Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

دوست

 

دوست

Madinah Madinah

نبی کریم ﷺ نے فرمایا :’’اِنسان اپنے دوست کے دِین پر ہوتا ہے لہٰذا تم میں سے ہر شخص دیکھے کہ وہ کسے دوست بنا رہا ہے۔‘‘ ( الترمذی)

دنیا میں انسان کے معاشرتی تعلقات دو طرح کے لوگوں سے ہوتے ہیں۔

(۱) وہ لوگ جن سے تعلق قائم ہونے میں اس کے اپنے اِرادے اور اختیار کا تعلق نہیں ہوتا۔ مثلاً ماں باپ ، بہن بھائی اور نسبی قرابتوں کا تعلق۔

ان تعلقات کو انسان خود اختیار نہیں کرتا بلکہ یہ اسے مقدر سے حاصل ہو جاتے ہیں۔ کوئی انسان اپنے اختیار سے نہ اپنے والدین کا انتخاب کر سکتا ہے نہ بہن بھائیوں کا اور نہ قوم اور قبیلے کا۔ یہ حکمِ ربی ہے جسے جہاں مناسب خیال فرمایا پیدا فرما دیا۔ انسان کے مزاج اور اس کی شخصیت سازی پر یہ تعلقات اثر انداز بھی ہوتے ہیں اور ان کا رنگ اس پر چڑھتا ہے لیکن اگر ان رشتوں سے اس میں کوئی بُرائی پیدا ہو رہی ہو اور خود یہ انسان طبعاً فطرت سلیمہ اور صحیحہ پر ہو تو وہ ان کی مزاحمت کرتا ہے اور اپنے آپ کو ان بُرے اَثرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن مجید میں بھی یہی تعلیم ارشاد فرمائی گئی کہ اگرچہ ماں باپ سے ہر حال میں حسنِ سلوک، بر اور بھلائی کا حکم ہے، لہٰذا ان کی اطاعت لازم ہے اور ان کی رضا میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہے لیکن اگر شرک کا حکم کریں تو ہرگز ان کی اطاعت نہ کی جائے اور نبی کریم ﷺ نے اسے مزید عام کر کے تعلیم فرمائی کہ کسی بھی مخلوق کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں جائز نہیں ،اس میں ماں باپ ، خاندان، قبیلہ سب آ گئے۔ ان تعلقات میں تسلی کی بات یہ ہے کہ چونکہ ان کے اختیار میں اپنا کوئی دخل نہیں اس لئے ان پر کوئی مؤاخذہ بھی نہیں ہے کہ تمہارا بھائی ایسا کیوں تھا اور فلاں کو اپنا چچا یا ماموں کیوں بنایا۔ بس انسان بھلائی میں ان کے ساتھ رہے ، ان کے شرعی حقوق ادا کرے، ان سے صلہ رحمی کا معاملہ کرے اور کسی برائی میں ان کی اطاعت نہ کرے تو ان کے برے اثرات سے بھی محفوظ رہتا ہے اور ان کی غلط تلقین کے مقابل اس کی نصرت بھی ہوتی ہے۔

(۲) دوسرے تعلقات وہ ہیں جنہیں انسان اپنے مکمل اختیار اور انتخاب سے اپناتا ہے۔ مثلا ً شادی کے ذریعے قائم ہونے والے رشتے اور سب سے بڑھ کر دوست۔

اس لئے ان کے حوالے سے شریعت میں بطور خاص احتیاط کی تلقین و تاکید کی گئی۔ نبی کریم ﷺ نے شادی کے معاملے میں ’’دین‘‘ کو سب سے مقدم اور بنیادی ترجیح قرار دیا۔ فرمایا:

’’کسی عورت کو شادی کے لئے چار وجوہات کی بناء پر منتخب کیا جاتا ہے۔ مال ، جمال ، خاندانی وجاہت اور دین۔ اور تم دین والی کو ہی ہمیشہ ترجیح دو۔ ‘‘

اور دوست بنانے کے باب میں جو روایت اوپر ذکر کی اسے ہمیشہ پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

بلکہ اگر دیکھا جائے تو دوستی کا معاملہ شادی کے معاملے سے مزید سخت ہے کیونکہ شادی میں بھی بسا اوقات انسان مکمل مختار نہیں ہوتا اور اسے اپنے بڑوں کے حکم پرسر تسلیم خم کرنا پڑ جاتا ہے لیکن دوست تو انسان جسے بھی بناتا ہے اپنے مکمل اختیار اور انتخاب سے بناتا ہے۔

انسانوں کے حالات میں اگر غور کیا جائے گا تو کسی بھی شخص میں پائی جانے والی زیادہ خرابیوں کا تعلق اس کی دو ستیوں سے ہوتا ہے۔ رشتوں میں اس حوالے سے ایک شرم اور حجاب کا فطری ماحول ہوتا ہے کہ کوئی شخص اگر کسی خرابی میں خود مبتلا بھی ہو تو عموماً اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد اور اقربا کو اس میں مبتلا نہ دیکھے ۔ کوئی نشہ کرنے والا اپنی اولاد یا چھوٹے بھائیوں کو عام طور پر نشئی نہیں بناتا نہ کوئی بدکار انہیں عموماً بدکاری کی ترغیب دیتا ہے جبکہ دوستی کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہر شخص پوری کوشش کرتا ہے کہ اس میں موجود اچھائی یا برائی اس کے دوست میں ضرور آ جائے۔ اور پھر یہ تعلق ایسا قلبی اثر رکھتا ہے کہ انسان ماں باپ کی بات ردّ کر دیتا ہے اور ان کا اثر قبول کرنے سے انکاری ہو جاتا ہے لیکن دوستوں کا نہیں۔ اس لئے وہ جلد اس رنگ کو اپنا لیتا ہے۔ چور اور کرپٹ کا دوست چور اور کرپٹ نہ بنے، بدکار کا دوست بدکاری سے محفوظ رہے، نشہ کرنے والے کا رفیق نشے پر نہ لگے، جھوٹ بولنے والوں کا ہمنشیں جھوٹ سے پرہیز کرے، غافلوں سے تعلق قائم کرنے والا غفلت سے بچ جائے ایسا شاید ہی کسی کے حق میں ہوتا ہو اور ان برائیوں میں مبتلا کسی بھی شخص سے معلوم کر لیں اکثریت ان لوگوں کی نکلے گی جنہوں نے ایسے کسی فرد سے دوستی اختیار کی ہوگی اور پھر اس گناہ میں ابتلا ہوا ہو گا۔ اسی طرح نیکیوں کا معاملہ ہے کہ اچھے لوگوں کی صحبت، تعلق اور ان سے محبت انسان کے لئے ان نیک اعمال میں شمولیت کا سبب اور ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس لئے بطور خاص امت کو یہ تلقین فرمائی کہ دوست بہت سوچ سمجھ کر بناؤ، اچھی طرح احتیاط کو ملحوظ رکھ کر بناؤ اور اس حقیقت کو خوب ذہن نشین کر کے بناؤ کہ تم خود کو ان جیسا بننے سے نہ روک پاؤ گے اور لا محالہ تمہارے اخلاق، تمہاری ذات اور تمہاری شخصیت پر ان کا رنگ چڑھے گا اور تم بھی دنیا و آخرت میں انہی کے ساتھ شمار کئے جاؤ گے۔ ’’فلینظر احدکم من یخالل‘‘ (پس خوب دیکھ لے تم میں سے ہر شخص کہ وہ کسے اپنا دوست بنا رہا ہے )

’’دوست قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے متقین کے ‘‘ ( القرآن)

یہ ہے دوستی کا انجام کہ قیامت کے دن انسان سب سے زیادہ جس چیز پر حسرت اور افسوس کر رہا ہو گا اور سب سے زیادہ جنہیں کوس رہا ہو گا وہ اس کے دوست ہوں گے کیونکہ وہ جب اپنے بُرے اعمال کی سزا کو سامنے پا رہا ہو گا تو اسے لا محالہ وہ لوگ یاد آ رہے ہوں گے جن کی وجہ سے وہ اس حال کو پہنچا تو دنیا میں بہت لذیذ، میٹھا اور مزیدار لگنے والا یہ تعلق کڑوی کسیلی دشمنی میں بدل جائے گا لیکن وہاں نہ ان سے براء ت کا کوئی فائدہ ہو گا اور نہ انہیں کوسنے کا۔ اس کے لئے تو دنیا میں بہت مہلت تھی ،بہت سمجھایا بھی گیا تھا اور خاص تاکید بھی کی گئی تھی۔ انجام بھی بتا دیا گیا تھا لیکن اس وقت خبردار نہ ہوئے، احتیاط نہ کی اور ان مضر تعلقات سے پیچھا نہ چھڑایا تھا تو آج دشمنی کرنے سے کیا حاصل ہو گا؟

ہاں! جنہوں نے اہل ایمان اور اہل تقویٰ کی دوستی اپنائی ہو گی وہ اپنے اس تعلق پر آج شاداں وفرحاں ایک دوسرے سے مل رہے ہوں گے۔ انہیں جب نیک اعمال کا اجر مل رہا ہو گا وہ اپنے ان محسنوں کو کیسے بھلا پائیں گے جن کے فیضِ صحبت اور محبت نے انہیں ان اعمال پر لگایا اور آج کے سخت دن کامیابی دِلا دی۔

فلینظر احدکم من یخالل (پس خود دیکھ لے تم میں سے ہر شخص کہ وہ کسے اپنا دوست بنا رہا ہے )

جنہوں نے کفر کو، اہل کفر کو، امریکا کو، ہندو کو، ٹرمپ اور مودی کو دنیا کا دوست بنانے کے لئے منتخب کر لیا دنیا میں کون سی ذلت ہے جو ان پر مسلط نہیں ( یہ الگ بات ہے کسی کو شدید ترین ڈھٹائی ، کسی کو حد سے بڑھی دنیا پرستی اور کسی کو نشے کی عادت کی وجہ سے ان ذلتوں کا احساس نہ ہوتا ہو ورنہ کسر تو کوئی نہیں چھوڑی ہوئی ) وہ اور کچھ نہیں تو صرف اس ایک بات پر غور کر لیں کہ ان دوستیوں نے ان کے ہاتھوں اہل ایمان پر کتنا ظلم کرایا۔ کتنے مظلوم ، بے قصور اور صالح اہل ایمان کا خون ان کی آستینوں سے ٹپک رہا ہے ، کتنے اہل ایمان کی مظلومانہ آہیں جیلوں کی کال کوٹھڑیوں سے بلند ہو کر ان کی عاقبت برباد کر رہی ہیں اور کتنے معصوم بچوں اور عفت مآب بہنوں ماؤں کی بددعائیں ان کی قبر یں تنگ کر رہی ہیں اور ان کے لئے جہنم دہکا رہی ہیں تو وہ اپنے اس ایک گناہ اور بدبختی پر ہی زندگی بھر روتے رہیں ۔ کیا کوئی ایک شخص بھی ایسا ہے جس کے دل میں ایمان کا نور ہو اور وہ ان سے دل میں نفرت نہ رکھتا ہو؟

جو ایمان والوں کے دوست بن کر مظلوم بن گئے لیکن اپنے دوستوں سے بے وفائی گوارہ نہیں کی وہ تو اعلیٰ درجے کی کامیابی پا رہے ہیں ان شاء اللہ لیکن یہ کفر دوست ذلتوں کی جن گھاٹیوں میں دنیا میں بھی گریں گے اور آخرت میں بھی ان کا تصور ہی انتہائی ہولناک ہے۔

یہ مضمون تو دردِ دل کے طور پر بیچ میں آ گیا اصل بات یہ ہے کہ ہم سب اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کے ان فرامین کو پیش نظر رکھ کر اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں اور ہر ایسی دوستی اور تعلق سے فوری جان چھڑائیں جو دنیاو آخرت کا وبال بنتے دکھائی دے رہے ہوں۔ کام مشکل تو ضرور ہے لیکن بہت ضروری ہے۔ ایسے دوستوں سے دنیا میں ہی براء ت اور قطع تعلق کر لیا جائے ورنہ آخرت میں یہ کام ہو گا تو ضرور لیکن کوئی فائدہ نہ دے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor