Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

ہے ’’رحمت‘‘ کا مرکز مدینہ مدینہ

 

ہے ’’رحمت‘‘ کا مرکز مدینہ مدینہ

مضمون امیر محترم

Madinah Madinah

 

اللہ تعالیٰ سے ’’عافیت‘‘ کا سوال ہے…

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ

اَللّٰھُمَّ اسْتُرْنِی بِالْعَافِیَۃِ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ

آج ’’مدینہ مدینہ ‘‘ سے ملنے والے ایک… بے حد قیمتی تحفے پر بات ہو گی… اِن شاء اللہ …

آپ جانتے ہیں… دُنیا فانی ہے… مصیبتوں سے بھری ہوئی ہے… اس میں روز لوگ مرتے ہیں… اس میں روز بیماریاں نازل ہوتی ہیں… جب سورج غروب ہونے والا ہوتا ہے تو آسمان سے اَگلے چوبیس گھنٹے کے لئے… کئی اِمتحانات ، کئی مصیبتیں اور کئی اَمراض زمین پر اُتر آتے ہیں… حضرت سیدنا داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام سورج غروب ہوتے ہی یہ دعاء پڑھتے تھے:

اَللّٰھُمَّ یَا رَبِّ خَلِّصْنِیْ مِنْ کُلِّ مُصِیْبَۃٍ  نَزَلَتِ الَّیْلَۃَ مِنَ السَّمَائِ فِی الْاَرْضِ 

یا اللہ! مجھے ہر اُس مصیبت سے بچائیے جو آج کی رات آسمان سے زمین پر اُتری ہے…

اسی طرح… اُس دن کی ساری نعمتیں ، اَچھائیاں اور اِنعامات بھی نازل ہوتے ہیں… تو حضرت یہ دعاء فرماتے تھے… خصوصاً صبح پھوٹتے وقت :

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِیْ سَھْمًا فِیْ کُلِّ حَسَنَۃٍ نَزَلَتِ الَّیْلَۃَ مِنَ السَّمَائِ فِی الْاَرْضِ

یا اللہ! مجھے ہر اُس اچھائی اور خیر میں سے حصہ عطاء فرما دیجئے جو آج کی رات آسمان سے زمین پر نازل ہوئی ہے…

’’مدینہ مدینہ ‘‘ نے مسلمانوں کی یہ تربیت فرمائی کہ… یہ دنیا کی زندگی نہ تو جنت ہے… نہ جہنم … چنانچہ جو لوگ اسے جنت سمجھ بیٹھتے ہیں… وہ بہت روتے ہیں… کیونکہ یہاں کی مصیبتیں اور اِمتحانات کسی کو نہیں چھوڑتے… اور جو اسے ’’جہنم ‘‘ سمجھ لیتے ہیں وہ بھی پچھتاتے ہیں… کیونکہ … یہاں بڑی بڑی نعمتیں موجود ہیں… کلمہ طیبہ… حضرت آقا مدنیﷺ … کعبہ شریف … مدینہ مدینہ… دینِ اسلام… اوربہت کچھ… بہرحال… دُنیا میں پریشانیاں اور مصیبتیں ضرور آتی ہیں… مگر ہماری خوش نصیبی کہ… ہم مسلمانوں کو … مدینہ مدینہ سے سبق ملتا ہے… روشنی ملتی ہے…چنانچہ … اَہلِ ایمان …ان مصیبتوں سے بھی وہ سب کچھ کما لیتے ہیں جو ’’ بے ایمان ‘‘ لوگ … نعمتوں سے نہیں کما سکتے…

آج اِن شاء اللہ ہم ’’مدینہ مدینہ‘‘ سے ملنے والے ایک ایسے ہی تحفے پر بات کریں گے…

مقدر سکندر … مدینہ مدینہ

سعادت کی چابی … مدینہ مدینہ

٭…٭…٭

دُنیا چونکہ … آخرت کی طرف سفر میں ہے… اس لئے اس میں ہر نئی چیز کچھ عرصہ بعد پُرانی ہو جاتی ہے… کالے بال سفید ہو جاتے ہیں… مضبوط دانت ٹوٹ جاتے ہیں… طاقتور ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں… ہر جاندار کچھ عرصہ بعد بے جان ہو جاتا ہے… حکمران بھکاری بن جاتے ہیں… قابلِ رَشک صحت والے بیمار پڑ جاتے ہیں… تروتازہ چیزیں بھوسے کا ڈھیر بن جاتی ہیں…یہ دُنیا ایک سفر ہے… یہ مستقل ٹھکانہ نہیں ہے… جو اسے مستقل ٹھکانا سمجھتا ہے وہ بَرباد ہو جاتا ہے… اس بات کو اچھی طرح دِل میں بٹھا لیا جائے تو… زندگی اور اس کی منزلیں آسان ہو جاتی ہیں… اہلِ ایمان چونکہ… اللہ تعالیٰ کے پیارے ہیں… اس لئے ان کے لئے دنیا کی ہر مصیبت میں… کوئی اَجر، کوئی مقام ، کوئی ترقی یا کوئی نعمت ضرور چھپی ہوتی ہیں… اللہ تعالیٰ توفیق دے تو… کبھی اُن اَحادیثِ مبارکہ کو پڑھ لیں… جو ’’مدینہ مدینہ ‘‘ سے… مصیبت کے موضوع پر وارِد ہوئیں… مومن کی ہر مصیبت … چھوٹی ہو یا بڑی… حتیٰ کہ معمولی سا کانٹا جو اُسے چبھ جائے… وہ اس کے لئے گناہوں کی معافی… اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہے… مومن پر مصیبت تو … صرف آتی ہی اس لئے ہے کہ… وہ جب اللہ تعالیٰ سے ملے تو پاک و صاف حالت میں ملے… سبحان اللہ… جو صبر… ’’مدینہ مدینہ ‘‘ نے سکھایا… وہ ایک مومن کو چٹان بنا دیتا ہے… مگر ’’حرص و لالچ‘‘ اور بے صبری کا جو سبق… یورپ نے دنیا کو دیا… اُس نے دُنیا کو ظلم ، چوری اور بے حیائی سے بھر دیا ہے… طالبعلمی کے زمانہ میں ایک حدیث شریف پڑھی تھی… حدیث مبارک کے ساتھ… بہت بڑے درجات اور بہت عظیم مقامات والی ہستی… حضرت اُمُّ المومنین سیدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کا قصہ بھی تھا… بس وہ حدیث مبارک اپنے پورے یقین کے ساتھ دِل میں اُتر گئی… بچپن اور نوجوانی کے جوڑ کا زمانہ تھا… اس زمانے دِل میں جو کچھ بویا جائے وہ بہت پائیدار ہوتا ہے… حدیث مبارک کا مفہوم یہ تھا کہ… جس مسلمان پر کوئی مصیبت آئے، وہ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھے … اور یہ دعاء پڑھ لے

اَللّٰھُمَّ اْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَ اَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا

تو اللہ تعالیٰ اُسے دو چیزیں عطاء فرماتے ہیں… پہلی یہ کہ اُسے اُس مصیبت پر اَجر عطاء فرماتے ہیں… اور دوسری یہ کہ اُسے اُس کے بدلے میں اُس سے بہتر نعمت عطاء فرما دیتے ہیں…

یہ حدیث شریف کئی کتابوں میں… سند صحیح کے ساتھ مختلف واقعات کے تناظر میں موجود ہے…حدیث شریف کی راویہ…فہم و فراست میں عظیم مقام رکھنے والی اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں… بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ… انہوں نے یہ حدیث شریف اپنے خاوند… حضرت سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے سنی… مجاہد، مہاجر با مقام صحابی… حضرت سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ… بدر میں شریک ہو کر ’’ بدری ‘‘ بنے… اُحد میں شریک ہو کر… زخمی بنے… اور پھر یہ زخم اُن کی وَفات و شہادت کا پیغام بنے… اور ۳؁ ہجری میں آپ اپنے رب تعالیٰ سے اِنعامات پانے چلے گئے… اُنہوں نے ایک بار گھر آ کر… اپنی اہلیہ حضرت سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ… آج حضرت آقا مدنی ﷺ سے ایسی بات سن کر آیا ہوں… جس نے مجھے بہت خوشی دی ہے… پھر یہی حدیثِ مبارک اور دُعاء سنائی… اہلیہ محترم نے فوراً یاد کر لی… وہ حضرت آقا مدنی ﷺ کے کسی فرمان سے اَدنیٰ غفلت بھی نہیں کرتے تھے… ۳؁ ہجری میں حضرت سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو… حضرت سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے دُعاء پڑھ لی… یقین اُن کو پورا تھا… مگر حیران تھیں کہ… ابو سلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ …عدت گذری تو… حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کا پیغامِ نکاح آیا… معذرت کر لی… حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا پیغامِ نکاح آیا… معذرت کر لی … اور پھر سعادتوں اور رحمتوں کی برسات برسی… حضرت آقا مدنیﷺ سے نکاح ہوا… اور آپ اس عظیم اُمت کی ’’ماں ‘‘ بن گئیں… ’’مدینہ مدینہ ‘‘ سے ملنے والے اِنعامات کا اندازہ لگائیں…ایک مصیبت کو… اتنی عظیم نعمت میں بدلنے والی دُعاء سکھائی گئی ہے… بے شک وہاں سے ملنے والی ہر دُعاء ایسی ہی ہے… وہاں سے ملنے والی ہر ہدایت ایسی ہی ہے… مگر افسوس کہ…ہم فیض نہیں پاتے… ہم فائدہ نہیں اُٹھاتے… ہم پتھروں میں قسمت ڈھونڈتے پھرتے ہیں… جبکہ اصل موتیوں سے غافل ہیں…

ہے رحمت ہی رحمت … مدینہ مدینہ

سعادت کی بارش … مدینہ مدینہ

٭…٭…٭

یہ حدیثِ مبارک اور قصہ پڑھا تو دِل میں شوق ہوا کہ… کب اس پر عمل کا موقع ملے گا… نوجوانی میں نادانی غالب ہوتی ہے… حالانکہ مصیبت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے… کیونکہ اگر پھر انسان اس پر صبر نہ کر سکے تو… ڈبل نقصان ہو جاتا ہے… بے صبری اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے… جمعہ کا دن تھا… جمعہ کی تیاری میں عطر کی شیشی اُٹھائی… وہ ہاتھ سے گری اور ٹوٹ گئی… فوراً یہ دُعاء پڑھ لی… اللہ تعالیٰ نے اِحسان فرمایا کہ بڑی مصیبت نہیں آئی… ابتداء عطر کی شیشی سے ہوئی… اُسی دن عصر کے بعد ایک دوست آئے… مجھے ایک تھیلی دی کہ آپ کے لئے لایا ہوں… کھولا تو اس میں عطر کی آٹھ شیشیاں تھیں… اور سارے عطر… نقصان والے عطر سے زیادہ قیمتی تھے… دُعاء کی قبولیت پر دِل خوشی سے دیوانہ ہو گیا… بس پھر کیا تھا… ہر ملنے والے کو وہ دُعاء سکھائی… یاد کرائی… کچھ عرصہ بعد… اَفریقہ کا ایک سفر تھا… کچھ معروف صحافی حضرات بھی ساتھ تھے… نیروبی میں اس زمانے ’’چوری‘‘ بہت ہوتی تھی… اور پوری سینہ زوری سے ہوتی تھی… ہم ایک گاڑی میں بیٹھے تھے… ایک محترم صحافی کا ہاتھ گاڑی سے باہر ہوا تو… ایک چور نے جھپٹ کر… مہارت سے اُن کی قیمتی گھڑی کاٹ لی… اور لے اُڑا… وہ کچھ غمگین ہوئے تو ان کو یہ مبارک دُعاء پڑھوائی… ساتھ اُمّ المؤمنین کا قصہ بھی سنایا… اِسی سفر میں واپسی پر جیسے ہی وہ جدہ پہنچے… انہیں ایک دوست نے بہت قیمتی گھڑی ہدیہ کر دی… وہ بھی ’’مدینہ مدینہ ‘‘ کے اس تحفے کی خوشی میں سرشار ہو گئے اور واپسی پر… اس دُعاء کی فضیلت میں ایک کالم لکھا… الحمد للہ رب العالمین

مدینہ کی باتیں … مدینہ کے تحفے

بڑے کام کے ہیں … بڑے ہی نِرالے

جو اَپنائے ان کو … وہ بے تاب بولے

مدینہ مدینہ … مدینہ مدینہ

٭…٭…٭

مومن پر مصیبت آتی ہے تو یہ اس کے لئے… کچھ خاص پانے اور کچھ خاص کمانے کا وقت ہوتا ہے… مصیبت سے آپ کی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے… کبھی غور کریں… ہر مصیبت کے بعد… آپ کو کیا کیا ملا؟… اب شیطان اور نفس کہاں غافل بیٹھنے والے ہیں وہ مصیبت کے وقت… مومن پر حملہ کر دیتے ہیں … تاکہ وہ اپنی مصیبت کا اَجر… اور مقام نہ کما سکے… وہ لوگوں میں اپنی مصیبت کے دُکھ روئے… وہ بے صبری کرے… وہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ پر باتیں بنائے… وہ مایوس ہو کر گر جائے… یوں اس کی ’’مصیبت ‘‘ …واقعی اس کے لئے ’’حقیقی مصیبت ‘‘ …اور ’’معصیت ‘‘ بن جائے…

اس لئے ضروری ہے کہ… ہم تمام مسلمان… صبر کی صفت کو اَپنائیں… اور مصیبت کے وقت… اس مبارک مدنی تحفے کو یقین ، محبت اور اِہتمام کے ساتھ اَدا کریں…

اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ … اَللّٰھُمَّ اْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَ اَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا

یا اللہ! مجھے میری اِس مصیبت پر اَجر عطاء فرمائیے … اور مجھے اس کے بدلے میں بہتر چیز عطاء فرما دیجئے … مکمل روایت دیکھنی ہو تو… صحیح مسلم، ابوداؤد ، ترمذی اور مسندِ احمد میں موجود ہے… ابھی چند دن پہلے… پھر اللہ تعالیٰ نے اس مبارک دُعاء کا عجیب فیض عطاء فرمایا… ایک نقصان آیا… دِل تھوڑا پریشان ہوا… مگر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا… فوراً یہ دعاء سات بار پڑھ لی…اور عزم کر لیا کہ… کسی کے سامنے شکوہ نہیں رونا … بس دو چار دن بعد… ایسی تلافی ہوئی کہ… پھر شکر ہی شکر تھا الحمد للہ…

تب خیال آیا کہ… کافی عرصہ سے اس مبارک مدنی تحفے کی… دعوت کیوں بند کر رکھی ہے؟ … اب لوگوں سے ملنا جلنا تو ہوتا نہیں… تحریر کے ذریعہ آپ سب تک اس دُعاء کی یاد دِہانی عرض کر رہا ہوں… آپ میں سے اکثر کو یہ دُعاء پہلے سے یاد ہو گی… حضرت اُمُّ المومنین رضی اللہ عنہا کا قصہ بھی معلوم ہو گا… بس دوبارہ یقین اور عمل کی تازگی کر لیجئے… اور جن کو یہ دُعاء یاد نہیں ہے وہ اسے یاد کر لیں… اور مسنون دُعاؤں …اور صلوٰۃ الحاجۃ سے اپنے دیگر مسائل کا حل بھی تلاش کیا کریں… یہ وہ ترقی، نعمت اور ٹیکنالوجی ہے… جو صرف مسلمانوں کے پاس موجود ہے… اور یہ ’’بے مثال ‘‘ ہے ’’لاجواب ‘‘ ہے…

مصیبت کو نعمت بنانے کا مرکز

مدینہ مدینہ … مدینہ مدینہ

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

 

ذاتی اور گھر بارکی بہبودی و فلاح کے لیے قرآن کریم کی سکھائی ہوئی ایک جامع دعاء

رَبِّ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاہُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِی اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَ اِنِّی مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ

’’اے میرے رب! مجھے توفیق دے دیجئے اس بات کی کہ آپ نے مجھ پر اور میرے والدین پر جو انعامات کیے ہیں میں آپ کی ان نعمتوں پر شکر اداء کروں اور اس بات کی (توفیق بھی دے دیجئے کہ) میں ایسے اچھے عمل کروں جس سے آپ خوش ہوں اور میرے لیے میری اولاد میں نیکی پیدا فرمادیجئے ۔ بے شک میں آپ کی طرف ہی رجوع کرتا ہوں اور بے شک میں (آپ کے)فرماں بَردار بندوں میں سے ایک ہوں۔ ‘‘(سورۃ الاحقاف:۱۵)

 

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی مکمل روایت

عن أم سلمۃ رضی اللّٰہ عنہا قالت:أتانی أبو سلمۃ یومًا من عند رسول اللّٰہﷺ فقال:"لقد سمعت من رسول اللّٰہ ﷺقولاً سُرِرْت بہ، قال: "لا یصیب أحدًا من المسلمین مصیبۃ فیسترجع عند مصیبتہ ثم یقول: اللہم أجرنی فی مصیبتی واَخلف لی خیرًا منہا إلا فعل ذلک بہ"، قالت أم سلمۃ: فحفظت ذلک منہ، فلما تُوفِّی أبو سلمۃ استرجعت، وقلت:"اللہم أجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرًا منہا"، ثم رجعت إلی نفسی، فقلت: من أین لی خیر من أبی سلمۃ؟ فلما انقضت عدتی استأذن علیّ رسول اللّٰہ ﷺ وأنا أدبغ اِہابًا لی، فغسلت یدی من القرظ و أذنت لہ، فوضعت لہ وسادۃ أدم حشوہا لیف، فقعد علیہا فخطبنی إلی نفسی، فلما فرغ من مقالتہ، قلت:یا رسول اللّٰہ ما بی أن لا یکون بک الرغبۃ،و لکنی امرأۃ فیّ غیرۃ شدیدۃ، فأخاف أن تری منی شیئًا یعذبنی اللّٰہ بہ، وأنا امرأۃ قد دخلت فی السن وأنا ذات عیال، فقال ﷺ: "أما ما ذکرت من الغیرۃ فسوف یذہبہا اللّٰہ عز وجل عنک،وأما ما ذکرت من العیال، فإنما عیالک عیالی"، قالت: فقد سلمت لرسول اللہ ﷺ، فقالت أم سلمۃ بعد: أبدلنی اللّٰہ بأبی سلمۃ خیرًا منہ رسول اللّٰہ ﷺ(مسند احمد:ج۲۱ص۶۷)

’’ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے آج ایک ایسی بات سنی ہے جس سے میں بہت خوش ہوں۔ آپﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ: جس مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ پہلے اس پر انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھے اور پھر یہ دعاء پڑھے:

اَللّٰھُمَّ اْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِی وَ اَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا

تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ایسا ہی فرمادیتے ہیں۔

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:میں نے ان سے سن کر یہ دعاء یاد کرلی اور جب ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں نے پہلے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور پھر یہ دعاء پڑھی:

اَللّٰھُمَّ اْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِی وَ اَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا

اور دل میں کہا:اب ابو سلمہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے؟  پھر جب میری عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہﷺ نے میرے پاس آنے کے لیے اجازت طلب کی، میں اس وقت ایک کھال کو دباغت دے رہی تھی، تو میں نے اپنے ہاتھوں کو دھویااورآپﷺکو اجازت دی، آپﷺ کے لیے ایک کھجور کی کھال بھرا تکیہ لگایا، آپﷺ اس کی ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور مجھے نکاح کا پیغام دیا۔ جب آپﷺ نے اپنی بات مکمل کرلی تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مجھے آپ میں رغبت نہ ہولیکن پھر بھی مجھ میں ایک شدید قسم کی ہچکچاہٹ ہے، جس کی وجہ سے مجھے خوف ہے کہ کہیں بعد میں مجھ سے کوئی ایسی بات نہ ہوجائے کہ میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مستحق بن جاؤں، پھر میں ہوں بھی بڑی عمر کی اور عیال دار خاتون ۔

آپﷺ نے فرمایا: آپ نے جو ہچکچاہٹ والی بات کہی ہے تو اسے بہت جلد اللہ تعالیٰ دور فرمادیں گے اور تم نے جو عیال کی بات کہی ہے تو تمہارے عیال میرے عیال شمار ہوں گے۔ آپ فرماتی ہیں کہ پھر میں نے اپنے آپ کو رسول اللہﷺ کے سپرد کردیا(یعنی نکاح پر رضامندی ظاہر کردی)

چنانچہ بعد میں حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بعد فرمایا: اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بدلے میں ان سے بہتر رسول اللہﷺ عطاء فرمادئیے۔ ‘‘

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor