Bismillah

640

۳تا۹شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۰تا۲۶اپریل۲۰۱۸ء

پُراَسرار بندہ…(۱۰) (مفتی محمد اصغر خان کشمیری)

Pur Israr Banda mufti-asghar

پُراَسرار بندہ…(۱۰)

مفتی محمد اصغر خان کشمیری (شمارہ 635)

بندہ نے ان سے عرض کی ،اتنی تیز رفتاری ٹھیک نہیں ہے ،جنگ میں حکمت عملی ضروری ہوتی ہے تاکہ دشمن کو کاری ضربیں بھی لگتی رہیں اور اپنی بھی بچت رہے جبکہ یہ تیز رفتاری توکہیں اور لے جائے گی ۔ انھوںنے کہا ’’مفتی صاحب! اب تو کہیں اور ہی جاناہے،میں تو شدید خواہش رکھتاہوں کہ خود فدائی کروں ، مگراس کے لیے آپ نہیں مان رہے ، چلواس دوسرے راستے سے تو جلد ی سے منزل کی طرف بڑھنے دیں‘‘۔ دراصل کہانی یہ تھی کہ مولوی صاحب کو اس امرکامکمل ادراک تھاکہ دشمن ان کے وجود کواپنے لیے کتنابڑا چیلنج سمجھ رہاہے ۔ اور وہ ہر صورت میں ان کو دوبارہ پکڑ کر اپنی خفت مٹانا چاہ رہاہے، جس کااظہار ان کے اعلیٰ آفیسروں کی طرف سے بار بار ہورہاتھا جبکہ مولوی صاحب اس غلیظ بنیے کی مکروہ شکل کسی صورت دوبارہ نہیں دیکھناچاہتے تھے۔ ان کے سامنے تو جنت کے سرسبز وشاداب باغات، دودھ ، شہد اور میٹھے پانی کی بہتی نہریں اور حوروغلمان کی دلنشین صورتیں تھیں، بھلا دنیا کی عارضی زندگی کے مزید چند روز حاصل کرنے کی ان کے نزدیک کیاوقعت ہوسکتی تھی ؟اس لیے ان کے پیش نظریہی تھاکہ لمبے چکروں میں نہ پڑو،تنظیمی سیٹ اپ صدقہ جاریہ کے طورپر وجود میںآچکاہے ، اب بس جنت کی طرف سرپٹ دوڑ لگائو اور زندگی کے جو ایام باقی ہیں ان کے ایک ایک لمحے کوقیمتی بنائو۔ جتنازیادہ ممکن ہودشمن کو کاری ضربیں لگالو، چنانچہ اب مولوی صاحب کا لائحہ عمل یہی تھااور وہ سرینگر کی اپنی محفوظ پناہ گاہ میںبیٹھ کر دن رات منصوبہ سازی میں لگے رہتے تھے ۔ دوسری طرف دشمن کوبھی مولوی صاحب کی طرف سے لاحق خطرات کامکمل ادراک تھا، اس لیے اس نے سرینگر اور اس کے مضافات سمیت بڈگام ، شوپیاں ، پلوامہ ، ترال ، کولگام اور اسلام آباد تک سیکورٹی ہائی الرٹ پررکھ لی تھی،اور ساتھ میڈیا پر بھی چیخ وپکار جاری رکھی ہوئی تھی کہ جیش محمدﷺکسی بھی وقت کسی بھی کیمپ پر یلغار کرسکتی ہے ۔ جیش محمدﷺ کا دشمن پر کس قدر رعب چھاچکاتھا، اس کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ سرینگر ائیرپورٹ والی فدائی کاروائی کے بعد دشمن کے اعلیٰ آفیسرکی طرف سے فورسز کے لیے جوہدایات جاری کی گئی وہ یہ تھیں کہ فدائی حملوں سے بچنے کاواحد طریقہ یہ ہے کہ فورسز کے تمام کیمپوں کے گرد گھڑی کی سوئی کی طرح مسلسل گھومنے والے آرمی کے گروپ تشکیل دیے جائیںاور وہ چوبیس گھنٹے بغیر انقطاع کے کیمپوں کے گرد گھومتے رہیں اور یاد رکھیں جہاں انقطاع آئے گا، وہاں سے حملہ ہوجائے گااور یہ صرف زبانی کلامی آرڈر نہ تھا بلکہ اس کے عین مطابق سیکورٹی پلان بھی بن گیا اور اس پر عمل بھی شروع ہوگیا۔اس لیے مولوی صاحب کے بہت سے وہ منصوبے جن پرپہلے عمل بہت آسان لگ رہاتھا ، اب ان کو انجام دیناخاصہ مشکل ہوگیاتھا۔ چنانچہ پروگرام بنتے اور ٹوٹتے یا موخرہوتے رہے ۔پھر یوں ہوا کہ اچانک مولوی صاحب نے انگڑائی لی اور کہاکہ دشمن کا گھمنڈ اور غرور توڑنے کے لیے کچھ بڑا کام کرتے ہیں، بھلے سے اس میںجان بھی چلی جائے مگر ایک مرتبہ دشمن کو پتہ چل جائے کہ اس کی سیکورٹی چاہے وہ کسی بھی درجے کی ہو، فدائیان اسلام کاراستہ نہیں روک سکتی۔چنانچہ اس پر فیصلہ ہوگا۔

