Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

قبلۂ محبت۔۳

 

قبلۂ محبت۔۳

Madinah Madinah

 

اَمر علی الدیار دیار لیلی

اقبل ذا الجدار وذا الجدار

وما حب الدیار شغفن قلبی

ولکن حب من سکن الدیار

مجنوں نے اپنی لیلیٰ کے شہر کے بارے میں کہا کہ لیلیٰ کی محبت میں وہ اس کے شہر کی دیواروں کو چومتا پھرتا ہے۔ کیا مجنوں اور کیا مجنوں کی محبت اور کیا مجنوں کی لیلیٰ

ناز ہے گل کو نزاکت پے چمن میں اے ذوق

اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے

اسے کیا معلوم کہ محبوب کیسا ہوتا ہے اور محبت کسے کہتے ہیں…

مدینہ منورہ تو وہ آ کر ٹھہرے اور ہمیشہ کے لئے اسے مسکن کا شرف بخشا جو تشریف لائے تو دُنیا کو محبت کا حقیقی مفہوم سمجھ میں آیا۔ محبوب ایسے ہوتے ہیں جن کے وضو کا پانی زمین پر نہیں گرنے دیا جاتا۔ جن کے قدموں پر جان دینا ایک عاشق کے لئے گرمیوں کی سخت دوپہر میں شدید پیاس کے عالَم میں ٹھنڈا اور شیریں شربت مل جانے سے بھی زیادہ لذیذ ہے۔ جن کے ایک ایک عمل، ایک ایک اَدا، ایک ایک فرمان کو عشاق نے رہتی دنیا کے لئے محفوظ کر دیا۔ جن کے حلیہ مبارکہ کا تذکرہ عشاق کے لئے ایک لذیذ مشغلہ اور دل کی دوا بن گیا۔ جن کے نام اور ناموس پر کٹ مرنے والوں کی قطاریں ہر زمانے میں اپنی باری کے انتظار میں لگی رہتی ہیں۔ دنیا نے اس سے پہلے کب دیکھے تھے ایسے عاشق اور کب پایا تھا ایسا محبوب؟

وہ محبوب اس شہر میں آ بسے تو اس نے ان کی نسبت لے لی۔ دنیا میں کون سا ایسا شہر ہے جو کسی نبی کی طرف یوں منسوب ہوا ہو کہ اس کا اصل اور پرانا نام ہی مٹ گیا ہو۔ مدینہ تو ہمیشہ کے لئے مدینۃ النبی ﷺ ، مدینۃ الرسول ﷺ ہو گیا۔ پھر محبوب یہیں قیام پذیر ہو گئے اور قیامت تک کے لئے یہیں سکونت اِختیار فرما لی تو اب یہ شہر قبلۂ محبت بن گیا کہ دنیا بھر سے عاشق، سچے محب اسی کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور ان کے قلوب اس کی طرف کھنچے رہتے ہیں۔ کتنے آئے اور یہیں کے ہو رہے کہ اب انہیں موت آ کر اس شہر کا قیامت تک مکین بنا دے۔ لمحہ بھر بھی جدائی نہ ہو۔ کتنے آتے ہیں اس طرح کے گویا انہیں مقناطیس اپنی طرف کھینچ رہے ہوں۔ بے تابانہ آتے ہیں، ایسی کیفیات کے ساتھ آتے ہیں جنہیں الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ فصاحت و بلاغت کے سارے قرینے، حسن بیان کے سارے انداز، زور قلم کے سارے اسلوب ناقص ثابت ہوتے ہیں اور الفاظ کے ذخیرے چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔ آ کر رہتے ہیں کس شان کے ساتھ کہ دل الگ حال میں، قدم الگ کیفیت میں ، آنکھیں اپنے الگ جہاں میں، زبان جدا حالت میں، کوئی آیا تو جوتے مدینہ سے باہر چھوڑ آیا کہ محبوب کے شہر میں جوتے پہن کر کیسے چلے؟ کیسے کیسے اَدب کے قرینے اور کیسے کیسے محبت کے زاویے قبلۂ محبت میں آشکار ہوتے ہیں اور کہاں یہ سب دیکھنے کو مل سکتا ہے؟

اور پھر وقت معہود گذار کر اس سے جدا ہوتے ہیں… اللہ، اللہ

کیا خوب قیامت ہے گویا کوئی دن اور

قیامت ہی تو گذر جاتی ہے۔ گریہ و زاری کا ایسا منظر کہاں دیکھنے کو مل سکتا ہے سوائے قبلۂ محبت سے دور ہو رہے عاشقوں کی حالت کے۔ بس ایک التجا سب کے چہروں پر پڑھی جا سکتی ہے۔ پھر کب واپسی نصیب ہو گی۔

سبز رنگ دُنیا میں شاید سب سے زیادہ پایا جانے والا رنگ ہے۔ ہر درخت اور زمین پر پھیلا بے شمار سبزہ، حتی کہ ہموار علاقے ہوں، صحرا ہوں یا پہاڑ، سبزہ تو ہر جگہ اپنی بہار دِکھا رہا ہے۔ جہاں بھی ہو آنکھوں کو بھاتا ہے اور دل کو طراوت بخشتا ہے۔ کیا کیا خوبصورت درخت ہیں جو سبز ہیں ۔ سبزے کے کیسے کیسے حسین اور طویل و عریض میدان زمین پر جا بجا بکھرے ہیں۔ سبز رنگ کے قسما قسم کھیت کیسی بہاریں دکھا رہے ہیں لیکن کون سا سبزہ ہے جس کی دید سے نہ کبھی آنکھیں مکمل سیراب ہوتی ہیں اور نہ دل بھرتا ہے؟

اسی قبلۂ محبت میں ایک سبز گنبد ہے جس کی یہ شان ہے۔ یوں لگتا ہے کائنات کا سارا حسن سمٹ کر اسی چند مربع گز کے دائرے میں مرتکز ہو گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں پائی جانے والی ہر سبز شے کا حسن اسی گنبد سے مستعار لیا گیا ہے اصل حسن بس ہمین است و ہمین است وہمین است۔

سبحان اللہ ! دیکھنا شروع کیجئے تو دل سے بس ایک ہی صدا آتی ہے۔

سبز گنبد کو مشتاق نظروں سے میں

ٹکٹکی باندھ کر ایسے تکتا رہوں

لب پہ صلی علیٰ کا میرے وِرد ہو

دَم نکل جائے میرا تو کیا بات ہے

کتنا نور، کتنا سرور، کتنی محبت ، کتنا سکون اس مختصر سے عالَم میں سمایا ہے کہ باقی سارا عالَم اس کے سامنے لا شئی دِکھائی دینے لگتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی توفیق اور عنایت سے اگر وہاں بار بار حاضری نصیب ہوتی ہے تو دیکھا جا سکتا ہے کئی لوگ ہیں سالہا سال سے آپ انہیں اس بقعۂ جنت کا حاضر باش پائیں گے۔ نہ ان کے اوقات میں فرق آتا ہے اور نہ جگہیں بدلتی ہیں۔ نہ معمولات تبدیل ہوتے ہیں اور نہ ہی دنیا کی کوئی ضرورت ، حاجت اور تکلیف انہیں یہاں سے دور کرتی ہے۔ یہ کام کیسے ہوتا ہے؟ محبت سے صرف محبت سے اور محبت کا یہ منظر بس اسی قبلۂ محبت میں ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ محبت ضروری ہے ۔ کتنی ضروری؟ دنیا کی ہر چیز سے ضروری۔

کھانے پینے پہننے برتنے سے زیادہ ضروری۔ کیونکہ یہ محبت ایمان ہے۔ ایمان کی تکمیل ہے اور اسی سے ایمان کی بقاء ہے۔

فرمایا:

 تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک ( کامل ) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں ( محمد ﷺ ) اس کے نزدیل ماں باپ اوراولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

یہ سوغات کہاں سے ملے گی؟

دل قبلۂ محبت سے جڑے گا۔ زندگی کا رخ اس کی طرف مڑے گا اور منہج حیات قبلۂ محبت والا بنے گا تبھی ملے گی۔ جو وہاں سے کٹ کر باقی دنیا سے جڑنے اور جوڑنے کی فکر میں ہیں وہ ایمان کی طرف نہیں دوسری طرف جا اور لے جا رہے ہیں۔ الحذر الحذر ان سے بچئے! ان سے اپنا ایمان اور دامن بچائیے! ان کی طرف آئیے جو مدینہ سے جڑے ہوئے، مدینہ سے جوڑنے کی فکر میں ہیں۔ محض زبان سے نہیں سچے عاشقوں کی طرح اپنے لہو سے ، اپنے جسموں کے ٹکڑوں سے اور اپنے عاشقانہ طرزِ عمل سے۔

٭…٭…٭

 

مدینہ طیبہ کے قیام کے دوران کیا کریں

 جب تک مدینہ منورہ میں قیام رہے اس کو بہت ہی غنیمت جانیں اور جہاں تک ہوسکے اپنے اوقات کو عبادت میں لگانے کی کوشش کریں۔ زیادہ وقت مسجد نبوی میں گزاریں کیونکہ معلوم نہیں کہ یہ موقع دوبارہ میسّر ہو یا نہ ہو۔ پانچوں وقت کی نمازیں جماعت کے ساتھ مسجد نبوی میں ادا کریں کیونکہ مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب دیگر مساجد کے مقابلے میں ایک ہزار یا پچاس ہزار گنا زیادہ ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اطہر پر حاضر ہوکر کثرت سے سلام پڑھیں۔ ریاض الجنہ (جنت کا باغیچہ) میں جتنا موقع ملے نوافل پڑھتے رہیں اور دعائیں کرتے رہیں۔ محراب النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خاص خاص ستونوں کے پاس بھی نفل نماز اور دعاؤں کا سلسلہ رکھیں۔ فجر یا عصر کی نماز سے فراغت کے بعد جنت البقیع چلے جایا کریں۔ کبھی کبھی حسب سہولت مسجد قبا جاکر دو رکعت نماز پڑھ آیا کریں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سنتوں پر عمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ تمام گناہوں سے خصوصاً فضول باتیں اور لڑائی جھگڑے سے بالکل بچیں۔ خرید وفروخت میں اپنا زیاد ہ وقت ضائع نہ کریں کیونکہ معلوم نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پاک شہر میں دوبارہ آنے کی سعادت زندگی میں کبھی ملے یا نہیں۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor