی مصلحتوں کی خاطر ساتھیوں نے امسال کے یوم ِبدر کو بھرپور طریقے سے منانے کا فیصلہ کرلیا اور 17رمضان المبارک 1438؁ھ کو ترال ،پلوامہ ،شوپیاں اور کلگام وغیرہ میں سلسلہ وارگرنیڈ حملے کردیئے جس سے دشمن دہل کر رہ گیا اور مطلوبہ مقاصد بھی حاصل ہوگئے۔ساتھیوں کا شروع میںخیال یہ تھا کہ یوم البدر بھی بن جائے گا اور ہم ذمہ دای بھی نہیں لیں گے اس طرح مصالح تو حاصل ہوجائیں گے اور نقصانات کچھ نہ ہوںگے،مگر بعد میں جب کاروائیوں کے حوالے سے جیش محمدﷺ کا نام آگیا تو یکدم دشمن کے کان کھڑے ہوگئے اور اس کو اندازہ ہوا کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے ۔ایس ایس پی اونتی پورہ زاہد ملک نے فوراََ مولوی صاحب کو بلا لیا اور کہا کہـــ’’ نور محمد یہ کیا ہے؟ جیش جنوبی کشمیر میں کدھر سے آگئی ؟ادھر تو ان کا کوئی آدمی نہ تھا۔ دو ٹوک اور واضح جواب دو ورنہ اگلا قدم کچھ اور ہوگا ‘‘مولوی صاحب نے بغیر کوئی ٹینشن لیے انتہائی تسلی سے اس کو جواب دیا ’’کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں میں ایک دن میں ساری معلومات اکٹھی کرکے دے دیتا ہوں ‘‘اور پھر دوسرے دن ساتھیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد مولوی صاحب نے ایس ایس پی زاہد ملک کی بجائے ڈائریکٹ سرینگر کارگو میں سب انسپکٹرونود پنڈت سے رابطہ کرکے اس کو اعتماد میں لے لیا اور اس کویہ کہانی سنا دی ’’کہ میں نے ان دھماکوں کی پوری تحقیق کرلی ہے، ہوا یہ ہے کہ فلاں فلاںبندے (جو پہلے ایکسپوز تھے اور دشمن کو معلوم تھا کہ وہ مجاہد ہیں لہٰذا ان کانام لینے میںکوئی حرج نہ تھی )بارہ مولہ گئے تھے، وہاں وہ جیش کے شمالی کشمیر کے کمانڈر سے ملے ہیں اور وہ ان کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں ،وہ وہاں سے گرنیڈلائے ہیں اور آکر 17رمضان کو کاروائیاں کردی ہیں اس کے علاوہ جنوبی کشمیر میںنہ جیش کا کوئی سیٹ اپ ہے اور نہ مجاہد ہے ۔ونود پنڈت نہ صرف مولوی صاحب کی باتوںمیں آگیا بلکہ انتہائی زیادہ خوش بھی ہوا کہ مولوی صاحب نے اتنی جلدی اتنی گہری معلومات نکال کر دے دیں اور اس نے ایس ایس پی زاہد ملک کوبھی فون کرکے کہہ دیا کہ مولوی نور محمد ہمارا آدمی ہے ہمیں اس پر اعتماد ہے آپ خواہ مخواہ اسے تنگ نہ کیا کریں ۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online