 اس مرتبہ مولوی صاحب نے جو ہدف چنا، وہ واقعتا بھارت کو دہلادینے والا تھا۔ پلوامہ کے مشہور علاقہ اونتی پورہ میں ایک جگہ ہے ’لیتھ پورہ ‘۔ اسی لیتھ پورہ میں سی آرپی ایف کی 185بٹالین کا ہیڈکوارٹر ہے جس کی چاردیواری کئی کلو میٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور اسی چار دیواری کے بیچوں بیچ چارچار ، پانچ پانچ منزلہ کئی بڑے بڑے پلازے ہیں اور ان کے سامنے بڑے بڑے میدان ہیں ، یہ کیمپ دراصل سی آرپی ایف کے ہیڈ کوارٹرکے ساتھ ساتھ کمانڈوز کاٹریننگ سنٹر بھی ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ اس ٹریننگ سنٹر میں کمانڈوز کو فدائیوں سے نمٹنے کی ٹریننگ دی جاتی تھی ۔ گویاکہ یہ بھارت کاخاص ٹریننگ سنٹر تھا، جس میںکمانڈوز کو نئے چیلنجزسے نمٹنے کے لیے تیارکیاجاتا تھا۔ اس مرتبہ مولوی نور محمدصاحب کے نشانہ پر یہی اہم سی آر پی ایف ہیڈکوارٹر اور کمانڈو ٹریننگ سنٹر تھا۔ یعنی  اس مرتبہ ہمارے فدائیوں نے بھارت کے دل پر وار کرنا تھا اور ان کمانڈوز کو سبق سکھاناتھاجو انہی فدائیوں کے خلاف تیارہو رہے تھے۔

نور محمدصاحب نے کیمپ کی مکمل ریکی ، وہاں سامان پہنچانا اور فدائیوں کو اندر داخل کرنے سمیت پورا کام اپنے ذمہ لے لیا اور پھر سرتوڑ کوشش اور محنت شروع کردی ۔ اس میں کافی وقت لگ گیا مگر بالآخر وہ ریکی مکمل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور انھوں نے پورے کیمپ کو مکمل طورپر دیکھ سن اور کھنگال لیا اور ساتھیوں کے کیمپ میں داخل ہونے کی جگہ کا بھی انتخاب کر لیا۔

 پھر کوئی دسمبرکا درمیانی عشرہ گزر رہا تھاکہ انھوں نے تیاری کا مرحلہ مکمل ہونے کی خوشخبری سنائی ۔ اس خبر سے ہماری صفوں میں خوشی کی لہردوڑگئی اور مشاورت سے کاروائی کے لیے 27دسمبرکا دن بھی طے ہوگیا۔ سب کچھ خوش اسلوبی سے چل رہا تھا اور مولوی صاحب کی ڈیمانڈ کے مطابق ہر ہر چیز ان کو مہیا بھی کی جاچکی تھی ۔ پھر یہ کوئی 25 دسمبر عشاء کا ٹائم تھا جب ان سے دوبارہ تفصیلی رابطہ ہوا جس میں انھوں نے ہر حوالے سے تیاری مکمل ہونے کا بتایا اور کاروائی کی حتمی ترتیب طے ہوگئی ۔ اس وقت مولو ی صاحب  دیگر ذمہ داروں اور فدائی ساتھیوں کے ساتھ ایک پُرخطرجگہ پرموجود تھے۔ پھرکہیں رات دیر سے انھوں نے جدا ہوکر سامبورہ پلوامہ جانے کا پروگرام بنالیا۔ حالات پر گہری نظررکھنے والے وہاں کے ذمہ دارمولانا عبدالمتین صاحب نے مولوی صاحب کو سامبورہ جانے سے سختی سے منع کیا اور کہاکہ سامبورہ میںجہاں آپ جا رہے ہیں وہ جگہ دشمن کی نظروں میں ہے ، آپ وہاں نہ جائیں ، کہیں اور ٹھہریں، مگرمولوی صاحب نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ کاروائی کوحتمی شکل دینے کے لیے وہیں جانا ضروری ہے ۔ لہذا ادھر جاتے ہیں آگے دیکھاجائے گا ، کیا ہوتا ہے ۔

جذبہ شوق شہادت کا اب کیاکیجیے

اب تو ہم نے بھی ہاتھوں میں سر لے لیا

قتل ہونے سے کب تک ڈرتے رہیں

قاتلوں کے محلے میں گھر لے لیا

            چنانچہ مولوی صاحب اپنے جانباز ساتھی حنظلہ بھائی کو  لے کر سامبورہ کی طرف چل پڑے، سفرکٹتاگیا اور یہ حضرات رات دس بجے کے لگ بھگ مطلوبہ مکان کے قریب پہنچ گئے، مگراللہ کاکرنا یہ ہوا کہ مکان میں داخل ہونے سے کچھ پچاس ساٹھ میٹر پہلے منافقین کی ایک ٹولی سے ان کا اچانک آمنا سامنا ہوگیا۔ حنظلہ بھائی کے بقول میں تو فوراً چھپ گیا، مگرمولوی صاحب کو انھوں نے مکمل دیکھ لیا۔ پھروہ انجان بن کر آگے گزرگئے جیساکہ انھوںنے کچھ بھی نہ دیکھا ہو۔ اس واقعہ سے مولوی صاحب کو حالات کا مکمل اِدراک ہوگیا اورمولوی صاحب کے چہرے پر کچھ پریشانی کے آثار بھی ظاہرہوئے، مگرتعجب ہے کہ انھوں نے اُسی مکان میں جانے اور وہیں ٹھہرنے کافیصلہ پھر بھی نہیں بدلا اور سابقہ فیصلے کے مطابق سیدھے اسی مکان میں آگئے ۔ حنظلہ بھائی کہتے ہیں کہ گھر میں پہنچ کر مولوی صاحب نے مجھے آرام کاکہہ دیا مگر خود نیند ان کے قریب بھی نہیں پھٹکی ہوئی تھی ۔ انھوںنے مجھے سونے کاکہہ دیا اور خود گھرمیں کبھی اندر اور کبھی باہر چکرلگانے لگے ۔ دراصل ماجرہ یہی تھاکہ اس گھرمیں پہنچنے سے پہلے جن لوگوں نے مولوی صاحب کو دیکھ لیا تھا، مولوی صاحب ان کو جانتے تھے کہ وہ لوگ ٹھیک نہیں ہیں ، اس لیے اگلے حالات کا مولوی صاحب کوتقریباً پورا اندازہ ہو چکا تھا۔ باقی یہ ہمارے لیے معمہ ہی ہے  اور معمہ ہی رہے گا کہ اس قدر چست چالاک، ذہین، فطین اور نازک ترین حالات میں بالکل صحیح فیصلوں کاریکارڈ رکھنے والے نور محمد تانترے صاحب نے کھلی آنکھوں سے اس قدر خطرناک حالات دیکھنے کے باوجود جگہ چھوڑ کر کہیں اور جانے کافیصلہ کیوں نہیں کیا؟۔

آیامولوی صاحب کو الہاماً  یہ علم ہوچکاتھاکہ ان کا اگلا سفر طے ہو چکا ہے، بس رسمی کاروائی باقی ہے اورمولوی صاحب اگلی منازل کے حسن میں اس قدرکھوئے ہوئے تھے کہ انھوں نے پیش آمدہ حالات پرغور کرنا بھی مناسب نہ سمجھا اور سب کچھ دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود وہیں کے وہیں ڈٹے رہے ؟۔ اللہ تعالیٰ بہترجانتا ہے کہ مولوی صاحب کے ذہن میں کیا تھا، مگر ہوا یہی کہ مولوی صاحب نے جگہ نہیں چھوڑی، ادھر ہی رہے۔ البتہ سوئے نہیں بلکہ ہوشیار، بیداراور مسلح رہے۔ پھر جو ہونا تھا وہی ہوا کہ منافقین اپناکام دِکھاگئے ۔ دشمن کو ان کے ذریعے اطلاع ہوگئی اور رات ساڑھے گیارہ بجے دشمن بھاری نفری اور اسلحہ کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ دشمن کومکمل یقین تھاکہ وہ جسمانی طورپر کمزور مولوی صاحب کو رات کے اندھیرے میں، نیند میں دبوچ لیں گے مگر ان کی یہ خواہش اس وقت ان پر حسرت بن کربرس پڑی جب پہلے سے تیار اور چاک و چوبند مولوی صاحب نے گولیوں کی تڑٹراہٹ کے ساتھ دشمن کا استقبال کیا۔ دشمن سٹپٹا کر پیچھے کی طرف بھاگا اور سمجھ گیاکہ بازی پلٹ چکی ہے ، اب مکان میںگھسنا اور مولوی صاحب کو پکڑنا اس کے بس کی بات نہیں ہے۔ چنانچہ وہ اگلے پلان پر چلاگیااور فوراً گھرکا محاصرہ کرکے ہر طرف مورچے قائم کرلیے اور ہرطرف سے بڑی بڑی لائیٹیں لگاکر مکان کوروشن کر دیا تاکہ ممکنہ طور پر مولوی صاحب کہیں سے نکل کرفرار نہ ہوجائیں۔ مگرادھرماجرہ ہی دوسرا تھا۔ ادھرفرارہونے کاکوئی منصوبہ زیرغور نہ تھا۔ اگرمولوی صاحب نے فرار ہونا ہوتا تو رات کے اتنے خطرناک اِشارات کے بعد وہ دشمن کے آنے سے پہلے ہی کہیں نکل چکے ہوتے ،مگر یہاں حالت یہ تھی کہ جذبہ شوق شہادت مچل رہاتھا اور اگلے سفرکی تیاریاں ہو چکی تھیں۔

جذبہ شوق شہادت ہے متاع زندگی

اس کاچرچہ کارواں درکارواں کرتے چلو

عالَم حیرت میں رہ جائیں بہاریں دیکھ کر

اپنے خون کی چھینٹوں سے وہ گل کاریاں کرتے چلو

            چنانچہ مولوی صاحب نے کہیں نکلنے کی کوشش کے بجائے مکان میں ہی مورچہ سنبھال کر ڈٹ کر دشمن سے مقابلہ کرنا شروع کردیا اور اس کو اپنی جگہ سے ایک قدم آگے نہ بڑھنے دیا۔ پوری رات یوں ہی گزر گئی اور تہجد کا وہ مبارک موقع آگیا جس میں پتہ نہیں کب سے مولوی صاحب سجدوں میں سر رگڑ رگڑ کر اللہ سے شہادت مانگ رہے تھے ۔ عین اسی وقت بزدل دشمن نے دور سے بھاری ہتھیاروں اور بارود کے زریعے مکان کو نشانہ بنایا ، جس سے پورا مکان ملبے کے ڈھیرمیں تبدیل ہوگیا اور ہمارے مولوی نور محمد تانترے صاحب تہجد کی مبارک ساعتوں میںدشمن کے خونی جبڑے سے نکل کر رب تعالیٰ کی جنتوں کی طرف پرواز کرگئے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئے۔

            صبح ہوئی تو ہر طرف ایک شور تھا، انڈیا خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہا تھاکہ اس نے چھوٹے مولوی صاحب کو مارکرفتح حاصل کرلی ہے اور دیش محفوظ ہوگیاہے۔ انڈیاکے تمام ٹی وی چینلز پر فتح کا جشن برپا تھا۔ ہمیں انڈیاکی اس ڈھیٹ پن پر بڑا تعجب ہو رہا تھاکہ آخروہ کس چیز کا جشن منا رہا ہے؟ یہ تو اس کے لیے ماتم کرنے کا موقع ہے کہ جس مجاہد کمانڈر کو وہ از راہ تمسخر خود تین فٹ کا دہشتگرد کہہ کرپکارتا تھا، اس نے پچیس سال یعنی ربع صدی تک اس کونچایا ۔اس کے بڑے بڑے دماغوں کو شکست دی ، اس کے سیکورٹی انتظامات کے کئی مرتبہ پرخچے اُڑائے، تاحیات قید کاٹتے ہوئے ایک اعلیٰ تدبیرکے ذریعے اس کی جیل سے نکلا اور پھر تنظیم کو منظم کرکے اس کی موت کا سامان کیا، پھر اس کی طرف سے دوبارہ گرفتاری کے لیے بچھائے گئے جال سے کامیابی کے ساتھ نکل کر اپنے پسندیدہ وقت میں لیلائے شہادت سے بھی ہم آغوش ہوگیا۔

            اس میںبھارت کی کون سی فتح ہے اور یہ جشن کیساہے؟ ہاں وہ زیادہ سے زیادہ اس بات پر خوش ہو سکتا تھاکہ وہ آئندہ کے لیے محفوظ ہوگیاہے، مگرسلام ہو وادی میں موجود ہمارے جانباز فدائیوں اور ان کے ذمہ داران کو کہ انھوں نے بھارت کو ایک ہفتہ بھی جشن نہ منانے دیا اور تیس اور اکتیس دسمبرکی درمیانی شب مولوی صاحب کے خواب کو تعبیر بخشنے کے لیے سی آر پی ایف ہیڈکوارٹر اور کمانڈوٹریننگ سنٹر پر چڑھ دوڑے جس کی تیاری کرتے ہوئے مولوی صاحب نے شہاد ت پائی تھی۔ پھر چڑھائی کا انداز اتنا خوفناک تھاکہ پورا بھارت ہل کر رہ گیا۔ اس کاجشنِ فتح آہوں سسکیوں اور چیخ و پکار میں دَب کر رہ گیا۔ ان کے قلم کار اور دانِش وَر بھی وادی کے مقامی فدائین معاذ شہید اور منظور شہید کو دیکھ کر بول پڑے کہ اب بھارت کی خیرنہیں، اب توکشمیری خود فدائی بن گئے ہیں۔ اور ان کے ٹی وی چینلزجو ابھی تک مولوی صاحب کی شہادت پر جشن فتح میں مست تھے، چلانے لگے کہ تین فٹ کا دہشتگرد بھلے سے مارا جا چکا ہے، مگر وہ مرنے کے بعد بھی بھارت کوایسا زخم دے گیا، جو اس کی نسلیں بھی یادرکھیںگی ۔ لیتھ پورہ پلوامہ کی کاروائی، اس کی تفصیلات، اس کے شہداء اور اس میں ہونے والے نقصانات کاتذکرہ ان شااللہ میں پھرکسی مضمون میں کروں گا، بشرطیکہ آپ کی دعائوں کا ساتھ نصیب رہا۔ اس وقت صرف یہ لکھنا ہے کہ مولوی نورمحمدصاحب کی شہادت کے عظیم صدمے اور عظیم انتظامی نقصان کے باوجود ذرا  بھی تاخیرکیے بغیر ان کی ترتیب دی ہوئی اس کاروائی کو فوری طورپر اسی ترتیب کے مطابق انجام دے کر ہمارے جانبازوں نے فوری طور پر ایک پیغام اپنے عظیم شہید مولوی نور محمدصاحب اور دوسرا گلا پھاڑ پھاڑ کر جشن فتح منانے والے بھارت کو دے دیا ہے۔ مولوی صاحب کو یہ پیغام دیاکہ آپ نے اپنے خون سے جو شمع جلائی تھی ، وہ ان شاء اللہ اب جلتی رہے گی اور آپ کے جانشین کبھی اس کی لَو مانند پڑنے نہیں دیںگے اور بھارت کو یہ پیغام کہ نہ تمہارے لیے مولوی صاحب کی زندگی میں کوئی سکون تھا اور نہ اب تم آرام سے بیٹھ سکو گے۔ بلکہ مولوی صاحب کی وارث جیش محمدﷺ تمہارے دِل اور جسم پر ضربیں لگاتی اور تمہاری چیخیںنکالتی رہے گی۔

            مولوی صاحب کا پاکیزہ لہو جس دھرتی نے جذب کیاہے، وہ ان شاء اللہ ایسے فدائی اُگائے گی جو بھارت کے جوڑ جوڑ کوتوڑ کر جداکردیںگے ۔ مولوی صاحب کی شہادت کے فوری بعد فردین شہید ترال اورمنظور شہید پلوامہ کی فدائی یلغار بھارت کو غور و فکر کی دعوت دے رہی ہے۔ بھارت اگردعوت فکرقبول کرلے تو بہتر ورنہ فدائیانِ اسلام کے ہاتھوں اس کی شکست و ریخت تونوشتہ دیوارہے، وہ اس سے نہیں بچ پائے گا۔ یہ مولوی صاحب کے خون سے لکھ دیاگیاہے۔

             مولوی صاحب کی شہادت کے بعد عوام کاسیلاب سڑکوں پر امنڈآیا۔ ہزاروں لاکھوں افراد کے جم غفیر نے آزادی اور اسلام کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں مولوی صاحب کی نماز جنازہ اداکی۔ پورا جنوبی کشمیرکئی دنوں تک لوگوں کی از خود ہڑتال اور احتجاج کی زد میںرہا ۔ حالانکہ کسی نے ہڑتال کی کال نہیں دی ہوئی تھی اور کئی دنوں تک مولوی صاحب کے گھرتعزیت کے لیے آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہا اور مولوی صاحب کے عزت مند اور غیرت مند رشتہ داروں اور اہل علاقہ نے عجیب کام کیا کہ جس گھرمیں مولوی صاحب شہید ہوئے تھے اور بھارت کے بزدل فوجیوں نے جس کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا تھا، انھوںنے اس مالک مکان کے لیے آپس میںچندہ کیا اور اس کے نقصان کے ازالے کے لیے رقم اکھٹی کرکے ایک نئی اور عمدہ رسم کی بنیاد ڈالی، جو  ان شاء اللہ آئندہ بھی زخم رسیدہ لوگوں کے زخموں پر مرہم کاکام دے گی ۔

            الغرض حاصل کلام یہ ہے کہ جسمانی طور پر معذور ہمارے مولوی نورمحمد تانترے صاحب کی زندگی بھی ہر لحاظ سے ہمارے لیے ایک مثال تھی اور ان کی شہادت بھی ہرلحاظ سے ایک مثال ہے۔ مضمون کااختتام علامہ اقبال کے ان اشعار پر کرتے ہیں جوکسی روشن ضمیر نے ان کی قبرکے کتبے پر لکھ دیے ہیں اوران کی شان کے عین مطابق بھی ہیں۔

یہ غازی یہ تیرے پُراَسرار بندے      جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی

دونیم ان کی ٹھوکر سے صحراء و دریا          سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online